بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

قبر پر اذان کہنے کا حکم

قبر پر اذان کہنے کا حکم

سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام مندرجہ ذیل  مسئلہ کے بارے میں کہ ہمارے علاقے میں بہت سےاہل بدعت تدفین کے بعد متوفی کی قبر پر اذان دیتے ہیں، میں تو اہل حق سے تعلق کی بناء پر اس کو بدعت اور اضافہ فی الدین خیال کرتا ہوں، آپ سے گزارش ہےکہ قرآن وحدیث  اور اقوال ائمہ اربعہؒ سے مستند دلائل کے ساتھ اس بدعت کے رد میں جواب دے کر شکریہ کا موقع دیں۔

جواب

قبر پر اذان کہنا، نہ آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم سے ثابت ہے، نہ صحابہ ؓ وتابعینؒ سے، نہ ائمہ اربعہؒ سے نہ بعد کے اکابر امت اور مجددین ملت سے، خود سوچئے کہ اگر اس کام میں ذرا بھی خیر ہوتی ،تو کیا تمام اکابر اس خیر سے محروم رہ سکتے تھے؟ معلوم ہوا کہ یہ عمل خاص بدعت ہے اور دین اسلام میں  خود ساختہ اضافے کی حیثیت رکھتا ہے، اور پھر ہر مسلمان جانتا ہے کہ اذان  صرف نماز پنجگانہ اور جمعہ کے لیے ہے، ان کے علاوہ کسی نماز کے لیے بھی مشروع نہیں، چناں چہ فقہائے امت کا اجماع ہے کہ نماز عیدین ، نماز جنازہ، نماز کسوف، نماز استسقاء کے لیے اذان کہنا بدعت ہے اور دلیل اس کی یہ بیان کی گئی ہے کہ ان نمازوں کے لیے اذان آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم اور سلف صالحین سے منقول نہیں ،غور فرمائیے کہ قبر پر اذان کہنا کیوں کر  بدعت نہ ہو گا۔

علامہ ابن عابدین شامی لکھتے ہیں:

علامہ خیر رملی نے بحر الرائق کے حاشیہ میں لکھا ہے کہ بعض شافیہ نے اذان مولود پر قیاس کرکے دفن میت کے وقت اذان کہنے کو مندوب کہا مگر علامہ ابن حجر مکی شافعی ؒ نے شرح عباب میں اس کو رد کیا ہے ( شامی :طبع جدید، باب الاذان ج،۱ص:۳۷۵)
دوسرے جگہ دفن میت کے بیان میں لکھتے ہیں:

مصنف نے دفن کا صرف مسنون طریقہ ذکر کرنے پر اکتفا کیا ہے ،اس میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ دفن میت کے موقع پر اذان کہنا، جس کی آج کل عادت ہو گئی ہے، مسنون نہیں اور علامہ ابن حجر نے اپنے فتاو یٰ میں تصریح کی ہے کہ یہ بدعت ہے۔(شامی ،ص:۲۳۵، باب الجنائز)

''فی الاقتصار علی ماذکر من الوارد! إشارۃ إلی أنہ لایسن الأذان عند ادخال المیت فی قبر کما ھو المعتاد الآن.'' وقد صرح ابن حجر فی فتاویہ بأنہ بدعۃ، وقال:ومن ظن أنہ سنۃ قیاسا علی ندبھما للمولود الحاق لخاتمۃالأمر بابتدائہ فلم یصب.'' (الدرالمختار: کتاب الجنائز٢٣٥/٢، سعید)

''وقال العلامۃ المنادی فی فیض القدیر ، تحت حدیث، '' من أحدث فی أمرنا ھذا'' أی انشاء  واخترع وأتی بأمر حدیث من قبل نفسہ۔۔۔۔ (مالیس منہ) أی رأیاً لیس لہ من الکتاب أو السنۃ عاضد ظاہر أو خفی ملفوظ أو مستنبط ( فھورد) أی مردود علی فاعلہ لبطلانہ.'' (١١/٥٥٩٤، رقم الحدیث ٨٣٣٣، نزار مصطفی)

''وعلی متبع الجنازۃ الصمت، ویکرہ لھم رفع الصوت بالذکر وقراء ۃ القرآن.''(الھندیۃ، کتاب الجنائز ١/١٦٢، رشیدیۃ).فقط واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی