بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

امام سلام پھیرنے کے بعد سجدہ سہو کرے تو مسبوق کے لیے کیا حکم ہے ؟

امام سلام پھیرنے کے بعد سجدہ سہو کرے تو مسبوق کے لیے کیا حکم ہے ؟

سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام مندرجہ ذیل  مسئلہ کے بارے میں کہ کوئی حنفی المسلک  آدمی شافعی یا مالکی امام کے اقتداءمیں نماز ادا ءکرتا ہے اور امام صاحب  قعدہ اخیرہ میں  ایک سلام پھیر نے کے بعد دوسرا سلام پھیرنے لگے،تو اتنے  میں مقتدی اپنی باقی نماز مکمل کرنے کے لئے کھڑا  ہو گیا   یہ سمجھ کر کہ نماز(جماعت) ختم ہوگئی، مگرامام صاحب دوسر ے  سلام پھیر نے کے بعد  سجدہ سہوہ   کے  لیے سجدہ میں گیا  تو اب مقتدی  مسبوق  کو کیا کرنا چاہیے؟

جواب 

صورت مسئولہ میں   مسبو  ق مقتدی نے اگر اس رکعت  کا سجدہ اب تک نہیں کیا تو لوٹ کر آئے ، اور امام کے ساتھ سجدہ سہومیں شریک  ہوجائے ،اور پھر جب امام آخری سلام پھیردے  تو اٹھ کر اپنی بقیہ نماز پوری کرے،اور اس درمیان میں مسبوق نے جو قیام ، قرات اور رکوع کیا ہے وہ کالعدم تصور کیاجائے گا۔

لمافي الدر مع الرد:

"قوله: (والمسبوق يسجد مع إمامه)قيد بالسجود،لأنه لايتابعه في السلام،بل يسجد معه ويتشهد ،فإذا أسلم الإمام قام إلي القضاء."(كتاب الصلاة، باب سجود السهو،2/959،ط:رشيدية)

وفي البدائع:

ولو قام المسبوق إلى قضاء ما سبق به بعد ما سلم الإمام ثم تذكر الإمام أن عليه سجود السهو فسجدهما يعود إلى صلاة الإمام ولا يقتدي ولا يعتد بما قرأ وركع.(كتاب الصلاة،فصل في بيان من يجب عليه سجود السهو،1/723،ط:رشيدية)

و في التاتار خانية:

"إذا قام بعد ماتشهد الإمام وعلي الإمام سجود السهو، فقرأوركع ولم يسجد ،حتي عاد الإمام الي سجود السهو، فعلي هذا الر جل إن يتابع الإمام في سجود السهو، لأنه لم يستحكم انفراده بأداء مادون الركعة لأن ما دون الركعة ليس له حكم الصلاة فعلبه أن يعود إلي متابعة الإمام ثم يقوم للقضاء، ولايعتد بالذى أدى ، لأنه صاررافضالها بالعود إلي متابعة الإمام."(كتاب الصلاة ، الفصل الثالث والثلاثون في بيان حكم المسبوق والاحق ، 3/102،ط:غفارية).فقط واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی

فتوی نمبر: 174/183