بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

کیا فرماتے ہیں علمائے دین؟

کیا فرماتے ہیں علمائے دین؟

دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی

”اورین مال “ویب سائٹ کے ساتھ کاروبار کا شرعی حکم
سوال… کیا فرماتے ہیں علمائے کرام ومفتیان عظام درج ذیل مسئلہ کے بارے میں کہ اورین مال ویب سائٹ کے ساتھ کاروبار کرنا کیسا ہے؟

سوال میں مذکورہ ویب سائٹ (اورین مال/Orion Mall) کے بنیادی طور پر دو کام ہیں:

∗…ابتدا میں کمپنی کاورکر بننے کے لیے متعین فیس500 روپے جمع کرکے اس کا ممبر بننا ہوتا ہے، اس کے بعد اس کمپنی کی جو اشیاء (Products) ہوتی ہیں، انہیں خرید کر بیچنا ہوتا ہے، جس طرح دیگر آن لائن ویب سائٹ ہوتی ہیں، مثلاً:(Orintlamme، Alibaba Amazon وغیرہ) ۔ اور پھر آپ کو اس خرید وفروخت پر منافع ملتا ہے۔

∗… دوسرا اور سب سے اہم کام یہ ہوتا ہے کہ جب آپ کمپنی کے ممبر بن گئے اور آپ کی رجسٹریشن مکمل ہوگئی، تو اب دیگر لوگوں کو ترغیب دے کر اس کمپنی کا ممبر بنوائیں، جب یہ افراد اپنی رجسٹریشن مکمل کروالیں گے، تو یہ آپ کی ٹیم کے ممبر ہوں گے اور اب آپ کی ٹیم چین نیٹ ورک کی حیثیت سے کام کرے گی، لہٰذا آپ کی ٹیم کا کوئی بھی ممبر جب آگے نئے افراد کی رجسٹریشن کروائے گا، تو اس کا منافع آپ کو بھی ملے گا، پہلے فرد کی رجسٹریشن پر 200 روپے،دوسرے فرد کی رجسٹریشن پر120 روپے، اسی طرح جتنے افراد آگے رجسٹرڈ ہوتے جائیں گے تو ان کا منافع آپ کو ملتا رہے گا، یوں یہ ایک چین نیٹ ورک ( مکمل گروپ) بن جاتا ہے، پھر یہ گروپ جتنا متحرک ہو گا، اس حساب سے روز منافع ملتا رہے گا، جس کی کم از کم مقدار10 روپے اور زیادہ سے زیادہ منافع کی کوئی مقدار متعین نہیں اور یہ منافع کی زیادتی گروپ کی فعالیت پر منحصر ہے، پھر یہ رقم آپ کسی بھی وقت کسی بھی بینک، ایزی پیسہ یا جاز کیش اکاؤنٹ وغیرہ سے نکلواسکتے ہیں۔

جواب… سوال میں مذکور اورین مال ویب سائٹ ملٹی لیول مارکیٹنگ کے نظام کے تحت کام کرتی ہے اور ملٹی لیول مارکیٹنگ کے نظام میں شرعی اعتبار سے مختلف مفاسد اور خرابیاں پائی جاتی ہیں، مثلاً غرر، دھوکہ دہی وغیرہ، اس طریقہ کار میں کمپنی کی مصنوعات کھلی مارکیٹ میں فروخت نہیں ہوتیں، بلکہ پہلے صرف ممبران کو مصنوعات دی جاتی ہیں او رپھر ممبران کے ذریعے خریدارکو وہ مصنوعات ملتی ہیں، ساتھ ہی کمپنی کی طرف سے اس بات کی ترغیب دی جاتی ہے کہ آپ مزید ممبر بنائیں اور کمپنی کی مصنوعات کو فروخت کریں، اس پر کمپنی آپ کو کمیشن/ منافع دے گی، نتیجتاً ایسی کمپنیوں کا مقصد مصنوعات بیچنا نہیں ہوتا، بلکہ کمیشن او رمنافع کا لالچ دے کر لوگوں کو کمپنی کا ممبر/ ڈسٹری بیوٹر بنانا ہوتا ہے اور ایک تصوراتی او رغیر حقیقی منافع کا وعدہ کرکے لوگوں کو کمپنی میں شامل کر لیا جاتا ہے، البتہ اگر کوئی شخص اپنی ذاتی ضرورت کے لیے کمپنی کی کوئی پراڈکٹ خریدتا ہے او رکمپنی اس شخص کو اس خریداری پر رعایت دے تو اس میں حرج نہیں ۔

ملٹی لیول مارکیٹنگ پر چلنے والی کمپنیوں میں سے کسی جائز کام کرنے والی کمپنی میں بلاواسطہ کسی کو ممبر بنانے میں ممبر کی محنت کا دخل ہوتا ہے، جس کی اجرت لینا جائز ہے، لیکن بغیر کسی محنت ومشقت کے بالواسطہ بننے والے ممبروں او ران کی خریدوفروخت کی وجہ سے ملنی والی اجرت لینا جائز نہیں، اس لیے ملٹی لیول مارکیٹنگ کے نظام پر چلنے والی کمپنی کا ممبر بن کر ممبر سازی کرنا او رمختلف راستوں سے مالی فوائد حاصل کرنا شرعاً جائز نہیں، اس لیے مذکورہ ویب سائٹ کے ساتھ کاروبار کرنے سے اجتناب کرنا چاہیے۔

نیز مذکورہ کمپنی کا ورکر بننا بھی درست نہیں، کیوں کہ کمپنی میں ورکر بننے کے لیے کمپنی کی طرف سے یہ شرط لگائی جاتی ہے کہ سب سے پہلے کمپنی کو 500 روپے دوگے، پھر کمپنی کا ورکر بنو گے، یہ اجارہ میں شرط فاسد ہے اور اجارہ شرط فاسد کی وجہ سے فاسد ہوجاتا ہے، لہٰذا جب کمپنی کا ورکر بننا جائز نہیں، تو کمیشن لینا بھی جائز نہ ہو گا۔

کسی دکان کی اچھی شہرت یا چلت کرایہ پر دینے کا حکم
سوال… کیا فرماتے ہیں مفتیان ِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ہمارا پیشہ ہوٹلز سے وابستہ ہے، یعنی ہم کسی ہوٹل پر خرچہ کرکے اس کو کام یاب کرتے ہیں، پھر چالو کاروبار کسی پارٹی کو ٹھیکہ پر دیتے ہیں، یعنی ماہانہ دو لاکھ روپے پر دیتے ہیں، کیا شرعاً اس طرح کاروبار جائز ہے او راس میں کوئی خرابی تو نہیں ؟ واضح رہے کہ اس جگہ کا مالک کوئی اور ہے، اس کو ماہانہ الگ کرایہ دینا پڑتا ہے، لیکن ہم صرف چالو کاروبار دینے کا ماہانہ دو لاکھ روپے لیتے ہیں، جب کہ باقی کرایہ اور بل وغیرہ وہ ان کے اوپر الگ ہے۔

جواب… کسی دکان کی اچھی شہرت یا چلت ایک ایسی چیز ہے، جس کا نہ خارج میں کوئی وجود ہے اور نہ ہی اس پر شرعاً مال کی تعریف صادق آتی ہے، بلکہ یہ محض ایک حق ہے، جس کو فقہی اصطلاح میں حق مجرد کہا جاتا ہے او رحقوق مجردہ کو بیچنا یا اس کے معاوضے میں رقم لینا شرعاً جائز نہیں ہے،چناں چہ صورت مسئولہ میں کسی ہوٹل کو کام یاب کرکے صرف اس کی شہرت یا چلت کو بیچنا یا ٹھیکہ پر دینا شرعاً جائز نہیں۔

البتہ مذکورہ صورت میں اگر کرایہ دار نے ہوٹل کو کام یاب بنانے میں علیحدہ طور پر کوئی خرچہ کیا ہو، مثلاً :ہوٹل کی آرائش اور خوب صورتی کے لیے اس میں شیشے، بلب، الماری وغیرہ لگائے ہوں یا ہوٹل کا ضروری سامان مثلاً: ٹیبل ، کرسی اور برتن وغیرہ اس میں رکھ دیا ہو ، تو اس صورت میں اگر کرایہ دار کسی دوسرے شخص کو تنہا چالو کاروبار کرایہ پر دینے کے بجائے ہوٹل کا مذکورہ سامان کرایہ پر دے دے اور چالو کاروبار کی وجہ سے اس سامان کے کرایہ میں تھوڑا سا اضافہ کرلے تو اس کی شرعاً گنجائش ہے۔

ایک کمپنی کا لیبل دوسری کمپنی میں لگانا اور ایسی کمپنی کی نوکری کرنا
سوال… کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میرے دو بھائی کریم کی کمپنی میں کام کرتے ہیں، اب بھائی کا کہنا ہے کہ اس کمپنی میں اپنا کریم بنا کر دوسری بڑی کمپنیوں کا لیبل لگا کر فروخت کرتے ہیں، حالاں کہ ان کمپنی والوں کو معلوم نہیں کہ ہمارا لیبل ( اسٹیکر) دوسری کمپنی استعمال کرتی ہے، تو کیا اس کمپنی میں نوکری کرنا حلال ہے یا حرام؟ برائے مہربانی ہماری راہ نمائی فرمائیں۔

جواب… ایک کمپنی کا لیبل دوسری کمپنی کے لیے اس کی اجازت کے بغیر استعمال کرنا جائز نہیں ، بلکہ یہ غلط بیانی اور دھوکہ ہے، جس کی شریعت میں کوئی گنجائش نہیں ہے ،البتہ اگر ملازم اس لیبل لگانے یا بنانے سے متعلق کام نہیں کرتا اور ملازم کا بنیادی کام خلاف ِ شرع نہیں، تو ایسی کمپنی میں نوکری کرنا درست ہے۔

شعائر الله کی بے ادبی پر مشتمل میسجزکا حکم
سوال… کیا فرماتے ہیں مفتیان عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ آج کل عجیب وغریب میسج آتے ہیں، مثلاً :ایک ساتھی نے یہ میسج بھیجا کہ ایک پٹھان دوزخ کے سامنے ناچ رہا تھا، دوسرے لوگوں نے پوچھا کہ ہم یہاں تکلیف میں مبتلا ہیں اور تم ناچ رہے ہو؟! تو پٹھان نے کہا”کسی کو بتانا نہیں، میرا اعمال نامہ گم ہو گیا ہے“ ۔لہٰذا شریعت مطہرہ کی رو سے راہ نمائی فرمائیں کہ اس جیسے میسجز کا شرعی حکم کیا ہے؟

جواب… ایسے میسجز کہ جن میں اس طرح کا ہنسی مذاق ہو کہ”نعوذ بالله! آدمی کا اعمال نامہ گم ہو گیا“ یہ شعائر الله کی توہین ہے اورایمان کے سلب ہونے کا اندیشہ ہے ، ایسے خلاف شریعت پیغامات لکھنے والوں اور آگے پھیلانے والوں کو پوری ندامت کے ساتھ توبہ واستغفار کرنا چاہیے اور آئندہ اس طرح کی باتوں سے اجتناب کرنا چاہیے۔
طلاق کے بعد زیور اور بیوی کے نام کی گئی

جائیداد اور بچوں کے خرچ کا حکم
سوال… کیا فرماتے ہیں مفتیان ِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں:1.. اگر میاں بیوی دونوں الگ ہوناچاہتے ہوں تو بیوی کو طلاق کے بعد شوہر کیا دے گا؟ جو زیور شوہر کی طرف سے تھا ،کیا اس پر بیوی کا حق ہو گا؟

2..بچوں کی تربیت کے لیے آمدنی کا کتنا حصہ دے گا؟ جب کہ بچے بیوی کے پاس ہوں۔

3..اگر کوئی پراپرٹی اس کے نام سے بُک کی تھی، لیکن ابھی قبضہ نہیں ملا ،تو کیا وہ بھی دینی ہو گی؟

جواب..1… شوہر نے جو زیورات بیوی کو مالکانہ طور پر دیے ہوں، اس پر بیوی کا حق ہے ، لہٰذا شوہر واپس نہیں لے سکتا ہے۔

2..بچوں کی تربیت کے لیے خرچہ دینا شرعاً شوہر پر لازم ہے، البتہ اس کی کوئی تحدید نہیں ہے، بلکہ شوہر اپنی وسعت کے مطابق خرچہ دے گا۔

3..کسی کے نام پر صرف پراپرٹی بُک کرانے سے اس کی ملکیت نہیں بنتی ہے، کیوں کہ یہ ہبہ ہے، اس میں قبضہ شرط ہوتا ہے، لہٰذا صورت مسئولہ میں قبضہ نہیں پایا گیا ہے، اس لیے یہ بیوی کی ملکیت نہیں ہے، تو اس کو دینا بھی ضروری نہیں او راگر دے دے تو بھی بُرا نہیں۔

کیمرہ اور جدید آلات کے ذریعے حدود کے ثبوت کا حکم
سوال… کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ اگر کیمرے کے ذریعے یا آڈیو ریکارڈنگ کے ذریعے کوئی جرم ثابت ہو جائے، مثلاً :چوری، ڈکیتی، یا قتل وغیرہ کرتے وقت کیمرے کی آنکھ اس کو محفوظ بنائے یا کسی جرم کا اقرار کرتے وقت موبائل میں اس کی آواز محفوظ ہو جائے اور اس ویڈیو یا آڈیو کا اصلی اور صحیح ہونا بھی یقینی طور پر معلوم ہو جائے تو آیا ایسے مجرم پر شرعاً حد جاری ہوگی یا نہیں؟

او راگر اس پر حد جاری نہیں ہوسکتی، تو پھر اس کے ساتھ کیا معاملہ کیا جائے گا، جب کہ اس کا جرم یقینی طور پر معلوم ہو؟

جواب… کیمرہ، آڈیو ریکارڈنگ، موبائل میں محفوظ آواز، میڈیکل رپورٹ اور فنگر پرنٹس وغیرہ یہ تمام ذرائع شریعت مطہرہ کی نظر میں حد جاری کرنے کے لیے کافی نہیں، ان کی مدد سے کسی پر چوری، ڈکیتی، زنا اور قتل کا جرم ثابت نہیں کیا جاسکتا، اس لیے کہ یہ تمام ذرائع حجت قاصرہ کی حیثیت رکھتے ہیں او ران میں شکوک وشبہات، تلبیس اور تبدیلی کے پائے جانے کا قوی امکان ہے اور ان میں جعل سازی سے بھی کام لیا جاسکتا ہے، البتہ واضح قرائن کی موجودگی میں حاکم وقت تعزیر جاری کرسکتا ہے، جس کا تعین جرم اور مجرم کی نوعیت اور قرائن کی قوت اور ضعف کو دیکھ کر کیا جائے گا۔

مونچھوں کو بلیڈ یا ریزر سے صاف کرنے کا حکم
سوال… کیا فرماتے ہیں مفتیان ِ عظام اس مسئلے کے بارے میں کہ مونچھوں کو بلیڈ کے ذریعے یا ریزر کے ذریعے صاف کرنا جائز ہے یا نہیں ؟برائے کرم اس مسئلے میں را ہ نمائی فرمائیں۔

جواب…مونچھوں کو بلیڈ یا ریزر سے صاف کرنا درست ہے، البتہ بہتر یہ ہے کہ قینچی سے اس قدر مبالغہ کے ساتھ کتروائی جائے کہ حلق(مونڈھنے) کے مشابہ معلوم ہو۔

قبر کی مٹی کھانے او رمیت کو قبر سے نکال کر دوسری جگہ دفن کرنے کاحکم
سوال… کیا فرماتے ہیں مفتیان ِ عظام ان مسائل کے بارے میں کہ ..1..ایک شخص کے انتقال کے بعد اس کی ماں کو صبر نہیں آرہا ، وہ روتی جارہی ہے، توقبر کی مٹی پانی میں گھول کر پینا کیسا ہے؟ کیوں کہ کسی نے کہا ہے کہ اس طرح کرنے سے صبر آجاتا ہے، تو اس کی حقیقت کیا ہے؟

2..اور اس کو کراچی کے قبرستان میں دفن کیا گیا ہے او راب پتہ چلا کہ قبرستان کی انتظامیہ کچھ سالوں کے بعد قبر کھول کر اس میں دوسرا مردہ دفن کر دیتے ہیں، تو اس شخص کی لاش اس قبر سے نکال کر کسی او رجگہ دفن کرنا کیسا ہے؟ شریعت کیا حکم دیتی ہے؟

جواب..1… مٹی کھانا مکروہ ہے، خواہ قبر کی ہو یا کوئی اور مٹی، نیز قبر کی مٹی کھانے سے صبر آنے کی بات من گھڑت ہے، شریعت میں اس کی کوئی اصل نہیں، مرحوم کی والدہ کو ویسے تسلی دی جائے، قرآن وسنت میں مذکور صبر کے فضائل انہیں با ربار سنائے جائیں، امید ہے کہ ان کو صبر آجائے گا۔

2..میت کو دفن کرنے کے بعد بغیر کسی عذر کے دوبارہ نکالنا جائز نہیں، نیز اس قبر میں دوسرے مردے کو دفن کرنا کوئی ایسا عذر نہیں ہے جس کی وجہ سے مردے کو قبر سے نکال کر دوسری جگہ منتقل کیا جائے۔