بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

جامعہ فاروقیہ کا سالانہ مسابقہ اور تقریب تقسیم انعامات

جامعہ فاروقیہ کا سالانہ مسابقہ اور تقریب تقسیم انعامات

ضبط و تحریر: ابوعکاشہ مفتی ثناء الله خان ڈیروی
استاد ورفیق شعبہ تصنیف وتالیف جامعہ فاروقیہ کراچی

جامعہ فاروقیہ کراچی جس طرح طلبائے کرام کی تعلیم وتربیت کے حوالے سے مدارس میں نمایاں اور امتیازی مقام رکھتا ہے، اسی طرح طلبائے کرام میں اشاعت دین کے حوالے سے صلاحیت اور استعداد پیدا کرنے کے لیے مختلف شعبوں کے اجراء میں بھی مجددانہ حیثیت رکھتا ہے، یہی وجہ ہے کہ بفضلہ تعالیٰ اس جامعہ نے امت کو بڑے بڑے راہ نما، عظیم الشان مدرس، مصنف اور خطیب دیے ہیں۔

چناں چہ جامعہ فاروقیہ میں تعلیم وتربیت کے ساتھ ساتھ طلبائے کرام پر ان حوالوں سے بھی بھرپور محنت کی جاتی ہے، اس کے لیے ہر شب ہفتہ کو نماز عشاء کے بعد ہر ہر درس گاہ میں بزم کا انعقاد ہوتا ہے، جس میں طلبائے کرام تلاوت، حمد ونعت اور تقریر کرنا سیکھتے ہیں۔

اس کے ساتھ ساتھ طلبائے کرام بہترین تلاوت کرنے والے ہوں اس کے لیے جامعہ میں مستقل نظام قائم ہے اور جامعہ کے ایک خوش الحان قاری اور استاد مختلف اوقات میں طلبائے کرام پر محنت کرتے ہیں۔

جامعہ میں خوشخطی سیکھنے کے لیے بھیمستقل نظام موجود ہے، طلبائے کرام کے اندر تصنیفی صلاحیتیں اجاگر کرنے کے لیے تین ماہانہ جداری رسالوں کا سلسلہ ہے، جن کے ذریعے طلبائے کرام کی لکھنے کے حوالے سے حوصلہ افزائی او ر راہ نمائی کی جاتی ہے او رانہیں تصنیف کے میدان کا شہسوار بنایا جاتا ہے۔

پھر سال میں ایک دن ایسا آتا ہے کہ جس میں سب درجات کے طلبائے کرام کے درمیان تلاوت، حمد ونعت ،بیان، مضمون نویسی اور خطاطی کے مسابقات کا انعقاد ہوتا ہے او ر اس دن کاطلبائے کرام کو بڑی شدت سے انتظار ہوتا ہے، اس مبارک دن ، منعقد ہونے والے مسابقات میں اول، دوم، سوم پوزیشن لینے والے طلبائے کرام کو قیمتی انعامات سے نوازا جاتا ہے، اسی طرح اس دن ان خوش نصیب طلبائے کرام میں بھی جنہوں نے گزشتہ سال شش ماہی، سالانہ اور اس سال کے سہ ماہی امتحان میں اول، دوم، سوم پوزیشن حاصل کی ہوتی ہے، ان میں کتب اور شیلڈ کی صورت میں قیمتی انعامات تقسیم کیے جاتے ہیں۔

چناں چہ اس سال ان مسابقات کے لیے 20 ربیع الاول کا دن متعین ہوا، اس پروگرام کے دو مرحلے تھے، صبح آٹھ بجے سے12 بجے تک کے پہلے مرحلے میں تلاوت اور تقاریر کے مسابقے کا انعقاد ہوا اور ظہر کے بعد سے عصر تک کے دوسرے مرحلے میں حمد ونعت کا مسابقہ اور تقسیم انعامات کا سلسلہ تھا۔ مضمون نویسی اور خطاطی کا مسابقہ ایک دن پہلے ہو جاتا ہے، پہلے مرحلے کے اختتام پر فرزند شہید اسلام نائب رئیس الجامعہ حضرت مولانا مفتی محمدانس عادل صاحب دامت برکاتہم نے طلبائے کرام سے مختصر خطاب فرمایا۔

شرکاء مجلس سے حضرت مولانا مفتی محمد انس عادل خان صاحب
دامت برکاتہم کا خطاب
نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم، أما بعد!
میرے نہایت ہی قابل احترام اساتذہ کرام، رئیس الجامعہ حضرت چچا جان دامت برکاتہم العالیہ، دیگر اساتذہ ساتھی او رعزیز طلباء!

مختلف جگہوں پر طلباء سے گفت گو کا موقع ملتا ہے ، لیکن یہاں آپ حضرات کے سامنے میرے لیے گفت گو کرنا بڑا مشکل ہوتا ہے، اس کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ میرے اساتذہ کرام موجود ہوتے ہیں اور ایک طالب علم اپنے استاذ کے سامنے ، وہ استاذ سے سیکھا ہوا سبق ہی کیوں نہ سنا رہا ہو لیکن وہ سبق سناتے ہوئے بھی ڈرتا ہے۔

بہرحال جو ان حضرات سے سیکھا ہے اگر کوئی بات آپ حضرات کے سامنے کروں گا تو یقینا اس کافضل او راس کا شکریہ ان حضرات ہی کی طرف لوٹے گا، میں بڑی عجیب سی بات آپ کے سامنے کروں گا، تقریر کا موضوع، تقریری مقابلے کا موضوع، پہلے بھی شاید آپ حضرات سے یہ گفت گو ہوئی تھی کہ اس مقابلے میں تقریروں کو صرف بطور تقریر کرنا اور سننا اختیار کیا جائے یا اس سے کوئی سبق بھی سیکھا جائے، آج کل ہم باہر اپنے معاشرے میں، اپنی عوام میں، اپنے ملک میں بہت تواتر سے سنتے ہیں، ”حرمت رسول پر جان بھی قربان ہے۔“

میرے عزیز طلباء! ہم جس مبارک سلسلے ، جس مبارک نسبت سے ،جس مبارک کام سے وابستہ ہیں، تو حرمت رسول پر جان قربان کرنے سے پہلے بھی بہت سارے تقاضے ہیں، باہر کی دنیا ہمارے بارے میں کیا تأثر رکھتی ہے، ہمارے بارے میں کیا رائے رکھتی ہے، ہمیں علوم نبویہ کے سلسلے سے وابستہ علوم نبویہ کے حامل افراد کہا جاتا ہے اور ہمارا کام بھی یہی ہے، صبح سے شام تک ہم جس کام میں، جس خدمت میں ، جس علم اور تعلیم کے سلسلے سے وابستہ ہیں، وہ سارے علوم الہٰیہ، علوم نبویہ ہی ہیں، آپ صلی الله علیہ وسلم کے ذریعے ہم تک پہنچنے والے علوم ہیں تو میرے عزیز طلباء! یہ سوچنے کی بات ہے کہ میں ایک مسلمان کی حیثیت سے حرمت رسول پر اپنی جان تو قربان کرنا چاہتا ہوں، لیکن وہ جان اگر سنت نبویہ کے خلاف کام کرنے والی ہو، وہ جان اگر آپ صلی الله علیہ وسلم کی تعلیمات پر عمل نہ کرنے والی ہو، تو کیا اس سے بہتر نہیں ہے کہ میں سینہ تان کر حرمت رسول پر وہ جان قربان کروں جوآپ صلی الله علیہ وسلم کی اتباع کرنے والی ہو، آپ کی سنتوں پر عمل کرنے والی ہو، ایک ایک چیز میں کیوں ہم نہیں سوچتے کہ ہم اپنے پیارے نبی جیسا بننے کی کوشش کریں؟ عادات میں، اطوار میں، اخلاق میں، اٹھنے بیٹھنے میں، چلنے پھرنے میں، صبح سے لے کرر ات تک، آنکھ کھلنے سے لے کر آنکھ بند ہونے تک احادیث مبارکہ ہیں، آپ صلی الله علیہ وسلم نے ہمیں زندگی گزارنے کے طریقے سکھائے، ایک عالم کی، ایک دینی علوم حاصل کرنے والے طالب علم کی ذمہ داری اس دور میں بہت زیادہ ہے، وہ باہر معاشرے میں جب جائے گا، وہ لوگوں میں جب جائے گا، وہ عوام میں جائے گا ،وہ علوم نبویہ کا حامل تو کہلائے گا، عالم تو کہلائے گا، عامل نہیں کہلائے گا، اس کے اپنے اعمال ،اس کا کردار، اس کے اخلاق، اس کا تعامل، لوگوں کے ساتھ اس کے معاملات… سب جب سنت کے خلاف ہوں گے، آپ صلی الله علیہ وسلم کی تعلیمات کے خلاف ہوں گے تو لوگ کیا تأثر لیں گے ؟!ا س لیے میرے عزیرو اور دوستو! یہ بہت سوچنے کی بات ہے کہ ہم جن علوم سے وابستہ ہیں، جس محنت سے، جس نسبت سے، جس مبارک سلسلے سے وابستہ ہیں، اس کا تقاضا کیا ہے؟ ہم بننا کیا چاہتے ہیں؟

ایک چھوٹی سی مثال لیں، آج ہم مسلمان قومیت، لسانیت، عصبیت کی بنیاد پر بری طرح تقسیم ہیں، باہر کا مسلمان نہیں، باہر کا عام آدمی نہیں، ہم طلباء اور علماء بھی بعض دفعہ اس چیز کا شکار نظر آتے ہیں اور اپنی زبان او راپنے علاقے والوں کو ترجیح دیتے ہیں، اس کو قریب کرتے ہیں۔

”لیس منا من دعا إلی عصبیة ولیس منا من قاتل علی عصبیة ولیس منا من مات علی عصبیة․“(سنن أبي داود، کتاب الأدب، باب في العصبیة، رقم:5123)

آپ صلی الله علیہ وسلم کی تعلیم ہے ،کیسے کیسے ارشادات سے آپ صلی الله علیہ وسلم نے ہمیں یہ چیزیں سمجھائیں۔

”ألا إن ربکم واحد، وإن أباکم واحد، ألا لافضل لعربی علی عجمی، ولا لعجمي علی عربي، ولا لأحمر علی أسود، ولا لأسود علی أحمر إلا بالتقوی․“(مسند الإمام أحمد بن حنبل، رقم الحدیث:23489)

ایک غزوے کے موقع پر مہاجر صحابی نے ایک انصاری صحابی کو کہنی مار دی، ایسی ٹھوکر ماری ہاتھ سے یا پاؤں سے کہ جس سے اس انصاری صحابی کو تکلیف ہوئی ۔

”کسع: رجل من المہاجرین رجلا من الأنصار، فقال الأنصاري یا للأنصار، وقال المھاجريّ: یا للمھاجرین․“

تو جب انصاری کو اس نے مارا ، تو انصاری صحابی نے اپنی قوم والوں کو آواز دی، جب مہاجر صحابی نے دیکھا کہ اس نے اپنی قوم والوں کو بلایا ہے تو اس نے بھی اپنی قوم والوں کو آواز دی، اے مہاجرو!”فسمع ذلک رسول الله صلی الله علیہ وسلم فقال: ما بال دعوی الجاھلیة؟ میں کیا سن رہا ہوں؟قالوا یا رسول الله! کسع رجل من المھاجرین رجلاً من الأنصار، فقال رسول الله صلی الله علیہ و سلم: دعوھا، فإنھا منتنة․“(الجامع الصحیح للبخاري،رقم الحدیث:4905)

یہ ایک بد بودار چیز ہے اس کو چھوڑ دو ہم اپنے آپ کو اتنا پاک صاف اتنا صفائی پسند ظاہر کرتے ہیں کہ اگر گفت گو کرنے والے کے منھ سے بد بو آرہی ہو یا اس کے کپڑوں سے بُو آرہی ہو، تو ہمیں تکلیف ہونے لگتی ہے، ہم نشست بدل دیتے ہیں، ہم اس سے جان چھڑانے کی کوشش کرتے ہیں اور یہ سرتاپا جو خود بد بو کا مجموعہ بنے ہوئے ہیں، ہم کیا باہر عوام میں جاکر لوگوں کا ذہن صاف کریں گے؟! ہم کیا علوم نبویہ کی طرف اور دینی تعلیمات کی طرف بلائیں گے جب ہم خود اس برائی میں مبتلا ہیں۔

یہ ایک چھوٹی سی مثال میں نے دی ہے، ورنہ آپ صلی الله علیہ وسلم کی تعلیمات صفائی سے متعلق، ایک دوسرے کو تکلیف نہ دینے سے متعلق، ہماری زندگی کے ہر شعبہ سے متعلق موجود ہیں صرف پڑھنے اور اس کو زندگی میں لانے کی دیر ہے، ہمارے نبی صلی الله علیہ وسلم ایک ایک چیز کو بیان کرکے گئے ہیں۔

میرے عزیزو اور دوستو! ہماری ذمہ داری بہت زیادہ ہے، ہماری ذمہ داری صرف یہ نہیں کہ تقریر کرنا اور اس تقریر کو سننا اور بس اس پر سبحان الله، ماشاء الله کہنا، یہ نہیں؟ اس تقریر سے کیا سیکھا؟ اس موضوع سے کیا حاصل کیا؟ اورآنے والی زندگی میں مجھے کیا کرنا ہے؟ یہ آپ نے کبھی سوچا؟ بد قسمتی سے ہمارے ہاں بہت سارے طلباء ایسے ہوتے ہیں کہ ابھی وہ ثالثہ، رابعہ، خامسہ، سادسہ میں ہوں گے، انہوں نے آج تک اپنے آپ سے اکیلے میں بیٹھ کر یہ سوال نہیں کیا ہو گا کہ یہ میں سب کچھ کیوں پڑھ رہا ہوں؟ کیا صرف اپنے والدین کے حکم پر کہ انہوں نے مجھے زبردستی مدرسے میں بھیج دیا، داخل کروادیا، میرے کوئی ماموں، چاچو عالم تھے، انہوں نے مجھے ترغیب دی اور میں نے مدرسے میں داخلہ لے لیا، بس؟!

اس کے علاوہ آپ نے کبھی سوچا کہ ہم یہ علوم کیوں حاصل کر رہے ہیں؟ ہمارا مقصد ان علوم کو حاصل کرنے سے، عالم بننے سے کیا ہے؟ آپ کے جو محسنین ہیں، آپ کے بڑے ہیں، آپ ان سے اس پر مذاکرہ کریں کہ میں عالم کیوں بن رہا ہوں؟ زندگی کا ایک ہدف، مقصد، ایک ٹارگٹ جب تک نہیں ہوتا، تو انسان کی کام یابی کا کوئی امکان ہی نہیں ہوتا، ہم مختصر الفاظ میں یہ کہتے ہیں کہ ہمارا ہدف اپنے پیارے نبی صلی الله علیہ وسلم جیسا بننا ہے، اس سے مبارک ہدف کوئی ہو سکتا ہے؟ہم بہت کم زور ہیں، سستی اور غفلت ہمارے اوپر چھائی ہوئی ہے ، لیکن اگر بیس فیصد بھی بن گئے، تیس فیصد بھی بن گئے تو کام یاب ہو گئے اور یہی ہمارا مقصد ہونا چاہیے۔

اس طرح جو جان ہو گی اس کو آپ صلی الله علیہ وسلم کی ناموس پر، اپنے پیارے نبی کی حرمت پر قربان کرنے کا بھی مزہ آئے گا۔

الله تعالیٰ ہم سب کو ان علوم کو حاصل کرنے کا جو مقصد ہے اس کو سمجھنے کی ،اس پر عمل کرنے کی توفیق نصیب فرمائے اور اپنے پیارے نبی صلی الله علیہ وسلم کی ایک ایک سنت پر اور آپ کے ایک ایک عمل کی اتباع کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔

پروگرام کا دوسرا مرحلہ
پروگرام کا دوسرا مرحلہ ظہر کی نماز کے بعد شروع ہوا اور اس مرحلے کے پہلے حصے میں حمد ونعت پڑھنے والے طلبائے کرام میں مسابقہ ہوا۔

اس کے بعد تلاوت، تقریر، حمد ونعت، مضمون نویسی اور خطاطی کے مسابقات میں اول، دوم، سوم پوزیشن لینے والے طلبائے کرام میں انعامات تقسیم کیے گئے۔

اسی طرح گزشتہ سال شش ماہی اور سالانہ او راس سال سہ ماہی امتحان میں پوزیشن لینے والے طلبائے کرام میں بھی انعامات تقسیم کیے گئے، مناسب معلوم ہوتا ہے کہ مسابقات او رامتحانات میں پوزیشن لینے والے ان خوش نصیب طلباء کے اسماء کو ”ماہنامہ الفاروق“ کی زینت بناکر ان طلباء کے لیے یاد گار بنا دیا جائے۔

گزشتہ سال ششماہی امتحان 1443ھ2021/ء میں پوزیشن حاصل کرنے والے طلبہ کرام

متوسطہ اول

 

 

نام  

درجہ  

حاصل کردہ پوزیشن

محمد فیضان علی بن فضل محمود  

متوسطہ اول  

اوّل

اکرام الله بن بشیر احمد  

ایضاً  

دوم

محمد عیسیٰ بن گلزار  

ایضاً  

سوم

 

متوسطہ دوم

 

 

نام   

درجہ   

حاصل کردہ پوزیشن

محمد فاروق بن محمد حسن   

متوسطہ دوم   

اوّل

شہباز بن محمد ہارون   

ایضاً   

دوم

سفیان احمد بن تنویر احمد   

ایضاً   

سوم

 

متوسطہ سوم

 

 

نام   

درجہ   

حاصل کردہ پوزیشن

حماد عالم مہتاب بن سعید احمد مہتاب   

متوسطہ سوم   

اول

صابر بن محمد حسین   

متوسطہ سوم   

سوم

 

اولیٰ الف/ب

نام   

درجہ   

حاصل کردہ پوزیشن

فرمان الله بن بخت زادہ   

اولیٰ/الف،ب،ج   

اوّل

فیصل بن عبدالحکیم   

ایضاً   

دوم

ثانیہ

نام   

درجہ   

حاصل کردہ پوزیشن

انس عبیدالله بن عنایت الله   

ثانیہ   

اوّل

رحمت الله بن حفیظ الله   

ایضاً   

اوّل

محمد ایاز بن نادر خان   

ایضاً   

سوم

ثالثہ

نام   

درجہ   

حاصل کردہ پوزیشن

ساجد الله بن عبیدالله   

ثالثہ   

اوّل

عمیر عباس بن محمد حسین   

ایضاً   

دوم

رابعہ

نام   

درجہ   

حاصل کردہ پوزیشن

جنید شاہ بن سبز علی شاہ   

رابعہ   

اوّل

حسام الدین بن محمد رمضان   

ایضاً   

دوم

خامسہ

نام   

درجہ   

حاصل کردہ پوزیشن

سلمان بن عبدالغفار   

خامسہ   

اوّل

عباس حیدر بن محمد اسماعیل  

 

دوم

زبیر احمد دوست محمد   

ایضاً   

سوم

سادسہ

نام   

درجہ   

حاصل کردہ پوزیشن

حسن الرحمن بن خلیل الرحمن   

سادسہ   

دوم

محمد اسحق بن نور حبیب داد   

ایضاً   

سوم

سابعہ

نام   

درجہ   

حاصل کردہ پوزیشن

منصور احمد بن غلام رسول   

سابعہ   

اوّل

موسی خان بن مکمل شاہ   

ایضاً   

سوم

دورہٴ حدیث

نام   

درجہ   

حاصل کردہ پوزیشن

تاج محمد بن زر محمد   

دورہ حدیث   

اوّل

محمد یسٰین بن حاجی دولت خان   

ایضاً   

اول

ابو بکر بن ضیاء الحق   

ایضاً   

دوم

امین الله بن محمد علی   

ایضاً   

دوم

تخصص فی الفقہ سال اول

نام   

درجہ   

حاصل کردہ پوزیشن

عبیدالله بن معین الدین  

…  

اوّل

محمد خالد بن حسن خان   

ایضاً   

دوم

شہزادہ بن گل سلام   

ایضاً   

سوم

تخصص فی الحدیث سال اول

نام   

درجہ   

حاصل کردہ پوزیشن

محمد وسیم بن میر بادشاہ  

…  

اوّل

جمشید خان بن حضرت اسحق   

ایضاً   

دوم

گزشتہ سال سالانہ امتحان 1443ھ/2021ء میں پوزیشن حاصل کرنے والے طلبہ کرام

متوسطہ اول

نام   

درجہ   

حاصل کردہ پوزیشن

محمد عیسیٰ بن گل زار   

متوسطہ اول   

اوّل

اکرام الله بن بشیر احمد   

ایضاً   

دوم

محمد فیضان علی بن فضل محمود   

ایضاً   

سوم

متوسطہ دوم

نام   

درجہ   

حاصل کردہ پوزیشن

محمد فاروق بن محمد حسن   

متوسطہ دوم   

اوّل

سفیان احمد بن تنویر احمد   

ایضاً   

دوم

شہباز بن محمد ہارون   

ایضاً   

سوم

اولیٰ الف/ ب/ج

نام   

درجہ   

حاصل کردہ پوزیشن

فیصل بن عبدالحکیم   

اولیٰ ا/ب/ج   

اوّل

فرمان الله بن بخت زادہ   

ایضاً   

دوم

ثالثہ

نام   

درجہ   

حاصل کردہ پوزیشن

عبدالجمیل بن جلات خان  

 ثالثہ   

اوّل

فخر الحسن بن لونی خان   

ایضاً   

دوم

تخصص فی الفقہ سال اوّل

نام   

درجہ   

حاصل کردہ پوزیشن

عبیدالله بن معین الدین  

…  

اوّل

شہزادہ بن گل اسلام   

ایضاً   

دوم

محمد حسن بن محمد اعجاز   

ایضاً   

سوم

تخصص فی الحدیث سال اوّل

نام   

درجہ   

حاصل کردہ پوزیشن

محمد وسیم بن میر بادشاہ  

…  

اوّل

رحمت الله بن عبدالاحد  

…  

دوم

جمشید خان بن حضرت اسحق  

…  

دوم

اس سال سہ ماہی امتحان 1444ھ/2022ء میں پوزیشن حاصل کرنے والے طلبہ کرام

متوسطہ اوّل

نام   

درجہ   

حاصل کردہ پوزیشن

حماد خان بن خان محمد جدون   

متوسطہ اول   

اوّل

محمد عرفان بن فقیر محمد   

ایضاً   

دوم

حذیفہ شہباز بن خان افسر   

ایضاً   

سوم

متوسطہ دوم

نام   

درجہ   

حاصل کردہ پوزیشن

محمد فیضان علی بن فضل محمود   

متوسطہ دوم   

اوّل

سمیر خان بن بہادر خان   

ایضاً   

دوم

عادل علی بن علی احمد   

ایضاً   

سوم

متوسطہ سوم

نام   

درجہ   

حاصل کردہ پوزیشن

محمد فاروق بن محمد حسن   

متوسطہ سوم   

اوّل

سفیان احمد بن تنویر احمد   

ایضاً   

دوم

منیب بن نواز   

ایضاً   

سوم

اولیٰ/الف/ب/ج

نام   

درجہ   

حاصل کردہ پوزیشن

حماد عالم مہتاب بن سعید عالم مہتاب   

اولیٰ   

اوّل

مزمل احمد خان بن احمد خان   

ایضاً   

دوم

معاذ بن اسد بن احمد   

ایضاً   

سوم

ثانیہ

نام   

درجہ   

حاصل کردہ پوزیشن

اسد الله بن عبدالاحد   

ثانیہ   

اوّل

فیصل بن عبدالحکیم   

ایضاً   

دوم

فرمان الله بن بخت زادہ   

ایضاً   

سوم

ثالثہ

نام   

درجہ   

حاصل کردہ پوزیشن

محمد صادق بن محمد کریم   

ثالثہ   

اوّل

سعید الحق بن غلام الحق   

ایضاً   

دوم

رحمت الله بن حفیظ الله   

ایضاً   

سوم

رابعہ

نام   

درجہ   

حاصل کردہ پوزیشن

ساجد الله بن عبیدالله   

رابعہ   

اوّل

فخر الحسن بن لونی خان   

ایضاً   

دوم

عمیر عباس بن محمد حسین   

ایضاً   

سوم

خامسہ

نام   

درجہ   

حاصل کردہ پوزیشن

محمد ارشد بن محمد ادریس   

خامسہ   

اوّل

حسام الدین بن محمد رمضان   

ایضاً   

دوم

عبدالمنعم بن نجیب الله   

ایضاً   

سوم

سادسہ

نام   

درجہ   

حاصل کردہ پوزیشن

سلمان بن عبدالغفار   

سادسہ   

اوّل

محمد سعد بن محمد ارشاد خان   

ایضاً   

دوم

شاہ فیصل بن خلیل احمد  

 ایضاً   

سوم

سابعہ

نام   

درجہ   

حاصل کردہ پوزیشن

محمد ابراہیم بن جمشید خان   

سابعہ   

اوّل

محمد عادل بن زیارت گل   

ایضاً   

دوم

عبدالمنان بن عبدالرحمن   

ایضاً   

سوم

دورہٴ حدیث

نام   

درجہ   

حاصل کردہ پوزیشن

ظاہر شاہ بن سلیم شاہ   

دورہ ٴ حدیث   

اوّل

عارف الله بن اکبر علی باچا   

ایضاً   

دوم

فیاض احمد بن عبدالحمید   

ایضاً   

سوم

تخصص فی الفقہ سال اوّل

نام   

درجہ   

حاصل کردہ پوزیشن

حافظ محمد عاطف بن عبدالباسط  

…  

اوّل

حکیم الله بن نور نواز   

ایضاً   

دوم

محمد حسن بن غفور خان   

ایضاً   

سوم

تخصص فی الفقہ سال دوم

نام  

 درجہ   

حاصل کردہ پوزیشن

عبیدالله بن معین الدین  

…  

اوّل

محمد قاسم بن محمدیوسف   

ایضاً   

دوم

محمد حسن بن محمد اعجاز   

ایضاً   

سوم

تخصص فی الحدیث سال اوّل

نام   

درجہ   

حاصل کردہ پوزیشن

حسیب خان بن سرورخان  

…  

اوّل

سالک عباسی بن محمد سرفراز عباسی   

ایضاً   

دوم

محمد فیصل بن خادم حسین   

ایضاً   

سوم

تخصص فی الحدیث سال دوم

نام   

درجہ   

حاصل کردہ پوزیشن

محمد وسیم بن میر بادشاہ  

…  

اوّل

رحمت الله بن عبدالصمد   

ایضاً   

دوم

جمشید خان بن محمد اسحق   

ایضا   

سوم

مسابقات میں پوزیشن حاصل کرنے والے طلبہ کرام1444ھ/2022ء

مقابلہ حسن قراء ت

نام   

درجہ   

حاصل کردہ پوزیشن

عبدالغنی بن عبدالحفیظ   

سابعہ   

اوّل

ضیاء الله بن رسول زمان   

ثانیہ   

اول

شیخ محمد رضوان بن نور العین   

درجہ اولیٰ/الف   

دوم

محمد زکریا بن عبدالغفور   

دورہ حدیث   

سوم

مقابلہ اردو تقاریر

نام   

درجہ   

حاصل کردہ پوزیشن

محمد حسین بن خانی شاہ   

دورہ حدیث   

اوّل

محمد اسامہ بن محمد حنیف   

خامسہ   

دوم

سالک عباسی بن سرفراز عباسی   

تخصص فی الحدیث   

سوم

مقابلہ حمد و نعت

نام   

درجہ   

حاصل کردہ پوزیشن

حذیفہ بن عبدالرحیم   

سادسہ   

اوّل

محمد عرفان بن محمد عزیز   

دورہ حدیث   

دوم

محمد کعب خان بن محمد نورالاسلام خان   

خامسہ   

سوم

مقابلہ مضمون نویسی

نام  

درجہ  

حاصل کردہ پوزیشن

مبشر جمیل بن محمد جمیل  

 تخصص فی الفقہ سال دوم  

اوّل

شہزادہ بن گل سلا خان  

تخصص فی الفقہ سال دوم  

دوم

ملک محمد افضل بن راویل خان  

خامسہ  

سوم

مقابلہ خطاطی

نام  

درجہ  

حاصل کردہ پوزیشن

اسامہ یوسف بن محمد یوسف رانا  

تخصص فی الفقہ سال دوم  

اوّل

حسان بن مفتی عبدالباری  

 خامسہ  

دوم

حماد بشیر بن بشیر  

ثانیہ  

سوم

تقسیم انعامات کے بعد شرکائے مجلس سے حضرت اقدس مولانا عبیدالله خالد صاحب دامت برکاتہم نے خطاب فرمایا۔
بسم الله الرحمن الرحیم
نحمدہ ونصلي علی رسولہ الکریم، أما بعد!
آج کا یہ مسابقات کا سلسلہ صبح سے اب تک جاری رہا ، الحمدلله ثم الحمدلله، ان مسابقات میں جن طلباء نے شرکت فرمائی، ان کی کارکردگی اوران کی محنت کا سبھی حضرات نے مشاہدہ کیا ، میں اپنی علالت کی وجہ سے مکمل شرکت تو نہیں کرسکا، لیکن ایک بڑے حصے میں الله تعالیٰ نے شرکت کی توفیق عطا فرمائی۔

سب سے پہلا مسابقہ حسن قراء ت کا تھا او رمیں جب طلبائے کرام کو قرآن کریم کی تلاوت کرتے ہوئے سن رہا تھا تو دلی مسرت اور خوشی بہت زیادہ تھی، طلباء نے بہت ہی بہترین انداز میں تلاوت کی، یہ تو ظاہر ہے کہ سب برابر نہیں ہوسکتے، کوئی پہلی پوزیشن پر آیا ہے، کوئی دوسری پہ، کوئی تیسری پہ، لیکن مجموعی اعتبار سے تمام شرکاء نے بہت شان دار قرآن پڑھا او راس پر وہ جہاں مبارک باد کے مستحق ہیں، میں یہ سمجھتا ہوں کہ اس سے زیادہ وہ اساتذہ کرام مبارک باد کے مستحق ہیں جنہوں نے ان پر محنت فرمائی اور الله تعالیٰ ان کے اس حسن قراء ت میں اور اضافہ فرمائے، وہ اور بھرپور محنت کریں اور اس کو بھی ضرور ذہن میں رکھیں کہ قرآن الله تعالیٰ کا کلام ہے بعض دفعہ یہ ہوتا ہے کہ زبان جس کے ذریعے ہم الله کا کلام پڑھتے ہیں، اس کا تعلق دماغ سے ہوتا ہے اور بعض دفعہ وہ تعلق زبان کا قلب سے ہو جاتا ہے، تو کوشش یہ ہونی چاہیے کہ زبان کا تعلق قلب سے ہو جائے او رجب زبان کا تعلق دل سے ہو جاتا ہے تو چوں کہ یہ الله تعالیٰ کا کلام ہے، پھر پڑھنے والے پر بہت کچھ کھلنا شروع ہو جاتا ہے، بہت کچھ نظر آنا شروع ہو جاتا ہے تو درخواست اور گزارش یہ ہے کہ وہ احباب اور وہ عزیز طلباء جنہوں نے قرآن کریم پر یہ محنت فرمائی وہ اس میں او رمحنت فرمائیں اورجن حضرات نے ان کے اس حسن قرات کو سنا، ان میں ہم سب شامل ہیں کہ ہمیں بھی الله تعالیٰ توفیق عطا فرمائے، ہم بھی اس میں آگے بڑھیں اورہم بھی زیادہ سے زیادہ قرآن کی تلاوت کو بہتر کرسکیں۔

الحمدلله ہمارے ہاں جامعہ میں مولانا قاری زاہد الله صاحب یہ خدمات انجام دیتے ہیں، فجرکے بعد بھی، عصر کے بعد بھی، درس گاہوں میں بھی، تو طلباء کو چاہیے کہ وہ زیادہ سے زیادہ ان سے استفادہ کریں۔

دوسرا مسابقہ جس میں میں مکمل شریک نہیں ہو سکا، وہ مقابلہ تھا تقاریر کا اور بیانات کا، اس میں جو سب سے پہلی تقریر تھی وہ تو پوری سنی تھی، لیکن اس کے بعد مجھ میں تحمل نہیں رہا او رمیں تھوڑی دیر کے لیے چلا گیا۔

وہ تقریر ماشاء الله بہت اچھی تھی، بعد کی تقاریر میں نے نہیں سنیں، اساتذہ کرام نے سنیں اور پھر اس پر انہوں نے فیصلہ فرمایا، پہلی پوزیشن، دوسری پوزیشن، تیسری پوزیشن، لیکن یہاں میر ی ایک درخواست ہے اور وہ درخواست یہ ہے کہ ہمارے ہاں تقریر او ربیان کے حوالے سے جو ماحول بن چکا ہے وہ بہت زیادہ پسندیدہ نہیں ہے، آپ خوب یاد رکھیے کہ جیسے ہمارے پیارے نبی صلی الله علیہ وسلم ، امام الانبیاء ہیں، سید الرسل ہیں،نبی الملاحم ہیں، امیر المجاہدین ہیں ،اس طرح سے وہ خطابت کے بھی امام ہیں، ان سے بڑا خطیب اس کائنات میں نہ آیا ہے اور نہ آسکتا ہے ، آپ صلی الله علیہ وسلم کا بیان اور آپ صلی الله علیہ وسلم کا انداز ارشاد، احادیث میں لفظ بلفظ موجود ہے ،اس کا مطالعہ کریں اور اس کو پڑھ کر اپنے انداز خطابت کو مرتب کریں۔

ہم نے اپنے جتنے بڑے اکابر کو دیکھا اور سنا، یہی مسجد جس میں ہم اور آپ بیٹھے ہوئے ہیں، یہ سن 1978ء کی بات ہے، حضرت مولانا محمد انور صاحب دامت برکاتہم یہاں موجود ہیں، ہمارا دورہ حدیث کا سال تھا، حسن اتفاق اور وہ ایسا حسن اتفاق تھا کہ دوبارہ قیامت تک نہیں ہو سکتا اورحسن اتفاق یہ تھا کہ جنرل محمد ضیاء الحق مرحوم کی مارشل لائی حکومت تھی، انہوں نے اسلام کے حوالے سے کافی آوازیں بلند کی ہوئی تھیں، اسی کے نتیجے میں انہوں نے دنیا جہاں سے علماء کو پاکستان میں جمع کیا، دعوت دی اور وہ دعوت حکومت پاکستان اور رابطہ عالم اسلامی کے آپس کے تعاون کے ساتھ تھی۔

چناں چہ اس دعوت کے نتیجے میں بڑے بڑے علماء کراچی تشریف لائے،جن میں چند بڑے نام جو ہمارے اکابر کے ہیں وہ آپ کے سامنے عرض کر دیتا ہوں، اس میں حکیم الاسلام حضرت مولانا قاری محمدطیب صاحب قدس الله تعالیٰ سرہ ،جو دارالعلوم دیوبند کے مہتمم تھے، اور 50 سال دارالعلوم دیوبند کے مہتمم رہے، وہ بھی تشریف لائے، ان میں حضرت مولانا اسعد مدنی نوّرالله مرقدہ، جو شیخ العرب والعجم شیخ الاسلام حضرت مولانا سیدحسین احمد مدنی نوّرالله مرقدہ کے فرزند ارجمند، وہ بھی تشریف لائے، اس میں حضرت مولانا محمد منظور نعمانی نوّرالله مرقدہ لکھنؤ، ”الفرقان“ کے طویل عرصہ مدیر رہے اوردارالعلوم دیوبند کی شوری کے بہت معزز، محترم رکن رہے، بہت بڑے عالم تھے، وہ اس میں تشریف لائے تھے۔

حضرت مولانا سید ابوالحسن علی ندوی رحمة الله علیہ اس میں تشریف لائے، ہمارے حضرت والد ماجد قدس الله سرہ چوں کہ ان تمام اکابر سے بہت خصوصی تعلق رکھتے تھے، وہ خود دارالعلوم دیوبند کے ممتاز فضلا میں سے تھے اور حضرت شیخ العرب والعجم حضرت مولانا سید حسین احمد مدنی نوّرالله مرقدہ کے خاص او رممتاز شاگردوں میں تھے اور یہ سارے اکابر ہمارے حضرت کو خوب اچھی طرح جانتے تھے، چناں چہ ہمارے حضرت رحمة الله علیہ نے ان سب کو یہا ں بلایا اور ہمارا ختم بخاری شریف تھا، تو وہ ختم بخاری شریف یہیں اسی مسجد میں ہوا اور میں بتانا یہ چاہتا ہوں کہ اس میں حکیم الاسلام حضرت مولانا قاری محمد طیب صاحب رحمہ الله نے بخاری شریف کا آخری درس دیا تھا، جمعہ کا دن تھا ، اس زمانے میں سرکاری چھٹی بھی پاکستان میں جمعہ کے دن ہوتی تھی، ہر طرف ہجوم ہی ہجوم تھا، مسجد، مدرسہ، چھتیں، صحن، راستے، سڑکیں، گلیاں سب بھرے ہوئے تھے اور حضرت حکیم الاسلام نوّرالله مرقدہ نے تشہد کی حالت میں، ہم دورے کے طلباء ان کے سامنے بیٹھے ہوئے تھے، تو تشہد کی حالت میں ساڑھے تین گھنٹے بیان فرمایا، ایک دفعہ بھی انہوں نے اپنی نشست نہیں بدلی اورایسا لگتا تھا جیسے دریا بہہ رہا ہو،ایسا سکون اور ایسا سناٹا تھا کہ جیسے ارد ومیں کہتے ہیں کہ اگر سوئی بھی گرے تو آواز آئے، یہ تھے خطیب، ان کو کہتے ہیں خطیب، گھنٹوں، ہزاروں لاکھوں کے مجمع میں یہ حضرات بیان فرماتے تھے، کوئی چیخ وپکار نہیں، کوئی ہنگامہ نہیں، نہایت مؤثر بیان، ایسا بیان جس سے دل بدل جائیں،جس سے انقلاب آجائے، جس سے تبدیلی پیدا ہو۔

شیخ الاسلام حضرت مولانا شبیر احمد عثمانی صاحب نوّرالله مرقدہ کے بارے میں ہم نے والدماجد نوّرالله مرقدہ سے سنا کہ ان کا بیان بھی ایسا ہی ہوتا تھا اور آپ حیران ہوں گے، شاید کچھ لوگوں کو معلوم ہو کہ یہ جو ہمارا خیبر پختونخواہ کا صوبہ ہے، پہلے اس کا نام صوبہ سرحد تھا او راصل میں اس کا نام شمال مغربی سرحدی صوبہ تھا، اس صوبے میں مسلم لیگ کو حمایت حاصل نہیں تھی اوراس بات کا اندیشہ تھا کہ یہ صوبہ پاکستان میں شامل نہ ہو، تو مسلم لیگ کے قائدین نے حضرت مولانا شبیر احمد عثمانی صاحب رحمة الله علیہ کو مقرر کیا کہ وہ پورے صوبہ سرحد کا دورہ کریں اور لوگوں کو پاکستان میں شامل اور الحاق کی ترغیب دیں اور اس کے لیے وہ کوشش کریں۔

چناں چہ حضر ت مولانا شبیر احمد عثمانی صاحب رحمة الله علیہ نے بہت طویل اور تفصیلی دورے اور جلسے شمال مغربی صوبے میں کیے، جسے آجKPK اور خیبر پختونخواہ کہاجاتا ہے، ان کی تقریر بھی بہت مؤثر تقریر ہوتی تھی، لیکن اس میں کوئی ہنگامہ نہیں ہوتا تھا، کوئی شور شرابہ نہیں ہوتا تھا، وہ تقریر ایسی ہوتی تھی کہ اس سے انقلاب آجاتا تھا، اس سے لوگوں کے ذہن بدل جاتے تھے۔

اس لیے میری گزارش اور درخواست ہے کہ وہ حضرات جنہیں الله رب العزت نے بیان کا ملکہ عطا فرمایا ہے، خطاب اور تقریر کی صلاحیت عطا فرمائی ہے وہ اس کو اور مزید بہتر کریں اور اس کے لیے جو ہمارے پاس معیار ہے اس سے بڑا معیار کوئی اور ہو نہیں سکتا، وہ ہے امام الانبیاء، سید الرسل محمد رسول الله صلی الله علیہ وسلم کا بیان اور آپ کا خطاب ، میں نے عرض کیا کہ اس کا ایک ایک لفظ اور ایک ایک حرف کتب احادیث کے اندر موجود ہے، ابھی دورہ حدیث کے طلباء شمائل پڑھیں گے، سب موجود ہے، اس انداز میں بیان کریں۔

آپ صلی الله علیہ وسلم کا طریقہ اس میں اختیار کریں، آپ یقین فرمائیں کہ آپ کے بیان میں چار چاند لگ جائیں گے، آپ کا بیان نہایت موثر اور نہایت مفید ہو گا، اس سے خلق خدا کو زیادہ فائدہ ہوگا۔

اس کے بعد پھر ظہر کے بعد والا مرحلہ تھا او راس مرحلے میں ساتھیوں نے حمد بھی پڑھی، نعت بھی پڑھی اور ماشاء الله بہت خوب پڑھی، بہت بہترین پڑھی، لیکن اس میں یا تو میری سماعت کا مسئلہ ہے ،میں نے کچھ راہ نمائی بھی کی تھی کہ یہ جو ساؤنڈ سسٹم ہے یہ ہم لوگوں کا ماحول نہیں، یہ جو ساؤنڈ سسٹم ہوتے ہیں یہ دوسری جگہوں میں استعمال ہوتے ہیں، اس کو مرتب کرنے والے لوگ اس کے پیچھے بیٹھے ہوتے ہیں یہ اس انداز میں مرتب کرتے ہیں، اس سے سمجھ میں کچھ نہیں آتا، وہ آواز میں اتار چڑھاؤ، ایکو بعض دفعہ اتنا بڑھا دیتے ہیں کہ بعض کلمات اور بعض جملے سمجھ میں نہیں آتے، میری گزارش اور درخواست یہ ہے کہ جو حضرات حمد پڑھنے والے تھے انہوں نے ماشاء الله بہت شان دار حمد پڑھی اور جن حضرات نے نعت پڑھی ان حضرات نے بھی بہت شان دار نعت پڑھی، اساتذہ نے ان کو اسی انداز سے پہلی، دوسری اور تیسری پوزیشن دی، لیکن ان سے بھی گزارش ہے کہ یہ جو آج کل کا چلن ہے اور آج جس انداز میں لوگ حمد ونعت پڑھتے ہیں، اس چلن کو اختیار نہ کریں، مسنون انداز اختیار کریں اور وہ کلام منتخب کریں جو نہایت محفوظ کلام ہو، جو نہایت بہترین کلام ہو۔

ہمار ے اکابر نے اس پر بڑا کام کیا ہے، قریب کے اکابر میں ہمارے حضرت سید نفیس شاہ صاحب رحمة الله علیہ بہت بڑے شاعر تھے، حالاں کہ ان کی شہرت کتابت کے حوالے سے تھے، لیکن صاحب نسبت بزرگ تھے اوراس کے ساتھ ساتھ ان کا کلام نہایت عالی شان کلام ہے۔

ایسے ہی ہمارے حضرت حکیم اختر صاحب رحمة الله علیہ ایک بزرگ اور صاحب نسبت بزرگ تھے، ان کا کلام بھی نہایت عالی شان اوربہترین کلام ہے، ہمارے اکابرین دارالعلوم دیوبند کی جو حمدونعتیں ہیں، وہ عظیم الشان حمد او رنعتیں ہیں، ہم کوشش کریں کہ اس طرف رجوع ہوں اورساتھ ساتھ پڑھنے میں بھی ہم وہ طریقہ اختیار کریں جو سنت کے زیادہ قریب ہو، اس سے دل متاثر ہوتے ہیں اور اس سے دلوں کے اندر آپ صلی الله علیہ سلم کی محبت پیدا ہوتی ہے، اس کا اہتمام فرمائیں اور چوں کہ یہ ایک دانش گاہ ہے او رایک کارخانہ ہے، یہاں کپڑا نہیں بنایا جاتا، یہاں پلاسٹک کے برتن نہیں بنائے جاتے، یہاں لوہے کی مصنوعات نہیں بنائی جاتیں، یہاں انسان بنائے جاتے ہیں۔

یہ وہ دانش گاہ ہے جہاں انسان سازی ہوتی ہے، آپ کے اساتذہ صبح سے لے کر رات تک اس میں مشغول ہوتے ہیں، یہ جو کچھ نظم آپ دیکھ رہے ہیں یہ اچانک نہیں ہوا، اس میں جامعہ کے دفتر تعلیمات نے اور اس کے ساتھ ہی ساتھ دیگر اساتذہ کرام نے دن رات محنتیں کی ہیں، بھرپور محنتیں کی ہیں اور آج ان تمام محنتوں کا مظاہرہ آپ کے سامنے ہوا ہے، تو ہم اس کی کوشش کریں کہ جیسے اساتذہ ہماری تربیت کریں ، ادارے کی طرف سے جس طرح کی راہ نمائی ہمیں دی جائے ہم اس کو اختیار کریں۔

اور یہ جو آج کا ہمارا مسابقات کا سلسلہ ہے، وہ طلباء جو کسی وجہ سے اس میں شریک نہ ہوسکے آئندہ کے لیے وہ ارادہ کریں، آئندہ کے لیے عزم کریں، آئندہ کے لیے کوشش کریں کہ وہ حسن قراء ت کے مقابلے میں، تقریر او ربیان کے مسابقے میں، حمد اور نعت کے مسابقے میں، مضمون نویسی کے مسابقے میں اور اسی طرح خطاطی کے مقابلے میں ان سب میں آگے بڑھنے کی کوشش کریں، تاکہ آپ کی ان تمام صفات اورخوبیوں میں بھی ترقی ہو اور آئندہ آپ خلق خدا کی بہترین خدمت سرانجام دے سکیں۔

الله تعالیٰ ہم سب کو عمل کی توفیق عطا فرمائے۔آمین
اس کے بعد حضرت مولانا محمد انور صاحب دامت برکاتہم نے مختصر خطاب فرمایا اور دعا سے اس مبارک پروگرام کا اختتام فرمایا۔
نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم!
حضرات اساتذہ کرام، علمائے کرام، عزیز طلبا، معزز سامعین!
کوئی خاص بات تو میرے دہن میں نہیں ہے، اتنی بات آپ سے عرض کروں گا کہ جن باتوں کا حضرت مولانا عبیدالله خالد صاحب دامت برکاتہم نے ذکر فرمایا یہ سارا جامعہ فاروقیہ کا فیض ہے، آپ دنیا کے کسی کنارے پر جائیں، کسی ملک میں جائیں، ان شاء الله وہاں آپ کو جامعہ فاروقیہ کا فیض نظر آئے گا، مفتی رفیع صاحب دامت برکاتہم العالیہ ایک دفعہ بلوچستان کے سفر پر تھے، تو وہاں کے علماء سے پوچھتے تھے، آپ کہاں کے فاضل ہیں؟ جس سے پوچھتے وہ بتاتا میں جامعہ فاروقیہ کا فاضل ہوں، فرمانے لگے میں حیران ہو گیا، دارالعلوم کا نام سب سے پیچھے ،زیادہ تر علماء جامعہ فاروقیہ کا نام لیتے ہیں اور دوسرے نمبر پر جامعة العلوم الاسلامیہ بنوری ٹاؤن کا اور بعد میں دارالعلوم کا نمبر آتا ہے۔

تو الله کا شکر ہے کہ جامعہ فاروقیہ کراچی کا فیض پاکستان میں تو ہے ہی، آپ صوبہ سرحد میں دیکھ لیں، بڑے بڑے علماء ہیں، جامعہ فاروقیہ کے فضلاء ہیں، پنجاب میں د یکھ لیں ، کشمیر میں دیکھیں، بلوچستان میں دیکھیں سندھ میں دیکھیں اور فیجی دنیا کا آخری کنارہ ہے اس میں آپ دیکھیں کتنے فضلا ہیں جامعہ فاروقیہ کراچی کے اور یہ جامعہ فاروقیہ کراچی کے بانی شیخ الحدیث حضرت مولانا سلیم الله خان صاحب نوّرالله مرقدہ کے اخلاص کا نتیجہ ہے اور الحمدلله جیسے حضرت کی حیات میں جامعہ فاروقیہ کا نظام چل رہا تھا، آج بھی اسی طرح ہے، کسی درجے میں طالب علم کم نہیں ہوئے، حضرت کے دنیا سے پردہ فرمانے کے بعد بھی، اس لیے کہ حضرت کی دعائیں ہیں، تو بہرحال عزیز طلباء! آپ نے جو مسابقات میں حصہ لیا، یہ بھی جامعہ فاروقیہ ہی کا فیض ہے، آپ نے محنت کی، آپ کے اساتذہ نے آپ کو محنت کرائی اور اساتذہ سے ہمیشہ دعائیں لینی چاہییں، جو طالب علم اپنے اساتذہ سے دعا لیتا ہے ہمیشہ کام یاب ہوتا ہے ۔نبی علیہ الصلاة والسلام کے خطیب حضرت ثابت بن قیس رضی الله عنہ تھے، بنی تمیم کا وفد آیا تھا تو بنی تمیم کے خطیب کے ساتھ پیغمبر کے خطیب نے تقریر میں مقابلہ کیا تھا، اورنبی علیہ الصلاة والسلام کے شاعر حضرت حسان بن ثابت رضی الله عنہ کا مقابلہ ان کے شاعر سے ہوا تھا۔

میرے دوستو اور میرے بھائیو! یہ مسابقے تو پیغمبر کے زمانے سے جاری ہیں اور نبی علیہ الصلاة والسلام سارے نبیوں کے خطیب ہیں، آپ حضرات ہر میدان میں محنت کریں، قراء ت کے میدان میں بھی آگے بڑھیں، حمد ونعت کے میدن میں بھی آگے بڑھیں اور اسی طریقے سے خطابت کے میدان میں بھی آگے بڑھیں اور مضمون نویسی میں بھی آگے بڑھیں ، خطاطی کے میدان میں بھی آگے بڑھیں ۔ ایک اور بات عرض کرنی ہے کہ ابھی شش ماہی امتحان قریب ہے، اس کے لیے رات دن محنت کریں، یہاں آپ نے محنت کی، آپ کام یاب ہو گئے، اول، دوم، سوم آنے والوں کو لوگ کہتے ہیں جیت گئے، باقی ہار گئے۔ ایسا نہیں ہے، اول ، دوم، سوم آنے والے جیت گئے، باقی سب سیکھ گئے، ہارا کوئی بھی نہیں۔
میں ان سب شرکاء کو دلی مبارک بادِ پیش کرتا ہوں او ران کے لیے دعا کرتا ہوں کہ الله تعالیٰ ان کو ترقی عطا فرمائے اور الله تعالیٰ ہر میدان میں آپ کو کام یاب فرمائے۔ آمین!