بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

کیا فرماتے ہیں علمائے دین؟

کیا فرماتے ہیں علمائے دین؟

دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی

عدت وفات سے متعلق بعض مسائل اورمشترکہ فیملی میں دیور سے بات چیت کرنے کا حکم
سوال…کیا فرماتے ہیں مفتیان ِ کرام ان مسائل کے بارے میں کہ: 1..معتدة الوفات (عدت گزارنے والی وہ عورت جس کے شوہر کا انتقال ہو چکا ہو) کی عدت چار ماہ دس دن ہوتی ہے، کیا باعتبار ایام کے پورے 130 دن گزارے گی؟ کیا حاملہ یا آئسہ(عمر زیادہ ہونے کی وجہ سے جس عورت کی ماہواری کا سلسلہ ختم ہو چکا ہو) ہونے کی صورت میں بھی اس کی عدت چار ماہ دس دن ہوگی؟

2.. جوائنٹ فیملی ہو تو اپنے کمرے سے باہر کسی غیر محرم مثلاً: دیور وغیرہ کے سامنے نکلنے او راس سے بات کرنے کا کیا حکم ہے، جب کہ اس کا ان کے سامنے نکلنا شرعی پردے میں ہو؟

3.. بعض خواتین عدت گزارے بغیر نکاح کر لیتی ہیں، ان کے بارے میں شریعت مطہرہ کا کیا فیصلہ ہے؟

4.. ”معتدة الوفات“ کا تعلق ”متوفی ِ“ سے بالکل ختم ہو جاتا ہے، پھر عدت گزارنے کی کیا وجہ ہے؟ کیا اسے کسی خاص حکمت پر محمول کیا جاسکتا ہے؟

5.. معتدة الوفات کو بن سنور کر رہنے سے کیوں منع کیا گیا ہے؟

جواب…1.. معتدة الوفاة(آئسہ ہو یا غیر آئسہ) کی عدت چار ماہ دس دن ہے، لہٰذا اگر شوہر قمری مہینے کی پہلی تاریخ میں فوت ہوا تو عدت مہینوں کے اعتبار سے شمار ہوگی، ورنہ دنوں کے حساب سے 130 دن شمار ہوگی، البتہ معتدة الوفات اگر حاملہ ہو تو اس کی عدت وضع حمل ہو گی۔

2.. شریعت نے دیور کو عورت کے لیے ہر حال میں نامحرم اوراجنبی قرار دیا ہے، صورت مسئولہ میں دیور کے ساتھ بلاضرورت شرعیہ کے بات کرنا جائز نہیں، البتہ شرعی پردے کی حالت میں دیور کے سامنے آنے یا بوقت ضرورت بات کرنے میں حرج نہیں۔

3.. ”مطلقہ“ یا ”متوفی عنہا زوجھا“ کے لیے عدت گزارنا واجب ہے، بغیر عدت گزارے اگر کسی سے نکاح کر لیا تو یہ نکاح جائز نہیں ہو گا، اگر عورت اور مرد کو اس کے ناجائز ہونے کا علم ہو اور نکاح کے بعد اگر صحبت کی ہو تو وہ خالص حرام اور زنا کے حکم میں ہے،جو کہ ایک سنگین جرم ہے، لہٰذا ان کو چاہیے کہ فوراً علیحدگی اختیار کریں اور سابقہ عمل پر توبہ و استغفار کریں۔

4.. نعمت نکاح کے فوت ہو جانے پر غم کا اظہار کرنے کی وجہ سے ”معتدة الوفاة“ کے حق میں شریعت مطہرہ نے عدت کو واجب قرار دیا ہے۔

5.. ”متوفی عنھا زوجھا“ کے لیے شریعت نے سوگ کو واجب قرار دیا ہے، بن سنور کرر ہنا یا زیب وزینت کرنا سوگ کے منافی ہے، اس وجہ سے یہ عمل شرعا ممنوع ہے۔(175/220-224)

فیروزہ پتھر کا نگینہ استعمال کرنے کا حکم
سوال… کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ انگوٹھی میں فیروزہ نامی پتھر کا بطور نگینہ کے مردوں کے لیے استعمال کیسا ہے؟ اور اس کی نسبت جو ابو لوٴ لوٴ فیروز مجوسی(قاتل حضرت فاروق اعظم رضی الله عنہ) کی طرف کی جاتی ہے اس کی کیا حقیقت ہے؟

جواب… واضح رہے کہ مرد کے لیے چاندی کی انگوٹھی کے استعمال کی گنجائش ہے، بشرطیکہ ساڑھے چار ماشہ سے زیادہ نہ ہو او راس میں کسی بھی قسم کا نگینہ استعمال کرنا جائز ہے۔

لہٰذا صورت مسئولہ میں ذکر کردہ فیروزہ نامی پتھر کا انگوٹھی میں بطور نگینہ استعمال جائز ہے، قدیم پتھروں میں اس کا شمار ہوتا ہے، جہاں تک ابو لوٴلوٴ فیروز مجوسی کی طرف نسبت کا تعلق ہے، تو اس کا ہمیں علم نہیں اور نہ اس سے حکم پر کوئی فرق پڑتا ہے۔(175/53)

ایمیزون کمپنی کے ساتھ آن لائن خرید وفروخت کا حکم
سوال…کیا فرماتے ہیں مفتیان ِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایمیزون ڈراپ شپنگ، اس ماڈل میں ہم گاہک کو ایک آئٹم آن لائن فروخت کرتے ہیں اور بعد میں اس چیز کا انتظام کرتے ہیں او راسے کسٹمر کو بھیج دیتے ہیں، ہم ان اشیاء کا ذخیرہ نہیں رکھتے جو ہم بیچتے ہیں، کیا یہ حلال ہے؟

اس کمپنی کے کام کا عام طور پر طریقہ یہ ہے کہ بائع اپنی مصنوعات کی تصاویر او رتمام تفصیلات اپنی ویب سائٹ پر یا اپنے پیج پر ظاہر کر دیتا ہے،ویب سائٹ یا پیج دیکھنے والا ان اشیاء کو دیکھ کر اپنی پسند کردہ چیز پر کلک کرکے اس چیز کو خریدنے کا اظہار کرتا ہے، رقم کی ادائیگی کے لیے مختلف طریقہ کار اختیار کیے جاتے ہیں، کبھی ڈیلیوری پر کی جاتی ہے، یعنی: جب مبیع مقررہ جگہ پر پہنچا دی جاتی ہے، تو مشتری رقم ادا کرتا ہے، او ربعض دفعہ ادائیگی کریڈٹ کارڈ کے ذریعے کی جاتی ہے، بائع مشتری کا کریڈٹ کارڈ نمبر حاصل کرکے بینک کو بھیجتا ہے اور وہاں سے اپنی رقم وصول کر لیتا ہے، مبیع کی ادائیگی بعض اوقات کسی کوریئر سروس کے ذریعے کی جاتی ہے، او ربعض اوقات کمپنی خود یہ کام کرتی ہے، ضرور ی نہیں کہ مبیع بائع کی ملکیت میں موجود ہو، بلکہ وہ آرڈر ملنے پر اشیاء کا انتظام کرتا ہے او رمشتری کے پتے پر یہ اشیاء ارسال کرتا ہے۔

جواب…مختلف ویب سائیٹس پر جب گاہک اپنی پسندیدہ شے پر کلک کرتا ہے، تویہ تحریری ایجاب ہوتا ہے، جب یہ ایجاب ایمیزون کمپنی ،کسی فرد کے پاس جاتا ہے تو وہ اسے قبول کر لیتا ہے، یوں یہ عقد جانبین سے تحریری صورت میں عمل پذیر ہوتا ہے، اس لیے ایمیزون کمپنی کے ساتھ انٹرنیٹ پر آن لائن اس طرح خرید وفروخت کرتے ہوئے درج ذیل شرائط کا لحاظ رکھنا شرعاً ضروری ہے:

1.. مبیع(فروخت کردہ چیز) اور ثمن ( قیمت کے طور پر طے کردہ چیز) کی مکمل تفصیل بتائی جائے، جس سے ہر قسم کی جہالت او رابہام ختم ہو جائے۔

2.. انٹر نیٹ پر آن لائن سونے چاندی کی خرید وفروخت ہو، تو بیع صرف کے احکام کی رعایت کرنا شرعاً لازم اور ضروری ہے، او راگر کرنسی کی خرید وفروخت ہو، تو کسی ایک کرنسی کی مجموعی مقدار پر مجلس عقد میں قبضہ ضروری ہے، تاکہ بیع الدین بالدین لازم نہ آئے۔

3.. متعاقدین ( ایمیزون کمپنی او رکسٹمر) کے درمیان شرط فاسدنہ لگائی گئی ہو۔

4.. صرف تصویر دیکھنے سے خیار رؤیت ساقط نہ ہو گا، لہٰذا دیکھنے کے بعد اگر مبیع تصویر کے مطابق نہ ہو، تو مشتری کو واپس کرنے کا اختیار ہوگا۔

5.. اگر ویب سائٹ والے آرڈر ملنے پر کسی او رجگہ سے چیز مہیا کرتے ہوں، تو صارف کو اس وقت تک نہ بیچیں، جب تک چیز ان کے قبضے میں نہ آجائے، البتہ وہ وکیل بالشراء (خرید ار ویب سائٹ والے کو خریداری کا وکیل بنائے او راس پر اس کے لیے کچھ اجرت بھی مقرر کرے، تو مذکورہ چیز خریدنے کی صورت میں ویب سائٹ والے کو صرف مقرر کردہ اجرت ملے گی او رجتنے پر اس نے لی ہے، اتنے پر خریدار کو بیچے گا، زیادہ پر نہیں بیچ سکتا) کے طور پر معاہدہ کرسکتے ہیں، یا خریداروں سے بیع (سو دے) کے بجائے بیچنے کا وعدہ کرسکتے ہیں۔

6.. مبیع کی تشہیر کے لیے ویب سائٹ پر ذی روح(جان دار) چیز کی تصویر نہ لگائی جائے۔

7.. ایمیزون کمپنی کے ساتھ آن لائن کاروبار کرنے کی صورت میں خرید وفروخت کا معاملہ کسی حلال چیز کا ہو، حرام چیز کا نہ ہو، جو کہ جائز نہیں۔

8.. اگر ویب سائٹ پر خریدی گئی چیز اس طرح نہیں جیسا کہ اس کی صفات میں بیان کیا گیا تھا تو مشتری کو خیار رؤیت( یعنی چیز کو دیکھ کر معیار کے مطابق نہ ہونے یا پسند نہ آنے پر واپس کرنے کا اختیار) حاصل ہو گا، نیز اگر اس شئی میں کوئی ایسا عیب ہو، جس کا مشتری کو علم نہیں تھا، تو پھر مشتری کو خیار عیب( عیب کی وجہ سے لوٹانے کا اختیار) حاصل ہو گا، اگر وہ چاہے تو پوری قیمت پر اسے لے لے، اگر چاہے تو واپس کردے، لیکن اسے یہ حق نہیں کہ وہ سامان رکھ کر نقصان کی قیمت لے، بائع کو خیار رؤیت تو مطلقاً حاصل نہیں ہو گا، البتہ ثمن میں کھوٹ ہو، تو اسے تبدیلی کا حق ہو گا، مگر سودے کو منسوخ کرنے کا حق اسے پھر بھی نہ ہو گا۔

لہٰذا مذکورہ بالاشرائط کی موجودگی میں اگر کسی نے ایمیزون کمپنی سے آن لائن کوئی چیز خرید لی، تو صارف(کسٹمر) کے لیے کسی اور پر اس چیز کا بیچنا اس وقت تک جائز نہیں، جب تک وہ اس چیز پر قبضہ نہ کر لے، قبضہ کرنے کے بعد اس چیز کا بیچنا جائز ہے۔(173/24)

اجارہ فاسد میں اجرتِ مثل کی تفصیل، وکیل کی اجرت کی تعیین، بیع فسخ کرنے کا حکم، اُدھار کی وجہ سے قیمت میں زیادتی اور قسطوں پر کاروبار کے اصول
سوال… کیا فرماتے ہیں مفتیان ِ عظام ان مسائل کے بارے میں کہ: 1.. زیدنے عمرو کو ایک موبائل دیا کہ اس کو پچیس ہزار روپے میں بیچ دو، اورپچیس ہزار روپے سے اوپر جو بھی نفع آئے وہ تمہارا ہو گا، کیا ایسا کرنا جائز ہے؟ کیا یہ اجارہ فاسدہ ہے؟

اگر عمرو نے وہ موبائل 26 ہزار روپے میں بیچ دیا، تو کیا یہ ساری رقم بمع منافع زید کی ہوگی؟ یاعمرو اس ایک ہزار منافع کا مستحق ہو گا؟ او راگر یہ اجارہ فاسدہ ہے اور عمرو اُجرتِ مثل کا مستحق ہے تو اجرت مثل کتنی ہو گی؟

2.. نیز اجرت مثل کی تعریف کیا ہے؟ اگر مارکیٹ میں سب لوگ اوپر مذکور اجارہ فاسدہ کی طرح اپنامنافع( اُجرت) لیتے ہوں، تو اس حالت میں پھر اجرت مثل کیسے متعین ہوگی؟

3.. اگر عمرو نے موبائل 26 ہزار کا بیچ کر زید کر بتاد یاکہ میں نے ایک ہزار روپے منافع کمایا ہے اور زید اُس کو کہتا ہے کہ ٹھیک ہے یہ تمہارے ہو گئے، تو کیا عمرو کے لیے یہ ایک ہزار روپے لینا جائز ہے؟

4.. عمروزید سے یہ کہے کہ میں نے تو تمہارا موبائل25 ہزار روپے میں بیچ دیا، پر تم نے تو اس کو 20 ہزار روپے میں خریدا تھا، تو مجھے بھی اُن پانچ ہزار میں سے کچھ منافع دو، اور عمرو اس کو مزید 500 روپے منافع دے دیتا ہے، تو کیا یہ مزید 500روپے لینا عمرو کے لیے جائز ہے؟

5.. عمرو نے بکر سے ایک موبائل کا20 ہزار روپے میں سودا کیا، عمرو نے سودا کرتے وقت بکر کو 2 ہزار روپے بیعانہ بھی دے دیا اور موبائل پر قبضہ بھی کر لیا او رکہا کہ مزید 18 ہزار روپے 2 دن بعد تم کو دے دوں گا، دو دن گزرنے سے پہلے عمرو نے اس موبائل کو 23 ہزار روپے میں ایک دوسرے شخص زید کو بیچ دیا، اب عمرو نے بکر کو اس کے باقی18 ہزار روپے دے دیے اور 3 ہزار روپے منافع اپنے پاس رکھ لیا، تو کیا عمرو کے لیے یہ منافع لینا جائز ہے؟

6.. مارکیٹ میں جب کوئی موبائل کا سودا کر لیتا ہے او ربیعانہ بھی دے دیتا ہے اور پھر اس کے بعد بائع اپنی بیع کو فسخ کرنا چاہتا ہے، تو مارکیٹ کے عرف کے مطابق بائع سے پھر کچھ جُرمانہ لیتے ہیں، تو کیا ایسا کرنا جائز ہے؟

7.. عمرو نے بکر سے ایک موبائل کا سودا کیا، موبائل20 ہزار روپے کا تھا اصلاً، لیکن بکر نے عمرو سے کہا کہ میں پیسے کچھ وقت کے بعد دوں گا، تو عمرو نے کہا کہ پھر میں موبائل25 ہزار روپے میں بیچوں گا، اس میں سے 10 ہزار روپے تم ابھی دے دو اور باقی15 ہزار روپے ایک مہینے کے بعد دے دینا، کیا یہ معاملہ جائز ہے؟

8.. نیز قسطو ں پر کاروبار کرنے کے اُصول کیا ہیں؟

جواب…1.. صورت ِ مسئولہ میں چوں کہ عمرو کی حیثیت بائع کے وکیل کی ہے، جو اُجرت پر بائع کے لیے کام کر رہا ہے اور اُجرت میں اس کے لیے مذکورہ رقم یعنی25 ہزار روپے سے زائد جتنا بھی نفع ہو، وہ نفع بطورِ اجرت کے مقرر کیا گیا ہے جس کی وجہ سے یہ اجارہ فاسد ہو گیا، اور اجارہ فاسدہ میں اجیر کو اجرت مثل ملتی ہے، لہٰذا موبائل جتنے کا بھی فروخت ہو گا ، وہ تمام رقم زید کی ہو گی اور عمرو کو اپنے کام کی اجرت ِ مثل ملے گی اور اجرت ِ مثلی بازار کے حساب کے مطابق مقرر کی جائے گی۔

2.. کسی کام کے کرنے کے لیے ایک شخص کا اتنی جرت لینا کہ بعینہ اسی کام کے کرنے پر لوگ جتنی اجرت لیتے ہوں، اس کو اجرت مثل کہتے ہیں، لہٰذا صورت مسئولہ میں اگرچہ مارکیٹ میں غیر شرعی طریقے کے مطابق اجرت وصول کی جارہی ہے، لیکن اِس کا اعتبار نہیں، بلکہ شہر میں یا دیگر مارکیٹوں میں لوگ اس کام کے کرنے پر جتنی اجرت لیتے ہوں، اُسی کا اعتبار ہو گا۔

3.. صورت مسئولہ میں مذکورہ ایک ہزار روپے چوں کہ عمرو کے عمل کا حصہ نہیں ہے، بلکہ زید کی چیز (موبائل) کا بدل ہے، لہٰذا یہ ایک ہزار روپے تو زید کے ہوں گے او رعمرو کو اپنے کام کی اجرت مثل ملے گی۔

4.. صورت مسئولہ میں عمرو کے لیے500 روپے منافع کا مطالبہ کرنا درست نہیں ہے، بلکہ اس کو صرف اپنے کام کی اجرت ِ مثل ملے گی۔

5.. مذکورہ صورت میں جب عمرو اور بکر کے درمیان سودا مکمل ہوچکا ہے، تو عمرو کو وہ موبائل آگے فروخت کرنے کا بھی اختیار ہے، لہٰذا عمروکو موبائل بیچنے پر جو نفع حاصل ہوا ہے، وہ اُس کے لیے جائز ہے۔

6.. سودا مکمل ہو جانے کے بعد بائع خود بیع کو فسخ نہیں کرسکتا، بلکہ بیع کے فسخ کے لیے بائع اور مشتری دونوں کی رضا مندی ضروری ہے اور بیع فسخ کرنے پر جرمانہ لازم کرنا اور اسے لینا، دینا جائز نہیں۔

7.. ادھار کی وجہ سے قیمت میں زیادتی کرنا جائز ہے، لیکن بیع کے وقت یہ طے کر لینا ضروری ہے کہ سودا نقد پر ہے یا اُدھار پر، لہٰذا صورت مسئولہ میں اگر سودا مکمل ہوچکا تھا تو قیمت کی زیادتی جائز نہیں ہے اور قیمت نقد دینا ضروری ہو گا، لیکن اگر سودا مکمل نہ ہوا، محض بھاؤ تاؤ ہو رہا ہو تو سودا مکمل ہونے سے پہلے اُدھار کی وجہ سے قیمت بڑھانا جائز ہے۔

8.. قسطوں پر کاروبار کے اُصول مندرجہ ذیل ہیں:
1.. بائع او رمشتری بیع کی مجلس میں ہی فیصلہ کر لیں کہ سودا اُدھار پر ہے یا نقد پر۔
2.. اگر معاملہ اُدھار پر ہے، تو جس وقت خریداری عمل میں آئے تو اُس وقت قیمت اور قسطیں بغیر ابہام کے طے ہو جائیں او رپھر جو قیمت طے ہوئی ہے، خریدار سے ہر حال میں اُسی کا مطالبہ ہو، ادائیگی میں تاخیر کی وجہ سے اس پر کوئی اضافہ نہ کیا جائے۔
3.. قسطوں کی مقدار اور قیمت کی ادائیگی کی مدت سب طے کر لی جائیں۔(23-30/175)