بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

نبی کریم صلی الله علیہ وسلم کی تاریخ ولادت اور عید میلاد النبی کا تحقیقی جائزہ

نبی کریم صلی الله علیہ وسلم کی تاریخ ولادت اور عید میلاد النبی کا تحقیقی جائزہ

ضبط و تحریر: ابوعکاشہ مفتی ثناء الله خان ڈیروی
استاد ورفیق شعبہ تصنیف وتالیف جامعہ فاروقیہ کراچی

حضرت مولانا عبیدالله خالد صاحب مدظلہ العالی ہر جمعہ جامعہ فاروقیہ کراچی کی مسجد میں بیان فرماتے ہیں۔ حضرت کے بیانات ماہ نامہ ”الفاروق“ میں شائع کرنے کا اہتمام کیا گیا ہے ،تاکہ”الفاروق“ کے قارئین بھی مستفید ہو سکیں۔ (ادارہ)

الحمدلله نحمدہ، ونستعینہ، ونستغفرہ، ونؤمن بہ، ونتوکل علیہ، ونعوذ بالله من شرور أنفسنا، ومن سیئات أعمالنا، من یھدہ الله فلا مضل لہ، ومن یضللہ فلا ھادي لہ، ونشھد أن لا إلہ إلا الله وحدہ لاشریک لہ، ونشھد أن سیدنا وسندنا ومولانا محمداً عبدہ ورسولہ، أرسلہ بالحق بشیرا ونذیرا، وداعیاً إلی الله بإذنہ وسراجاً منیرا․

أما بعد: فأعوذ بالله من الشیطٰن الرجیم، بسم الله الرحمن الرحیم․

﴿وَمَا أَرْسَلْنَاکَ إِلَّا رَحْمَةً لِّلْعَالَمِینَ﴾․ ( سورة الانبیاء، آیة:107)

وقال الله سبحانہ وتعالیٰ: ﴿وَ رَفَعْنَا لَکَ ذِکْرَکََ﴾․ (سورة الم نشرح، آیة:4)

وقال الله سبحانہ وتعالیٰ:﴿إِن کُنتُمْ تُحِبُّونَ اللَّہَ فَاتَّبِعُونِی یُحْبِبْکُمُ اللَّہُ﴾․( سورة آل عمران، آیة:31)
صدق الله مولانا العظیم․

میرے محترم بزرگو، بھائیو اور دوستو! ماہ ربیع الاول ہے اور ہر مسلمان جانتا ہے کہ اس ماہ میں سرورکائنات جناب رسول الله صلی الله علیہ وسلم کی ولادت ہوئی اور ساتھ ہی ہر مسلمان عام طور پر یہ بھی جانتا ہے کہ اسی ماہ میں آپ صلی الله علیہ وسلم کا وصال اور آپ کی اس دنیا سے روانگی ہوئی اورآپ نے اس دنیا سے پردہ فرمایا۔

آپ صلی الله علیہ وسلم کی تاریخ ولادت کے بارے میں اختلاف ہے۔چناں چہ آپ کی پیدائش کے حوالے سے زیادہ مشہور، مستند اور معتبر روایت آٹھ ربیع الاول کی ہے اور آپ کی وفات کے حوالے سے مشہور، معتبر اور مستند روایت بارہ ربیع الاول کی ہے۔ چناں چہ جو بڑی عمروں کے لوگ ہیں وہ خوب اچھی طرح جانتے ہیں کہ ایک زمانے میں بارہ ربیع الاول کو بارہ وفات کہا جاتا تھا اور وہ اسی لیے کہا جاتا تھا کہ آپ صلی الله علیہ وسلم نے بارہ ربیع الاول کو اس دنیا سے پردہ فرمایا۔

”نبی کریم صلی الله علیہ وسلم کی تاریخ وفات 12 ربیع الاول ہے، اگرچہ تاریخ وفات میں کئی دوسرے اقوال بھی نقل کیے گئے ہیں۔

اور آپ صلی الله علیہ وسلم کی تاریخ ولادت کے بارے میں بھی متعدد اقوال نقل کیے گئے ہیں، جن میں سے مشہور چار قول ہیں۔

2ربیع الاول، 8ربیع الاول 15 ربیع الاول 12ربیع الاول ۔(شرح النووی علی الجامع الصحیح لمسلم، کتاب الفضائل، باب قدرعمرہ صلی الله علیہ وسلم:2/260)

اب ان چار تاریخوں میں سے دو تاریخوں کو اصحاب سیر نے اختیار کیا ہے، ایک 8 ربیع الاول ہے اور دوسری12 ربیع الاول ہے،12ربیع الاول کی تاریخ کو اصحاب سیر نے محمد بن اسحاق کے حوالے سے نقل کیا ہے۔

لیکن محمد بن اسحاق رحمہ الله کی جو اپنی سیرت کی کتاب ہے، اس میں انہوں نے آپ صلی الله علیہ وسلم کی متعین تاریخ ولادت کا تذکرہ نہیں فرمایا ہے۔(دیکھیے: السیرة النبویة لابن اسحاق، مولد رسول الله صلی الله علیہ وسلم:1/99)

جب کہ اکثر اصحاب سیر نے آپ صلی الله علیہ وسلم کی تاریخ ولادت کے بارے میں آٹھ ربیع الاول کو اختیار فرمایا ہے۔ چناں چہ علامہ طبری رحمہ الله اپنی کتاب”خلاصة سیر سید البشر“ میں فرماتے ہیں:
ولد رسول الله صلی الله علیہ وسلم بمکة عام الفیل… في یوم الاثنین في شھر ربیع الاول، قیل: للیلتین خلتا منہ، وقیل لثمان، وصححہ کثیرمن العلماء، وقیل: لاثنتی عشرة لیلة، ولم یذکر ابن اسحاق غیرہ․ (خلاصة سیر سید البشر للطبری، الفصل الثانی في ذکر میلادہ صلی الله علیہ وسلم، ص:9)

”شرح الزرقانی“ میں ہے:
وقد اختلف فی عام ولادتہ صلی الله علیہ وسلم، فالأکثرون علی أنہ عام الفیل… وکذا اختلف أیضاً فی أيّ یوم من الشھر … وقیل لثمان خلت منہ، قال الشیخ قطب الدین القسطلانی: وھو اختیار اکثر اھل الحدیث، ونقل عن ابن عباس وجبیر بن مطعم: وھو اختیار أکثر من لہ معرفة بھذا الشأن، واختارہ الحمیدی، وشیخہ، ابن حزم، وحکی القضاعی في ”عیون المعارف“ اجماع أھل الزیج علیہ، ورواہ الزھری عن محمد بن جبیر بن مطعم، وکان عارفا بالنسب وأیام العرب، أخذ ذلک عن أبیہ جبیر․“(شرح العلامة الزرقانی، قداختلف فی عام ولادتہ صلی الله علیہ وسلم:1/248-247)

اسی طرح علامہ ذہبی رحمہ الله نے اپنے شیخ امام دمیاطی رحمہ الله سے نقل کرتے ہوئے 10 ربیع الاول کے قول کی تصحیح کی ہے۔ فرماتے ہیں: ”قال شیخنا ابو محمد الدمیاطی في السیرة من تالیفہ عن أبی جعفر محمد بن علي قال: ولد رسول الله صلی الله علیہ وسلم یوم الأثنین لعشر لیال خلون من ربیع الاول، وکان قدوم أصحاب الفیل قبل ذلک في النصف من المحرم․

وقال ابو معشر نجیح: ولد لاثنتی عشرة لیلة خلت من ربیع الاول، قال الدمیاطي: والصحیح قول أبي جعفر․(السیرة النبویة للذھبی، مولدہ المبارک صلی الله علیہ وسلم:1/7)

متأخرین اصحاب سیر علماء میں سے بھی اکثر حضرات نے آپ صلی الله علیہ وسلم کی تاریخ ولادت میں 12 ربیع الاول کا قول اختیار نہیں کیا، بلکہ 8 یا 9 ربیع الاول کے قول کو اختیار کیاہے اور اس کو ترجیح دی ہے۔

حضرت مولانا محمد ادریس صاحب کاندھلوی رحمہ الله اپنی کتاب ”سیرت مصطفی صلی الله علیہ وسلم“ میں لکھتے ہیں:
سرور عالم، سید ولد آدم، محمد مصطفی، احمدمجتبیٰ صلی الله علیہ وسلم وآلہ وصحبہ وبارک وسلم وشرف وکرم واقعہ فیل کے پچاس یا پچپن روز کے بعد بتاریخ8 ربیع الاول یوم شنبہ مطابق ماہ اپریل570 عیسوی مکہ مکرمہ میں صبح صادق کے وقت ابو طالب کے مکان میں پیدا ہوئے۔

ولادت باسعادت کی تاریخ میں مشہور قول تویہ ہے کہ حضور پر نور صلی الله علیہ وسلم 12 ربیع الاول کو پیدا ہوئے، لیکن جمہور محدثین اور مؤرخین کے نزدیک راحج او رمختار قول یہ ہے کہ حضور صلی الله علیہ وسلم 8 ربیع الاول کو پیدا ہوئے، ا بن عباس اور جبیر بن مطعم رضی الله عنہم سے بھی یہی منقول ہے اور اسی قول کو علامہ قطب الدین قسطلانی نے اختیار کیا ہے۔ (سیرت مصطفی صلی الله علیہ وسلم، ولادت باسعادت:1/52)

علامہ شبلی نعمانی رحمہ الله اپنی کتاب ”سیرة النبی صلی الله علیہ وسلم“ میں لکھتے ہیں:
تاریخ ولادت کے متعلق مصر کے مشہور ہیئت دان عالم محمود پاشا فلکی نے ایک رسالہ لکھا ہے، جس میں انہوں نے دلائل ریاضی سے ثابت کیا ہے کہ آپ صلی الله علیہ وسلم کی ولادت 9 ربیع الاول روز دو شنبہ مطابق 20 اپریل571ء میں ہوئی تھی۔ (سیرت النبی صلی الله علیہ وسلم:1/126-125)

قاضی محمد سلیمان سلمان منصور پوری اپنی کتاب”رحمة للعالمین“ میں لکھتے ہیں:
ہمارے نبی صلی الله علیہ وسلم موسم بہار میں دو شنبہ ( پیر) کے دن 9 ربیع الاول سنہ1 عام الفیل مطابق 22 اپریل571ء کے مطابق یکم جیٹھ628 بکرمی کو مکہ معظمہ میں بعد از صبح صادق وقبل از طلوع نیر عالم تاب پیدا ہوئے۔ (رحمة للعالمین:1/47)

حضرت مولانا مفتی رشید احمد صاحب رحمہ الله نے”احسن الفتاوی“ میں حساب کے ذریعے آپ صلی الله علیہ وسلم کی تاریخ ولادت کو ثابت کیا ہے۔

حساب کرکے فرماتے ہیں: ولادت مبارکہ بالاتفاق دوشنبہ2 یا9 ربیع الاول، مغلطائی نے اول کو ترجیح دی ہے، مگر حضرت عبدالله بن عباس وجبیر بن مطعم رضی الله عنہم سے 8 ربیع الاول منقول ہے او رجمہور محدثین ومؤرخین کا یہی مختار ہے، حسابی قاعدہ میں ایک دن کا فرق معمولی بات ہے۔ (احسن الفتاوی:2)

حضرت مولانا مفتی کفایت الله صاحب رحمہ الله سے ”کفایت المفتی“ میں منقول ہے: حضو راکرم صلی الله علیہ وسلم کی تاریخ ولادت میں پہلے سے مورخین واہل سیر کا اختلاف ہے، دو شنبہ کا دن اور ربیع الاول کا مہینہ تو متفق علیہ ہے، مگر تاریخ کی تعیین میں متعدد اقوال ہیں، کسی نے دوسری، کسی نے تیسری، کسی نے آٹھویں، کسی نے نویں، کسی نے بارہویں تاریخ بتائی ہے۔

از روئے حساب جو جانچا گیا تو 9 تاریخ والاقول زیادہ قوی ثابت ہوا، اسی وجہ سے علامہ شبلی نعمانی مرحوم اور مولانا قاضی محمد سلیمان مرحوم نے اسی قوی اور راحج قول کو اختیار فرمایا ہے، لیکن عوام میں بارہویں تاریخ والے قول کی شہرت زیادہ ہو گئی تھی، اس بنا پر عوام بارہویں ہی کو یوم ولادت سمجھتے ہیں او رسمجھتے رہے ہیں۔ (کفایت المفتی، کتاب العقائد، آٹھواں باب اختلافی مسائل:1/147)

خلاصہ یہ نکلا کہ آپ صلی الله علیہ وسلم کی تاریخ ولادت کے بارے میں اکثر محقق علماء وموْرخین نے 8 یا 9 ربیع الاول کے قول کو اختیار کیا ہے اور اسی کو ترجیح دی ہے، نہ کہ12 ربیع الاول کے قول کو اور پھر جیسے تاریخ ولادت کے بارے میں 12 ربیع الاول کا قول ہے، اسی طرح تاریخ وفات کے بارے میں بھی 12 ربیع الاول کا قول ہے۔

تو اب ناواقف مسلمانوں کا 12 ربیع الاول کو تاریخ ولادت کے طور پر متعین کرکے اس دن اس انداز سے خوشی منانا، جلوس نکالنا اور سینکڑوں غیر شرعی امور کا ارتکاب کرنا جس کا شریعت میں نام ونشان تک نہیں۔ یہ کیسے درست ہو سکتا ہے؟

اگر مان لیا جائے کہ 12ربیع الاول ہی تاریخ ولادت ہے اور دوسری جانب یہی دن تاریخ وفات بھی ہے اور آپ صلی الله علیہ وسلم کا اس دنیا سے پردہ فرما جانا کائنات کا سب سے بڑا غم ہے تو پھر یہ کہاں کی عقل مندی ہے کہ 12 ربیع الاول میں صرف اسباب خوشی کو ذہن میں رکھ کر عید میلاد النبی صلی الله علیہ وسلم منعقد کی جائے، جلوس نکالے جائیں اور وہ جلوس بھی ایسے جن میں سینکڑوں طرح کی خرافات وبدعات پائی جاتی ہوں، جن میں شاہ را ہوں، سڑکوں کو بند کرکے لوگوں کو پریشانی میں ڈالنا، ڈھول کی تھاپ پر رقص کرنا او راپنی ان ساری خرافات کو نہ صرف درست سمجھنا، بلکہ عین دین سمجھنا، بلکہ اگر کوئی مسلمان ان خرافات کا حصہ نہ بنے تو اس پر گستاخ رسول کے طعنے کسے جاتے ہیں اور اس مہینے میں ان ساری خرافات کے ارتکاب پر عشق رسول کا لیبل لگایا جاتا ہے۔

محفل میلاد کی حقیقت اور حکم
اس میں شک وشبہ کی ادنی گنجائش بھی نہیں ہے کہ حضرت محمد صلی الله علیہ وسلم کے ساتھ عشق وعقیدت او رمحبت عین ایمان ہے اور آپ صلی الله علیہ وسلم کی ولادت سے لے کر وفات تک زندگی کے ہر شعبہ کے صحیح حالات وواقعات اور آپ صلی الله علیہ وسلم کے اقوال وافعال کو پیش کرنا باعث نزول رحمت خدا وندی ہے اور ہر مسلمان کا یہ فریضہ ہے کہ وہ آپ صلی الله علیہ و سلم کی زندگی کے حالات معلوم کرے اور ان کو مشعل راہ بنائے، سال کے ہر دن میں کوئی وقت ایسا نہیں جس میں آپ کی زندگی کے حالات بیان کرنے اور سننے ممنوع ہوں، یہ بات محل نزاع نہیں ہے، لیکن دیکھنا یہ ہے کہ کیا ربیع الاول کی، بارہویں تاریخ کو مقرر کرکے، اس میں میلاد منانا، محفل او رمجلس منعقد کرنا،جلوس نکالنا یا اسی دن کو مخصوص کرکے فقراء اور مساکین کو کھانا کھلانا وغیرہ آپ صلی الله علیہ وسلم اور حضرات صحابہ کرام رضی الله عنہم اور خیر القرون سے ثابت ہے؟

آپ صلی الله علیہ وسلم نبوت کے بعد تئیس سال حیات رہے اور پھر تیس سال خلافت راشدہ کے گزرے ہیں اور پھر ایک سو دس ہجری تک حضرات صحابہ کرام رضی الله عنہم کا دور رہا ہے، کم وبیش دو سو بیس برس تک اتباع تابعین کا زمانہ تھا، عشق ان میں کامل تھا، محبت ان میں زیادہ تھی،آپ صلی الله علیہ وسلم کا احترام اور تعظیم ان سے بڑھ کر کون کرسکتا ہے؟ تو کیا آج کا ناواقف مسلمان عشق رسول کے نام پر اس مہینے میں میلاد وغیرہ جن امور کا ارتکاب کر رہا ہے کیا وہ خیر القرون سے اس کو ثابت کر سکتا ہے؟ نہیں کرسکتا اور نہ قیامت تک کرسکے گا، اگر یہ ثواب کے کام ہوتے تو پھر یہ کام خیر القرون میں کیوں نہیں ہوئے؟

محفل میلاد کا تاریخی پس منظر
ربیع الاول کے مہینے میں جاہل مسلمانوں کا میلاد کے نام پر خرافات کا ارتکاب کرنا، اس کی آخر ابتدا کہاں سے ہوئی؟
عجیب بات ہے کہ جن خرافات کو آج دین سمجھاجارہا ہے، جس کی اہمیت نماز، روزے سے بھی زیادہ سمجھی جاتی ہے ان خرافات کی ابتدا کو اگر تلاش کیا جائے تو چھ صدیوں تک تو ان خرافات کا مسلمانوں میں رواج نہ تھا، چھٹی صدی، ہجری میں ایک بادشاہ گزرے ہیں جن کا نام مظفر الدین تھا، اوران کی دینی حالت کے بارے میں آتا ہے:”کان ملکا مسرفا یأمر علماء زمانہ أنہ یعملوا باستنباطھم واجتھادھم وأن لا یتبعوا لمذھب غیرھم حتی مالت إلیہ جماعة من العلماء وطائفة من الفضلاء واحتفل لمولد النبي صلی الله علیہ وسلم في ربیع الاول، وھو من احدث من الملوک ھذا العمل․(القول المعتمد في عمل المولد)

وہ ایک مسرف بادشاہ تھا، علماء زمانہ سے کہا کرتا تھاکہ وہ اپنے استنباط او راجتہاد پر عمل کریں اور غیر کے مذہب کی پیروی نہ کریں۔

حتی کہ (دنیا پرست) علماء اور فضلا کی ایک جماعت اس کی طرف مائل ہو گئی اور وہ ربیع الاول میں میلاد منعقد کیا کرتا تھا، بادشاہوں میں وہ پہلا شخص ہے جس نے یہ بدعت گھڑی ہے۔

” وفیات الأعیان“ میں ابن خلکان رحمہ الله نے مظفر الدین بادشاہ کے ربیع الاول میں میلاد منعقد کرنے کی پوری تفصیل ذکر فرمائی ہے۔

فرماتے ہیں:” وأما احتفالہ بمولد النبي صلی الله علیہ وسلم … وھو أن أھل البلاد کانوا قد سمعوا بحسن اعتقادہ فیہ، فکان في کل سنة یصل إلیہ من البلاد القریبة من إربل … ولا یزالون یتواصلون من المحرم إلی أوائل شھر ربیع الاول ویتقدم مظفر الدین بنصب قباب من الخشب… فإذا کان أول صفر زیبوا تلک القباب بأنواع الزینة الفاخرة المستجملة، وقعد في کل قبة جوق من المغانی وجوق من أرباب الخیال ومن أصحاب الملاھی … فکان مظفر الدین ینزل کل یوم بعد صلاة العصر ویقف علی قبة قبة إلی أخرھا، ویسمع غناء ھم ویتفرج علی خیالاتھم یما یفعلونہ فی القباب… ھکذا یعمل کل یوم إلیٰ لیلة المولد وکان یعملہ سنة في ثامن الشھر، وسنة في الثانی عشر لأجل الاختلاف الذی فیہ، فإذا کان قبل المولد بیومین أخرج من الإبل والبقر والغنم شیئاً کثیراً زائداً عن الوصف وزفھا بجمیع ماعندہ من الطبول والمغانی والملاھی حتی یأتی بھا إلی المیدان، ثم یشرعون في نحرھم، وینصبون القدور ویطبخون الألوان المختلفة، فإدا کانت لیلة المولد عمل السماعات بعد أن یصلی المغرب في القلعة، ثم ینزل وبین یدیہ من الشموع المشتعلة شیء کثیر…“․ (وفیات الأعیان، رقم الترجمة:547، مظفر الدین صاحب إربل:4/118-117)

معلوم ہوا کہ ربیع الاول میں عید میلا النبی کے نام پر جو ناچ گانا، جلوس ، چراغاں، طرح طرح کے کھانوں کا اہتمام جو عشق رسول اور دین کے نام پر کیا جاتا ہے اس کی اصل آپ صلی الله علیہ وسلم یا صحابہ کرام، تابعین، تبع تابعین، فقہاء ومحدثین سے نہیں، بلکہ یہ چھٹی صدی کے ایک بادشاہ کا طریقہ ہے۔ اور اس مظفر الدین بادشاہ کے لیے جس دنیا پرست مولوی نے محفل میلاد کے جواز پر مواد اکٹھا کر دیا تھا اس کا نام عمر بن دحیہ تھا۔

اس عمر بن دحیہ کے بارے میں ”لسان المیزان“ میں ہے: قال الحافظ الضیاء: لم یعجبنی حالہ،، کان کثیر الوقیعة في الأئمة یہ ائمہ دین کی شان میں بہت گستاخی کیا کرتا تھا۔”لسان المیزان“ میں ان کے بارے میں ایک اور جگہ ہے:”قال ابن النجار: رأیت الناس مجمعین علی کذبہ وضعفہ․ ابن النجار کہتے ہیں: کہ میں نے لوگوں کو اس کے جھوٹ اور ضعف پر متفق پایا۔ (لسان المیزان:6/86)

حافظ ابن حجر رحمہ الله اس کے بارے میں فرماتے ہیں:”کان کثیر الوقیعة في الأئمة وفي السلف من العلماء، خبیث اللسان أحمق، شدید الکبر، قلیل النظر في أمور الدین، متھاونا“․ (لسان المیزان:6/850)

وکذا في سیر أعلام النبلاء، رقم الترجمة:248، ابن دحیة:22/395-394)

یعنی یہ ائمہ دین اور علماء کی شان میں بہت گستاخی کرتا تھا، گندی زبان کا مالک تھا، بڑا احمق اور متکبر تھا، دین کے کاموں میں بڑا بے پروا اور سست تھا۔

اب ان خرافات میں مبتلا ہر مسلمان کے لیے سوچنے کا مقام ہے کہ اس کے لیے دین کے معاملے میں اور جس کام کو وہ ثواب سمجھ کرکررہا ہے اس میں اس کے لیے آپ صلی الله علیہ وسلم، صحابہ کرام، خیر القرون کا اتباع ضروری ہے یا ایک نفس پرست بادشاہ اور زرپرست مولوی کی اتباع کرنا ضروری ہے؟! مروجہ طریق پر محفل میلاد کی فقہاء نے سختی سے تردید فرمائی ہے۔ ”ابن الحاج المالکی رحمہ الله “ نے اپنی کتاب ”المدخل“ میں کئی صفحات میں اس مروجہ محفل میلاد کی تردید فرمائی ہے او راس کے مفاسد شمار فرمائے ہیں۔

شروع میں فرماتے ہیں:” ومن جملة ما أحدثوہ من البدع مع اعتقادھم أن ذلک من أکبر العبادات وإظہار الشعائر ما یفلعونہ فی شھر ربیع الأول من المولد وقد احتوی علی بدع ومحرمات جملة․

لوگوں کو ان بدعتوں میں سے جن کو وہ بڑی عبادت سمجھتے ہیں اورجن کے کرنے کو وہ شعائر اسلامیہ کا اظہار سمجھتے ہیں وہ مجلس میلاد ہے جس کو وہ ماہ ربیع الاول میں کیا کرتے ہیں، یہ مجلس بہت سی بدعات او رمحرمات پر مشتمل ہوتی ہے۔ (المدخل لابن الحاج المالکی، فصل في المولد:2/2)“

آپ صلی الله علیہ وسلم کے لائے ہوئے دین اور آپ صلی الله علیہ وسلم کی لائی ہوئی شریعت پر عمل کرنا یہ ہے آپ صلی الله علیہ وسلم سے محبت کا حقیقی تقاضا، چناں چہ زندگی کا جو رخ بھی ہو، زندگی کا جو راستہ بھی ہو ،زندگی کا جو مرحلہ بھی ہو اس میں رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے طریقوں کو اختیار کرنا یہ ایک امتی کی ذمے دار ی ہے، اور آپ صلی الله علیہ وسلم کے طریقے میں غلبہ ہے، اس میں چین ہے، اسی میں سکون ہے، اس میں کام یابی ہے۔

آج جو ہمارے مسائل ہیں، آج ہم جن مشکلات میں مبتلا ہیں، ہر شخص پریشان ہے او رپریشانیاں ہیں کہ وہ گھٹتی نہیں ہیں، پریشانیاں ہیں کہ وہ کم نہیں ہوتیں، بڑھ رہی ہیں، ہر گھر کا یہی حال ہے، ہر مرد وعورت کا یہی حال ہے، جس کے پاس آپ بیٹھیں او راس سے حال احوال لیں وہ آپ کو ایسی ایسی پریشانیاں سنائے گا کہ آپ بھی پریشان ہو جائیں گے۔ یہ کیوں ہے؟ یہ اس لیے ہے کہ ہم نے الله تعالیٰ کو ناراض کیا ہوا ہے، ہم نے رسول الله صلی الله علیہ وسلم کی اتباع سے منھ موڑا ہوا ہے، اگر آدمی الله کے احکام پر عمل کرنے لگے ،اذان ہوتی ہے الله اکبر، الله اکبر … حی علی الصلوٰة، آؤ نماز کی طرف۔ حی علی الفلاح، آؤ کام یابی کی طرف، فجر میں اذان ہو رہی ہے، ظہر میں اذان ہو رہی ہے، عصر میں اذان ہو رہی ہے، مغرب میں اذان ہو رہی ہے، عشاء میں اذان ہو رہی ہے۔

اور الحمدلله ہمارے ملک میں تو اذانیں لاؤڈاسپیکر پر ہوتی ہیں، بہت سے ممالک دنیا میں ایسے ہیں جہاں لاؤڈاسپیکرپر اذان دینے کی اجازت نہیں، لیکن ہمارے ملک میں اذانیں لاؤڈ اسپیکر پر ہوتی ہیں۔

ہمارا ایمان اتنا کم زور ہوچکا ہے او رہماری آپ صلی الله علیہ وسلم کی اتباع اتنی کم زور ہوچکی ہے کہ اگر میں کہوں کہ ہمیں اذان کی آواز آتی ہی نہیں،جیسے آدمی بے حس ہو جاتا ہے، اس کی توجہ ادھر ہے ہی نہیں، میں سمجھانے کے لیے کہتا ہوں کہ کئی دفعہ ایسا ہوتا ہے کہ آپ میری بات سن رہے ہیں، میری طر ف متوجہ ہیں، پنکھا چل رہا ہے اور پنکھے کی آواز ہوتی ہے، لیکن جب آپ میری طرف متوجہ ہوں گے، میری بات سن رہے ہوں گے تو آپ کو پنکھے کی آواز نہیں آئے گی، حالاں کہ پنکھے کی آواز ہے او رجب میں آپ سے کہوں کہ پنکھا چل رہا ہے تو یکدم آواز آنی شروع ہو جائے گی، اب آپ کی توجہ ادھر ہوگئی، ایسے ہی جیسے پنکھے کی آواز پہلے بھی ہے، بعد میں بھی ہے اور بھی بہت سی مثالیں اس کی ہیں، ایسے ہی اذان کی آواز ہے ،ہماری توجہ نہیں ہے، جب ہماری توجہ نہیں ہے تو ہمیں آواز آہی نہیں رہی، حالاں کہ نمازوں کے اوقات کی فکر بھی باعث اجر وثواب ہے کہ آدمی کو معلوم ہو کہ فلاں نماز کا وقت کب داخل ہوتا ہے، فجرکی نماز کا وقت کب ختم ہوتا ہے، ظہر کا وقت کب داخل اور کب ختم ہوتا ہے، عصر کا وقت کب ختم ہوتا ہے، مغرب کا وقت کب ختم ہوتا ہے، عشاء کی نماز کا وقت کب شروع ہوتا ہے، کب تک رہتا ہے۔

ان چیزوں کا علم مسلمان کی ذمہ داری ہے، کیوں ؟ اس لیے کہ نماز فرض ہے اور ایسا فرض ہے کہ جس کے اندر کوئی گنجائش نہیں، ہر حال میں فرض ہے۔

میرے دوستو! اسی طرح آپ صلی الله علیہ وسلم کی تعلیمات ہیں، آپ کے ساتھ محبت کا تقاضا یہ ہے کہ ہم آپ صلی الله علیہ وسلم کی جتنی شباہت اختیار کرسکتے ہیں کریں، آج کیسے کیسے فکر اختیار کرنے والے، کیسے کیسے گناہوں کی زندگی اختیار کرنے والے ان کی نقل اتارنا باعث فخر سمجھا جاتا ہے، بھائی! آپ نے بال ایسے کیوں بنائے ہیں؟ تو فوراً جواب آتا ہے اس وقت فیشن یہ چل رہا ہے۔ آپ نے کپڑے ایسے کیوں پہنے ہیں؟ تو جواب آتا ہے کہ اس لیے کہ فلاں ایسے پہنتا ہے۔ آپ نے پھٹی ہوئی پتلون کیوں پہنی ہے؟ کہتا ہے نہیں صاحب! پھٹی ہوئی نہیں ہے، یہ فیشن ہے، فلاں ایسے پہنتا ہے۔

حالاں کہ جن کی نقل اتاری جارہی ہے وہ فاسق وفاجر لوگ ہیں، لیکن آج ان کی اتباع میں پاگل ہوئے جارے ہیں اور کسی سے آدمی کچھ کہہ دے تو لوگ لڑنے کے لیے تیار ہو جاتے ہیں۔

لیکن میرے دوستو! محمد رسول الله صلی الله علیہ وسلم جن کے ہم پر احسانات ہی احسانات ہیں، آج ان کی نقل اتارنا معیوب ہے، آج ان کی اتباع کرنا معیوب ہے۔

آپ صلی الله علیہ وسلم سے محبت کا تقاضا یہ ہے، آپ سے عقیدت کا تقاضا یہ ہے کہ جو دین آپ لے کر آئے ہیں اس دین پر مضبوطی سے عمل کیا جائے اور یہ بات یاد رکھیں کہ آپ صلی الله علیہ وسلم کے طریقوں اور آپ کی اتباع میں دنیا وآخرت کی کام یابی ہے اور غیروں کے طریقوں میں دنیاوآخرت کی ناکامی ہے، آج جو ہمارے گھروں میں مسائل ہیں اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ ہم نے اپنا ناطہ اور رشتہ الله تعالیٰ سے او رالله کے رسول صلی الله علیہ وسلم سے توڑ رکھا ہے۔

میرے دوستو! یہ ماہ ہم سے تقاضا کرتاہے کہ آپ صلی الله علیہ وسلم کی کامل اتباع کی جائے، کامل پیروی کی جائے، یہی آپ سے عشق اورآپ سے محبت کا تقاضا ہے۔
الله تعالیٰ ہم سب کو عمل کی توفیق نصیب فرمائے۔
﴿رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا إِنَّکَ أَنتَ السَّمِیعُ الْعَلِیمُ، وَتُبْ عَلَیْنَا إِنَّکَ أَنتَ التَّوَّابُ الرَّحِیمُ﴾․