بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

وبائی بیماریاں وضو اور مسواک کی اہمیت و فضائل

وبائی بیماریاں وضو اور مسواک کی اہمیت و فضائل

ضبط و تحریر: ابوعکاشہ مفتی ثناء الله ڈیروی
استاد ورفیق شعبہ تصنیف وتالیف جامعہ فاروقیہ کراچی

حضرت مولانا عبیدالله خالد صاحب مدظلہ العالی ہر جمعہ جامعہ فاروقیہ کراچی کی مسجد میں بیان فرماتے ہیں۔ حضرت کے بیانات ماہ نامہ ”الفاروق“ میں شائع کرنے کا اہتمام کیا گیا ہے ،تاکہ”الفاروق“ کے قارئین بھی مستفید ہو سکیں۔ (ادارہ)

مسواک کرنے کا طریقہ
مسواک دائیں طرف کے اوپر والے جبڑوں سے شروع کرے، پھر بائیں جانب کے اوپر والے،پھر دائیں جانب کے نیچے والے جبڑے اور پھربائیں جانب کے نیچے والے جبڑے اور اس طرح تین مرتبہ کرے اور ہر مرتبہ مسواک دھو کر کلی کرے، البتہ اگر ضرورت ہو تو تین سے زیادہ مرتبہ بھی کرسکتا ہے۔

”وأقلہ ثلاث في الأعالی وثلاث في الأسافل بمیاہ ثلاثة، (أقول: قال في المعراج: ولا تقدیر فیہ، بل یستاک إلی أن یطمئن قلبہ بزوال النکھة واصفرار السن، والمستحب فیہ ثلاث بثلاث میاہ، والظاہر أن المراد لا تقدیر فیہ من حیث تحصیل السنة، وانما تحصل باطمئنان القلب فلو حصل بأقل من ثلاث فالمستحب اکمالھا کما قالوا في الاستنجاء بالحجر، (في الأعالی) ویبدأ من الجانب الأیمن ثم الأیسر وفي الأسافل کذلک، (بمیاہ ثلاثة) بأن یبلہ في کل مرة․“ (الدر مع الرد، کتاب الطہارة، مطلب في دلالة المفہوم:1/250)

روزے کی حالت میں مسواک
روزے کی حالت میں مسواک منع نہیں ہے، چاہے مسواک تازہ ہو اور اس کی کڑواہٹ بھی محسوس ہو۔

بلکہ روزے کی حالت میں بھی مسواک اسی طرح سنت ہے جیسا کہ عام حالت میں ہے۔ عن عامر بن ربیعة قال رأیت رسول الله صلی الله علیہ وسلم یستاک وھو صائم․ زاد مسدد مالا أعد ولا أحصی․

حضرت عامر بن ربیعہ رضی الله عنہ فرماتے ہیں: میں نے رسول الله صلی الله علیہ وسلم کو روزے کی حالت میں مسواک کرتے ہوئے دیکھا۔ مسدد نے یہ اضافہ نقل کیا ہے کہ آپ صلی الله علیہ وسلم کو روزے کی حالت میں اتنی مرتبہ مسواک کرتے دیکھا ہے کہ شمار نہیں کرسکتا۔ (سنن أبي داؤد، کتاب الصوم، باب السواک للصائم، رقم الحدیث: 2366،ومسند الإمام أحمد بن حنبل، رقم الحدیث: 15678، المصنف لعبدالرزاق، باب السواک للصائم، رقم الحدیث:7484)

”البحرالرائق“ میں ہے: ”وأما السواک فلا بأس بہ للصائم، أطلقہ فشمل الرطب والیابس والمبلول وغیرہ، وقبل الزوال وبعدہ“․ (البحرالرائق، کتاب الصوم، باب مایفسد الصوم ومالا یفسد:2/491)

روزے کی حالت میں مسواک کا ریشہ حلق میں جانا مفسد نہیں
”احسن الفتاوی“ میں ہے: سوال: مسواک کرتے وقت اس کا ریشہ حلق میں چلا گیا اور کوشش کے باوجود باہر نہ نکلا تو اس سے روزہ توفاسد نہیں ہوا؟

جواب: دانتوں میں اٹکے ہوئے کھانے کا ذرہ اگر چنے کے دانہ سے کم مقدار میں حلق میں چلا جائے تو اس سے روزہ نہیں ٹوٹتا،اس کی وجہ یہ ہے کہ اس سے احتراز متعسر ہے، اس سے ثابت ہوا کہ مسواک کے ریشہ سے بھی روزہ نہ ٹوٹے گا، لاشتراک العلة․ (احسن الفتاوی، کتاب الصوم:4/445)

ٹوتھ برش سے مسواک کی سنت ادا نہ ہوگی
”کفایت المفتی“ میں ہے: سوال: دانت صاف کرنے کے لیے کئی قسم کے برش ملتے ہیں، کیا ان سے دانتوں کا صاف کرنا جائز ہے؟

جواب: دانتوں کو مسواک سے صاف کرنا، مسنون ہے، برش اگر پاک ہو تو اس کا استعمال اگرچہ طریقہ مسنونہ کے موافق نہیں، تاہم مباح ہو گا۔ (کفایت المفتی، کتاب الطہارة:2/322، وفتاوی رحیمیہ، کتاب الطھارة:4/17،وآپ کے مسائل او ران کا حل، وضو کے مسائل:3/77)

اگر مسواک پاس نہیں، یادانت نہیں تو مسواک کا حکم
اگر کسی کے پاس مسواک نہیں، یا دانت نہیں تو ایسی صورت میں انگلی مسواک کے قائم مقام ہوجائے گی اور فضیلت مسواک انگلی سے حاصل ہو جائے گی، یعنی انگلی دانتوں پر یادانت نہیں تو مسوڑھوں پر پھیرلے۔

(وعند فقدہ أو فقد أسنانہ تقوم الخرقة الخشنة أو الإصبع مقامہ، ثم بأي أصبع استاک لابأس بہ، والأفضل أن یستاک بالسبابتین، یبدأ بالسبابة الیسري ثم بالیمین، وإن شاء استاک بإبھامہ الیمنی والسبابة الیمنی، یبدأ بالإبھام من الجانب الأیمن فوق وتحت، ثم بالسبابة من الأیسر کذلک․ (الدر مع الرد، کتاب الطہارة، مطلب في منافع السواک:1/253)

تو آپ وضو کریں، اہتمام سے کریں، یہ حفاظت ہے، آج دنیا کہہ رہی ہے کہ یوں کرو ،یوں کرو، یہ تو آپ صلی الله علیہ وسلم چودہ سو سال پہلے بتا گئے او رایک دفعہ نہیں کرنا، دن میں پانچ دفعہ کرنا ہے، ابھی تو ایمرجنسی لگی ہوئی ہے، مسلمانوں کے لیے تو پہلے سے ہے اور جب آپ وضو کر لیں تو وضو کے بعد ”أشھد أن لا إلہ إلا الله وأشھدأن محمداً عبدہ ورسولہ“ بھی پڑھ لیں۔

”عن ثوبان رضی الله عنہ قال: قال رسول الله صلی الله علیہ وسلم: من توضأ فقال: أشھد أن لا إلہ إلا الله وأشھد أن محمداً عبدہ ورسولہ، فتحت لہ ثمانیة أبواب الجنة یدخل من أیھا شاء․ (سنن النسائی، کتاب الطھارة، القول بعد الفراغ من الوضوء، رقم:148)

بعض روایات میں وضو کے بعد دعا کے یہ الفاظ بھی آئے ہیں: عن النبی صلی الله علیہ وسلم قال: من توضأ فأحسن الوضوء ثم قال ثلاث مرات أشھد أن لا إلہ إلا الله وحدہ لا شریک لہ وأن محمداً عبدہ ورسولہ، فتحت لہ من الجنة ثمانیة أبواب، من أیھا شاء دخل․ (مسند الإمام احمد بن حنبل، رقم الحدیث:13792، وسنن ابن ماجہ، کتاب الطہارة، باب مایقال بعد الوضوء، رقم الحدیث:469)

نیز ”سنن الترمذی“ کی روایت میں ہے کہ:”قال رسول الله صلی الله علیہ وسلم: من توضأ فأحسن الوضوء، ثم قال أشھد أن لا إلہ إلا الله وحدہ لا شریک لہ وأشھد أن محمداً عبدہ ورسولہ، اللھم اجعلنی من التوابین واجعلنی من المتطہرین، فتحت لہ ثمانیة أبواب الجنة یدخل من أیھا شاء․(سنن الترمذی، کتاب الطہارہ، باب فیما یقال بعد الوضوء رقم الحدیث:55)

وضو کے بعد ایک اور دعا
عن أبي سعید الخدري رضی الله عنہ قال: من توضأ ثم فرغ من وضوئہ ثم قال سبحانک اللھم وبحمدک أشھد أن لا إلہ إلا أنت أستغفرک وأتوب إلیک، ختم علیھا بخاتم فوضعت تحت العرش فلاتکسر إلی یوم القیامة․

رسول الله صلی ا لله علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے وضو سے فارغ ہونے کے بعد یہ دعا:”سبحانک اللھم… إلخ“ پڑھی، تو اس پر مہر لگا دی جاتی ہے اور عرش کے نیچے رکھ دی جاتی ہے اور قیامت تک اس کی مہر نہ توڑی جائے گی(اور وہ مغفرت کا حکم برقرار رہے گا) ۔(المصنف لعبدالرزاق، باب تعلیم القرآن وفضلہ، رقم الحدیث:6023)

وضو کے بعد کی دعا کے ساتھ آسمان کی طرف دیکھنے کا حکم
وضو کے بعد کی دعا:”أشھدأن لا إلہ إلا الله… إلخ“ پڑھنے کی فضیلت توثابت ہے، جیسا کہ ماقبل میں گزر چکا ہے، البتہ بعض روایات میں یہ دعا پڑھتے ہوئے آسمان کی طرف دیکھنے کا اضافہ بھی منقول ہے۔

مثلا:” المعجم الکبیر للطبراني“ کی روایت میں ہے: ”ثم رفع بصرہ إلی السماء، فقال: أشھد أن لا إلہ إلا الله… إلخ“ (المعجم الکبیر للطبرانی، عقبة بن عامر الجہنی، رقم الحدیث:916)، سنن ابی داؤد کی روایت میں ہے:”ثم رفع بصرہ إلی السماء فقال: أشھد أن لا إلہ إلا الله… إلخ․ (سنن أبي داود، کتاب الطہارة، باب مایقول الرجل إذا توضأ، رقم الحدیث:170)،”سنن النسائي الکبری“ کی روایت میں ہے:”ثم رفع بصرہ إلی السماء فقال أشھد أن لا إلہ إلا الله… إلخ“․ (سنن النسائي الکبری، کتاب الطھارة، باب مایقول إذا فرغ من وضوئہ، رقم:9830) ”سنن الدارمي“ کی روایت میں ہے : ثم رفع بصرہ إلی السماء فقال… إلخ،وسنن الدارمي، باب القول بعد الوضوء، رقم الحدیث:741“، ”مسند احمد“ کی روایت میں ہے: ”ثم رفع نظرہ إلی السماء فقال أشھد أن لا إلہ إلا الله … إلخ“، (مسند احمد بن حنبل، رقم الحدیث:121)․ ”مسند أبي یعلی“ کی روایت میں ہے: ”ورفع بصرہ إلی السماء فقال… إلخ“․ (مسند أبي یعلی، مسند عمر بن الخطاب، رقم الحدیث:180)

اسی طرح ”حاشیہ ابن عابدین“ میں ہے:”وزاد فی المنیة: وأن یقول بعد فراغہ”سبحانک اللھم وبحمدک أشھد أن لا إلہ الا أنت أستغفرک وأتوب إلیک وأشھد أن محمداً عبدک ورسولک ناظراً إلی السماء“․(حاشیة ابن عابدین، کتاب الطہارة، مطلب في بیان ارتقاء الحدیث الضعیف إلی مرتبة الحسن:1/275)

البتہ جن روایات میں آسمان کی طرف دیکھنے کا اضافہ منقول ہے، ان سب کی سند میں ”ابن عم“ ایک راوی ہے، جو کہ مجہول ہے، اس لیے ہمارے بعض اکابرین نے وضو کے بعد اس دعا کے ساتھ آسمان کی طرف دیکھنے کے ثبوت کا انکار کیا ہے۔

ذیل میں وضو کے بعد کی دعا کے ساتھ آسمان کی طرف دیکھنے کے حوالے سے اکابرین دیوبند کے فتاوی اور تحقیق نقل کی جاتی ہے۔

”فتاوی رحیمیہ“ میں ہے: سوال: وضو کے بعد کلمہ شہادت پڑھتے وقت آسمان کی طرف انگشت شہادت اٹھانا کیسا ہے؟
جواب: بعض فقہاء نے اس کو ذکر کیا ہے اور بعض نے صرف آسمان کی طرف نگاہ اٹھانے کو بیان کیا ہے، لہٰذا دونوں کی گنجائش ہے، اسے ضروری نہ سمجھا جائے اور نہ کرنے والوں پر نکیر نہ کی جاوے، یہ محض آداب میں سے ہے۔ (فتاوی رحیمیہ، کتاب الطہارة:4/21)

”فتاوی محمودیہ“ میں ہے:
سوال: دعا مانگتے وقت آسمان کی طرف نگاہ اٹھانا کیسا ہے؟ وضو کے بعد نگاہ اٹھا کر دعا مانگیں یا نہیں؟
جواب: دعا کے وقت آسمان کی طرف نگاہ نہ اٹھائے، البتہ وضو کے بعد شہادت وغیرہ پڑھتے وقت آسمان کی طرف نگاہ اٹھائے۔ (فتاوی محمودیہ، باب الوضوء:5/55)

”خیر الفتاوی“ میں ہے:
سوال وضو کے بعد کلمہ شہادت پڑھتے ہوئے انگلی شہادت کو آسمان کی طرف اٹھانا کیسا ہے؟
جواب: شامی جلد اول،ص:119 میں آسمان کی طرف دیکھنے کا ذکر ہے، انگلی اٹھانے کا نہیں، … البتہ طحطاوی میں علامہ غزنوی سے منقول ہے کہ انگلی کا اشارہ کرے، ” ذکر الغزنوي أنہ یشیر بسبابتہ حین النظر إلی السماء․“ (خیر الفتاوی:2/55)

اسی طرح”احسن الفتاوی“ جلد نمبر2 میں ہے:
سوال: وضو کرنے کے بعد آسمان کی طرف دیکھنے کا کیا حکم ہے؟
جواب: وضو کے بعد کلمہ شہادت پڑھتے وقت آسمان کی طرف دیکھنا حضور اکرم صلی الله علیہ وسلم سے ثابت ہے۔ (احسن الفتاوی، کتاب الطہارة:2/16)

البتہ”تتمہ احسن الفتاوی“ میں حضرت مفتی صاحب رحمہ الله نے اپنے اس فتوے سے رجوع کیا ہے اور حضرت مفتی صاحب کی جدید تحقیق یہ ہے کہ وضو کے بعد کی دعا کے ساتھ آسمان کی طرف دیکھنا ثابت نہیں۔

چناں چہ فرماتے ہیں:
وضو کے بعد آسمان کی طرف دیکھنا ثابت نہیں، جس حدیث میں اس کا ذکر ہے اس کی سند میں ایک راوی ابن عم ابی عقیل مجہول ہے، یرفع بصرہ إلی السماء اس کا ادراج ہے، سرسری تلاش سے یہ روایت صحیح مسلم:1/22، سنن النسائي:1/19، سنن ترمذي:1/34، سنن ابن ماجہ،ص:36، سنن أبي داؤد:1/17، عمل الیوم والیلة لابن السنی،ص:18میں دست یاب ہوئی۔ اول الذکر چاروں کتب میں یہ راوی موجود نہیں، اس لیے ”یرفع بصرہ“ کا اضافہ بھی نہیں اور آخر الذکر دونوں کتابوں میں یہ راوی موجود ہے اوریرفع بصرہ کا اضافہ بھی ہے۔ (ان دو کتابوں کے علاوہ یہ روایت اور بھی کئی کتب میں موجود ہے، جس کا ذکر ہم نے ماقبل میں کر دیا او ران سب روایات کی سند میں بھی ”ابن عم“ راوی موجود ہے )

اسی طرح”الفتح الربانی“2/51، میں دو سندوں سے مذکور ہے، جس سند میں یہ راوی موجود ہے، اس میں رفع بصر کی زیادتی بھی ہے اور جس میں یہ راوی نہیں اس میں رفع بصر کا ذکر نہیں۔

خلاصہ یہ کہ حدیث سے صرف شہادتین پڑھنے کا ثبوت ہے، نظر آسمان کی طرف اٹھانے کی زیادتی ثابت نہیں۔

شہادتین پڑھتے ہوئے انگلی اٹھانے کا بھی کوئی ثبوت نہیں۔ علامہ طحطاوی رحمہ الله نے حاشیہ مراقی الفلاح میں علامہ غزنوی سے نقل کیا ہے کہ: یشیر بسبابتہ حین النظر إلی السماء․

مگر اس کا کوئی ماخذ ذکر نہیں کیا اور احناف میں اس نام کے کئی فقہاء گزرے ہیں، جو سب طبقہ متاخرین سے تعلق رکھتے ہیں اور ان کا قول بلا تحقیق قابل قبول نہیں۔ (تتمہ احسن الفتاوی، کتاب الطہارة: 10/137-136)

اب آپ قلعے کے اندر آگئے، اب آپ حصار کے اندر آگئے، آپ مسلح ہو گئے، میں نے بہت دفعہ عرض کیا کہ بہت سے لوگ آکر ہم سے کہتے ہیں کہ کسی نے کچھ کر دیا ہے، میں نے کہا کسی نے کچھ نہیں کیا، آپ نے خود اپنے اوپر بہت کچھ کیا ہوا ہے۔

ہم پاک نہیں رہتے، یاد رکھیے! اسلام میں طہارت کا حکم ہے۔ نظافت الگ چیز ہے ،طہارت الگ چیز ہے۔ آپ استنجا کرتے ہیں، اس استنجا میں جب تک آپ کو طمانینت قلب حاصل نہ ہو جائے، اطمینان نہ ہو جائے کہ آپ کے پیشاب کے قطرے اب نہیں آئیں گے اس وقت تک آپ پاک نہیں ہوں گے، اگر آپ نے استنجا تو کر لیا ،لیکن کھڑے ہوئے تو قطرے ٹپک گئے تو آپ پاک نہیں ہیں، آپ نے پاخانہ کا استنجا کیا ہے اور آپ کو یہ تسلی نہیں ہوئی ہے کہ نجاست ختم ہو گئی ہے، جب تک تسلی نہ ہو جائے آپ پاک نہیں۔

یہ اسلام ہے، اسلام میں طہارت کا حکم ہے۔ پانچ مرتبہ آپ کو فرض نمازوں کے لیے وضو کرنا ہے اور اس سے پہلے اگر آپ نے پیشاب پاخانہ کیا ہے تو آپ کو استنجا کرنا ہے۔

میرے دوستو! یہ ایک ایسا عمل ہے جو آپ کو محفوظ کر دیتا ہے، یہ وضو سارے وائرسوں کا علاج ہے، یہ استنجا سارے وائرسوں کا علاج ہے، سارا نظام سرور کائنات جناب رسول الله صلی الله علیہ وسلم ہمیں بتا کر گئے ہیں، ہاں! غیر مذاہب کے اندر یہ کچھ نہیں۔

میں نے شاید آپ کو سنایا تھا کہ ایک دفعہ میں ہالینڈ گیا، وہاں کراچی کے ایک دوست تھے، جو وہاں ملازمت کرتے تھے، انہیں پتہ چلا تو وہ ملنے آگئے، اور کئی دن وہ ساتھ رہے۔ انہوں نے ایک قصہ سنایا کہجب میں کراچی سے یہاں آیا، تو اکیلا تھا اورمیں مشترکہ رہائش میں رہتا تھا، پھر مجھے ائر لائن کی طرف سے یہ سہولت ملی کہ میں اپنی فیملی کو بلاسکتا ہوں، وہ مجھے رہائش بھی دیں گے، چناں چہ مجھے رہائش دے دی گئی، تو میں اس مکان کو دیکھنے گیا، یورپ میں رہائشی مکانات کا ڈیزائن تقریباً ایک جیسا ہوتا ہے، مجھے چابی مل چکی تھی، میں گھر میں داخل ہوا، میں نے دیکھا اس میں دو کمرے ہیں، ایک چھوٹا سا لاؤنج ہے، ایک کچن ہے ،ایک باتھ روم ہے، چوں کہ وہ بہت زیادہ ٹھنڈے ممالک ہیں تو وہاں فرش کے اندر گرمائش کا نظام ہوتا ہے، جیسے گرم ممالک میں سنٹرل ائر کنڈیشنگ ہوتی ہے، وہاں پر سینٹرل ہیٹنگ ہوتی ہے، گرمائش کا نظام ہوتا ہے اور فرش کے اوپر کارپٹ ہوتا ہے، باتھ روم میں جب میں گیا تو وہاں بھی ایک بیسن لگا ہوا تھا او رایک کموڈ لگا ہوا تھا اور کارپٹ بچھا ہوا تھا۔

میں نے سوچا کہ میں اگر غسل کروں گا تو کہاں کروں گا؟ چوں کہ مکان وہاں سارے ایک ہی ڈیزائن کے ہوتے ہیں، میں نے سوچا کہ میں پڑوس والوں سے جاکر پوچھوں کہ وہ لوگ غسل کہاں کرتے ہیں؟ میں برابر والے دروازے پر گیا، گھنٹی بجائی، ایک بوڑھی خاتون باہر آئی، میں نے اس کو اپنا تعارف کروایا، بتایا کہ میں آپ کے پڑوس میں آرہا ہوں، اس نے بڑی خوشی کا اظہار کیا ، میں نے اس سے پوچھا کہ میری سمجھ میں ایک بات نہیں آرہی، اگر اجازت ہو تو میں آپ کا گھر دیکھ لوں؟ انہوں نے کہا بالکل آجائیے، میں اندر چلا گیا، میرا مسئلہ تو صرف باتھ روم والا تھا، لہٰذا میں باتھ روم گیا، اس کو کھولا تو دیکھا کہ وہاں بھی کارپٹ بچھا ہوا ہے، میں نے اس سے پوچھا کہ آپ لوگ غسل کہاں کرتے ہیں؟ نہاتے کہاں ہیں؟ اس نے کہا ہم تو نہیں نہاتے۔

میرے دوستو! یہ اسلام ہے، الله کا شکر ادا کیجیے، ہم جتنا شکر ادا کریں، شکر ادا نہیں کرسکتے کہ الله نے ہمیں نعمت اسلام عطا فرمائی، میں اور آپ اگر ایک دو دن غسل نہ کریں تو پریشان ہو جاتے ہیں، غسل سے ہم طاہر اور پاک ہوتے ہیں، جنابت کے غسل کا بھی طریقہ ہے، ایسے ہی پانی ڈالنے سے آدمی پاک نہیں ہوتا۔

آپ کو کلی کرنی ہے، غرارے کرنے ہیں، ناک میں پانی ڈالنا ہے او رپھر جسم پہ اس طرح پانی ڈالنا ہے کہ جسم کے ہر جگہ تک پانی پہنچ جائے، پاک صاف ہو جائے۔

تب آپ پاک ہوں گے، ویسے ہی آپ نے جسم پر پانی ڈالا تو آپ پاک نہیں ہوں گے۔

وھي (أي فرائض الغسل) ثلاثة: المضمضة، والاستنشاق وغسل جمیع البدن․(الفتاوی العالمکیریة، کتاب الطہارة، الباب الثاني في الغسل ، الفصل الأول:1/64) (الدر مع الرد، کتاب الطہارة، مطلب في أبحاث الغسل:1/312-311)

میرے دوستو! یہ الله تعالیٰ کی نعمتیں ہیں۔

دوسری بات جو سمجھنے کی ہے، وہ یہ کہ ہمارا یہ عقیدہ ہے، ہمیں ہمارے دین نے یہ سکھایا ہے کہ موت کا وقت مقرر ہے۔

موت کا طریقہ بھی مقرر ہے۔ یہ پیٹ کی بیماری میں مرے گا، یہ پانی میں ڈوب کر مرے گا، یہ ایکسیڈنٹ میں مرے گا، یہ ملیریا میں مرے گا، یہ جل کر مرے گا، سب لکھا ہوا ہے۔

موت بھی مقرر، موت کا طریقہ بھی مقرر اور تیسری بات کہ موت کی جگہ بھی مقرر ہے، یہ پیدا ہوا تھا مانسہرہ میں ، مرے گا کراچی میں، پیدا ہوا تھا کراچی میں،مرے گا پشاور میں، پیدا ہوا تھا کراچی میں، مرے گا واشنگٹن میں۔ یہ سب لکھا ہوا ہے۔ تو بھائی! پھر پریشان ہونے کی کیا بات ہے؟

موت بھی مقرر ہے، موت کا طریقہ بھی مقرر ہے، اگر میرے لیے لکھا ہوا ہے کہ میں کرونا وائرس سے مروں گا تو دنیا کی کوئی طاقت مجھے نہیں بچاسکتی اور اگر میرے مقدر میں یہ لکھا ہوا ہے کہ میں اس سے نہیں مروں گا تو ساری دنیا مل کر بھی مجھے اس وائرس سے نہیں مارسکتی۔یہ عقیدے کی بات ہے، مسلمان کا عقیدہ ہے کہ الله تعالیٰ نے ہماری موت بھی مقرر کی ہے، اس کا طریقہ بھی مقرر کیا ہے اور اس کی جگہ بھی مقرر کی ہے۔

قرآن کی آیت ہے:﴿وماکان لنفس أن تموت إلا بإذن الله کتابا مؤجلا﴾(سورہ آل عمران، آیة:145) اور کوئی مر نہیں سکتا، بغیر حکم الله کے، لکھا ہوا ہے ایک وقت مقرر۔

تقدیر پر ایمان لانا ضروری ہے، الله تعالیٰ نے کسی انسان کے لیے زندگی، موت، نفع، نقصان لکھا ہے، تو وہ اسی طرح ہو کر رہتا ہے، اس سے انسان بچ نہیں سکتا، آپ صلی الله علیہ وسلم نے اپنے بھتیجے حضرت عبدالله بن عباس رضی الله عنہما کو نصیحت فرمائی۔

چناں چہ آپ صلی الله علیہ وسلم نے ابن عباس رضی الله عنہما سے فرمایا:
یا غلام إنی أعلمک کلمات: اے لڑکے میں تجھے چند باتیں بتاتا ہوں، احفظ الله یحفظک الله کی نگہداشت کر، یعنی ان کے احکام کی پیروی کر، الله تعالیٰ تیری حفاظت کریں گے، یعنی دنیا میں تجھے مکروہات سے بچائیں گے اور آخرت میں تیری عذاب سے حفاظت کریں گے۔

احفظ الله تجدہ تجاھکالله کی حفاظت کر، الله کو تو اپنے سامنے پائے گا، اس جملے کا مطلب بھی وہی ہے جو پہلے جملہ کا ہے۔

إذا سألت فاسأل الله، وإذا استعنت فاستعن بالله اور جب تو سوال کرے تو الله ہی سے سوال کر او رجب تو مدد طلب کرے تو الله ہی سے مدد طلب کر۔

واعلم أن الأمة لو اجتمعت علی أن ینفعوک بشيء لم ینفعوک بشيء إلا قدکتبہ الله لک․

اور جان لے کہ اگر سب لوگ اکٹھے ہو جائیں اس بات پر کہ وہ تجھے کچھ نفع پہنچائیں، تو وہ تجھے کچھ بھی نفع نہیں پہنچاسکتے، مگر وہ نفع جو الله نے تیرے لیے مقدر کیا ہے:
وإن اجتمعوا علی أن یضروک بشي لم یضروک إلا بشيء قدکتبہ الله علیک․
اور اگر تمام لوگ اکٹھے ہو جائیں اس بات پر کہ وہ تجھے کچھ نقصان پہنچائیں تو وہ تجھے کچھ بھی نقصان نہیں پہنچاسکتے، مگر وہ نقصان جو الله نے تیرے لیے مقدر کیا ہے۔

رفعت الاقلام وجفت الصحف․ قلم (لکھ کر) فارغ گئے ہیں اور کاغذ خشک ہو گئے ہیں، مطلب یہ کہ تقدیر کا لکھا اٹل ہے، اس میں تبدیلی نہیں ہو سکتی۔ (سنن الترمذی، ابواب الورع، رقم الحدیث:2516 و جامع الأصول فی أحادیث الرسول، کتاب اللواحق، رقم الحدیث:9315)

انسان موت سے بچ نہیں سکتا
قرآن کی آیت ہے:﴿أینماتکونوا یدرککم الموت ولو کنتم فی بروج مشیدة﴾(سورہ نساء، آیة:78)

جہاں کہیں تم ہو گے، موت تم کو آپکڑے گی، اگرچہ تم ہو مضبوط قلعوں میں۔ اس آیت کے ذیل میں ”ابن جریر“ نے ایک عبرت ناک واقعہ نقل کیا ہے۔

پہلی امتوں میں ایک عورت تھی، اس کے ہاں بچی پیدا ہوئی ، تو اس نے اپنے ایک ملازم کو آگ لینے کے لیے بھیجا، وہ دروازے سے نکل ہی رہا تھا کہ اچانک ایک آدمی ظاہر ہوا اور اس نے پوچھا کہ اس عورت نے کیا جنا ہے؟ ملازم نے جواب دیا کہ لڑکی پیدا ہوئی ہے، تو اس آدمی نے کہا کہ آپ یاد رکھیے! یہ لڑکی سو مردوں سے زنا کرے گی اور آخر میں ایک مکڑی سے مرے گی۔ ملازم یہ سن کر فوراً واپس ہوا اور ایک چھری لے کر اس بچی کا پیٹ چاک کر دیا اور سوچا کہ اب یہ مر گئی تو بھاگ گیا، مگر پیچھے بچی کی ماں نے ٹانکے لگا کر اس کا پیٹ جوڑ دیا، یہاں تک کہ وہ لڑکی جوان ہوگئی اور خوب صورت اتنی تھی کہ اس شہر میں وہ بے مثال تھی اور اس ملازم نے ( جس نے بچی کو مارا تھا) بھاگ کر سمند رکی راہ لی او رکافی عرصہ تک مال ودولت کماتارہا۔ پھر شادی کرنے کے لیے واپس شہر آیا اور یہاں اس کو ایک بڑھیا ملی، تو اس سے ذکر کیا کہ میں ایسی لڑکی سے شادی کرنا چاہتا ہوں جس سے زیادہ خوب صورت اس شہر میں اورکوئی نہ ہو، اس عورت نے کہا کہ فلاں لڑکی سے زیادہ کوئی خوب صورت نہیں ہے۔ آپ اسی سے شادی کر لیں، آخر کار کوشش کی اور اس سے شادی کرلی۔ اس لڑکی نے مرد سے دریافت کیا کہ تم کون ہو؟ اورکہاں رہتے ہو؟ اس نے کہا میں اسی شہر کا رہنے والا ہوں، لیکن ایک لڑکی کا پیٹ چاک کرکے میں بھاگ گیا تھا، پھر اس نے پورا واقعہ سنایا۔ یہ سن کر وہ بولی کہ وہ لڑکی میں ہی ہوں، یہ کہہ کر اس نے اپنا پیٹ دکھایا،، جس پر نشان موجود تھا۔ یہ دیکھ کر اس نے کہا کہ اگر تو وہی عورت ہے تو تیرے متعلق دو باتیں بتلاتا ہوں، ایک یہ کہ تو سو مردوں سے زنا کرے گی، اس پر عورت نے اقرار کیا کہ ہاں! مجھ سے ایسا ہوا ہے، لیکن تعداد یاد نہیں، مرد نے کہا تعداد سو ہے، دوسری بات یہ کہ تو مکڑی سے مرے گی۔

مرد نے اس کے لیے ایک عالی شان محل تیار کرایا، جس میں مکڑی کے جالے کا نام تک نہ تھا، ایک دن اس میں لیٹے ہوئے تھے کہ دیوار پر ایک مکڑی نظر آئی۔ عورت بولی کیا مکڑی یہی ہے جس سے تو مجھے ڈراتا ہے؟ مرد نے کہا ہاں، اس پر وہ فوراً اٹھی او رکہا کہ اس کو تو میں فوراً مار دوں گی، یہ کہہ کر اس کو نیچے گرایا اور پاؤں سے مسل کر ہلاک کر دیا، مکڑی تو ہلاک ہو گئی، لیکن اس کے زہر کی چھینٹیں اس کے پاؤں او رناخنوں پر پڑ گئیں، جو اس کی موت کا سبب بن گئیں۔ (تفسیر طبری لابن جریر، سورہ نساء ، آیة:78، 8/553-552)

اسی طرح قرآن کی آیت ہے:﴿وما تدری نفس بأی أرض تموت﴾(سورہ لقمان، آیة:34) اور کسی کو خبر نہیں کہ وہ کس زمین میں مرے گا؟

اس آیت کے ذیل میں ”تفسیر روح المعانی“ میں ایک واقعہ نقل کیا ہے کہ ملک الموت ایک دفعہ حضرت سلیمان علیہ السلام کی مجلس میں آئے او رحضرت سلیمان علیہ السلام کی مجلس میں بیٹھے ایک شخص کو گھور رہے تھے، جس شخص کو ملک الموت گھور رہے تھے،اس نے سلیمان علیہ السلام سے پوچھا کہ یہ کون ہیں؟ سلیمان علیہ السلام نے فرمایا کہ یہ ملک الموت ہیں تو اس آدمی نے سلیمان علیہ السلام سے کہا کہ آپ ہوا کو حکم دیں کہ ہوا مجھے اٹھا کر ہند میں پہنچا دے۔ چناں چہ سلیمان علیہ السلام نے ایسا ہی کیا۔

اس کے بعد پھر ملک الموت سلیمان علیہ السلام کے پاس آئے ، تو سلیمان علیہ السلام نے پوچھا کہ آپ میری مجلس میں بیٹھے شخص کو کیوں گھور رہے تھے؟ ملک الموت نے کہا کہ میں تعجب سے اس کو دیکھ رہا تھا، کیوں کہ مجھے حکم تھا کہ میں اس کی روح ہندوستان میں قبض کروں اور وہ آپ کے پاس بیٹھا ہوا تھا۔(تفسیر روح المعانی، سورہ لقمان، آیت:34، 11/110، المصنف لابن أبي شیبہ، کتاب الزھد، کلام سلیمان بن داود علیہ السلام، رقم الحدیث:35409)

بھائی! اس کے ساتھ یہ بھی ضرور ہے، ہم دنیا میں رہتے ہیں، دنیا دارالاسباب ہے، اس وقت گرمی ہے، آپ کو پنکھے کی ضرورت ہے، چلائیں پنکھا، آپ کو لباس کی ضرورت ہے، سردی کا لباس الگ ہے کہ گرمی کا لباس الگ ہے، آپ بیمار ہو جاتے ہیں تو آپ کو دوا، دارو اور علاج کی ضرورت ہے، سنت ہے۔

چناں چہ اس طرح کے مواقع پر علاج یا ڈاکٹروں سے، اطباء اور وزارت صحت کی طرف سے اگر کوئی راہ نمائی دی جائے اس پر ضرور عمل کرنا چاہیے، یہ نہیں ہے کہ ہم اس پر عمل اس لیے نہیں کر رہے کہ ہماری موت کا وقت مقرر ہے، اس کا طریقہ بھی مقرر ہے، اس کی جگہ بھی مقرر ہے۔ نہیں، عالم اسباب میں ہمارا علاج کو اختیار کرنا ایمان ، توکل اوریقین کے خلاف نہیں۔

توکل یہ ہے کہ انسان اسباب اختیا رکرے اورپھر الله پر بھروسہ کرے، اس لیے کہ اسباب اختیارکرنے کے باوجود کام کا ہونا، نہ ہونا، حفاظت وغیرہ الله کی مرضی سے ہے۔

حدیث میں ہے:عن أنس بن مالک قال: قال رجل یا رسول الله! أعقلھا وأتوکل أو أطلقھا وأتوکل؟ قال: اعقلھا وتوکل․

ایک شخص نے رسول الله صلی الله علیہ وسلم سے پوچھا، اے الله کے رسول! میں اپنے اونٹ کازانو باندھ کر (یعنی اسباب اختیار کرکے) الله پر بھروسہ کروں یا آزاد چھوڑ کر؟ (یعنی اونٹ کو نہ باندھوں ، حفاظت کے اسباب اختیار نہ کروں اور الله پر بھروسہ کروں)۔

آپ صلی الله عیہ وسلم نے فرمایا: زانوں باندھ کر (یعنی اسباب اختیار کرنے کے بعد) الله پر بھروسہ کرو۔ (سنن الترمذی، ابواب الورع، رقم الحدیث:2517،والمستدرک علی الصحیحین، کتاب معرفة الصحابہ، ذکر عبدالله بن عباس رضی الله عنہما، رقم:6616)

”زاد المعاد“ میں علامہ ابن القیم رحمہ الله فرماتے ہیں: نیز اس سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ تمام مادی اسباب جن کو الله تعالیٰ نے مقاصد کے حصول کے لیے مسببات بنایا ہے، انہیں استعمال میں لانا تو کل کے منافی نہیں، اس لیے کہ آپ صلی الله علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضوان الله علیہم اجمعین سے بڑھ کر او رکون متوکل ہو سکتا ہے؟! لیکن آپ صلی الله علیہ وسلم اور صحابہ کرام جب دشمن سے مقابلے کے لیے آتے تو مختلف قسم کے اسلحے کے ذریعے اپنا تحفظ کرتے تھے۔ آپ صلی الله علیہ وسلم فتح مکہ کے موقع پر مکہ داخل ہوئے تو آپ صلی الله علیہ وسلم کے سر پر خود تھا،حالاں کہ الله تعالیٰ نے قرآن کی آیت نازل فرما دی تھی،﴿والله یعصمک من الناس﴾ الله تعالیٰ آپ کو لوگوں سے بچائیں گے، حفاظت کریں گے۔

اسی طرح روایت میں آتا ہے کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے کھانے میں یہودی عورت نے زہرملایا تھا۔ اس واقعے کے بعد اگر کوئی آدمی آپ صلی الله علیہ وسلم کو کھانا پیش کرتا تو آپ صلی الله علیہ وسلم اس کھانے میں سے اس وقت تک نہ کھاتے جب تک کھانا پیش کرنے والا اس میں سے کچھ کھا نہ لیتا۔

چناں چہ الله تعالیٰ کی طرف سے آپ صلی الله علیہ وسلم کو حفاظت کی ضمانت دی گئی ہے، لیکن اس کے باوجود آپ صلی الله علیہ وسلم کا خود احتیاط کرنا، حفاظت کے اسباب اختیار کرنا اس کے منافی نہیں، جیسا کہ الله تعالیٰ نے اپنے دین کو غالب کرنے کا وعدہ کیا ہے، تو یہ اس کے منافی نہیں کہ مسلمانوں کا امیر دشمن سے مقابلے کے لیے تیاری کرے او رجنگی قوت اور دشمن سے حفاظت کے اسباب اختیار کرے۔ چناں چہ یہ وہ مقام ہے جہاں بہت سے لوگ غلطی کرتے ہیں، یہاں تک کہ بعض لوگ دعا کو بھی چھوڑ دیتے ہیں اور یہ سمجھتے ہیں کہ دعا کا بھی کوئی فائدہ نہیں، اس لیے کہ جس چیز کے لیے دعا کریں گے وہ اگر مقدر میں ہے تو وہ ضرور ملے گی، چاہے دعا کریں یا نہ کریں اور اگر مقدر میں نہیں تو نہیں ملے گی، لہٰذا دعا کی کیا ضرورت ہے؟ علامہ ابن القیم رحمہ الله اس کے جواب میں فرماتے ہیں کہ الله تعالیٰ نے مطلوب کو اسباب کے ساتھ مقدر کیا ہے کہ اگر اس سبب کو اختیار کریں گے تو مطلب حاصل ہو گا، اسی طرح دعا بھی مطلوب کے حصول کے لیے ایک بڑا سبب ہے اور اس کی مثال ایسی ہے کہ جیسے کوئی کہے کہ اگر میرے مقدر میں پیٹ بھرنالکھا ہے، تو میرا پیٹ بھر جائے گا ،چاہے میں کھاناکھاؤں یا نہ کھاؤں؟ ظاہر ہے اس سے بڑا احمق کون ہو گا؟! بلکہ پیٹ بھرنے کے لیے سبب اختیار کرنے یعنی، کھانا کھانے کا حکم ہے۔ (زاد المعاد، فصل في غزوة حنین، فصل في الاشارة إلی بعض ما تضمنتہ ھذہ الغزوة من المسائل الفقھیة:3/480،481)

حضرت مولانا اشرف علی تھانوی صاحب رحمہ الله فرماتے ہیں:
کہ توکل یہ نہیں کہ اسباب وتدبیر کو قطعاً ترک کر دیا جائے، بلکہ طریقہ حقہ یہ ہے کہ تدبیر وتقدیر دونوں کو ملایا جائے، یعنی کام کرکے توکل کرنا چاہیے۔ (اشرف الجواب، توکل اور اس کی حقیقت،ص:211,210)

حضرت مولانا مفتی محمد شفیع رحمہ الله قرآن کی آیت ﴿وشاورھم في الامر فإذا عزمت فتوکل علی الله، ان الله یحب المتوکلین﴾․(او ران سے مشورہ لے کام میں، پھر جب قصد کرچکے تو اس کام کا تو پھر بھروسہ کر الله پر، الله کو محبت ہے توکل کرنے والوں سے)کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ اہم امور میں تدبیر اور مشورہ کے احکام کے بعد یہ ہدایت دی گئی ہے کہ سب تدبیریں کرنے کے بعد بھی جب کام کرنے کا عزم کرو تو اپنی عقل ورائے اور تدبیروں پر بھروسہ نہ کرو، بلکہ بھروسہ صرف الله تعالیٰ پر کرو، کیوں کہ یہ سب تدابیر مدبر الامور کے قبضہ قدرت میں ہیں، انسان کیا اور اس کی رائے وتدبیرکیا، ہر انسان، اپنی عمر کے ہزاروں واقعات میں ،ان چیزوں کی رسوائی کا مشاہدہ کرتا رہتا ہے۔

اس جملہ﴿فاذا عزمت فتوکل علی الله﴾سے یہ بھی واضح ہو گیا کہ توکل ترک اسباب اور ترک تدبیر کا نام نہیں، بلکہ اسباب قریبہ کو چھوڑ کر توکل کرنا سنت انبیاء اور تعلیم قرآن کے خلاف ہے، ہاں! اسباب بعیدہ اور دور از کار فکروں میں پڑے رہنا یا صرف اسباب اور تدابیر ہی کو موثر سمجھ کر مسبب الاسباب اور مدبر الامور سے غافل ہو جانا بے شک خلاف توکل ہے۔ (معارف القرآن، سورہ آل عمران، آیة:159،2/227-226)

توکل کے درجات
حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی صاحب رحمہ الله فرماتے ہیں: توکل کے مراتب مختلف ہیں… ایک درجہ تو یہ ہے کہ اعتقاداً ہر حال میں خالق پر نظر رہے، اسی پر اعتماد ہو، یہ تو فرض ہے ۔ یعنی اسباب ہوں یا نہ ہوں ،ہر حال میں بھروسہ خدا پر ہو، اصلی کار ساز اس کو سمجھیں، اسباب پر نظر نہ رکھیں، دوسرا درجہ توکل کا عملی ہے، یعنی ترک اسباب ،اس میں یہ تفصیل ہے کہ اگر وہ سبب کسی ضروری مقصود دینی کے لیے ہے تو اس کا ترک حرام ہے، جیسا کہ اسباب جنت میں سے نماز وغیرہ ہیں، ان کا ترک جائز نہیں اور اگر مقصود دنیو ی کا سبب ہے، تو پھر اس میں بھی تفصیل ہے کہ اگر عادة اس مقصود کا توقف ثابت ہو اور وہ سبب مامور بہ ہے تو اس کا ترک بھی حرام ہے، جیسے کھانا سبب شبع ہے اور پانی سبب ارتوا ہے، ان اسباب کا ترک جائز نہیں او راگر سبب پر مقصود دنیوی کا ترتب ضروری او رموقوف نہیں، تو اقویا کے لیے اس کا ترک جائز، بلکہ بعض صورتوں میں افضل ہے او راگر اشتغال میں کوئی دینی ضرر ہے تو اس کا ترک واجب ہے۔ (اشرف التفاسیر، سورہ آل عمران، آیة:159،1/315)

احتیاط کی جائے، لیکن احتیاط کا مطلب یہ نہیں کہ وہ کام کیے جائیں جو مذہب اسلام سے ٹکراتے ہیں، مثلاً یہ کہ جی آپ مسجد میں نہ آئیں، الله کے رسول صلی الله تعالیٰ علیہ وسلم جب کبھی ہوا تیز چلتی تو فوراً مسجد جاتے۔

عن حذیفة رضی الله عنہ قال: کان النبي صلی الله علیہ وسلم إذا حزبہ أمر صلی․(سنن أبي داود، کتاب التطوع، باب وقت قیام النبي صلی الله علیہ وسلم من اللیل، رقم الحدیث:1321، ومسند الإمام احمد بن حنبل، رقم الحدیث:23299)

عن جابر رضی الله عنہ أن رسول الله صلی الله علیہ وسلم إذا کانت لیلة ریح شدیدة کان مفزعہ إلی المسجد، حتی تسکن الریح، وإذا حدث في السماء حدث من کسوف شمس أو قمر کان مفزعہ إلی المصلیٰ․ (کنز العمال، صلاة التطوع، باب صلاة الکسوف، رقم الحدیث:23533، ومجمع الزوائد ومنبع الفوائد، باب الکسوف، رقم الحدیث:3277)

الله کی طرف رجوع ، الله تعالیٰ کی طرف انابت، الله تعالیٰ کی طرف توجہ یہ مسلمان کا خاصہ ہے او رہمارے نبی صلی الله علیہ وسلم نے ہمیں سکھایا ہے۔ ان مواقع پر تو مساجد کی طرف ترغیب دینی چاہیے، زیادہ سے زیادہ مسجد آئیں، زیادہ سے زیادہ الله کا ذکرکریں، دعاؤں کا اہتمام کریں، پوری انسانیت کے لیے دعائیں کریں کہ الله تعالیٰ تمام بنی آدم کی اس طرح کی وباؤں سے حفاظت فرمائے اور محمد رسول الله صلی الله علیہ وسلم کی امت کی الله تعالیٰ حفاظت فرمائے۔ ہم اپنے گھروں میں بھی اس کا اہتمام کریں کہ ہمارے مرد بھی زیادہ سے زیادہ نماز پڑھنے والے ہوں اور ہماری خواتین بھی ہم گھروں کے اندر بھی اس کی کوشش کریں کہ قرآن کریم کی تلاوت کا اہتمام ہو، قرآن کریم با آواز اپنے گھروں کے اندر پڑھیں، جب گھر میں قرآن کریم باآواز پڑھا جاتا ہے ، تمام آفات، تمام بلیات، تمام مصیبتیں گھر سے دور ہو جاتی ہیں۔

آپ میں سے بڑی عمر کے افراد کو یاد ہو گا کہ ہمارے گھروں کے اندر خواتین ،صبح اٹھ کر، طہارت حاصل کرکے، نماز پڑھ کر قرآن کریم کی پہلے تلاوت کرتی تھیں، پھر باورچی خانے میں جاتی تھیں، گھروں میں امن تھا، چین تھا، محبت تھی، برکتیں تھیں۔ آج ہمارے گھروں سے نمازیں نکل گئی ہیں، آج ہمارے گھروں سے قرآن کریم کی تلاوت نکل گئی ہے، آج ہمارے گھروں سے ذکرواذکار نکل گئے ہیں، تو یہ اس کی مصیبتیں ہیں، جو ہم پر آرہی ہیں، جیسا کہ الله تعالیٰ فرماتے ہیں:﴿ظھر الفساد في البحر والبحر بماکسبت أیدی الناس﴾خشکی او رتری میں فساد پھیلا ہوا ہے، یہ انسانوں کے اپنے کرتوت ہیں، یہ انسانوں کے اپنے گناہ ہیں، جن کی وجہ سے یہ کی ساری چیزیں آئی ہیں۔(جاری)