بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

کیا فرماتے ہیں علمائے دین؟

کیا فرماتے ہیں علمائے دین؟

دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی

خلوت صحیحہ کی عدت میں طلاق اور خلع کا حکم
سوال… کیا فرماتے ہیں مفتیان ِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میرا نکاح بکر کے ساتھ ہوا، نکاح کے بعد ہمیں بیرون ملک منتقل ہونا تھا، مگر کرونا کے باعث ہم منتقل نہ ہو سکے اور اسی دوران میرے شوہر کی نوکر ی بھی چلی گئی، یہ بات واضح رہے کہ نکاح کے بعد میری رخصتی نہیں ہوئی تھی۔ کچھ عرصہ گزرنے کے بعد ہمارے آپس میں لڑائی جھگڑے شروع ہوگئے، کیوں کہ مجھے اپنی رخصتی کی فکر تھی اور انہیں اپنی ملازمت کی فکر تھی، اسی طرح کے اختلافات کے چلتے ایک مہینے کے بعد ان کے منہ سے میرے لیے ”طلاق ہے“ کے الفاظ نکلے، اس کے بعد انہوں نے فوراً ہی رجوع کر لیا، رجوع کے بعد بھی اسی طرح کے اختلافات برقرار رہے ، دو مہینے بعدانہوں نے مجھے غصے کی حالت میں فون پر ” میں طلاق دتیا ہوں“ کے الفاظ بولے، اس کے بعد میں نے فون کاٹ دیا، بعد میں رابطہ ہوا تو انہوں نے بتایا کہ میں نے مزید کوئی الفاظ نہیں بولے، پھر انہوں نے دو دن بعد گھر آکر رجوع کر لیا۔

سب نے ان کو سمجھایا، پھر بھی ہمارے درمیان اختلافات برقرار رہے، لیکن انہوں نے پھر طلاق کا لفظ استعمال نہیں کیا، ملازمت نہ ہونے کی وجہ سے وہ رخصتی میں بہت تاخیر کر رہے تھے، اسی عرصے میں کبھی کبھار ہماری بات ہوتی رہتی تھی۔

پھر میں نے عدالت میں خلع کی درخواست دائر کر دی، ہم دونوں عدالت میں حاضر ہوئے، میں نے جج سے خلع کی درخواست کی، لیکن وہ مسلسل انکار کرتے رہے، لیکن جج نے میرے اصرار پر میرے حق میں خلع کا فیصلہ سنا دیا، لیکن فیصلے کے بعد بھی ہمارا رابطہ رہا او راب وہ دوبئی چلے گئے ہیں، وہ مجھے لے کر جانا چاہتے ہیں، تاکہ ہم اپنی ازدواجی زندگی شروع کر سکیں، برائے کرم میری شریعت کی رو سے راہ نمائی فرمائیں کہ کیا میرا نکاح باقی ہے؟ کیا اس طرح خلع لینا درست ہے؟ کیا دوسری طلاق کے بعد رجوع کرنا درست تھا؟

وضاحت… مستفتیہ سے پوچھنے پر معلوم ہوا کہ نکا ح کے بعد رخصتی نہیں ہوئی تھی، مگر پہلی طلاق سے پہلے خلوت صحیحہ ہوئی تھی، یعنی دونوں کی ملاقات ایسی تنہائی میں ہوئی تھی کہ اس میں یہ دونوں ہم بستری کرنا چاہتے تو کرسکتے تھے، مگر ہم بستری کی نہیں تھی، پہلی طلاق کے بعد رجوع ہوا تھا اور دوسری طلاق سے پہلے دونوں ہم بستری بھی کرچکے تھے۔

جواب… واضح رہے کہ مذکورہ تنہائی کے بعد (ہم بستری سے پہلے) طلاق دینے سے طلاق بائن واقع ہوتی ہے، اس میں رجوع کا طریقہ یہ ہے کہ جانبین کی رضامندی سے تجدید نکاح ہو، مگر اس صورت میں اگر شوہر طلاق دے تو دوسری طلاق بائن واقع ہوجاتی ہے، اس کے بعد تجدید نکاح لازم ہے۔

لہٰذا صورت مسئولہ میں دو طلاقیں واقع ہوچکی ہیں، پہلی طلاق بائن کے بعد بغیر تجدید نکاح کے جو ہم بستری ہوئی ہے، اس پر توبہ واستغفار کریں اور دوسری طلاق بائن کے بعد جب تک تجدید نکاح نہ ہو اس وقت تک ازدواجی تعلق قائم رکھنا گنا ہ ہے۔

اگر آپ سابق شوہر سے ازدواجی تعلق رکھنا چاہتی ہیں، تو اس کے لیے نئے سرے سے نکاح کریں اور اس میں شوہر کو ایک ہی طلاق کا اختیار ہوگا، اور اگر آپ راضی نہیں ہیں تو کہیں اور شادی کرنا شرعاً درست ہے، باقی خلع عدت کے بعد واقع ہونے سے مزید کوئی طلاق نہیں ہوئی۔(119/176)

اولاد کی پرورش کا حق کس کو حاصل ہے
سوال… کیا فرماتے ہیں مفتیان ِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میاں بیوی کے درمیان طلاق یا خلع کے بعد اولاد کی پرورش کا حق کس کو حاصل ہے؟ جب کہ والد غیر شرعی امور کا مرتکب ہو، مثلاً: ترک صلاة وغیرہ، اور اولاد بھی والد کے قریب نہ جانا چاہتی ہو، اور بچوں کی والدہ بغرض ِ حسن ِ تربیت بچوں کو اپنے پاس رکھنا چاہتی ہو؟

جواب…صورت مسئولہ میں بچی کی پرورش کا حق شرعاً والد کو حاصل ہے، اس لیے کہ والد بچی کی حفاظت، تعلیم اور تربیت اچھی طرح کرسکتا ہے، لیکن اگر کسی وجہ سے والد قابل اعتماد نہ رہے اور والد کے پاس بچی کے ضائع ہونے یا اخلاق کے خراب ہونے کا اندیشہ ہو، تو والدہ اپنے پاس رکھ سکتی ہے، خصوصاً جب کہ والد غیر شرعی امور کا مرتکب ہو، اور فاسق بھی ہو اور بیوی دین دار ہو۔(337/175)

قرآن وحدیث کے بوسیدہ اوراق کا حکم
سوال… کیا فرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ قرآن پاک کے ضعیف اوراق ، احادیث کے ضعیف اوراق یا اور قسم کے مقدس اوراق جس چیز کے بھی ہوں، اس کو خشک کنویں میں ڈالنا، یا کسی دریا میں ڈالنا، کسی جنگل میں دفن کرنا، یا کسی قبرستان میں دفن کرنا، اس کا جلانا کیسا ہے؟ جس صورت میں جس جگہ ڈالنا ہو یا نہ ڈالنا ہو، تو حدیث سے ثابت شدہ اورتفصیل سے بیان کریں۔

جواب… قرآن مجید کے ناقابل استفادہ اور بوسیدہ اوراق کو جلانا جائز نہیں، انہیں بہتے ہوئے صاف پانی یادریا میں ڈال دیا جائے، یا محفوظ جگہ میں دفن کر دیا جائے۔

کتب حدیث اور دیگر مقدس اوراق کو دفن کرنا یا بہتے ہوئے صاف پانی میں ڈالنا زیادہ بہتر ہے، بصورت دیگر ان میں سے الله تعالیٰ اورانبیاء کرام کے نام مٹا کر جلانے کی گنجائش ہے۔

آج کل مساجد او ردیگر مقامات پر اسی سہولت کے تحت ڈبے آویزاں کیے گئے ہوئے ہیں مقدس اوراق اگر ان ڈبوں میں ڈال دیے جائیں تو بھی مناسب ہے۔(52/57)

عمارت کی بالائی منزلوں کو تعمیر سے پہلے بُک کرنے اوربیچنے کا حکم
سوال… کیا فرماتے ہیں مفتیان ِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ آج کل عرف میں مشہور ہے کہ بہت سے لوگ عمارت وبلڈنگ کی دوسری یا اوپر والی منزلوں پر گھر بُک کرواتے ہیں اور خریدتے ہیں، بلڈنگ بننے سے پہلے یا بنیادی کام شروع ہونے سے پہلے، پھر جب عمارتی کام شروع ہوتا ہے، تو اس کو نفع کے ساتھ آگے بیچ دیتے ہیں، کبھی کبھی تو بلڈنگ کا ڈھانچہ کھڑا ہو چکا ہوتا ہے، مگر کبھی کبھی ڈھانچہ بھی نہیں کھڑا ہوتا ہے، بعض اوقات کاغذات نام ہو جاتے ہیں اور بعض اوقات کاغذات بھی نام نہیں ہوتے اور قبضہ بھی نہیں ہوتا، ان تمام صورتوں اورحالات میں اس بیع کا کیا حکم ہے؟ برائے مہربانی تفصیل کے ساتھ تحریر فرمائیں، تمام صورتوں کو واضح بھی کریں، کن حالات میں جائز ہے او رکن میں ناجائز؟ ہدایہ میں آتا ہے کہ بیع قبل القبض جائز نہیں، اسی طرح دوسری جگہ (إذا کان السفل لرجل وعلوہ لآخر، فسقطا أوسقط العلو وحدہ، فباع صاحب العلو علوہ لم یجز) کیا اس پر قیاس کر سکتے ہیں؟

جواب… واضح رہے کہ عمارت کی اوپر والی منزلوں کی خرید وفروخت کی دو صورتیں ہیں: 1.. براہ راست بلڈر وغیرہ سے تعمیر شروع ہونے سے پہلے بُک کرانا۔  2.. بکنگ کرانے کے بعد بیچنا۔

پہلی صورت کو شریعت کی اصطلاح میں ”استصناع“ کہتے ہیں، جو کہ جائز ہے۔

البتہ دوسری صورت کی دو صورتیں ہیں: 1..بک کرائے ہوئے فلیٹ کو تعمیریا ڈھانچہ تیار ہونے کے بعد بیچنا، یہ صورت بھی جائز ہے۔  2.. ابھی تعمیر ہی نہیں ہوئی یا اس کا ڈھانچہ بھی کھڑا نہیں ہوا، یہ صورت بیع المعدوم ہونے کی وجہ سے جائز نہیں۔

باقی”البیع قبل القبض“ کو اس پر قیاس نہیں کیا جاسکتا؛ اس لیے کہ یہ قاعدہ اشیاء منقولہ میں جاری ہوتا ہے، اسی طرح ” إذا کان السفل لرجل وعلوہ لآخر فسقطا أو سقط العلو… الخ کو اس پر قیاس کرنا قیاس مع الفارق ہے۔

نیز شریعت میں کاغذات کے نام ہونے یا نہ ہونے کا اعتبار نہیں، بلکہ قبضہ کا اعتبار ہوتا ہے۔(46/81)

قرض وصول کرنے کے لیے مدیون کی گھڑی فروخت کرنے کا حکم
سوال… کیا فرماتے ہیں مفتیان ِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ عمروزید کا مقروض ہے اور قرض دینے میں ٹال مٹول کرتا ہے، شریعت نے دائن کو یہ حق دیا ہے کہ وہ کسی بھی طرح اپنا حق وصول کرے ، اب مثلاً: زید عمر کی گھڑی خفیہ طور پر چرا لیتا ہے او راسے بیچ کر اپنا حق 100 روپے وصول کرتا ہے، مطلوب یہ ہے کہ گھڑی کی کون سی قیمت کا اعتبار ہو گا؟ یعنی: مذکورہ گھڑی اگر زید از خود بیچے گا، تو مشتری100 روپے کا لے گا اور اور اگر مشتری کو ضرورت ہو، اور وہ خود خریدنا چاہے، تو120 کا بھی خریدے گا، اب پہلی قیمت کا اعتبار ہو گا، یا دوسری قیمت کا، یا جس قیمت پر زید اور مشتری متفق ہو جائیں اس کا؟

جواب… گھڑی کی جو قیمت بازار میں ہے، اُسی قیمت کااعتبار ہو گا، لہٰذا زید اپنے حق کے بمقدار اس گھڑی کی بازاری قیمت میں سے لے سکتا ہے اور اپنا حق وصول کرنے کے بعد اگر گھڑی کی قیمت میں سے رقم باقی ہو، تو زید پر اس کا واپس کرنا لازم ہے۔(36/83)

کیاحرام اور چوری سے توبہ کرنے سے قرض معاف ہو جائے گا؟
سوال …کیا فرماتے ہیں مفتیان ِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ زید اپنے گھرانے کا ایک فرد ہے، خود زید کی کفالت اس کے گھر والے کرتے ہیں اور زید کوئی کام نہیں کرتے ہوئے بھی مقروض ہے، اس طرح سے یہ مقروضیت پانچ سال سے چلی آرہی ہے، کسی کا500 مقروض، کسی کا1000 ،کسی کا300 او رکسی کا200 ،مسئلہ یہ ہے کہ زید کو ان میں سے کچھ یاد نہیں کہ کس کی کتنی رقم کا مقروض ہے، خود زید کی کفالت گھر والوں کی طرف سے ہے، یہ قرضہ ادا کرنے سے قاصر ہے، لیکن نیت رکھتا ہے کہ جب بھی استطاعت ہو جائے تو ادا کردوں گا، نیز ان میں سے کچھ قرض داروں کو پتا نہیں کہ زید ہمارا مقروض ہے، اگرچہ چوری کی صورت کیوں نہ ہو، تو کیا یہ معاف ہوسکتا ہے؟ جب کہ اس کی استطاعت بھی نہیں اور حرام سے ہمیشہ کے لیے توبہ بھی کر لیا ہے، برائے کرم صحیح جواب سے مستفید فرمائیں۔

جواب… صورت مسئولہ میں زید پر جتنا قرض ہے، ہر حال میں اس کا ادا کرنا لازم ہے، صرف اظہار ندامت او رحرام سے توبہ کرنے کی وجہ سے قرضہ معاف نہیں ہوسکتا، اس لیے کہ یہ حقوق العباد میں سے ہے، ہاں! اگر قرض خواہ اپنی دلی رضا سے معاف کر دے، تو معاف ہو جائے گا، باقی بعض قرض خواہوں کا زید کے مقروض ہونے سے لاعلم ہونا اور زید کو بھی یہ معلوم نہ ہونا کہ کس شخص کی کتنا رقم زید پر ہے؟ تو زید کو چاہیے کہ وہ خوب اچھی طرح غور وفکر کرے قرضے کی مقدار کا ایک محتاط اندازہ لگا کر اس کی ادائیگی کی کوشش کرے۔(156/83)