بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

تقدیر کی وجہ سے انسان مجبور نہیں

تقدیر کی وجہ سے انسان مجبور نہیں

سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام مندرجہ ذیل  مسئلہ کے بارے میں کہ ہم ایمان مفصل میں ساری چیزوں پر ایمان لاتے ہیں،جن میں اچھی بری تقدیر پربھی ،کہ یہ سب اﷲ کی طرف سے ہے، پھر اس ایمان لانے کے بعد اگر کوئی انسان بُرا کام کرتا ہے، تو اس میں اس انسان کا کیا قصور ہے؟ جب کہ یہ چیز اس کے مقدر میں لکھی جاچکی تھی، اس پر اسے عذاب نہیں ہونا چاہیے؟

جواب

تقدیر ضروریات دین میں سے ہے، اس پر ایمان لانا ضروری ہے، شک کی کوئی گنجائش نہیں، اس کے بغیر ایمان نامکمل ہے، چوں کہ یہ باریک اور نازک مسئلہ ہے، اس لیے حضور اکرم صلی اﷲ علیہ وسلم نے اس پر بحث ومباحثہ کرنے سے منع فرمایا اور اس پر اجمالاً ایمان لانے کی تاکید فرمائی، کیونکہ اس کی مکمل تفصیل عقولِ انسانیہ کے ادراک سے بالاتر ہے، اس لیے آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے اس میں بحث ومباحثہ پر ناگورای کااظہار فرمایا۔
عام طور پر تقدیر کے مفہوم کو غلط سمجھنے کی وجہ سے ذہنوں میں مختلف اشکالات ابھرتے ہیں، تقدیر کا صحیح مفہوم یہ ہے کہ دنیا میں تمام رونما ہونے والے واقعات اﷲتعالیٰ کو پہلے سے معلوم تھے، اپنی ان معلومات کو اﷲ تعالیٰ نے ایک جگہ لکھ بھی دیا ہے جس کو لوحِ محفوظ کہتے ہیں، اب جو کچھ دنیا میں ہو رہا ہے سب اﷲ تعالیٰ کے علم میں پہلے ہے اور جو کچھ آئندہ ہونے والا ہے وہ بھی اﷲ تعالیٰ کے علم غیر متناہی میں ہے، ہر چیز اﷲ تعالیٰ کو پہلے معلوم اور لوح محفوظ میں مکتوب ہے۔ اﷲ تعالیٰ نے انسان پر تمام اعمال وافعال کی اچھائی، برائی اپنے پیغمبروں کے ذریعے سے واضح فرمائی ہے اور ساتھ یہ بھی تاکید فرمائی کہ برائیوں سے دور رہنا اور بھلائیوں کو اختیار کرنا ضروری ہے، انسان سے مواخذہ اور جزا وسزا اس کے اختیار کو صحیح یا غلط استعمال کرنے پر ہوتا ہے، یہ ضروری ہے کہ انسان تقدیر سے ہٹ کر کچھ نہیں کرسکتا، لیکن یہ اختیار کے منافی نہیں، کیوں کہ جیسے تقدیر میں کسی کام کو کرنے کا لکھا گیا ہے وہاں یہ بھی لکھا گیا ہے کہ مجبور ہو کر نہیں کر ےگا، بلکہ اپنے اختیارسے کرے گا۔
حاصل یہ ہے کہ تقدیر میں لکھے جانے کا مطلب یہ نہ سمجھا جائے کہ بندہ کو اختیار ہی نہیں رہتا، اور اﷲتعالیٰ جبراً اس کو معاصی میں مبتلا کر دیتے ہیں، بلکہ وہ اپنے اختیار سے برے اعمال کرنے لگتا ہے اور اس کی بنا پر سزا پائے گا، اﷲ تعالیٰ کو اگر اس کے کرتوتوں کا پہلے سے علم تھا او رانہوں نے اس علم کو ایک لوح میں میں لکھی ہوئی صورت میں منتقل کر دیا ہے، تو اس کی وجہ سے آدمی ان گناہوں کے کرنے پر مجبور نہیں ہوجاتا، اس کو معلوم بھی نہیں کہ اﷲ تعالیٰ نے میری تقدیر میں کیا لکھا ہے، وہ تو سب اعمال اپنے  اختیار سے کرتا ہے،اب جب دنیا میں کوئی انسان گناہ ( جس سے اﷲ تعالیٰ نے منع فرمایا ہے او رکرنے پر عذاب کی خبر دی ہے) کرتا ہے تو اس کو سزا اس کے اپنے اختیا رکو غلط استعمال کرنے پر دی جاتی ہے،محض تقدیر میں لکھا ہوا ہونا انسان کے اختیار کو سلب اور ختم نہیں کر سکتا، اس لیے جس طرح آدمی دنیا کے معاملات میں تقدیر پر بھروسہ کرکے ہاتھ پر ہاتھ رکھ کے نہیں بیٹھتا اگر کوئی اسے نقصان پہنچاتا ہے، تو تقدیر کا لکھا سمجھ کرچپکا نہیں بیٹھا رہتا، بلکہ اس سے بدلہ لیتا ہے، اسی طرح آخرت کے معاملے میں تقدیر کو الزام دینے کے بجائے نیک اعمال کی کوشش کرتے رہنا چاہیے۔
'' والقدر سرّ من أسرار اﷲ تعالیٰ، لم یطلع علیہ ملکاً مقرباً ولا نبیاً مرسلاً، ولا یجوز الخوض فیہ والبحث عنہ بطریق العقل.'' (مرقاۃ الفاتیح، کتاب الإیمان، باب الإیمان بالقدر:٢٥٦/١، رشیدیہ)
وَعَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُولُ: مَنْ تَکَلَّمَ فِی شَیْء ٍ مِنَ الْقَدَرِ سُئِلَ عَنْہُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ وَمَنْ لَمْ یَتَکَلَّمْ فِیہِ لم یسْأَل عَنہُ.'' (مشکوٰۃ المصابیح، کتاب الإیمان، باب الإیمان بالقدر ٢٣/١، قدیمی)
''وَالْمُرَاد أَنَّ اللَّہ تَعَالَی عَلِمَ مَقَادِیر الْأَشْیَاء وَأَزْمَانہَا قَبْل إِیجَادہَا ، ثُمَّ أَوْجَدَ مَا سَبَقَ فِی عِلْمہ أَنَّہُ یُوجَد ، فَکُلّ مُحْدَث صَادِر عَنْ عِلْمہ وَقُدْرَتہ وَإِرَادَتہ ، ہَذَا ہُوَ الْمَعْلُوم مِنْ الدِّین بِالْبَرَاہِینِ الْقَطْعِیَّۃ ، وَعَلَیْہِ کَانَ السَّلَف مِنْ الصَّحَابَۃ وَخِیَار التَّابِعِینَ.'' (فتح الباری، کتاب الإیمان، باب سوال جبریل النبی صلی اﷲ علیہ وسلم:١٥٨/١، قدیمی)۔ فقط واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی