بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

بیعت کرنے کی شرعی حیثیت

بیعت کرنے کی شرعی حیثیت

سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام مندرجہ ذیل  مسئلہ کے بارے میں کہ میر ی تمام فیملی بریلوی مسلک سے تعلق رکھتی ہے،لیکن میں مزارات پر جاکر منت وغیرہ مانگنا ،یا کسی غیراللہ کو پکارنا مدد کے لیے اور نیاز کو ٹھیک نہیں سمجھتا اور میرا رجحان دیوبند مسلک کی طرف ہے،تو اس کے لیے کیا کسی عالم سے بیعت ہونا ہوگا؟ میری اس معاملے میں رہنمائی فرمائیں ۔

جواب

اصل یہ ہے کہ عقائد حقہ ، اخلاق فاضلہ اوراعمال صالحہ کااختیار اور حاصل کرنا ضروری ہے اور عقائد باطلہ ، اخلاق رذیلہ اور اعمال فاسدہ سے تحفظ ضروری ہے ، خواہ بذریعہ بیعت ہو ، یا تحصیل علم سے ہو ، یا صحبت اکابر سے ہو ، لیکن تجربہ و مشاھدہ یہ ہے کہ عموما ً بغیر شیخ کامل،متبع سنت سے بیعت ہونے کے یہ مقصد پورا حاصل نہیں ہوتا،لہذا آپ کو چاہئے کہ کسی شیخ کامل، متبع سنت بندے سے بیعت ہو جائیں، تا کہ عقائد حقہ  واعمال صالحہ کا حاصل کرنا اور عقائد باطلہ و اعمال فاسدہ سے حفاظت آسان ہو جائے۔

لما في الشامية:

"وفي تبيين المحارم":لاشك في فرضيةعلم فرائض الخمس وعلم الإخلاص ؛لأن صحة العمل موقوفةعليه،وعلم الحلال والحرام،وعلم الرياء؛لأن العابد محروم عن ثواب عمله بالرياء وعلم الحسد والعجب......قوله:(وعلم القلب)أي:علم الأخلاق،وهو علم يعرف به أنواع الفضائل وكيفية اكتسابها وأنواع الرذائل وكيفية اجتنابها.’’(مقدمة،مطلب في فرض الكفاية وفرض العين:1/107،108،ط:رشيدية).فقط واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی

فتوی نمبر: 175/121،123