بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

ایصال ثواب کاشرعی طریقہ

ایصال ثواب کاشرعی طریقہ

سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام مندرجہ ذیل  مسئلہ کے بارے میں کہ قرآن واحادیث کی رو سے ایصال ثواب کس شکل میں جائز ہے؟ تلاوت قرآن کریم اورنماز وغیرہ کا ثواب پہنچایا جاسکتا ہے،یا نہیں؟رہنمائی فرمائیں۔

جواب

ایصال ثواب کے لیے شریعت میں کوئی خاص طریقہ نہیں ہے،تلاوت قرآن مجید، ذکر واذکار، غربا ء ومساکین پر صدقہ اورکوئی بھی نیک عمل کرکے ایصال ثواب کیا جاسکتا ہے،اہلِ سنت و الجماعت کے نزدیک یہ ثواب ان کو بلاشک و شبہ پہنچتا ہے۔

لمافی الرد:

'' صرح علماؤنا في باب الحج عن الغير بأن للإنسان أن يجعل ثواب عمله لغيره ‏صلاة أو صوما أو صدقة أو غيرها كذا في الهداية، بل في زكاة التتارخانية عن ‏المحيط: الأفضل لمن يتصدق نفلا أن ينوي لجميع المؤمنين والمؤمنات لأنها تصل ‏إليهم ولا ينقص من أجره شئ.اه هو مذهب أهل السنة والجماعة.‏". ( 240/2،ط:دارالفكر).فقط واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی