بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

کیا فرماتے ہیں علمائے دین؟

کیا فرماتے ہیں علمائے دین؟

دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی

گھر میں نظام الاوقات کی تعیین
سوال… کیا فرماتے ہیں مفتیان ِ کرام اس مسئلے کہ بارے میں کہ شرعیت مطہرہ کی روشنی میں:
1.. گھر میں نظام الاوقات متعین کرنے کی شرعی حیثیت کیا ہے؟

2.. کیا ہمیں پیارے دین اسلام نے کوئی ہدایت نہیں دی ہے کہ کب سونا چاہیے کب اٹھنا چاہیے؟کب کھانا چاہیے․ کب نہیں کھانا چاہیے؟

3.. کیا اسلام اس بات کی مکمل اجازت دیتا ہے؟ جب دل چاہے سو جاؤ، جب دل چاہے جاگ جاؤ، جو چاہے کھاؤ، جب چاہے کھاؤ، نظام الاوقات کی پابند کرنے کی کوئی ضرورت ہی نہیں ہے۔

4.. رات دیر تک جاگنے کی شرعی حیثیت کیا ہے؟ رات کو جاگنے اور سونے کے شرعی احکامات کیا ہیں؟

5.. بدنظمی بد انتظامی کو اپنا شعار بنانا کیسا ہے؟

6.. اگر اس وجہ سے گھر کا سربراہ ڈانٹ ڈپٹ کرتا ہو، باوجود نرمی سے بہت سمجھانے کے اس کی اطاعت نہ کرنے پر، تو کیا سربراہ گناہ گار ہو گا؟

7.. اگر کسی گھر میں گھر کا مرد اصول سے گھر کو لے کر چلنا چاہتا ہو،تا کہ بچوں کی عملی تربیت ہو سکے مگر گھر کیخاتون کا نہ یہ ذوق ہو نہ مزاج ہو بلکہ گھر کے مر د کے برعکس مزاج ہو تو اس میں کس کو اپنے طرز عمل کی اصلاح کی ضرورت ہے؟

جواب…(5،2،1) گھر میں نظام الاوقات متعین کرنا چاہیے، چاہے وہ سونے جاگنے سے متعلق ہو، چاہے وہ کھانے پینے سے متعلق ہو، یا دیگرامور سے متعلق ہو۔

نظام الاوقات کو متعین کرنے کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ آدمی ان تمام امور کا خیال رکھے جو اس کو کرنے چاہیے، اپنی ترجیحات کو پہچانے اور زندگی کے لیے ان کے مطابق منصوبہ بندی کرے، جس طرح نمازوں کے لیے پانچ اوقات کی تخصیص مسلمانوں کو اوقات مرتب کرنے کے بارے میں کئی اہم اسباق فراہم کرتی ہے، اسی طرح قرآن مجید کی آیات بھی اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہیں:﴿وَمِن رَّحْمَتِہِ جَعَلَ لَکُمُ اللَّیْْلَ وَالنَّہَارَ لِتَسْکُنُوا فِیْہِ وَلِتَبْتَغُوا مِن فَضْلِہِ وَلَعَلَّکُمْ تَشْکُرُونَ﴾․(سورة القصص:73) یہ اور اس جیسی دیگر آیات تنظیم اوقات کے بارے میں مسلمانوں کو راہ نمائی فراہم کرتی ہیں۔

لہٰذا اگر نظام الاوقات بنانے سے آپ کا مقصد یہ ہو کہ آپ کے اوقات میں برکت اور ترتیب آجائے تو پھر آپ کو دن کے پورے چوبیس گھنٹوں کا نظام الاوقات بنانا ہو گا، جس سے آپ کی زندگی ایک نظم وضبط کے تحت گزرے گی، اس لیے کہ مرتب انسان عبادت اور اطاعت میں سستی کرتا ہے، نہ ذکر واوراد سے غافل ہوتا ہے، نہ ان ذمہ داریوں میں کوتاہی کرتا ہے جو اس کے کاندھوں پر ہوتی ہیں اور نہ ہی اپنے اہل خانہ کے حقوق میں کوئی کمی کرتا ہے۔

وقت کو مرتب کرنے میں اس بات کا بھی لحاظ رکھا جائے کہ آدمی کے لیے ضرور ی ہے کہ جو لوگ اس کی زندگی میں شریک ہیں، ان کو اس نظام الاوقات کے بارے میں خود بتائے جس کو وہ نافذ کرنا چاہتا ہے او ران کی آراء سے مستفید ہو، پھر ان سے ان کے سامنے ان کاموں کی اہمیت واضح کرے، جن کو ادا کرنا اس کے لیے ضرور ی ہے او ران کو دل ودماغ سے اس پر قائل کرے، اگر وہ قائل کرنے میں کام یاب ہو گیا تو وہ اپنے کام بڑی سہولت اور آسانی سے انجام دے سکے گا او راپنے ارد گرد کے لوگوں سے کوئی اعتراض یا منفی رویہ نہیں دیکھے گا۔

3.. پیٹ بھر کھانا کھانا جائز ہے، البتہ اس قدر زیادہ کھانا کہ طبیعت میں سستی او رکاہلی پیدا ہو جائے، جس کی وجہ سے عبادات اور طاعات کی ادائیگی میں خلل آتا ہے تو یہ کراہت سے خالی نہیں۔

4.. عشاء کی نماز پڑھ کر فوراً سو جانا چاہیے، عشاء کی نماز کے بعد زیادہ جاگنا یا بلا ضرورت جاگنے سے حضور اکرم صلی الله علیہ وسلم نے منع فرمایا ہے ،کیوں کہ رات کو زیادہ دیر تک جاگنے سے کئی خطرات ہوتے ہیں، اس سے صحت پر بُرا اثر پڑتا ہے، اگر رات کو دیر سے سو کر دن چڑھے تک سو یا جائے تو سورج نکلنے کے بعد سونا نیستی (تنگ دستی، مفلسی) اور سستی وکاہلی کی علامت ہے اور سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ فجر کی نماز جو کہ فرض ہے، ادا نہیں ہوتی اور بلا وجہ گناہ مول لینا پڑتا ہے۔

6.. عورت کو خاوند کی اطاعت کرنی چاہیے، جو عورت خاوند کے ساتھ اچھا سلوک نہیں کرتی ، وہ اسلام کی نظرمیں ناپسندیدہ ہے،حدیث شریف میں ایسی عورتوں کے لیے سخت وعید آئی ہے، بار بار سمجھانے کے باوجود اگر وہ اپنی اس نافرمانی کے عمل سے باز نہیں آتی تو ایسی عورت کی ڈانٹ ڈپٹ پر شوہر گناہ گار نہیں ہوگا۔

7.. عورت کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے بچوں کی عملی تربیت میں اپنے شوہر کی مدد کرے اور اس کی خلاف ورزی نہ کرے، اس لیے کہ میاں بیوی کے تعلق میں یہ ضروری ہے کہ کسی ایک کو سربراہی کا درجہ دیا جائے اور آپ صلی الله علیہ وسلم کی شریعت میں گھر کا سربراہ مرد ہی کو قرار دیا گیا ہے اور عورتوں کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ گھر کے سربراہ اور ذمہ دار کی حیثیت سے شوہر کی بات مانیں اور بیوی ہونے کی حیثیت سے ان کی جو مخصوص گھریلو ذمہ داریاں ہیں، ان کی ادائیگی میں کوتاہی نہ کریں۔

معصیت پر تنبیہ کے لیے قطع تعلقی کرنے کا حکم
سوال… کیا فرماتے ہیں مفتیان ِ کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ مجھے کچھ خاندانی مسائل کا حل شریعت مطہرہ کی روشنی میں مطلوب ہے، امید ہے راہ نمائی فرمائیں گے، زید کے برادر نسبتی یعنی اہلیہ کے بھائی منشیات کی خرید وفروخت کا کاروبار کرتے ہیں، کیا ہم انہیں گھر کی تقریبات میں مدعوکرسکتے ہیں؟ وہ اس کاروبار کو فی الحال سمجھانے کے باوجود چھوڑنے کا ارادہ نہیں رکھتے، ہم حرام آمدنی سے بچنا چاہتے ہیں، لہٰذا ہم نے فی الحال اس وجہ سے ان کے گھر جانا آنا ترک کیا ہوا ہے، لہٰذا ہمارا یہ عمل صحیح ہے؟ برائے کرم قرآن وحدیث کی روشنی میں جواب عنایت فرما دیں، تو مہربانی ہو گی۔

وضاحت: منشیات سے مراد چرس، ہیروئن وغیرہ ہیں۔

جواب… شرعی نقطہ نظر سے منشیات کا کاروبار کرنا گناہ کبیرہ اور حرام ہے، اس سے بچنا ضروری ہے، لہٰذا صورت مسئولہ میں مسلمان ہونے کی حیثیت سے آپ کا فریضہ بنتا ہے کہ آپ اپنے برادر نسبتی کو خود نرمی سے سمجھائیں، یا کسی الله والے کے پاس لے جائیں، ان کے بیانات میں شرکت کرائیں، ان شا ء ا لله تعالیٰ اس سے فائدہ ہو گا، اگر سمجھانے کے باوجود نہیں مانتا اور قطع تعلق سے اصلاح کی امید ہے، یا تعلق رکھنے سے دوسروں کے گناہ میں پڑنے کا اندیشہ ہے، تو اس کے ساتھ ترک موالات (قطع تعلقی) کر لیں یہاں تک کہ وہ تنگ آکر توبہ کر لے۔

زکوٰ ةکے چند مسائل
سوال… کیا فرماتے ہیں مفتیان ِ کرام ان مسائل کے بارے میں کہ میری شادی کو بارہ سال ہو گئے ہیں، جب شادی ہوئی تو ساس، سسر نے مجھے دکھایا کہ میرے شوہر اپنے والد کے ساتھ ان کی دکان پر سیٹ ہیں،مگر شادی کے بعد ایک سال تک دونوں نے ساتھ کام کیا، پھر گھریلو لڑائی جھگڑوں کے بعد ساس اور سسر(شوہر کے والدین ) سے میرے شوہر کے تعلقات خراب ہونے کے بعد انہوں نے دکان سے نکال دیا اورکہا کہ اپنا کھاؤ کماؤ، گھر ساتھ تھا مگر کھانا الگ کر دیا ۔ میرے شوہر نے میرے والدین کا دیا ہوا، میرا سارا زیور لے لیا کہ کاروبار کروں گا یہ زیور بیچ کر اور ساس(شوہر کی والدہ) نے اپنی طرف سے جو دیا تھا، وہ زیور خود ساس نے لے لیا۔

میرے چار بچے ہیں، بارہ سال سے یہ حال ہے کہ گھر ساس سے الگ ہو گیا ہے، گیارہ سال کرائے کے گھر میں رہے اب ایک سال سے سسر کے ذاتی گھر میں رہ رہے ہیں، انہوں نے ہمیں رہنے کے لیے دیا ہے، شوہر کبھی قرضہ لے کر اپنا کام کرتے ہیں، جب کاروبار ٹھپ ہو جاتا ہے، تو سسر کے پاس چلے جاتے ہیں، ان کی دکان پر کام کرنے کے لیے، پھر ان کے ساتھ سیٹنگ نہیں بنتی تو پھر قرضہ لے کر اپنا کام کرنے لگ جاتے ہیں، ہمارے گھریلو حالات تنگی میں ہی چلتے رہتے ہیں، کبھی سامان ڈھنگ سے لے آتے ہیں، کبھی روکھی سوکھی کھا کر گزارہ کرتے ہیں۔

میرے ہاتھ میں میرے ذاتی خرچے کا ایک روپیہ بھی نہیں دیتے۔میری بیٹی ابھی کافی چھوٹی ہے تقریبا نو ماہ کی ہے او رمیرے پیٹ میں ہر نیا بھی ہے، جس کی وجہ سے میں کپڑے وغیرہ او رجھاڑو نہیں دے سکتی تو ماسی رکھی ہوئی ہے، جس کی تنخواہ بہت رُلا کر میرے شوہر دیتے ہیں ڈھائی تین ہزار روپے، کیا ایسی صورت میں میں زکوٰة کے پیسے لے کر اپنے اوراپنے بچوں پر خرچ کرسکتی ہوں؟

میرے پاس سونے اور چاندی کا ایک تار بھی نہیں ہے، نہ ہی کوئی رقم ہے۔ ہاتھ کے خرچ کے لیے میرے ماں باپ مجھے دیتے تھے، بچوں کے ساتھ سو ضروریات ہوتی ہیں، پیسوں کی ضرورت ہوتی ہے، اس لیے وہ میری مدد کرتے ہیں، مگر اب ان کے حالات بھی بہت خراب ہو چکے ہیں وہ بھی خرچ نہیں دے سکتے، تو کیا میں ایسی صورت میں زکوٰة لے سکتی ہوں کھانے کے لیے اور کپڑوں پر خرچ کرنے کے لیے استعمال کرسکتی ہوں اور میرے شوہر اگرکبھی اس میں کھالیں تو کوئی حرج تو نہیں ہے ،جب کہ میرے بچوں کے دادا، دادای کروڑ پتی ہیں، مگر ہمارا گزارا مشکل سے ہو پاتا ہے، ساس، سسر کی گاڑی بھی ہے اور وہ گاڑی میرے شوہر بھی استعمال کرتے ہیں او رمیں بھی جاتی آتی ہوں گاڑی میں ، بچے دنیاوی تعلیم حاصل نہیں کر رہے۔

میرے پاس شادی میں آنے جانے کے لیے میرے ماں باپ نے او رساس نے کچھ جوڑے بنا کر دیے ہوئے ہیں، تو کیا قیمتی جوڑوں کی موجودگی میں او رگھرمیں فریج، واشنگ مشین کی موجودگی میں، میں زکوٰة کی مستحق ہوں؟
میرے میاں ظالم ہیں، بہت اذیت دیتے ہیں مثلاً: رات کو سونے نہیں دیتے، بات بات پر چکرانا،جھوٹ سچ کرنا، ٹارچر کرنا، کبھی ہاتھ بھی اٹھا لیتے ہیں، ہر تھوڑے عرصہ کے بعد ماں باپ کے گھر پر بٹھانے کی دھمکی دیتے ہیں، پہلے کئی مرتبہ بٹھا بھی چکے ہیں او رکہتے ہیں کہ تم جاؤ، میں بچوں کو اپنے پاس ہی رکھوں گا۔

میرے میاں خود کوئی کام ڈھنگ سے نہیں کرتے او ردکھاتے ہیں کہ میں قرض لے کر کام کر رہا ہوں، یہ سب مجھے جھوٹ لگتا ہے، وہ اپنے ماں باپ کے ساتھ مل کر تماشے کرتے ہیں،حالاں کہ میرے سسرال کا ماحول اور میرے گھر کے حالات کو سامنے رکھاجائے تو سسرال والے چاہیں، تو میرے گھر کا خرچ دے سکتے ہیں، لیکن انہوں نے کبھی ایسا نہیں کیا دوا، دارو کا خرچ بھی بڑی مشکل سے کرتے ہیں۔

میرے میاں اکثر جب راشن نہیں لاتے تو خود تو وہ اکیلے کبھی کبھی اپنے والدین کے ہاں کھانا پینا کر لیتے ہیں، اپنا لباس دوائی وغیرہ اورکھانا پینا اچھے سے کر لیتے ہیں، لیکن میرے لیے او ربچوں کے لیے سخت دل ہیں۔

میں اپنے میاں کو زکوٰة لینے کے بارے میں آگاہ نہیں کرسکتی، کیوں کہ وہ پھر مجھے پیسے نہیں لینے دیں گے، زکوٰة کے پیسوں سے منع کر دیں گے، اس صورت میں ( کہ شوہر کو خبر نہ ہو ) زکوٰة لینا جائز ہے؟

جواب… جو شخص مقدار نصاب (ساڑھے باون تولہ چاندی یا اتنی نقد قیمت کا مالک بھی نہ ہو اور اس کے پاس ضرورت سے زائد اس مالیت کی چیز بھی نہ ہو ) کا مالک نہ ہو وہ مستحق زکوٰة ہے، چناں چہ جو مرد یا عورت مالک نصاب نہ ہو اس کے لیے زکوٰة وغیرہ لینا درست ہے، مگر اپنے والدین دادا، دادی، نانا، نانی، شوہر ، بیوی کو زکوٰةنہیں دی جاسکتی، البتہ ضرورت کی چیزوں میں داخل اشیاء مثلاً:( کپڑے، گھر کا سامان فریج، واشنگ مشین وغیرہ) زکوٰة لینے سے مانع نہیں ہوں گے، نیزاگر تنگی سے گزرا وقات ہوتے ہیں تو اس صورت میں زکوٰ ةلی جاسکتی ہے۔

لہٰذا صورت مسئولہ میں ذکر کردہ تفصیل اگر مبنی برحقیقت ہے، تو مذکورہ حالات میں آپ کے لیے زکوٰة لینا جائزہے، نیز زکوٰة کی رقم کی مالک بننے کے بعد اگر شوہر کو زکوٰة کی رقم سے کھلایا جائے ، تو اس میں حرج نہیں، اسی طرح بچوں کو زکوٰة لے کر کھلا سکتی ہیں، بشرطیکہ جب تک آپ مستحق زکوٰة ہیں۔

اس کے علاوہ آپ نے جو سونا اپنے شوہر کو دیا تھا، اب وہ سونا واپس کرنے سے انکار کر رہا ہے او راس کے ملنے کی امید نہ ہونے کی وجہ سے آپ نصاب کی مالک نہیں، لہٰذا زکوٰة لینے میں حرج نہیں ۔

زکوٰة لینے کے لیے شوہر کو بتانا ضروری نہیں، ان کو بتائے بغیر بھی آپ زکوٰة لے سکتی ہیں، تاہم چوں کہ آپ مستحق ہیں، اس لیے زکوٰة لینے کی گنجائش ہے، لیکن آپ کی ضروریات بھی ( اگرچہ تنگی کے ساتھ ) پوری ہو رہی ہیں، اس لیے زکوٰة مانگنا آپ کے لیے درست نہیں، البتہ اگر آپ کو کوئی از خود زکوٰة دے دے تو لینے کی گنجائش ہے۔

سرکاری ملازمین کو حکومت کی طرف سے ملنے والے رہائشی الاؤنس کا حکم
سوال… کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام ان مسائل کے بارے میں میرا پہلا سوال سرکاری ملازم کو حکومت کی طرف سے ماہانہ (House Rent) یعنی مکان کے کرایہ کی مد میں ملنے والی رقم کے حصول کے بارے میں ہے:

1.. یہ کہ میں سرکاری ملازم ہوں او رگلگت سے اسلام آباد پوسٹنگ ہوچکی ہے۔ اب اسلام آباد دفتر میں ڈیوٹی دینے والے ملازمین کے لیے کم وبیش 24 ہزار روپے ماہانہ مکان کے کرایہ کی مد میں حکومت کی طرف سے ملتے ہیں، یعنیFixed کیے گئے ہیں۔ اب ایک ملازم چاہتاہے کہ کرائے کا مکان ہی نہ لے، یعنی کرایہ کے مکان میں رہنے کے بجائے اپنے کسی عزیز کے ساتھ مفت میں رہائش اختیار کرے اور حکومت سے مذکورہ رقم وصول کرتا رہے۔ ایسے میں حکومت سے رقم وصول کرنے کا طریقہ یہ ہوتاہے کہ کسی ایسے شخص سے ( جس کے نام پہ کو ئی اپنا مکان الاٹ شدہ ہو ) تھوڑی بہت رقم مثلاً :ماہانہ تین ہزار روپے دوں گا کہہ کے طے کرکے اس سے مکان کے کاغذات کی کاپی اور اسی بندے کا بینک اکاؤنٹ نمبر وغیرہ ملازم کو اپنے دفتر میں جمع کروانا پڑتا ہے ( مکان کے کاغذات کی کاپی ونقشہ جو کہ ایک فارمیلٹی ہے ان کے بغیر مذکورہ رقم نہیں مل سکتی ) جب بھی مکان کے کرایہ کی مدمیں حکومت کی طرف سے رقم آئے گی تو بینک چیک اس بندے کو ملتی ہے جس کے مکان کے کاغذات کی کاپی او راس کا اکاؤنٹ نمبر وغیرہ ملازم نے اپنے آفس میں پہلے جمع کرایا تھا۔ اس بندے کے اکاؤنٹ میں حکومت کی طرف سے رقم منتقل ہونے کے بعد ملازم کو اس سے رقم واپس لینا پڑتی ہے اور وہ واپس کر بھی دیتے ہیں۔ تاہم اس بندے کو کچھ رقم دینا مثلاً ماہانہ تین ہزار کے حساب سے رقم دینا طے کرکے رقم وصول کرنا جائز ہے یانہیں؟

2.. اگر وہی شخص ملازم سے یوں کہہ دے کہ ”اپنی خوشی ومرضی سے جتنا مناسب مجھے رقم دے دیں او راگر نہ چاہیں تو نہ دیں“ اور یوں ملازم اس شخص سے حکومت کی طرف سے عطا کردہ رقم وصول کر لے تو کیا جائز ہو گا یا نہیں؟

3.. اگر کوئی شخص کسی ملازم کو مذکورہ تمام کاغذات یعنی مکان کے کاغذات کی کاپی، اپنا اکاونٹ نمبر او رشناختی کارڈ کی کاپی وغیرہ بالکل مفت میں دے دے او رحکومت سے رقم وصول کرنے کا جو بھی طریقہ اختیار کرنا ہو، کی اجازت دے دے تو کیا اس سے مکان کے کاغذات کی کاپی مفت لے کر دفترمیں فارمیلٹی کے طور پر جمع کرکے حکومت سے مکان کے کرائے کی مد میں ملنی والی رقم وصول کرنا جائز ہے کہ نہیں؟

مذکورہ طریقے سے اگر رقم وصول نہ کی جائے تو ایک چھوٹے سکیل کے ملازم کو ایک سال میں تقریباً تین لاکھ روپے سے محروم رہنا پڑتا ہے جب کہ اتنی دور پوسٹنگ ہو کے بندہ جتنا بھی فری رہے اخراجات زیادہ ہی ہوا کرتے ہیں۔

جواب…(2،1) صورت مسئولہ میں حکومت کی طرف سے ملازمین کے لیے یہ طے کیا گیا ہے کہ اگر وہ کسی کرائے کے مکان میں رہائش اختیار کرتے ہیں، تو انہیں مذکورہ رہائشی الاؤنس ملے گا، لہٰذا اگر وہ کسی کرائے کے مکان میں رہائش اختیار نہیں کرتے تو اس کے لیے یہ الاؤنس لینا جائز نہیں۔

3.. حکومت کی طرف سے ملازمین کے لیے یہ طے کیا گیا ہے کہ ملازم کوحکومت کی طرف سے اتنے پیسے ملیں گے،جتنا مکان کا کرایہ ہے، لہٰذا اگر کوئی شخص اس کو مکان کے کاغذات کی کاپی، اپنا اکاؤنٹ نمبر اور شناختی کارڈ کی کاپی وغیرہ بالکل مفت میں یا کم قیمت پر دے دے اور ملازم حکومت سے اس پر زیادہ رقم وصول کرے تو یہ ملازم کے ساتھ گناہ میں مدد کرنا ہے جو کہ جائز نہیں ہے۔

تقسیم سے قبل ترکہ سے حاصل شدہ منافع کا حکم
سوال… کیا فرماتے ہیں مفتیان ِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ1982 میں تین بھائیوں نے10000 روپے فی حصہ کے حساب سے30000 روپے کاکاروبار شروع کیا۔ جس کا کوئی تحریری اقرار نامہ یا ثبوت نہیں تھا۔ بس پیار محبت او راتفاق میں کام شروع کیا گیا۔

1991 میں ایک بھائی کی وفات ہو گئی۔ ان کا حصہ ان کے ورثاء وصول کرتے رہے۔

1992ء میں ایک بھائی کے بیٹے نے کاروبار میں اپنی خدمت شروع کی،1992 سے 1998 تک بیٹے کیخدمت کی اُجرت اس کے والد کے پاس ہوتی تھی جو مذکورہ کاروبار میں 1/3 حصہ کے شریک تھے۔

1998ء میں کاروباری اور قانونی ذمہ داریاں ہونے کی وجہ سے بیٹے نے کاروبار میں اپنا داتی حصہ دار ہونے کا اظہار کیا۔

جس پر فوت شدہ بھائی کے ورثاء سے 1/3 حصہ والد نے خرید کر بیٹے کے نام کر دیا۔ اس حصہ کی رقم بعد میں والد نے اپنے بیٹے سے وصول کر لی۔

1999ء میں تیسرے حصہ دار بھائی انتقال کر گئے جن کا حصہ ان کے ورثاء وصول کرتے رہے۔

2008ء تک کاروبار کے منافع کی رقم برابر تقسیم ہوتی رہی 2009 میں بیمار ہونے کی وجہ سے والد نے اپنے بیٹے سے اپنا ذاتی حصہ طلب کیا کہ میں نے اپنا تمام حصہ مسجد میں دینا ہے۔ جس پر بیٹے نے جواب دیا کہ آپ نے اپنے حصہ کی رقم مجھے نہیں، بلکہ اپنے بھائیوں کو دی تھی۔ اس پر وہ خاموش ہوگئے۔ کیوں کہ اس کا کوئی تحریری وقانونی ثبوت ان کے پاس نہ تھا۔ اس وقت تمام کاروباری اور قانونی ذمہ داریاں اس بیٹے کے نام پر تھیں۔

2009ء میں والد صاحب کی وفات کے بعد یہ حصہ کسی بھی وارث کی رضا مندی سے کاروبار میں شامل نہیں تھا بلکہ وقتاً فوقتاً دبی زبان میں طلب کرتے تھے۔ کیوں کہ کوئی تحریری ثبوت نہ تھا اس لیے قانوناً رقم وصول نہ کرسکتے تھے۔
2022 میں اب بیٹا باقی ورثاء کو والد صاحب کا حصہ دینے پر رضا مند ہے۔

احکام شرعیہ کی روشنی میں جواب صادر فرمائیں کہ والدصاحب کی وفات کے وقت کی رقم ورثاء میں تقسیم ہو گی یاموجودہ رقم؟

جواب… واضح رہے کہ کسی شخص کے انتقال کے بعد اس کے ترکہ میں اس کے تمام شرعی ورثاء کا حق ہوتا ہے ، کسی ایک وارث کا تمام ترکہ پر قابض ہو جانا اور دیگر شرعی ورثاء کی اجازت کے بغیر ان کے شرعی حق میراث کو اپنے استعمال میں لانا سخت گناہ کا کام ہے او راپنے شرعی حق سے زائد استعمال کرکے غاصب شمار ہوتا ہے او راس حصہ کے استعمال کرنے پر ضامن ہوتا ہے او ردیگر ورثاء کو اس کی ادائیگی کرنا لازم ہوتا ہے۔

مذکورہ تفصیل کی رو سے صورت ِ مسئولہ میں صرف اصل ترکہ (جو2009ء میں تھا) وہی تقسیم ہو گا اور جو نفع اس حصہ سے حاصل ہوا، تو چوں کہ وہ دیگر ورثاء کی رضا مندی کے بغیر کاروبار میں شامل تھا، لہٰذا یہ ارباح فاسدہ کے حکم میں ہے، جس کا حکم یہ ہے کہ اس نفع کو مالک کو لوٹایا جائے،اگر مالک کا علم نہ ہو سکے تو فقراء پر صدقہ کیا جائے، چناں چہ مذکورہ نفع تمام ورثاء پر (بقدرِ شرعی حصص) تقسیم ہو گا۔