بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

کاغذ کا پرزہ تحصیل علم کا آلہ ہے

کاغذ کا پرزہ تحصیل علم کا آلہ ہے

شیخ الحدیث حضرت مولانا سلیم الله خان

حضرت ابن عباس رضی الله تعالیٰ عنہ نے بیان کیا ہے کہ صحابہ کرام رضی الله تعالیٰ عنہم جب قضا ئے حاجت کے لیے بیٹھتے تو سینے جھکادیتے یا پردہ ڈال دیتے تھے، محض اللہ تعالیٰ سے حیا کی بنیاد پر تو قرآن نے کہا کہ اللہ تعالیٰ تو چھپانے کے باوجود دیکھ رہا ہے، اس تکلف کی ضرورت نہیں، یہ ضروریات بشریہ میں سے ہیں، ان کے لیے ضرورت کے مطابق جسم کھولنا جائز ہے، اس میں کراہت نہیں۔ لیکن اس کے لیے یہ کیا جائے کہ آدمی جب قضائے حاجت کے لیے جائے تو جب بیٹھنے کے قریب ہو ازار کو اس وقت نیچے کرے، اس سے فائدہ یہ ہوگا کہ آپ بے پردہ نہیں ہوں گے، کھڑے ہونے کی حالت میں ازار کو اپنی جگہ سے نیچے کرنا یہ حیا کے خلاف ہے، اس میں آدمی بالکل ننگا ہو جاتا ہے، باقی یہ نہیں کہ سینہ جھکائے یا اپنے اوپر پردہ ڈالے، اس تکلیف کی ضرورت نہیں ، تو صحابہ کرام رضی الله تعالیٰ عنہم کا یہ حال تھا اور ان کو اس طرح بے پردہ ہونا بھی گوارا نہ تھا، لیکن شریعت نے منع کردیا ۔

بہر حال ہمارے استاذ پاؤں نہیں پھیلاتے تھے، یہ ان کا حال تھا اور اچھا حال تھا، لیکن شریعت نے اس کا مکلف نہیں بنایا اور یہ بھی ان کاحال تھا کہ کہیں کاغذ کا پرزہ پڑاہوتا اٹھا لیتے اور فرماتے یہ تحصیل علم کا آلہ ہے اور اس کا احترام کرنا چاہیے ، تو اس ادب کا نتیجہ یہ تھا کہ جب استاذ کے ہاں بخاری کا ختم ہوتا تو پچاس ہزار افراد شریک ہوتے اور ایک جم غفیر ہوتا تھا۔

جمعہ کے روز مولانا کی مجلس ایک گھنٹے کی ہوتی اور اس میں شرکت کے لیے پچاس ، ساٹھ ، ستر میل دور سے لوگ آتے اور مجمع اتنا ہوتا کہ شامیانے لگے ہوئے ہیں، لیکن ناکافی ہیں، یہ اس ادب کا نتیجہ تھا کہ اللہ نے لوگوں کے دِلوں میں ایسی کشش پیدا کی کہ وہ دور دراز سے آتے تھے، ادب سے علم میں برکت ہوگی ، آپ جتنے با ادب ہوں گے اتنی ہی آپ کے علم میں برکت ہوگی اور اللہ تعالیٰ علوم کی فراوانی عطا فرمائیں گے ۔

والدین کا ادب ہو ، کتاب کا ادب ہو، استاذ کا ادب ہو، کاغذ کا ادب ہو، کتابوں… تفسیر پر حدیث کی کتاب نہ رکھی جائے ، حدیث پر فقہ کی کتاب نہ رکھی جائے، فقہ پر منطق کی کتاب نہ رکھی جائے، اسی طرح قرآن پڑھنے کے بعد اس کو اپنی جگہ پر رکھیں ، آج کل بیٹے ماں باپ کے نافرمان ہیں، استاذ کا ادب نہیں ، کلاس اور کتاب کا ادب نہیں اور اس کا نتیجہ یہ ہے کہ علم میں برکت نہیں ۔ پہلے زمانے میں اتنے مولوی نہیں ہوتے تھے، لیکن علم میں برکت تھی ، آج کل تو ٹی وی ہے ، ڈش ہے، مخرّب اخلاق لٹریچر ہے ، جس کی وجہ سے ہر طرف بے حیائی ہے، اگر آپ بازاروں میں جائیں گے تو روحانیت متاثر ہوگی اور اگر آپ ان سے بچیں اور ادب کا اہتمام ہو تو آپ کا فیض عام ہوگا۔