بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

”انعامات کی برسات“ اسکیم کا حکم

”انعامات کی برسات“ اسکیم کا حکم

سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ میں60 لاکھ روپے کا مقروض ہوں اس قرض کو ادا کرنے کے لیے اپنی بیوی کے زیوارات گھر کی قیمتی اشیاء ایک عدد پلاٹ او رمتعدد اشیاء فروخت کر چکاہوں اور مزید قرض کو اتارنے کے لیے صرف ایک دوکان باقی ہے جس میں موجودہ اپنا کاروبار اسٹیشنری کرتا ہوں اگر اس دکان کو فروخت کرتا ہوں تو قرض ادا ہو سکتا ہے پھر روز گار کے لیے کافی مشکلات سے گزرنا پڑے گا اس وجہ سے ایک کوشش ہے کہ ایک ایسی اسکیم شروع کی جائے تاکہ مجھے بھی فائدہ ہو اور اس وجہ سے عوام الناس کو بھی فائدہ ہو اس لیے عوام الناس کی روز مرہ کی ضروریات میں استعمال ہونے والی اشیاء پر مشتمل اسکیم متعارف کروانے کا پروگرام بنایا ہے۔
بندہ ناچیز نے مختلف اسکیموں کو مدنظر رکھتے ہوئے کوشش کی ہے کہ اسلامی اصولوں کو سامنے رکھتے ہوئے قواعد وشرائط کی بنا پر اسکیم شروع ہو۔

آپ حضرات سے التجا ہے کہ آپ اسلامی اصولوں کے حوالے سے مزید بہتر طور پر ہماری راہ نمائی فرمائیں تاکہ بندہ ناچیز اس پروگرام کے تحت اپنا بہتر طریقہ سے کاروبار بھی شروع کرے اور اپنا قرض بھی ادا کرسکے اور دوسرے لوگوں کے لیے ایک مثال ایک نمونہ پیش کر سکے کہ اسلامی اصول پر کاربند ہو کر بھی ایک اچھی اسکیم والا راہ نما بزنس شروع کیا جاسکتا ہے مجھے الله کے فضل ورحمت سے قوی امید ہے کہ آپ حضرات اسلامی نقط نظر سے حالات کو مدنظررکھتے ہوئے ہماری ضروری راہ نمائی کریں گے ان شاء الله تعالیٰ۔

جواب

آپ کا جذبہ قابل تحسین ہے کہ آپ مکمل طور پر شرعی اصولوں کے مطابق کاروبار کرنا چاہتے ہیں ، لیکن ” انعامات کی برسات“ کے عنوان سے آپ کی اس انعامی اسکیم اور اس کی شرائط کا ہم نے بغور جائزہ لیا ہے، جس میں ہم اس نتیجہ پر پہنچے ہیں کہ ان انعامی اسکیموں کے ذریعے خرید وفروخت کرنا درجہ ذیل خرابیوں کی وجہ سے ناجائز ہے۔
1…مبیع کے بجائے مقصود بالبیع انعام ہوتا ہے۔
2…انعام کی وجہ سے مبیع کی قیمت عام بازاری ریٹ سے زیادہ ہوتی ہے۔
3…معقود علیہ انعام کو مانا جائے تو مبیع کا مجہول ہونا لازم آتا ہے۔
4…کسٹمر کا انعام کی لالچ میں اپنی قیمتی رقم کا داؤ پہ لگانا جو کہ بعض اوقات معمولی سا ہوتا ہے اور بعض اوقات بالکل نہیں ہوتا۔
5…بیع بشرط انعام کا ہونا وغیرہ۔

الغرض ان انعامی اسکیموں کی بنیاد ہی غلط ہے ، انعامی اسکیم رہتے ہوئے اسے شرعی سانچے میں ڈھالنا ممکن نہیں، لہٰذا اس سے اجتناب کیا جائے اور چوں کہ آج کل دیگر منافع بخش جائز کاروبار کی کمی نہیں ہے ، اس لیے ان میں سے کوئی جائز وکاروبار شروع کرکے اپنا گذر اوقات اور قرض اتارنے کی کوشش کریں، الله تعالیٰ آپ کا حامی وناصر ہو۔ فقط واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی