بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

ایک ہی مجلس میں تین طلا ق دینے کا حکم ،حلالہ شرعیہ کا طریقہ

ایک ہی مجلس میں تین طلا ق دینے کا حکم ،حلالہ شرعیہ کا طریقہ

سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام مندرجہ ذیل  مسئلہ  کے بارے میں کہ زید نے اپنی بیوی کو ان الفاظ کے ساتھ  کہ”  میں تیرے کو ایک ساتھ تین دفعہ طلاق دیتا ہوں  “طلاق دی  ،پھر کسی نے اہلحدیث سے فتوی لاکر دیا،کہ تین طلاقیں ایک ساتھ دینےایک ہی طلاق شمار ہوتی ہے،اس واقعے کو ڈیڑھ مہینہ ہوچکا ہے ،اب دونوں  میاں بیوی ساتھ رہنا چاہتے ہیں ،اس صورت میں میاں بیوی ایک دوسرے سے رجوع کرسکتے ہیں،برائے مہربانی رہنمائی فرمائیں کہ یہ ایک طلاق شمار ہوگی یا مکمل تین شمار ہوں گی ۔ شکریہ

جواب

واضح رہے  کہ اکٹھے تین طلاقیں دینے سے بھی  تین طلاقیں واقع ہوجاتی  ہیں،لہذا صورتِ مسئولہ میں شوہر نے جب بیوی کو ایک ہی لفظ  ”  میں تیرے کو ایک ساتھ تین دفعہ طلاق دیتا ہوں  “سے تین طلاقیں  دے دیں ،تو اس کی بیوی اس پر حرمت ِ مغلظۃ کے ساتھ حرام ہوگئی ،نیز اس مسئلہ پر چاروں ائمہ  امام اعظم ابو حنیفہ،امام شافعی،امام مالک اورامام احمدبن حنبل رحمھم اللہ کااتفاق ہے۔

اب بغیر حلالہ شرعیہ کے نہ رجوع ممکن ہے نہ تجدید ِنکاح، لہذا عدت (تین ماہواریاں )گزرنے کے بعد بیوی کو اختیار ہوگا،جہاں چاہے نکاح کرسکتی ہیں،نیز حلالہ شرعیہ کا طریقہ یہ ہوگا کہ یہ عورت  عدت گزرنے کے بعد کسی اور جگہ  نکاح کر لے، اور دوسرا  شوہر ہمبستری   بھی کر لے ،پھر دوسرے شوہر کا انتقال ہوجائے ،یا وہ کسی وجہ سے طلاق دے دے، تو اس کی عدت گزرنے کے بعد اب اس کا نکاح اس  پہلے شوہر سے جائز ہوجائے گا ۔

لما في الصحيح للبخاري:

" عن عائشة رضي الله عنها: أن رفاعة القرظي تزوج امرأة ثم طلقها فتزوجت آخر فأتت النبي صلى الله عليه و سلم فذكرت له أنه لا يأتيها وأنه ليس معه إلا مثل هدبة فقال ( لا حتى تذوقي عسيلته ويذوق عسيلتك ) (كتاب الطلاق،باب إذا طلقها ثلاثا..907،دارالسلام)

لما في الشامية:

وذهب جمهور الصحابة والتابعين ومن بعدهم من أئمة المسلمين إلى أنه يقع ثلاث...... وقد ثبت النقل عن أكثرهم صريحا بإيقاع الثلاث ولم يظهر لهم مخالف  فماذا بعد الحق إلا الضلال.(كتاب الطلاق ،مطلب :طلاق الدور:4/423 ،ط:رشيدية)

وفي شرح المسلم للنووي:

وقد اختلف العلماء فيمن قال لامرأته أنت طالق ثلاثا فقال الشافعي ومالك وأبو حنيفة وأحمد وجماهير العلماء من السلف والخلف يقع الثلاث.(باب الطلاق الثلاث:1/478،ط:قديمي)

وفي البدائع:

" وأما الطلقات الثلاث فحكمها الأصلي هو زوال الملك وزوال حل المحلية أيضا حتى لا يجوز له نكاحها قبل التزوج بزوج آخر لقوله عز وجل { فإن طلقها فلا تحل له من بعد حتى تنكح زوجا غيره } وسواء طلقها ثلاثا متفرقا أو جملة واحدة.(فصل في حكم طلاق البائن،4403،ط:دارالكتب)

وفي الهندية:

" وإن كان الطلاق ثلاثا في الحرة وثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا ويدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها كذا في الهداية ولا فرق في ذلك بين كون المطلقة مدخولا بها أو غير مدخول بها كذا في فتح القدير".(كتاب الطلاق،الباب السادس: في الرجعة،فصل فيما تحل ....،2411،ط:رشيدية)

.فقط واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی

فتوی نمبر: 174/26