بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

تدفین کے بعد اجتماعی دعا کا حکم

تدفین کے بعد اجتماعی دعا کا حکم

سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام مندرجہ ذیل  مسئلہ کے بارے میں کہ دفن کرنے کے بعد بعض حضرات گول دائرے کی شکل میں  کھڑے ہوکر دعا مانگتے ہیں ،بعض حضرات قبرستان سے باہر نکل کر دعا مانگتے ہیں ،شرعاً دونوں کا کیا حکم ہے ؟

جواب

میت کی تدفین کے بعدقبرستان کے احاطہ سے باہرنکل کر وہاں اجتماعی دعا کرناثابت نہیں  ،البتہ انفرادی طور پر  دعا کرنے میں کوئی حرج نہیں ،قبرستان  کے اندر ہاتھ اٹھا کر اجتماعی دعا کرنے میں بھی کوئی حرج نہیں ،گول دائرے  کی شکل  میں دعا کرنے کی بھی گنجائش ہے،البتہ بہتر یہ ہے کہ قبلہ رو ہوکر دعا کی جائے۔

وفي مرقاة المفاتيح:

وقد ورد في خبر أبي داود أنه كان إذا فرغ من دفن الرجل يقف عليه ويقول استغفروا الله لأخيكم واسألوا له التثبيت.(كتاب الجنائز،باب دفن الميت:4/196،ط:رشيدية)

وفي فتح البارى:

وفي حديث بن مسعود رأيت رسول الله صلى الله عليه و سلم في قبر عبد الله ذي النجادين الحديث وفيه فلما فرغ من دفنه استقبل القبلة رافعا يديه أخرجه أبو عوانة في صحيحه.(كتاب الدعوات،باب الدعاء مستقبل القبلة:11/173،ط:قديمى).فقط واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی

فتوی نمبر: 174/72,79