بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

تصویر بنانے پر اجرت لینا

تصویر بنانے پر اجرت لینا

سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک شخص کسی کے ہاں ملازم ہے وہ مالک مثلاً کسی پیپسی بنانے والی کمپنی کی مشہوری کی غرض سے اپنے ملازم کو کہتا ہے کہ کمپیوٹر کے اندر لڑکی کی پہلے سے بنی ہوئی تصویر جو محفوظ ہے اس کے ہاتھ میں پیپسی کی بوتل بنا کر کسی خاص پروگرام کی مدد سے پکڑا دو، پھر وہ اس تصویر کو مشہوری کے طور پر شائع کرنے والی پیپسی بنانے والی کمپنی کے حوالہ کر دیتاہے۔
تو پوچھنا یہ ہے کہ آیا ملازم مذکور کی یہ ملازمت جائز ہے یا نہیں؟ اور ملازم مذکور کو اس پر اجرت اور تنخواہ لینا جائز ہے یا نہیں؟

جواب 

واضح رہے کہ ذی روح اشیاء کی تصویریں بنانا اور بنوانا خواہ وہ ہاتھ سے بنائی جائیں یا کمپیوٹر وغیرہ سے سخت گناہ ہے ، احادیث میں اس پر سخت وعیدیں آئی ہیں ، اس لیے ہر مسلمان کو تصویر سازی سے بچنا چاہیے، باقی رہا صورت مسئولہ میں مذکور ملازم کی ملازمت وتنخواہ کا حکم تو اس میں تفصیل یہ ہے کہ اگر مالک نے اس کو تصویر کشی ہی کے لیے ملازم رکھا ہے اور وہ اس قسم کی تصویریں بنا کر اس پر تنخواہ لیتا ہے تو یہ جائز نہیں ہے، لیکن اگر مالک نے اس کو ملازم تو دوسرے جائز کاموں کے لیے رکھا ہے ، مگر کبھی کبھار تصویر بنانے کی نوبت بھی آتی ہے، تو تصویر بنانے کا گناہ تو اس پر ہو گا، مگر اس کی وجہ سے پوری ملازمت اور تنخواہ کو ناجائز نہیں کہا جائے گا، مگر پھر بھی اگر وہ اپنے لیے دوسری بے غبار ملازمت کا بندوبست کرلے تو بہتر ہے۔ فقط واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی