بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

کام یابی کی ضامن تین اعلیٰ صفات … صداقت، عدالت، اور شجاعت

کام یابی کی ضامن تین اعلیٰ صفات
صداقت، عدالت، اور شجاعت

ڈاکٹر قاری محمد طاہر

         سبق پھر پڑھ صداقت کا، عدالت کا، شجاعت کا
         لیا جائے گا تجھ سے کام دنیا کی امامت کا
یہ نفائس اقبال کا تیسرا شعر ہے، جو علامہ اقبال کی مشہور ومعروف نظم طلوع اسلام سے ماخوذ ہے۔ جو بانگ درا کے صفحہ267 تا282 تک ممتد ہے۔ پیش نظر شعر کلیات کے صفحہ270 پر موجود ہے۔ نفائس اقبال کے پہلے شعر”ہوس نے کر دیا ٹکڑے ٹکڑے نوع انسان کو“ کی وضاحت کرتے ہوئے ہم نے اس پس منظر کا جائزہ لیا تھا جس کے تحت علامہ اقبال کے تخیل نے جولانی پکڑی اور یہ معرکة الاراء نظم(طلوع اسلام) معرض وجود میں آئی۔ اس تمام پس منظر کا تدکرہ اس جگہ اضافی ہو گا۔ لہٰذا اس پس منظر کو سمجھنا ضروری ہو تو سابقہ بحث کو دیکھنا کافی ہو گا۔ صرف اتنی بات ضروری ہے کہ یہ پوری نظم مسلمانوں کے نکبت وادبار کے حالات کے پیش نظر لکھی گئی۔ اس وقت کے حالات کا تقاضا تھا کہ شکستوں سے چور مسلمان قوم کو سنبھالا دیا جائے، تاکہ مسلمان اجتماعی مایوسی کے عالم سے نکل سکیں اور از سر نو فکری اور ذہنی بالیدگی حاصل کریں اور حوصلہ مندی او رجرء ت کے ساتھ آگے بڑھنے کی صلاحیت مسلمانوں میں پیدا ہو سکے۔ طلوع اسلام کے تمام اشعار کا مرکزی خیال یہی ہے۔

پیش نظر شعر کو سمجھنے کے لیے ان سات اشعار پر نظر ڈالنا ضروری ہے جو علامہ اقبال نے اس شعر کی تمہید کے طور پر لکھے ہیں۔ ان اشعار کو نظر میں رکھے بغیر اس شعر کی اصل تک پہنچنا مشکل ہی نہیں، بلکہ ناممکن ہے۔ وہ سات شعر یہ ہیں #
         خدائے لم یزل کا دستِ قدرت تو، زباں تو ہے
         یقین پیدا کر اے غافل کہ مغلوبِ گماں تو ہے
         پرے ہے چرخِ نیلی فام سے منزل مسلماں کی
         ستارے جس کی گردِ راہ ہوں، وہ کارواں تو ہے
         مکاں فانی، مکیں فانی، ازل تیرا، ابد تیرا،
         خدا کا آخری پیغام ہے تو، جاوداں تو ہے!
         حنا بندِ عروسِ لالہ ہے خونِ جگر تیرا
         تیری نسبت براہیمی ہے معمارِ جہاں تو ہے!
         تری فطرت امیں ہے ممکناتِ زندگانی کی
         جہاں کے جوہرِ مضمر کا گویا امتحاں تو ہے!
         جہانِ آب وگل سے عالمِ جاوید کی خاطر
         نبوت ساتھ جس کو لے گئی، وہ ارمغاں تو ہے!
         یہ نکتہ سرگزشتِ ملتِ بیضا سے ہے پیدا
         کہ اقوام زمینِ ایشیا کا پاسباں تو ہے

ان ساتوں اشعار میں علامہ اقبال نے امت مسلمہ کی خصوصیات او رمسلمان کی صلاحیتوں، نیز امت مسلمہ کی تخلیق کے مقصد کو واضح کرنے کی بھرپور کوشش کی ہے۔ تاکہ مسلمان اجتماعی لحاظ سے اپنے مقصد تخلیق کا ادراک کرسکیں۔

پہلے شعر میں آپ مسلمان قوم کو بے یقینی سے نکلنے اور یقین کی دولت پیدا کرنے کی تلقین فرماتے ہیں۔ دوسرے شعر میں مسلمانوں کے ہدف کا تعین کرتے ہیں اور ہر مسلمان کو اس کا مقام ومرتبہ سمجھا رہے ہیں۔ تیسرے شعر میں آپ بتلا رہے ہیں کہ دنیا کے تمام نظریات ، فکر باطل کا درجہ رکھتے ہیں، جب کہ اسلام آخری نظریہ حیات ہے، جو مستقل ہے، تاابد باقی رہنے والا ہے۔ چوتھے شعر میں آپ مسلمانوں کی ابراہیمی نسبت کا ذکر کرتے ہیں اور یہ باورکراتے ہیں کہ جس طرح حضرت ابراہیم علیہ السلام نے مرکز اسلام یعنی بیت الله کی تعمیر کا فریضہ سر انجام دیا، اس طرح پوری دنیا میں اس فکر کو زندہ کرنا اب مسلمان کا کام ہے۔ اس سلسلے میں مسلمان قوم کو اپنا خون ِ جگر تک قربان کر دینا چاہیے۔

ان تمام اشعار میں مسلمانوں کو ان کا مقام ومرتبہ یاد دلانے کے بعد وہ پیش نظر شعر میں حوصلہ بھی دیتے ہیں او رکام یابی کے بنیادی ذرائع اختیار کرنے کی تلقین فرماتے ہوئے کہتے ہیں #
         سبق پھر پڑھ صداقت کا، عدالت کا، شجاعت کا
         لیا جائے گا تجھ سے کام دنیا کی امامت کا
اس شعر میں آپ مسلمانوں کو تین خصوصیات پیدا کرنے کی تلقین فرمارہے ہیں، یعنی صداقت، عدالت اور شجاعت۔ کوئی بھی قوم ان تینوں مذکورہ بالا صفات کے بغیر ترقی کی راہ پر گام زن نہیں ہوسکتی۔ ان میں سب سے پہلی صفت ”صدق خیال“ ہے۔ قرآن مجید کا فرمان ہے:
﴿کُونُوا مَعَ الصَّادِقِینَ﴾
صادقین کے ساتھ شامل ہو جاؤ۔ یعنی خود بھی صدق اختیار کرو اور سچے لوگوں کا ساتھ دو۔ اس لیے کہ حق وصداقت ہی ترقی کا زینہ ہے۔ اس کے بغیر کوئی قوم عروج حاصل نہیں کرسکتی۔ جب کہ جھوٹ رذائل اخلاق میں سے ہے۔ جس فرد یا قوم میں جھوٹ راہ پا جائے تو پھر یہی ایک خرابی دیگر تمام خرابیوں کے دروازے کھول دیتی ہے او راس طرح پورا معاشرہ خرابیوں کی آماج گاہ بن جاتا ہے۔ ایک شخص رسول الله صلی الله علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہا”میری زندگی میں سب خرابیاں موجود ہیں۔ ان کی جڑیں گہری ہو چکی ہیں، اب میں چھوڑنا چاہوں بھی تو نہیں چھوڑ سکتا“۔ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا:”کیا تم میرے کہنے پر صرف ایک برائی چھوڑ سکتے ہو؟“ اس نے جواب دیا کہ ”ہاں ایک برائی تو میں چھوڑ دوں گا“۔ آپ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا:”ھل تعاھدنی علی ترک الکذب؟“ ”کیا تو وعدہ کرتا ہے کہ تو جھوٹ چھوڑ دے گا؟“۔ اس نے کہا”چلیے! میں یہ ایک برائی چھوڑنے کا وعدہ کرتا ہوں“۔ اس نے وعدہ کر لیا۔ جھوٹ کی برائی چھوڑنے سے رفتہ رفتہ اس سے ساری برائیاں چھوٹ گئیں۔ پتہ چلا کہ جھوٹ تمام برائیوں کی جڑ اور صداقت تمام اچھائیوں کا منبع ہے۔

دوسرا وصف عدالت ہے۔ عدل وانصاف ایسی صفت ہے جو معاشر ے میں امن وسکون پیدا کرتی ہے۔ حضرت علی سے منسوب یہ قول زبان زد عام ہے کہ ”کفر کی حکومت تو قائم ہوسکتی ہے، لیکن ظلم کی حکومت دیرپا نہیں ہوتی“۔ حق وانصاف کی اہمیت کے لیے رسول الله صلی الله علیہ وسلم کا یہ فرمان کتنا اہم ہے کہ ”فاطمہ بنت محمد بھی چوری کرتی تو میں اس کا ہاتھ کاٹنے کا حکم صادر کرتا“۔ یہی وہ صفت تھی جس کے پیش نظر قرون اولیٰ میں امن وآشتی کا چلن ہوا۔

تیسری صفت شجاعت ہے۔ ایک ایسا جوہر ہے جو انسانوں کی انفرادی او راجتماعی حیات میں حوصلہ مندی اورجرا ت پیدا کرتا ہے۔ شجاعت ہی کے وصف سے قومیں غلبہ حاصل کرتی ہیں او ران کا رعب داب قائم ہوتا ہے۔ دشمن کو جرأ ت ہی نہیں ہوتی کہ وہ میلی آنکھ سے دیکھنے کا خیال بھی دل میں لاسکے۔ شعر میں بیان کردہ پہلی دو صفات صداقت اور عدالت، شجاعت کی بیداری میں ممد ومعاون بنتی ہیں۔ بلکہ یوں کہنا زیادہ درست ہے کہ صداقت اور عدالت کی صفات کے نتیجہ میں شجاعت پیدا ہوتی ہے اور قوم بام عروج پر فائز ہوجاتی ہے۔

یہ تینوں صفات وہی ہیں جو قرن اول میں رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے اپنے ساتھیوں” صحابہ کرام “میں پیدا کر دی تھیں۔ انہی صفات کے پیش نظر مسلمان دیکھتے ہی دیکھتے دنیا کے بیشتر حصوں پر غالب آچکے تھے۔ اسی لیے علامہ اقبال نے ”سبق پھرپڑھ“ کی ترکیب استعمال فرمائی ہے اور یہ باور کرایا ہے کہ اگر مسلمان قوم کو ترقی کی راہ پر گام زن ہونا ہے تو انہیں پھر سے اپنے اندر صداقت، عدالت اور شجاعت کے جوہر کو پیدا کرنا ہو گا۔

پاکستان کے معروضی حاالات میں یہ شعر دلیل راہ ہے۔ جس کی روشنی میں ہم پاکستان کو درپیش مسائل کا حل تلاش کرسکتے ہیں۔ اگر پوری قوم میں صفت صداقت پیدا ہو او رعدل بازاری جنس نہ ہو، جسے خریدایا بیچا جاسکے، وکلاء بروکرکاکردار ادا کرنے کی بجائے قانون کی محافظت کا فریضہ سر انجام دیں، منصف اپنے مقام ومرتبہ کا خیال رکھیں اور قانون کے سوداگر نہ بنیں تو کچہریوں میں جھوٹی گواہیاں ختم ہو جائیں گی۔ دھوکہ دہی غصب جیسے جرم باقی نہ رہیں گے۔ انصاف کا بول بالا ہو گا اور یہ صفات پوری پاکستانی قوم میں شجاعت کے جوہر کو پیدا کریں گی، جس کے سبب پھر کوئی دشمن پاکستانی قوم کے سامنے ٹھہرنے کی جرأ ت نہیں کرسکے گا۔

اس شعر کے دوسرے مصرعے میں علامہ اقبال نے امت مسلمہ کی بعثت کے مقصدِ کو بیان کیا ہے کہ مسلمان قوم دنیامیں مغلوب ہونے کے لیے نہیں بلکہ غالب آنے کے لیے پیدا کی گئی ہے۔ نظریہ اسلام حق ہے، سچ ہے۔ یہ نظریہ دنیا کے تمام باطل نظام ہائے زندگی پر اپنی سیادت وقیادت قائم کرنے کے لیے نازل ہوا ہے۔ لیکن یہ سیادت مسلمانوں کو اسی وقت حاصل ہوسکتی ہے جب وہ قرن اوّل کی طرح اپنے کردار میں صداقت، عدالت اور شجاعت ایسے جوہر پیدا کریں۔ وگرنہ ان کے بغیر کام یابی وکام رانی کے سب دعوے نقش برآب ہوں گے۔

قرآن مجید کی سورة آل عمران میں الله کا ارشاد ہے:﴿وَلَا تَہِنُوا وَلَا تَحْزَنُوا وَأَنتُمُ الْأَعْلَوْنَ إِن کُنتُم مُّؤْمِنِینَ﴾․
تم کم زوری، بزدلی نہ دکھاؤ، گھبراؤ نہیں، نہ ہی غمگین بنو، اگر تم نے ایمان کی شرائط پوری کیں تو یاد رکھو کہ تم ہی غالب آکر رہو گے۔