بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

انبیاء کے سوا کسی اور کے لیے علیہ السلام کہنا

انبیاء علیہم السلام کے سوا کسی اور کے لیے علیہ السلام کہنا

سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام مندرجہ ذیل  مسئلہ کے بارے میں کہ بعض ناموں کے ساتھ علیہ السلام لکھا جاتا ہے۔ اس کی کیا حقیقت ہے ؟جس طرح امام حسن وحسین علیہ السلام اگران کو رضی اﷲ عنہ کہا جائے تو اس کا  کیاحکم ہو گا؟اس کی وضاحت فرمائیں۔

جواب

سوائے انبیاء علیہم الصلوٰۃ والتسلیمات کے کسی او رکے نام کے ساتھ ” علیہ السلام” لکھنا جائز نہیں ہے،حضرت حسن وحسین رضی اﷲ تعالیٰ عنہما کے نام کے ساتھ بھی علیہ السلام کہنا درست نہیں ہے۔
لمافي شرح الفقه الأكبر:

''وفی الخلاصة أیضاً: إن فی الأجناس عن أبی حنیفة ۔ رحمه اﷲ تعالیٰ۔ لا یصلی علی غیر الأنبئیاء والملائكةومن صلی علی غیرهما لا علی جهة التبعية،فهو غال من الشیعة التی سمیت بالروافض.''(شرح الفقه الأکبر:166،167، قدیمی)
فلا یقال: فلان عليه السلام، فالواجب الاتباع واجتناب الابتداع.''
(الحبلی الکبیر:3، سهيل اکيدمی، لاهور). فقط واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی

فتوی نمبر: 13/382