بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

کیا فرماتے ہیں علمائے دین؟

کیا فرماتے ہیں علمائے دین؟

دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی

اوپن فائل کی خرید وفروخت کا حکم
سوال… کیا فرماتے مفتیانِ عظام اس مسئلے کے بارے میں کہ آج کل مارکیٹ میں حکومت سے منظور شدہ ہاؤسنگ سوسائٹیز پلاٹوں کی اوپن فائلوں (جس میں صرف ایڈوانس ادائیگی/ڈاؤن پیمنٹ جمع ہوتی ہے)کا کاروبار ہو رہا ہے، یہ ہاؤسنگ سوسائٹیز دعوی کرتے ہیں کہ ان کے پاس زمین موجود ہے اور یہ حکومت سے منظور شدہ ہیں، یہ ہاؤسنگ سوسائٹیز اپنی فائلیں ڈیلرز کو کمپنی/سوسائٹی کی مقرر شدہ قیمت سے کم قیمت پر دیتے ہیں اور ڈیلرز یہ فائلیں مارکیٹ میں کمپنی/سوسائٹی کی مقرر شدہ قیمت یا اس سے کچھ کم قیمت پر فروخت کرتے ہیں، کیا یہ کاروبار شریعت کی نظر میں جائز ہے؟ راہ نمائی فرمائیں۔

ان سوسائٹیز میں اگر کوئی ڈیلر اپنے کلائنٹ کے لیے پلاٹ/ فائل بک کرواکر اس کے نام پر ٹرانسفر کرواتا ہے تو ڈیلر کو کمپنی/ سوسائٹی کی طرف سے کمیشن/ریبٹ ملتا ہے، کیا یہ کاروبار اور پیسے جائز ہیں؟

جواب…صورت مسئولہ میں پلاٹ کی فائل کو آگے بیچنے کے بارے میں تفصیل یہ ہے کہ اگر بیع کے دوران پلاٹ کی مکمل حقیقت واضح کر دی گئی ہو اور اس کا محل وقوع بھی متعین ہو کہ خریدار نقشے کی مدد سے اپنے پلاٹ کی حدود کا اندازہ لگا سکتا ہو، تواس صورت میں پلاٹ کی خریدوفروخت نفع کے ساتھ فائل کی صورت میں جائز ہے، کیوں کہ یہ فائل کی خرید وفروخت نہیں ، بلکہ وہ فائل جس متعین پلاٹ کی نمائندگی کر رہی ہے، اس کی خرید وفروخت کا معاملہ ہے، البتہ اگر ہاؤسنگ سوسائٹی کی طرف سے پلاٹ کی حقیقت واضح نہ ہو اور اس کی حدود اربعہ متعین نہ ہوں، تو ایسی صورت میں پلاٹ کے مجہول ہونے کی وجہ سے فائل کی خرید وفروخت نفع کے ساتھ جائز نہیں، نیز ڈیلر کے لیے کمپنی کی طرف سے کمیشن لینا جائز ہے۔

پیغام نکاح، عقد نکاح،رخصتی اور ولیمہ کا سنت طریقہ
سوال… کیا فرماتے ہیں مفتیان ِ کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ پیغامِ نکاح ،عقدِ نکاح، رخصتی اور ولیمہ کے لیے اسلامی طرز عمل کیا ہے؟ اس کے لیے مجھے تمام ازواج مطہرات رضی الله تعالیٰ عنہن، 10 صحابہ کرام رضی الله تعالیٰ عنہم، 10 صحابیات رضی الله تعالیٰ عنہن کا طرز عمل تفصیلی طور پر بمع حوالہ جات کے درکار ہے، امید ہے مدلل انداز میں شرعی حوالہ جات کے ساتھ تحریری طور پر عنایت فرمائیں گے، تاکہ آج کے پرفتن دور میں مندرجہ بالا امور عین 100 فی صد سنت کے مطابق کرنا آسان ہو جائے ، اگر نبی کریم صلی الله علیہ وسلم کی چاروں بیٹیوں کی تفصیلات بھی مل جائیں تو بہت احسان ہو گا جس میں جہیز کی تفصیلات بھی مفصل درج ہوں۔

جواب…واضح رہے کہ نکاح ایک ایسا عقد ہے جس کی وجہ سے ایک اجنبی عورت اجنبی مرد کے ساتھ ساری زندگی رہنے اور ساتھ نبھانے کا عقد کرتی ہے، اسی عقد کی وجہ سے دو خاندان آپس میں جڑجاتے ہیں، نکاح کے بہت سے فوائد وبرکات ہیں، مگر یہ تمام برکات اس وقت برقرار رہتی ہیں، جب یہ نکاح حدود شرعیہ میں ہو، اگر ابتداء ہی سے اس کو خلاف شرع طریقے پر شروع کیا جائے، تمام معاملات خلاف سنت ہوں، غیروں کے طریقے پر ہوں، تو اس بابرکت چیز میں برکتوں کے بجائے نحوست آجاتی ہیں، جس کا ظہور بہت جلد ہی ہو جاتا ہے، لہٰذا ہمیں شادی کے معاملے میں ابتداء سے انتہاء تک شریعت کے احکامات کے مطابق عمل کرنا چاہیے۔

شریعت میں نکاح کا جو طریقہ کار بتایا گیا ہے، وہ مکمل طور پر سادگی پر مبنی ہے، نکاح میں سب سے پہلے جب لڑکے کا عقد کسی لڑکی سے کیا جائے، تو لڑکا لڑکی کو اپنے دلی اطمینان کے لیے دیکھ سکتا ہے، بشرطیکہ یہ دیکھنا چوری چھپکے سے حدود شرع میں ہو، بہتر یہ ہے کہ لڑکا اپنے گھر والوں سے لڑکی کے متعلق معلومات لے لے، اس کے بعد مستحب اورمستحسن یہ ہے کہ ”استخارہ او رمشورہ“ کر لے،نکاح کی تعیین میں دین دار کو ترجیح دے، کیوں کہ حدیث شریف میں دین دار کو ترجیح دینے کا حکم آیا ہے۔

عقد نکاح کی تقریب مسجد میں منعقد ہو، جمعہ کا دن مستحسن ہے، نکاح کی تقریب میں سادگی کا پہلو غالب ہو، اس میں اصل مقصود اعلان ہو، جس کے لیے اپنے اقرباء کو بلالیں، لیکن اس بات کو ملحوظ رکھا جائے کہ نکاح کی مجلس میں زیادہ شور شرابہ نہ ہو، بے جا اسراف نہ ہو، بلکہ سادگی سے ہو، اسی طرح یہ بات بھی مستحب ہے کہ نکاح کے وقت مہر کا تذکرہ ہو، اور اگر ممکن ہو تو مہر کی ادائیگی اسی وقت کی جائے۔

نیز آج کل جس طریقہ پر رخصتی ہوتی ہے، آپ علیہ السلام اورصحابہ کرام رضوان الله علیہم اجمعین کے ادوار میں اس کا تصور بھی نہ تھا، رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے چار بیٹیوں کی شادیاں کیں، بہت سے لوگوں کے نکاح پڑھائے، لیکن ان میں کوئی بارات وغیرہ نہیں تھی، محض نکاح ہی ہوتا تھا، حضوراکرم صلی الله علیہ وسلم کے زمانے میں نکاح کی تقریب کے لیے صرف سادہ انداز میں ولیمہ ہوتا تھا، یہی وجہ ہے کہ اکثر صحابہ کرام کے نکاح کے بعد آپ صلی الله علیہ وسلم کو پتا چلتا کہ انہوں نے نکاح کیا ہے، حضرت انس رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی الله عنہ کے کپڑوں پر زعفران کا لگا ہوا رنگ دیکھا،جس پر آپ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ کیا ہے؟ انہوں نے عرض کیا، میں نے نکاح کیا ہے، آپ صلی الله علیہ وسلم نے دریافت کیا کتنے مہر کے عوض؟ عرض کیا، ایک نواة (کھجور کی گٹھلی کے برابر تقریباً تین گرام) سونے کے عوض، آپ صلی الله علیہ وسلم نے یہ سن کر فرمایا:”أولم ولو بشاة“ ولیمہ کرو ،اگرچہ ایک بکری ہی کے ساتھ کیوں نہ ہو، اس کے علاوہ اور بہت سی احادیث ہیں، جن سے معلوم ہوتا ہے کہ رخصتی میں سادگی ہوتی تھی، لہٰذا رخصتی میں زیادہ اسراف اور خلاف شرع امور سے اجتناب کیا جائے۔

ولیمہ کا معنی ہے شادی کا کھانا، نکاح کے بعد کی دعوت جو دولہا کی طرف سے کی جاتی ہے، اسی دعوت کو ولیمہ کہا جاتا ہے، ولیمہ کی دعوت کرنا اور ولیمہ کی دعوت قبول کرنا آپ صلی الله علیہ وسلم کی سنت ہے، آپ صلی الله علیہ وسلم بڑی خوشی سے ولیمہ کی دعوت قبول کیا کرتے اور اس میں شرکت فرماتے تھے، تمام صحابہ کرام رضوان الله علیہم اجمعین کا بھی اس پر عمل رہا، ولیمہ کے لیے یہ ضروری نہیں کہ بہت بڑے پیمانے پر کھانا تیار کرکے کھلایا جائے، بلکہ شب عروسی گزارنے کے بعد اپنے عزیزوں، دوستوں، رشتہ داروں اور مساکین کو حسب استطاعت کھانا تیار کرکے کھلانا سنت ہے، ولیمے کی شرعی حدود جس کو اسلام نے متعین کیا ہے، وہ یہ ہیں کہ جس میں غرباء بھی ہوں،حسب استطاعت اپنی حیثیت کے مطابق ہو، ریا او رنمود کے لیے نہ ہو، زیادہ تکلفات نہ ہوں، خالص الله کی رضا اور خوش نودی کے لیے ہو، حضوراکرم صلی الله علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضوان الله علیہم اجمعین کے زمانے میں ولیمے کی تقریبات بہت سادہ اور معمولی قسم کی ہوتیں تھیں، حضرت عائشہ رضی الله عنہا اپنے ولیمہ کے بارے میں فرماتی ہیں کہ نہ اونٹ ذبح ہوا نہ بکری، سعد بن عبادہ رضی الله عنہ کے گھر سے دودھ کا ایک پیالہ آیا تھا، بس وہی ولیمہ تھا، الغرض! ولیمہ میں بلاتکلف وبلاتفاخر اختصار کے ساتھ جس قدر میسر ہو، اپنے خاص لوگوں کو کھلا دیا جائے۔
خلاصہ: ان تمام باتوں کا خلاصہ یہ ہے کہ شادیوں اور اسی طرح کی دیگر تقریبات کو، چاہے وہ کسی بھی قسم کی ہوں، رسومات مثلاً :مہندی، آتش بازی، ہوائی فائرنگ وغیرہ وغیرہ سے بالکل پاک کیا جائے، چاہے ان سے کوئی خوش ہوتا ہو، یا ناراض ، بے جا فضول خرچیوں او راسراف سے اجتناب کرنا چاہیے اور خلاف شرع تمام امور سے بچنا چاہیے۔
باقی یہ ایک مفصل موضوع ہے، اس کے لیے درج ذیل کتابوں کا معالعہ کر لیا جائے:

1.. بہشتی زیور، حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ الله

2.. اصلاح الرسوم، حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ الله

3.. اسلامی شادی، حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ الله۔

غیر سید لڑکے کا سیدہ لڑکی سے نکاح کا حکم
سوال… کیا فرماتے ہیں مفتیان ِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک لڑکا جو غیر سید ہے، سیدہ لڑکی سے شادی کرناچاہتا ہے، اور لڑکا اورلڑکی کے تمام گھر والے اس رشتے سے راضی ہیں، سوائے لڑکی کے والد کے، ان کا کہنا ہے کہ سیدہ لڑکی کانکاح غیر سید لڑکے سے نہیں ہو سکتا، آپ مفتیان کرام قرآن وحدیث کی روشنی میں اس مسئلہ کا حل بتائیں۔

والد صاحب کو اور کوئی اشکال نہیں، بس یہ کہنا ہے کہ سیدہ لڑکی کا غیر سید لڑکے کے ساتھ نکاح کرنا شرعاً جائز نہیں ہے۔

جواب… نکاح میں کفو(ہم پلہ ہونے) کا اعتبار کیا جاتا ہے، اورکفو کئی چیزوں میں معتبر ہوتا ہے، من جملہ ان میں سے ایک ”نسب“ بھی ہے، چوں کہ غیر سید لڑکا سیدہ لڑکی کا کفو نہیں، لہٰذا اگر اولیاء کی رضا مندی سے نکاح کرایا جائے، تو منعقد ہو گا، ورنہ نہیں، لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ ولی اگر غیر کفو میں نکاح کرانے پر کسی مصلحت وغیرہ کی وجہ سے راضی ہو، تو تب بھی نکاح درست نہیں۔

لہٰذا صورت مسئولہ میں اگر لڑکی کا والد اپنی بیٹی کا نکاح غیر سید لڑکے کے ساتھ کرنے پر راضی ہے، تو نکاح منعقد ہو جائے گا۔

سبق چھوڑنے پر طلاق معلق کرنے کا حکم
سوال… کیا فرماتے ہیں مفتیان ِ عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک بندہ کی شادی رجب میں ہوگئی، شعبان کے مہینہ میں اس نے اپنی بیوی کے سامنے اپنے والد صاحب سے کہا کہ اگر میں نے سبق چھوڑ دیا، تو میری بیوی کو طلاق ہو، صرف ایک مرتبہ کہا اور پھر شوال کے مہینہ میں کراچی گیا پڑھنے کے لیے، جب جارہا تھا، تو بیوی حاملہ تھی، کراچی جانے کے بعد عید الاضحی تک سبق پڑھ رہا تھا، لیکن ربیع الاول سے سبق میں ناغے شروع کر دیے، ایک دن حاضر، تو دو دن غیر حاضر، سبق ربیع الاول سے ایک لفظ بھی نہیں پڑھا، جمادی الثانیہ کے اخیر میں اس کے ہاں بچہ پیدا ہو گیا، پھر یہ بندہ رجب میں گھر واپس آگیا، لیکن اس کا سبق چھوڑنے کا ارادہ نہیں تھا، اس نے کہا کہ یہ سال خراب ہو گیا، آئندہ سال پڑھوں گا، لیکن گھر جانے کے بعد سبق چھوڑ دیا، اب سات سال ہو گئے کہ مدرسہ نہیں گیا ، دو سال پہلے کسی بات پر ایک طلاق اس سے واقع ہو گئی ہے، آپ حضرات سے معلوم کرنا ہے، کہ پہلی طلاق کس وقت واقع ہوئی، دوسری بھی واقع ہوئی یا نہیں؟ کیوں کہ بعض علماء کا قول ہے کہ پہلی طلاق ربیع الاول سے واقع ہوئی ہے؟ پھر اس کی بیوی کا وضع حمل ہو گیا، یہ کراچی میں تھا، رجعت بھی یاد نہیں، لہٰذا تجدید نکاح کافی ہے، دوسری طلاق واقع نہیں ہوگی۔ آپ حضرات اس کے متعلق آگاہ فرمائیں۔

جواب… صورت مسئولہ میں ان الفاظ (اگر میں نے سبق چھوڑا، تو میری بیوی کو طلاق ہو) سے شوہر کا مقصد سبق چھوڑنا ہے، تو جب سے مستقل سبق چھوڑ دیا، تو اس وقت اس کی بیوی کو ایک طلاق رجعی واقع ہو گئی، لیکن چوں کہ شوہر کے بقول اس نے عدت کے دوران رجوع نہیں کیا، اس لیے نکاح ختم ہوا، جس کے بعد بغیر تجدید نکاح کے بیوی سے رجوع کرنا جائز نہیں تھا، بغیر نکاح کے ایک لمبا عرصہ ساتھ رہنے پر اس پر توبہ واستغفار لازم ہے، اس کے بعد اس نے جو طلاق بیوی کو دی ہے، اس سے طلاق واقع نہیں ہوئی، کیوں کہ اس وقت بیوی اس کے نکاح میں نہیں تھی، لہٰذا تجدید نکاح کر لیں، نیز آئندہ کے لیے اس(شوہر) کو دو طلاقوں کا اختیار ہو گا۔

والد کا اپنی حیات میں جائیداد تقسیم کرنے کا حکم
سوال… کیا فرماتے ہیں مفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میرے تین بیٹے اور دو بیٹیاں ہیں جو کے سب حیات ہیں اور شادی شدہ ہیں ، میری ملکیت میں ایک گھر ، زمین اورنقدی ہے ،ان اثاثوں میں شریعت کی روح سے مذکورہ جائیداد کی تقسیم کا کیا حکم ہے، باپ، بیوی، دو بیٹیاں اور تین بیٹے ہیں، اس کے علاوہ میری بیوی اور دونوں بیٹیوں کے نام پلاٹ بھی ہیں، ان پلاٹوں کے سارے پیسے میں نے دیے تھے۔

جواب… صورت مسئولہ میں آپ جب تک حیات ہیں، اپنی تمام جائیداد کے مالک او رمختار ہیں، اس میں اولاد سمیت کسی کا حق نہیں، لہٰذا آپ کی زندگی میں اولاد میں سے کوئی تقسیم جائیداد کا مطالبہ نہیں کرسکتا اور نہ ہی زندگی میں اپنی جائیداد کی تقسیم کرنا آپ کے اوپر لازم ہے۔

البتہ اگر آپ اپنی رضا وخوشی کے ساتھ اپنی جائیداد زندگی میں تقسیم کرنا چاہیں، تو یہ آپ کی طرف سے ہبہ ہو گا، چناں چہ اولاد کے درمیان برابری ضروری ہے، اس میں لڑکے اور لڑکی سب برابر ہیں، البتہ دین داری، خدمت گزاری ،یا معذوری اورغربت وغیرہ کی وجہ سے کسی کو زیادہ دینا بھی درست ہے، بغیر کسی معقول وجہ کے کسی کو محروم کرنا یا کم دینا صحیح نہیں، اسی طرح آپ اپنے لیے جتنا حصہ رکھنا چاہیں، رکھ سکتے ہیں، اور بیوی کو بھی جتنا دینا چاہیں، دے سکتے ہیں، اس کی شرعاًکوئی حد نہیں۔

نیز آپ نے جو پلاٹ اپنی بیٹیوں او ربیوی کے نام پر کرکے انہیں مالکانہ اختیارات دے دیے ہیں، اس سے ہبہ (ہدیہ) مکمل ہوا، اب مذکورہ پلاٹ انہیں کی ملکیت ہیں، ان کی حیات میں ان پلاٹوں میں کسی اور کا حصہ نہیں ہوگا، البتہ آپ نے جو پلاٹ دو بیٹیوں کے نام پر کیے ہیں، اتنی مقدار باقی اولاد ( تین بیٹوں) کو بھی دے دیں، اس کے بعد بقیہوراثت کو اولاد (تین بیٹوں اور دو بیٹیوں) میں برابر برابر تقسیم کر دیں۔