بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

امانتاً کسی میت کو دفن کرنے کا حکم

امانتاً کسی میت کو دفن کرنے کا حکم

سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام مندرجہ ذیل  مسئلہ کے بارے میں کہ امانتاً کسی مردے کو دفن کرنے کا کیا مطلب ہے؟ اسلام میں امانتاً دفن کرنے کی اجازت ہے؟ حضور صلی اﷲ علیہ وسلم اور صحابہ کرامؓ کے عمل سے ایسا ثابت ہے؟

جواب

امانتاً دفن کرنے کا مطلب یہ ہے کہ بعض جگہ لوگ میت کو جو کسی دوسرے شہر میں فوت ہو گئی ہو تابوت وغیرہ میں رکھ کر امانت کہہ کر دفن کرتے ہیں او رپھر بعد میں کسی موقع پر تابوت نکال کر اپنے علاقے میں لے جاکر دفن کرتے ہیں، واضح رہے کہ دفن کرنے کے بعد خواہ امانتاً دفن کیا ہو، یا بغیر اس کے،تو  دوبارہ نکالنا جائز نہیں اور امانتاً دفن کرنا شرعاً بے اصل ہے۔

وفي الدرالمختار:

 (ولا يخرج منه) بعد إهالة التراب (إلا) لحق آدمي ك (أن تكون الأرض مغصوبة أو أخذت بشفعة) ويخير المالك بين إخراجه ومساواته اھـ

وفي حاشية ابن عابدین: تحت قوله (كأن تكون الأرض مغصوبة) وكما إذا سقط في القبر متاع أو كفن بثوب مغصوب أو دفن معه مال اھـ (۲/۲۳۸). فقط واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی