بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

تدفین کے بعد مٹھائی تقسیم کرنا، میت کے اوپر اجرک یا دوپٹہ ڈالنے کی رسم

تدفین کے بعد مٹھائی تقسیم کرنا، میت کے اوپر اجرک یا دوپٹہ ڈالنے کی رسم

سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام مندرجہ ذیل  مسئلہ کے بارے میں کہ دفن کرنے  اور  دعا کے بعد  کچھ چیزیں  مثلاً شیرینی ٹافیاں  وغیرہ جنازہ کے ساتھ آنے والے لوگوں میں بانٹی جاتی ہیں،ان کا شرعاٍ ً کیا حکم ہے؟

نیز ہمارے ہاں رواج ہے کہ میت کے اوپر کچھ اجرک،دوپٹہ  وغیرہ ڈالے جاتے ہیں، اور جنازہ میں آنے والے حضرات اپنے ساتھ اجرک دوپٹہ وغیرہ کسی اخبار یا شاپر وغیرہ میں لپیٹ کر آتے ہیں،پھر میت کی چارپائی وغیرہ پر رکھتے ہیں،اور میت کو قبر میں رکھنے کے بعد مٹی ڈالنے سے پہلے کفن کے علاوہ اجرک  دوپٹہ  وغیرہ نکال دیتے ہیں،اسی طرح تعزیت کے لیے  آنے والے لوگ  ان چیزوں کو اپنے ساتھ لے کر آتے ہیں ،میت کے ورثاء کو دے دیتے ہیں،شرعاً ان کا کیا حکم ہے تفصیل کے ساتھ بتائیں،نیز یہ اشیاء ورثاء کو دینےکے بعد اور میت کو دفن کرنے کے بعد ورثاء اپنے قبضہ میں رکھتے ہیں،ان کا شرعاً کیا حکم ہے ؟  تفصیلی جواب عنایت فرمائیں

جواب

مذکورہ افعال کا شریعت میں کوئی ثبوت نہیں ،یہ افعال محض جہالت ہیں ،انکو چھوڑنا لاز م ہے۔

وفي صحيح البخارى:

حدثنا يعقوب حدثنا إبراهيم بن سعد عن أبيه عن القاسم بن محمد عن عائشة رضي الله عنها قالت : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم ( من أحدث في أمرنا هذا ما ليس فيه فهو رد ).(رقم الحديث:2550،كتاب الصلح:1/371،ط:قديمى)

فقط واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی

فتوی نمبر: 174/72,79