بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

آن لائن نکاح کرنے کا حکم

آن لائن نکاح کرنے کا حکم

سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام مندرجہ ذیل  مسئلہ کے بارے میں کہ میری بیٹی کی منگنی کو چار سال ہوگئے ہیں،لڑکا سعودی عرب میں ہے،اس کو چھٹی نہیں مل رہی ،اگر پاکستان آتا ہے،تو اس کی نوکری چلی جائے گی،  اس لئے میں اپنی بیٹی کا نکاح آن لائن کروانا چاہتی ہوں ، تو کیا آن لائن نکاح کرنا  جائز ہے،اگر نہیں تو اس کی متبادل صورت کیا ہوگی ؟ راہنمائی فرمائیں، شکریہ۔

جواب

نکاح کی مجلس میں خاوندکابذات خودموجود ہوناضروری نہیں ،بلکہ کسی اور کو وکیل بھی بنا سکتا ہے،اس لئے آن لائن نکاح نہ کیا جائے،بلکہ لڑکا یہاں پاکستان میں کسی شخص کو اپنا وکیل مقرر کرلے،اور وہ مجلس نکاح میں اس کی طرف سے ایجاب وقبول کر لے ،تو نکاح درست ہو جائے گا۔

لمافي بدائع الصنائع:

وأما الذي يرجع إلى مكان العقد، فهو اتحاد المجلس، إذا كان العاقدان حاضرين، وهو أن يكون الإيجاب والقبول في مجلس واحد، حتى لو اختلف المجلس لا ينعقد النكاح، بأن كانا حاضرين، فأوجب أحدهما، فقام الآخر عن المجلس قبل القبول، أو اشتغل بعمل يوجب اختلاف المجلس، لا ينعقد؛ لأن انعقاده عبارة عن ارتباط أحد الشطرين بالآخر.(كتاب النكاح، فصل في شرائط النكاح: 3/325، ط:دارالكتب العلمية)

وفي الدرمع الرد:

ومن شرائط الإيجاب و القبول: اتحاد المجلس لو حاضرين، وإن طال قوله : (اتحاد المجلس ) قال في البحر: فلو اختلف المجلس، لم ينعقد، فلو أوجب أحدهما، فقام الآخر أو اشتغل بعمل آخر، بطل الإيجاب؛ لأن شرط الارتباط اتحاد الزمان، فجعل المجلس جامعاً تيسيراً.(كتاب النكاح، مطلب التزوج بإرسال كتاب:4/86،ط:رشيدية)

وفي فتاوى السراجية:

رجل أرسل رجلا، ليخطب له فلانة، فزوّجها له، جاز، سواء كان بمهرالمثل أوغبن فاحش.(كتاب النكاح، باب الوكالة باالنكاح:192،ط:مكبتة زمزم).فقط واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی

فتوی نمبر: 175/232