بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

ایمازون پر ڈراپ شپنگ حلال ہے ،حرام؟ ((Amazon drop shipping

ایمازون پر ڈراپ شپنگ حلال ہے ،حرام؟ ((Amazon drop shipping

سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام مندرجہ ذیل  مسئلہ کے بارے میں کہ کیا ایمازون پر ڈراپ شپنگ حلال ہے ؟ ((Amazon drop shipping

وضاحت:

ڈراپ شپنگ کے کام کا عام طور پر طریقہ یہ ہے کہ بائع اپنی مصنوعات  کی تصاویر اور تمام تفصیلات اپنی ویب سائٹ پر یا اپنے پیج پر ظاہر کر دیتا ہے ، ویب سائٹ یا پیج دیکھنے والا اشیاء کو دیکھ کر اپنی پسند کردہ چیز پر کلک کر کے اس چیز کو خریدنے کا اظہار کرتا ہے ، رقم کی ادائیگی کے لیے مختلف طریقہ کار اختیار کئے جاتے ہیں کبھی ڈیلیوری پر کی جاتی  ہے ، یعنی: جب مبیع مقررہ جگہ پر پہنچا  دی جاتی ہے ، تو مشتری رقم ادا کرتا ہے ،اوربعض دفعہ ادائیگی کریڈٹ کارڈ کے ذریعے کی جاتی ہے ، بائع مشتری کا کریڈٹ کارڈ نمبر حاصل کر کے بینک کو بھیجتا ہے اور وہاں سے اپنی رقم وصول کر لیتا ہے ، مبیع کی ادائیگی بعض اوقات کسی کو ریئر سروس کے ذریعے کی جاتی ہے ، اور بعض اوقات کمپنی خود یہ کام کرتی ہے ،ضروری نہیں کی مبیع بائع کی ملکیت میں موجود ہو ، بلکہ وہ آرڈر ملنے پر اشیاء کا انتظام کرتا ہے اور مشتری کے پتے پر یہ اشیاء ارسال کرتا ہے ۔

جواب

مختلف ویب سائیٹس پر جب گاہک اپنی پسندیدہ شے پر کلک کرتا ہے ، تو یہ  تحریری ایجاب ہوتا ہے ، جب یہ ایجاب کمپنی یا فرد کے پاس جاتا ہے ، تو وہ اسے قبول کر لیتا ہے ،یوں یہ عقد جانبین سے تحریری صورت میں عمل پذیر ہو تا ہے ۔

انٹرنیٹ پر اس طرح خرید وفروخت کرتے ہوئے درج ذیل امور  کا خیال رکھنا ٖضروری ہے :

۱۔مبیع (فروخت کردہ چیز)اور ثمن (قیمت کے طور پر طے کردہ چیز)کی مکمل تفصیل بتائی جائے ، جس سے ہر قسم کی جہالت اور ابہام  ختم ہو جائے ۔

۲۔ انٹرنیٹ پر سونے چاندی کی خرید و فروخت ہو ، تو بیع صرف کے احکام کی رعایت لازم ہو گی ،اور اگر   کرنسی کی خرید و فروخت ہو ،تو کسی ایک کرنسی پر قبضہ ضروری ہے ،تا کہ بیع الدین بالدین لازم نہ آئے۔

۳۔کوئی بھی شرط فاسد نہ لگائی گئی ہو ۔

۴۔صرف تصویر دیکھنے سے خیار  رویت ساقط نہ ہو گا ، لہذادیکھنےکےبعد اگر مبیع تصویر کے مطابق نہ ہو تو مشتری کو واپس کرنے کا اختیار ہو گا ۔

۵۔اگر ویب سائٹ والے آرڈر ملنے  پر کسی اور جگہ سے چیز مہیا کرتے ہوں ، تو صارف کو اس وقت  تک نہ بیچیں ، جب تک  چیز ان کے قبضے میں نہ آجائے ، البتہ وہ وکیل بالشراء(خریدار ویب سائٹ والے کو خریداری کا وکیل بنائے،اور اس پر  اس کے لئے کچھ اجرت بھی مقرر کرے  ،تو   مذکورہ چیز خریدنے کی صورت میں  ویب سائٹ والے کو صرف مقرر کردہ اجرت ملے گا ،اور جتنے پر اس نے لیا ہے ،اتنے پر خریدار کو بیچے گا ،زیادہ پر نہیں بیچ سکتا) کے طور پر معاہدہ کر سکتے ہیں ، یا خریدار وں سے بیع (سودے ) کے بجائے بیچنے کا وعدہ کر سکتے ہیں ۔

۶۔ویب سائٹ پر جان دار کی تصویر نہ لگائی جائے ۔

اگر ویب سائٹ پر خریدی گئی چیز اس طرح نہیں جیسا کہ اس کی صفات میں بیان کیا گیا تھا ، تو مشتری کو خیار  رؤ یت ( یعنی چیز کو دیکھ کر معیار کے مطابق نہ ہونے یا پسند نہ آنے میں واپس کرنے کا اختیار )حاصل ہو گا ، نیز اگر اس شے میں کوئی ایسا عیب ہو ،جس  کا مشتری کو علم نہیں تھا ، تو پھر مشتری کو خیار عیب ( عیب کی وجہ سے لوٹانے کا اختیار ) حاصل ہو گا ، اگر وہ چاہے ، تو پوری قیمت پر اسے  لے لے ، اگر چاہے  تو واپس کردے ، لیکن اسے یہ حق نہیں کہ وہ مبیع رکھ کر نقصان کی قیمت لے ۔

بائع کو خیار رؤیت تو مطلقا ً حاصل نہیں ہو گا ، البتہ ثمن میں کھوٹ ہو تو اسے تبدیلی کا حق ہو گا ، مگر سودے کو منسوخ کرنے کا حق اسے پھر بھی نہ ہو گا ۔

لما في الهداية:

"كل جهالة هذه صفتها(تفضي إلى المنازعة)تمنع الجواز".(كتاب البيوع:3/34،ط:البشرى)

وفيهاأيضا:

"قال:الصرف هو البيع إذا كان كل واحد من عوضيه من جنس الأثمان... قال: ولا بد من قبض العوضين قبل الافتراق...قال: فإن باع فضة بفضة أو ذهبا بذهب ،لا يجوز إلا مثلا بمثل وإن اختلفا في الجودة والصياغة...قال: ولا يجوز التصرف في ثمن الصرف قبل قبضه".(كتاب الصرف:3/55،ط:البشرى)

وفيهاأيضا:

"قال:ولايصح السلم حتى يقبض رأس المال قبل أن يفارقه،أما إذا كان من النقود؛فلأنه افترق عن دين بدين،وقدنهي عن الكالئ بالكالئ".(كتاب السلم:3/142،ط:البشرى)

وفيها أيضا:

"كل شرط لايقتضيه العقد،وفيه منفعة لأحد المتعاقدين،أو للمعقود عليه وهو من أهل الاستحقاق،يفسده".(باب البيع الفاسد،3/88،ط:البشرى)

وفيها أيضا:

"وإذا اطلع المشترى على عيب في المبيع:فهوبالخيار،إن شاء أخذهبجميع الثمن،وإن شاءرده...وليس له أن يمسكه ويأخذالنقصان".(باب خيارالعيب:3/62،ط:البشرى)

وفي تحفة الفقهاء للسمرقندي:

"البيوع الفاسدة أنواع:..... ومنها: أن يكون في المبيع أو في ثمنه غرر، مثل بيع السمك في الماء، وهو لا يقدر على تسليمه بدون الاصطياد والحيلة، وبيع الطير في الهواء،أوبيع مال الغير على أن يشتريه، فيسلمه إليه؛لانه باع ما ليس بمملوك له للحال،وفي ثبوته غرر وخطر".(كتاب البيوع،باب البيع الفاسد:239،ط:الوحيديةالبشاور)

وفي فقه البيوع:

"الوعد أو المواعدة بالبيع ليس بيعا،ولا تترتب عليه آثارالبيع من نقل ملكيةالمبيع ولا وجوب الثمن."( الوعد أو المواعدة بالبيع:2/1103،ط:معارف القرآن)

وفي الرد:

"وفي الدلال والسمسار يجب أجر المثل."(كتاب الإجارة،مطلب في أجرة الدلال،9/107،ط:رشيدية)

وفي مرقاة المفاتيح:

"قال أصحابنا: وغيرهم من العلماء تصوير صورة الحيوان حرام شديد التحريم وهو من الكبائر؛لأنه متوعدا عليه بهذا الوعيد الشديد المذكور في الأحاديث،سواء صنعه في ثوب أو بساط أو درهم أو دينار أو غير ذلك،وأما تصوير صورة الشجر والرجل والجبل وغير ذلك

فليس بحرام".(باب التصاوير،الفصل الأول:8/266،ط:رشيدية).فقط واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی

فتوی نمبر: 174/147