بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

کام یاب زندگی کا راز

کام یاب زندگی کا راز

مولانا محمدیوسف خان

ترجمہ: اے ایمان والوں! اللہ سے ڈرو اور سیدھی سچی بات کہا کرو، اللہ تمہارے فائدے کے لیے تمہارے کام سنوار دے گا اور تمہارے گناہوں کی مغفرت کر دے گا اور جو شخص اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرے، اس نے وہ کام یابی حاصل کی جو زبردست کام یابی ہے۔(الاحزاب 33/ 70،71)

اللہ رب العزت نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے ہمیں زندگی کے ہر لمحے میں راہ نمائی عطا فرمائی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اپنے گھر کی جو زندگی تھی اس کو اتنا واضح طور پر امت کے لیے بطور نمونہ رکھا ہے کہ آج امت مسلمہ کے لیے را ہ نما اصول فراہم کرتی ہے، درج بالا جو آیت تلاوت کی ہے سورہٴ احزاب کی ، اس میں اللہ رب العزت نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے ہمیں یہ تلقین کی ہے کہ جب نکاح کا خطبہ ہوتا ہے تو اس میں چار آیتوں میں سے ایک یہ بھی پڑھی جاتی ہے کہ جس میں گھریلو زندگی کے بارے میں اہم اصول اللہ نے بتائے ۔ آج بھی کوئی انسان اپنے گھر کے معاملات کو درست کرنا چاہے تو ایک عمل او رایک کام کرے الله اس کے گھر کے کاموں کے معاملات کو درست کردے گا۔ انشاء اللہ ۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے یہ وعدہ لیا۔ اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو درست بات کرو، سیدھی بات کرو، غلط بات نہ کرو۔ وہ اللہ تمہارے کام درست کردے گا ،یہاں اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں کہا کہ تم اپنے بول کو درست کر لو، تمہارے سارے کام درست ہوجائیں گے ۔یہ جملہ نہیں ہے۔ یہاں میں پھر ترجمہ عرض کرتا ہوں اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور اپنے بول کو درست کر لو، اب یصلح کے اندر جو ھو ضمیر ہے، وہ اللہ کی طرف لوٹ رہی ہے۔ اللہ تمہارے کام درست کر دے گا، تم اپنی ذمہ داری پوری کر دو، اللہ اپنا وعدہ پورا کردے گا۔ اور یہ بول درست کیسے ہوتا ہے؟ درست بول کہ کبھی کبھی انسان گھر میں سچ بولتا ہے، اسے بڑا اعتماد ہوتا ہے، میں نے سچ بولا، لیکن گھر کے سارے حالات بگڑ جاتے ہیں، کبھی بیوی سچ بولتی ہے، کبھی نندیں ہیں ، کبھی ساس سچ بولتی اور کبھی شوہر سچ بولتا ہے، گھر کے حالات بگڑ جاتے ہیں ،اس لیے کہ وہ سچ تو بولتا ہے، لیکن قول سدید نہیں ہوتا ،درست بول نہیں ہوتا، عجیب سی بات ہے، سچ بولنا اچھی بات ہے۔ سچ بولنے کی ہی تلقین کی گئی ہے، جھوٹ سے بچنے کو کہا گیا ہے ،لیکن میں نے کہا کہ سارے لوگ گھر میں سچ بولتے ہیں، لیکن کبھی کبھی گھر کے سارے حالات تہہ وبالا ہوجاتے ہیں ،وجہ کیا ہوتی ہے؟ غیبت کرتے ہوئے انسان ہمیشہ سچ بولتا ہے۔

غیبت کسے کہتے ہیں؟ کسی انسان کے اندر برائی ہو یا عیب ہو ،پھر اس کی غیر موجودگی میں وہ عیب بیان کیا جائے وہ غیبت ہوتی ہے ،اس لیے غیبت کرنے والا بڑے اعتماد کے ساتھ غیبت کرتا ہے، وہ کہتا ہے کہ میں سچ بول رہا ہوں، آپ کنفرم کریں ،میں بالکل ٹھیک کہہ رہا ہوں، اللہ کے بندے دوسرے کا عیب اس کی غیر موجودگی میں بیان کررہے ہیں ،لیکن یہ غیبت ہے، اللہ کو پسند نہیں ہے ،یہ سچ بولنا۔ اس لیے کہ اگر وہ عیب اس کے اندر نہ ہو جو بیان کرتا پھر رہا ہے لوگوں میں تو، یہ تو بہتان یا تہمت ہے۔ یہ تو غیبت ہی نہیں ہے سرے سے، غیبت تو ہوگی ہی تب جب دوسرے کے اندر برائی ہوگی، وہ عیب ہوگا، اب گھروں کے اندر جب ایک دوسرے کی غیبتیں ہوتی ہیں ،گھر کے حالات بگڑ جاتے ہیں اور بندہ کہتا ہے کہ میں سچ بول رہا ہوں، جھوٹ تو نہیں بول رہا ،اللہ کے بندے سچ بولنا وہ بھی اللہ کی راہ نمائی کے مطابق ۔ چغل خوری گھر کے امور کو اور باہر کی زندگی کو تباہ کرنے والی چیز ہے۔ سارے گھروں کو، ہمارے اداروں کو تباہ کرنے والی چیز ہے ،اس لیے کہ چغل خوری سے دلوں میں توڑ پیدا ہوتا ہے، اس لیے الله تعالیٰ بڑا ناراض ہوتا ہے، یہاں تک کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ:

چغل خور جنت میں نہیں جائے گا۔(صحیح مسلم ، کتاب الایمان باب نمبر 45، باب بیان غل تحریم النمیمة:282)

کیوں کہ لوگوں کے دلوں کو توڑتا پھرتا ہے۔ گھر کے افراد کے دلوں میں دوری پیدا کرتا پھرتا تھا، اس لیے چغل خوری کی تعریف اور ڈسکرپشن ذہن میں رکھنی چاہیے کہ چغل خوری ہوتی کیا ہے؟ کسی کی اچھی یا بری بات دوسرے تک پہنچانا، تا کہ ان دونوں میں فساد ہوجائے ۔ بری بات سمجھ میں آجاتی ہے کہ بری عادت دوسرے تک پہنچانا ۔اچھی بات کی مثال دینے لگا ہوں کوئی اس کو برا نہیں سمجھے گا لیکن اسی سے گھروں میں فساد ہوتا ہے ،شادی ہوگئی، اب دولہا نے دیکھا کہ ٹھنڈ کا موسم ہے ،گرم سوٹ لا کر بیوی کو دیے دیا، کوئی بری بات ہے؟ اچھی بات ہے، ثواب ملتا ہے، بیوی کے حقوق ادا کرنے پر، اس کا خیال رکھنے پر سردی کا موسم دیکھا، گرم سوٹ لایا بیوی کے لیے تو جو اس کی نند تھی، یعنی شوہر کی بہن، وہ فوراً ماں کو جا کر کہتی ہے کہ محترمہ کے لیے سوٹ آیا ہے، اب بتایئے کون سی بری بات ہے اس میں؟ لیکن وہ ماں کو بتانا چاہتی ہے کہ پہلے تمہارے لیے سوٹ آیا کرتے تھے، اب شادی کے بعد کسی اور کے لیے لائیں گے، اب ماں پوچھے گی اس کو کہ کیوں نہیں لائے میرے لیے؟ فساد ہوگا گھر میں، سوٹ لانا بھی بری بات نہیں ہے، سوٹ کی اطلاع دینا بھی بری بات نہیں، لیکن بیچ میں نیت دیکھیں کہ کیا ہے؟ دو دلوں میں دوری۔ تو جو شخص دو دلوں کے درمیان دوری پیدا کرنے کا ذریعہ بنتا ہے اللہ اس کو جنت میں نہیں جانے دے گا۔ اس لیے کہ اس نے لوگوں کی زندگی اور گھروں کے ماحول کو جہنم بنایا ہوا ہے۔

اس لیے مفسرین نے لکھا کہ قول سدید یا درست بول کس کو کہتے ہیں ،درست بول اس کو کہتے ہیں جس میں اللہ تعالیٰ نے انسان کے بول، انسان کی زبان سے جو لفظ نکلتے ہیں اس کے اندر قرآن مجید میں جتنے عیب بیان کیے گئے ہیں اس بول کے اندر نہ ہو تو قول سدید ہے، وہ درست بول ہے۔ اس بول کے اندر جھوٹ، غیبت ، چغل خوری ، بہتان تراشی، استہزا، تمسخر، مذاق اڑانا، تحقیر، تذلیل، دھوکہ نہ ہو ( یہ منافق کی نشانی ہے، ادھر جاتا تو کہتا میں آپ کے ساتھ ہوں ادھر جاتا ہے کہتا ہے میں آپ کے ساتھ ہوں، منافق ہے، سورة البقرة میں اللہ نے سمجھایا ہے)۔ ایک تو اللہ تعالیٰ نے یہ اصول بتایا۔

دوسرا اصول اللہ تعالیٰ نے گھریلو معاملات کو درست رکھنے کے لیے بتایا ،کام یاب زندگی آج ہر شخص چاہتا ہے، میرے گھر کی اور آئندہ کی زندگی کام یاب ہوجائے ،جب شادیاں ہوتی ہیں تو لڑکے والے چاہتے ہیں ہمارے بیٹے کی زندگی کام یاب ہوجائے اور بیٹی والے چاہتے ہیں آئندہ ہماری بیٹی کی زندگی کام یاب ہو جائے اور مصیبت کیا ہوتی ہے کہ لڑکے والوں کے ذہن میں کام یاب زندگی کا اور معیار ہوتا ہے اور لڑکی والوں کے ذہن میں کام یاب زندگی کا معیار کچھ اور ہوتا ہے، تبھی تو وہ سمجھاتے ہیں، لڑکے کو دبا کر رکھنا اور لڑکے والے لڑکے کو سمجھاتے ہیں دیکھو (شروع کی زندگی میں) دبنا نہیں، بلکہ ایک دو لگا دینا، وہ ایک الگ موضوع ہے، دونوں کی کام یاب زندگی کا تصور الگ الگ ہوتا ہے۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے کام یاب زندگی کا تصور کچھ اور سکھایا ہے، اسی آیت میں فرمایا: جو الله اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کرے گا اس نے بڑی کام یابی پالی۔(الاحزاب 33/71)

دنیا کی بھی کام یاب زندگی، آخرت کی بھی ب زندگی ،ہر لمحہ یہ سوچتے رہیے کہ اب اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا کیا حکم ہے؟ رشتوں کے خیال میں، حقوق کی ادائیگی میں،زندگی گزارنے اور گھریلو زندگی میں۔اگرہم اپنے گھر کے حالات درست کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں چاہیے کہ صرف اپنے بول کو درست کریں۔

ایک عورت گئی تھی ایک بزرگ کے پاس کہ میرا شوہر بڑا جھگڑا لو ہے، بڑا بدزبان ہے، بڑی گالیاں نکالتا ہے، گھر میں آتا ہے تو لڑتا ہے، تنگ آگئی ہوں تو بزرگ نے تعویز دیا اورکہا کہ یہ تعویز لے لو، بڑے کام کا ہے،جوں ہی شوہر گھر میں داخل ہو، اس کو دانتوں کے نیچے دبانا اور جتنا شوہر زیادہ غصہ میں آئے اتنا زور سے دانتوں کے نیچے دبانا، تب یہ اثر کرے گا اور ایک ہفتہ بعد آکے بتانا۔ چنانچہ وہ ایک ہفتہ بعد آئی اور کہا کہ اثر کیا اس سے گھر کے حالات بہتر ہوگئے بد زبانی بھی کم کردی، غصہ بھی کم ہوگیا۔ اس نے بزرگ سے کہا بڑے کمال کا تعویذدیا تو بزرگ نے کاغذ کھول کے سامنے رکھ دیا کہ یہ سادہ کاغذ ہے، کچھ نہیں لکھا، تو نے صرف زبان بند کرلی گھر کے حالات درست ہوگئے، پہلے وہ آتا تھا بولتا تھا، جھگڑتا تھا، تم بھی جھگڑتی تھی ،وہ بھی تھکا ہوا ٹینشنوں میں آتا تھا، تم بولتی تھی، جس کی وجہ سے گھر میں فساد ہوتا تھا۔ ایک بندہ اپنے بول کو درست کر لے گھر کے ماحول میں انشاء اللہ بہت فرق پڑے گا۔ اللہ رب العزت گھروں کے ماحول میں اور اداروں کے ماحول میں ہمیں درست بولنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین!