بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

تقدیر اور سزا و جزا

تقدیر اور سزا و جزا

سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام مندرجہ ذیل  مسئلہ کے بارے میں کہ  عام دھریوں اور کمیونسٹوں وغیرہ کی طرف سے یہ اعتراض کیا جاتا ہے کہ جب تقدیر میں اﷲ تعالیٰ نے ایک شخص کے بارے میں لکھ دیا کہ وہ قتل، چوری اورزنا وغیرہ گناہ کرے گا اور ختم ﷲ علیٰ قلوبہم کہ جب اﷲ تعالیٰ نے ان کے دلوں پر ختم قلب کی مہر لگا دی تو پھر سزا کیوں کر دیتا ہے؟

جواب

دھریوں کا یہ اعتراض غلط ہے، انسان کو اس کے گناہوں پر اُسی وقت سزاد ی جاتی ہے اوراس کے قلب پر مہر لگا دی جاتی ہے جب وہ اپنے قصد واختیار سے ان گناہوں کا ارتکاب کرتا ہے، کوئی اسے مجبور نہیں کرتا۔
''إِذِ الْمُعَلَّقُ، وَالْمُبْرَمُ کُلٌّ مِنْہُمَا مُثْبَتٌ فِی اللَّوْحِ غَیْرُ قَابِلٍ لِلْمَحْوِ، نَعَمِ الْمُعَلَّقُ فِی الْحَقِیقَۃِ مُبْرَمٌ بِالنِّسْبَۃِ إِلَی عِلْمِہِ تَعَالَی، فَتَعْبِیرُہُ بِالْمَحْوِ إِنَّمَا ہُوَ مِنَ التَّرْدِیدِ الْوَاقِعِ فِی اللَّوْحِ إِلَی تَحْقِیقِ الْأَمْرِ الْمُبْرَمِ الْمُبْہَمِ الَّذِی ہُوَ مَعْلُومٌ فِی أُمِّ الْکِتَابِ، أَوْ مَحْوُ أَحَدِ الشِّقَّیْنِ الَّذِی لَیْسَ فِی عِلْمِہِ تَعَالَی، فَتَأَمَّلْ.'' (مرقاۃ الفاتیح، کتاب الإیمان، ٢٥٧/١، رشیدیۃ)۔ فقط واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی