بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

تنظیم فکر شاہ ولی ﷲ کے افکار و نظریات

تنظیم فکر شاہ ولی ﷲ کے افکار و نظریات

سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام مندرجہ ذیل  مسئلہ کے بارے میں کہ تحریک شاہ ولی اﷲ اور تحریک کے قائد مولانا سعید احمد رائے پوری کے بارے میں وضاحت فرمائیں، نیز ان کی تنظیم میں شامل ہونا اور ان کی تائید کرنا کیسا ہے۔

جواب

یہ بات روز روشن کی طرح واضح ہے کہ اسلام کو آج تک کفار نے میدان جنگ میں مقابلے میں آکر اتنا نقصان نہیں پہنچایا، جتنا کہ انہوں نے منافقت کی چادر اوڑھ کر اسلام کے نام سے اسلام کو نقصان پہنچایا ہے، ہر دور اور ہر زمانے میں اسلام کے لباس میں ننگ دین وننگ ملت لوگ اسلام کی جڑیں کھوکھلی کرنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں، قرون اولیٰ سے سے یہ لوگ مختلف اوقات میں نئے نئے اور خوش کن ناموں سے سادہ لوح عوام کو اپنے جال میں پھانستےرہے ہیں او راپنے ناپاک عزائم کی تکمیل کے لیے بزرگ ہستیوں سے اپنا تعلق جوڑنے کی کوشش کرتے رہے ہیں، جب کہ حقیقت میں ان بزرگان دین سے ان کا کوئی تعلق نہیں ہوتا،مسند ہند، حضرت شاہ ولی اﷲؒ ایک عالم گیر شخصیت کے مالک تھے، دین کی خدمت او رتبلیغ کے سلسلے میں عالم اسلام پر عموماً اور برصغیر کے مسلمانوں پر خصوصاً حضرت شاہ صاحب او ران کے خاندان کے احسانات ایک ناقابل انکار حقیقت ہی، اس لیے برصغیر کا ہر مسلمان ( اگر اسے دین سے ادنیٰ تعلق بھی ہو تو ) حضرت شاہ صاحب کا نام نہایت ادب واحترام سے لیتا ہے، اسی طرح حضرت مولانا عبیداﷲسندھی صاحب کا تعلق بھی ان اکابرین سے ہے جن کی انتہائی کوشش سے انگریز برصغیر چھوڑنے پر مجبور ہوا۔
سوال میں مذکور جماعت ”تحریک فکر شاہ ولی اﷲ” اپنے آپ کوحضرت شاہ صاحب اور مولانا سندھی صاحب ؒ کے سیاسی افکار کی امین سمجھتی ہے، جب کہ ان بزرگان دین کا ان کے وضع کردہ افکار سے دور کا بھی واسطہ نہیں، بلکہ یہ ایک انتہائی گمراہ کن جماعت ہے، یہ لوگ اپنا نظریہ اورمنشور عام لٹریچروں اورمجلسوں میں بیان نہیں کرتے، بلکہ مختلف پروگراموں کے ذریعہ تدریجاً اپنے کارکنوں کے ذہن میں منتقل کرتے رہتے ہیں ، چنانچہ کچھ عرصے بعد اس تنظیم سے منسلک ہونے والا آخر کار دھریت کے قریب، یا بالکل دھریہ بن جاتا ہے۔ ذیل میں ہم ان کے چند باطل نظریات ذکر کرتے ہیں:

١۔بغیر اسباب کے اﷲ تعالیٰ کسی کام کے کرنے پر قادر نہیں  ٢۔ نماز کا درجہ صرف ”سبحان اﷲ” کہنے کی طرح ہے، نماز نہ پڑھنے پر گناہ نہیں  ٣۔ امام مہدی کا تصور مردہ قوموں کا تخیل ہے  ٤۔ جنت ودوزخ من گھڑت خیالات ہیں  ٥۔ کمیونزم عین اسلام ہے ٦۔قتال کرنا قطعاجائز نہیں ٧۔ صحابہؓ معیار حق نہیں  ٨۔ خلافت کے بغیر ایمان واعمال بے کار ہیں  ٩۔سود جائز ہے  ١٠۔ داڑھی کو زیادہ اہمیت نہیں دینی چاہیے ١١۔ موجودہ دور میں حدود ظلم ہیں  ١٢۔ علما ء معاشرے پر بوجھ ہیں انہیں قتل کرنا ضروری ہے۔
لہٰذا ایسی باطل تنظیم سے کسی کا تعلق رکھنا جائز نہیں ، بلکہ اس کے فتنے کو ختم کرنے کے لیے مقدور بھر کوشش کرنا ضروری ہے۔

یکفرإداأنکر اٰیۃ من القرآن.''(البحر الرائق، کتاب السیر، باب أحکام المرتد، ٥/٢٠٥، رشیدیہ). فقط واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی