بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم بحیثیت ایک مثالی شوہر

نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم بحیثیت ایک مثالی شوہر

مفتی محمد راشد ڈسکوی

ہنسی مذاق اور بے تکلف زندگی
ایک مرتبہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم حضرت سودہ کے گھر میں تھے اور ان کی باری کا دن تھا ، حضرت عائشہنے نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کے لیے حلوہ پکایا اور حضرت سودہ کے گھر پر لائیں اور لا کر نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کے سامنے رکھ دیا اور حضرت سودہبھی سامنے بیٹھی ہوئی تھیں ، ان سے کہا کہ تم بھی کھاوٴ، حضرت سودہکو یہ بات گراں لگی کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کا جب میرے یہاں باری کا دن تھا تو پھر یہ حلوہ پکاکر کیوں لائیں؟ اس لیے انھوں نے کھانے سے انکار کردیا، حضرت عائشہ نے کہا:تم یہ ضرور کھاؤ گی ، نہیں تو میں یہ تمہارے چہرے پر مل دوں گی۔ اُنہوں نے پھر بھی اِنکار کیا۔ پس حضرت عائشہ  نے اپنا ہاتھ حلوہ میں رکھا اور ان کے چہرے پر لگا دیا۔ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم ہنس پڑے اور آپ صلی الله علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ حضرت عائشہ  پر رکھ کر حضرت سودہ سے فرمایا:لو تم بھی اس کے چہرے پر لگا دو۔ سو انہوں نے بھی حضرت عائشہ  کے چہرے پر لگا دیا۔ اور نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم ہنس پڑے۔ اتنے میں سیدنا عمر فاروق وہاں سے آواز دیتے ہوئے او عبداللہ! او عبداللہ! گذرے۔ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کو گمان ہوا کہ وہ ابھی داخل ہونے والے ہیں، اس لیے ان سے فرمایا کہ کھڑی ہو جاؤ اور اپنے چہرے دھو لو۔(مسند أبي یعلی: مسند عائشة، الرقم:4476)

∗… حضرت جابر نے بیان کیاکہ میرے والد شہید ہوئے تو انہوں نے سات یا نو لڑکیاں چھوڑی تھیں (راوی کو تعداد میں شبہ تھا) پھر میں نے ایک عورت سے شادی کی تو رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ جابر !کیا تم نے شادی کر لی ہے؟ میں نے کہا: جی ہاں۔ فرمایا کنواری سے یا بیوہ سے؟ میں نے کہا بیاہی سے۔ فرمایا: ”ہَلَّا جَارِیَةً تُلَاعِبُہَا وَتُلَاعِبُکَ، أَوْ تُضَاحِکُہَا وَتُضَاحِکُکَ؟!“ کسی (کنواری)لڑکی سے کیوں نہ کی۔ تم اس کے ساتھ کھیلتے اور وہ تمہارے ساتھ کھیلتی یا (آپ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کہ)تم اُسے ہنساتے اور وہ تمہیں ہنساتی؟! میں نے عرض کیا، میرے والد (عبداللہ)شہید ہوئے اور سات یا نو لڑکیاں چھوڑی ہیں، اس لیے میں نے پسند نہیں کیا کہ میں ان کے پاس اُنہی جیسی لڑکی لاؤں۔ چناں چہ میں نے ایسی عورت سے شادی کی جو ان کی نگرانی کر سکے۔ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تمہیں برکت عطا فرمائے۔ (صحیح البخاري، الرقم: 6387)

∗… نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم اپنی ازواج کے ساتھ کس طرح بے تکلف انداز کے ساتھ رہتے تھے ، اس کا انداز ہ اس واقعے سے بھی لگایا جا سکتا ہے، جو حضرت عائشہ سے مروی ہے ، وہ فرماتی ہیں :کہ میں ایک سفر میں حضور صلی الله علیہ وسلم کے ساتھ تھی تو پیدل دوڑ میں حضور صلی الله علیہ وسلم کے ساتھ ہمارا مقابلہ ہوا تو میں جیت گئی اور آپ سے آگے نکل گئی ، اس کے بعد جب (موٹاپے) سے میرا جسم بھاری ہوگیا تو (اس زمانے میں بھی ایک دفعہ) ہمارا دوڑ میں مقابلہ ہوا تو آپ صلی الله علیہ وسلم جیت گئے ، اس وقت آپ نے فرمایا : یہ تمہاری اس جیت کا جواب ہوگیا۔(سنن أبی داؤد، رقم الحدیث:2587)

∗… حضرت صفیہ بنت حیی سے مروی ہے کہ حجة الوداع کے موقع پر اپنی ازواج مطہرات کو بھی اپنے ساتھ لے کر گئے تھے، ابھی راستے میں ہی تھے … کہ دوران سفر حضرت صفیہ  کا اونٹ بدک گیا، اُن کی سواری سب سے عمدہ تھی، وہ رونے لگیں، نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کو معلوم ہوا تو تشریف لائے تو ”فَجَعَلَ یَمْسَحُ دُمُوعَہَا بِیَدِہ، وَجَعَلَتْ تَزْدَادُ بُکَاءً، وَہُوَ یَنْہَاہَا“،اپنے دست مبارک سے اُن کے آنسو پونچھنے لگے، لیکن وہ اور زیادہ رونے لگیں اور نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم مسلسل انہیں چپ کراتے رہے۔(مسند أحمد بن حنبل، مسند النساء، الرقم: 26866)

∗… ام المؤمنین سیدہ عائشہ  فرماتی ہیں :
کہ میں اور رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم ایک برتن سے غسل کرتے تھے ، دونوں کے ہاتھ اس میں پڑتے جاتے اور یہ غسل جنابت کا تھا۔

∗… ایک اور حدیث میں حضرت عائشہ  فرماتی ہیں:کہ میں اور رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم دونوں ایک ہی برتن سے غسل کرتے تھے، (کبھی)آپ مجھ سے سبقت کر جاتے اور کبھی میں آپ سے سبقت کر جاتی، یہاں تک کہ آپ صلی الله علیہ وسلم فرماتے:میرے لیے چھوڑ دو اور میں کہتی:میرے لیے چھوڑ دیجیے۔(سنن النسائی، رقم الحدیث:240)

∗… اور اسی طرح حضرت عبداللہ بن عباس سے روایت ہے : کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم اور حضرت میمونہ  ایک ہی برتن میں غسل کر لیتے تھے۔(صحیح البخاري، الرقم: 253)

∗… ام المؤمنین سیدہ عائشہ  فرماتی ہیں :کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے اپنی ایک بیوی کا بوسہ لیا، پھر نماز کے لیے نکلے اور (دوبارہ) وضو نہیں کیا۔ (آپ کے بھتیجے) حضرت عروہ کہتے ہیں:میں نے ان سے کہا: وہ بیوی آپ کے علاوہ اور کون ہو سکتی ہیں؟ یہ سن کر وہ ہنسنے لگیں۔(سنن أبی داؤد، رقم الحدیث:9)

مزاج کی رعایت کرنا
نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم اپنی ازواج کے مزاج کو پہچانتے تھے ، اس کا اندازہ مندرجہ ذیل واقعہ سے لگایا جاسکتا ہے ۔حضرت عائشہ  فرماتی ہیں کہ ایک دن نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے حضرت عائشہ سے فرمایا: جب تم مجھ سے راضی ہوتی ہو اور جب تم مجھ سے ناراض ہوتی ہو دونوں حالتوں کا علم مجھے ہوجاتا ہے ، حضرت عائشہنے پوچھا کہ یا رسول اللہ !کس طرح علم ہوجاتا ہے ؟ آپ نے فرمایاکہ جب تم مجھ سے راضی ہوتی ہوتو ”بَلٰی وَرَبِّ مُحَمَّدٍ“، (محمد کے رب کی قسم )کے الفاظ سے قسم کھاتی ہو اور جب تم مجھ سے ناراض ہوتی ہوتو”لا وَرَبِّ إِبْرَاہِیم“َ (ابراہیم کے رب کی قسم )کے الفاظ سے قسم کھاتی ہو ، اس وقت تم میرا نام نہیں لیتیں؛ بلکہ حضرت ابراہیم  کا نام لیتی ہو ، حضرت عائشہ نے فرمایا:(یا رسول اللہ !میں صرف آپ کا نام ہی چھوڑتی ہوں) نام کے علاوہ کچھ نہیں چھوڑتی۔

دل لگی کے لیے حالات وواقعات بیان کرنا
اپنی بیوی کو وقت دینا، اس کے پاس بیٹھنا ، اس سے باتیں کرنا، گپ شپ لگانا، کچھ اس کی سننا اور کچھ اپنی سنانا، یہ سب امور بھی آپس کی محبتوں کو بڑھانے والے ہیں۔حضرت عائشہ  فرماتی ہیں کہ ایک رات نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے اپنے گھر والوں کوایک قصہ سنایاتوایک زوجہ محترمہ نے کہاکہ یہ توخُرافہ کی بات معلوم ہوتی ہے۔نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:جانتی بھی ہوکہ خرافہ کااصل قصہ کیا ہے؟خُرافہ بنوعُذرہ قبیلہ کا آدمی تھااور جنات اس کو اٹھا کرلے گئے تھے۔ پھر وہ عرصہ تک جنات میں رہا۔ بعد میں وہ جنات خرافہ کوواپس لوگوں میں چھوڑ گئے توخرافہ نے جوعجیب وغریب قصے جنات میں دیکھے تھے وہ لوگوں میں بیان کرتا تھا۔ اس کے بعدسے یہ مشہور ہوگیاکہ جب بھی لوگ عجیب بات دیکھتے تولوگ کہتے کہ یہ توخُرافہ کاقصہ ہے۔(الشمائل المحمدیہ للترمذي، الرقم:240)۔

صحیح البخاری (الرقم:5189) کی روایت میں ہے کہ ایک بار آپ صلی الله علیہ وسلم نے حضرت عائشہ  کو گیارہ عورتوں کا قصہ بیان کیا جنہوں نے آپس میں بیٹھے ہوئے اپنے اپنے شوہروں کے اچھے وبرے اوصاف بیان کیے، اُن میں سب سے اچھے اوصاف گیارہویں عورت نے اپنے شوہر کے بیان کیے، اس روایت کے آخر میں ہے کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے حضرت عائشہ  سے فرمایاکہ میں تمہارے لیے ایسے ہوں جیسے ابوزرع ام زرع کے لیے(یعنی: گیارہویں عورت کے شوہر کی طرح)۔ دیگر روایات میں یہ اضافہ بھی ہے کہ ”مگر میں تجھے طلاق نہ دوں گا“، حضرت ام المؤمنین عائشہ نے عرض کیا:حضرت! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، ابوزرع کی کیاحقیقت ہے؟! آپ تومیرے لیے اس سے بہت بڑھ کر ہیں۔(فتح الباري:9/277)

گیارہویں عورت نے اپنے شوہر کے اوصاف بیان کرتے ہوئے کہا :
”میرا خاوند ابو زرع ہے، اس کا تو کیا ہی کہنا، اس نے میرے کان زیوروں سے اور بازو چربی سے بھر دیے ہیں، مجھے خوب کھلا کر اس نے اتنا فربہ کر دیا ہے کہ میں خود بھی اپنے آپ کو موٹی تازی اور فربہ سمجھنے لگی ہوں، شادی سے پہلے میں تھوڑی سی بھیڑ بکریوں میں تنگی و ترشی سے گزر بسر کرتی تھی، ابوزرع نے مجھے گھوڑوں، اونٹوں، کھیت کھلیان سب کا مالک بنا دیا ہے، اتنی زیادہ جائیداد ودولت ہونے کے باوجود اس کا مزاج اتنا عمدہ ہے کہ بات کہوں تو برا نہیں مانتا، سوئی پڑی ہوں تو صبح تک مجھے کوئی بھی بیدار نہیں کرتا، میں پانی پیوں تو خوب سیراب ہو کر بافراغت پیتی ہوں۔

رہی ابوزرع کی والدہ (میری ساس)!تو میں اس کی کیا کیا خوبیاں بیان کروں؟ اس کا توشہ مال و اسباب سے بھرا ہوا، اس کا گھر بہت ہی کشادہ ہے۔

رہا ابو زرع کا بیٹا! تو وہ بھی کیسا اچھا اور خوب صورت ہے۔ وہ ننگی تلوار کی طرح حسن و جمال میں چمک دار ہے اور ایسا کم خوراک کہ بکری کے چار ماہ کے بچے کی دستی کا گوشت اس کا پیٹ بھر دے۔

رہی ابو زرع کی بیٹی! اس کے بھی کیا کہنے؟ وہ اپنے باپ کی پیاری، ماں کی دلاری، تابع دار اور فرماں بردار و اطاعت گزار، کپڑا بھرپور پہننے والی (فربہ اندام)جو اپنی سوتن کے جلن کا باعث بنے۔

رہی ابوزرع کی لونڈی!تو اس کے کیا کہنے؟ ہماری کوئی بات اور راز کبھی افشا نہیں کرتی، کھانے نہیں چراتی اور کوڑا کچرا نہیں چھوڑتی۔

مگر ایک دن ایسا ہوا کہ لوگ مکھن نکالنے کا دودھ مَل رہے تھے کہ صبح یک دم ابوزرع گھر سے باہر گیا، اچانک اس نے ایک عورت دیکھی جس کے چیتوں جیسے دو بچے اس کی کمر کے تلے دو اناروں (پستانوں)سے کھیل رہے تھے۔ ابوزرع نے مجھے طلاق دے کر اُس سے نکاح کر لیا۔

اس کے بعد میں نے ایک اور شرافت کے پیکر سردار سے نکاح کر لیا، جو گھڑ سواری کا ماہر، عمدہ نیزہ باز اور تلوار کا دُھنی ہے، اُس نے بھی مجھے بہت سے جانور (گھوڑے، اونٹ اور بکریاں)دے رکھے ہیں اور ہر قسم کے مال و اَسباب میں سے ایک ایک جوڑا دیا ہوا ہے اور مجھ سے کہا کرتا ہے کہ ام زرع!خوب کھا پی، اپنے عزیز و اقارب کو بھی خوب کھلا پلا، تیرے لیے عام اجازت ہے ۔

مگر یہ سب کچھ جو بھی اس نے مجھے دیا ہوا ہے اگر اکٹھا کروں تو ابوزرع کے ایک چھوٹے برتن کو بھی نہیں پہنچتا۔
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں، رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا:میں تمہارے لیے ابوزرع کی طرح ہوں جس طرح وہ ام زرع کے لیے تھا۔

ہدیہ وتحائف دیتے رہنا
بیوی کو وقتا فوقتا ہدیہ اور تحفہ دینا بھی ازدواجی زندگی کو پائیدار بناتا ہے، ہمارے عرف میں نکاح سے قبل منگیتر کو تو ہدیے وتحفے دینے کا رواج ہے، لیکن نکاح کے بعد بیوی کو تحائف دینے کا رواج بالکل نہ ہونے کے برابر ہے، حالاں کہ ایسا نہیں ہونا چاہیے، ہر خوشی کے موقع پر، عیدین کے مواقع پر، سردی وگرمی یعنی موسم بدلنے پر، سفر سے واپسی پر بیوی کے لیے تحائف کا بندوبست آپس کی محبتوں کو بہت زیادہ بڑھانے والا ہے، دیکھیں ہر موسم میں اور عیدین وغیرہ کے موقع پر بیوی نے کپڑے تو بنوانے ہی ہیں، اگر ہم اس کے مطالبہ سے قبل ہی اس کی ضرورت کی چیزیں خود ہی لے آئیں یا اسے لانے کا کہہ دیں تو مفت میں وہ آپ کی احسان مند بھی ہو جائے گی اور اس کے دل میں آپ کی بے پناہ محبت بھی پیدا ہو جائے گی کہ میرے شوہر کو میرا کس قدر خیال ہے۔جناب نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے بہت واضح الفاظ میں ارشاد فرمایا ہے: ”تَھَادُوْا تَحَابُّوْا“(الأدب المفرد، الرقم: 594) تم آپس میں ایک دوسرے کو ہدیہ دیا کرو، اس سے محبت بڑھے گی۔

ناگواریوں کو برداشت کرنا
خوش گوار زندگی گذارنے کے لیے ضروری ہے کہ انسان دوسروں کے عیوب نہ دیکھے، بلکہ اپنے عیوب دیکھے، اللہ نے عقد نکاح کی وجہ سے جو یہ جوڑا بنایا ہے ، یہ دو افراد ہیں، دونوں کی عادات ومزاج جدا جدا ہیں تو یقینا بہت دفعہ جانبین کو ایک دوسرے کی طرف سے ناگوار باتوں کا سامنا کرنا پڑے گا،تو ضروری ہے کہ دونوں میاں وبیوی ایک دوسرے کی طرف سے سامنے آنے والی ناگواریوں کو برداشت کریں، نظر انداز کریں، تب ہی زندگی کی گاڑی چل سکے گی، دونوں میاں وبیوی آپس میں طے کر لیں کہ اگر آپس میں کبھی بھی کوئی تلخ کلامی ہوئی تو ایسے وقت جب کہ ایک غصہ میں ہے تو دوسرا اس وقت خاموش رہے، اس کی کسی بات کے جواب میں نہ بولے، چاہے وہ حق پر ہی کیوں نہ ہو، پھر دو چار پانچ منٹ میں جب پہلے کا غصہ ٹھنڈا ہو جائے تو دوسرا معاملے کی حقیقت اس کے سامنے رکھ دے، تو ان شاء اللہ اس طریقہ پر عمل کرنے کی وجہ سے کبھی معاملہ آگے نہیں بڑھے گا۔ برداشت کرنا، نظر انداز کرنا ایمان کی اعلی صفات میں سے ایک صفت ہے اور ایسا بندہ اللہ کو بہت محبوب ہوتا ہے۔

∗… حضرت ابوہریرہ  سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: ”لَا یَفْرَکْ مُؤْمِنٌ مُؤْمِنَةً، إِنْ کَرِہَ مِنْہَا خُلُقًا رَضِیَ مِنْہَا آخَرَ “․ (صحیح مسلم) ترجمہ: ”دشمن نہ رکھے کوئی مؤمن مرد کسی منہ من عورت کو اگر اس میں ایک عادت ناپسند ہو گی تو دوسری پسند بھی ہو گی“۔

∗… غصے سے بچنا، برداشت کرنا، نرمی اختیار کرناسنت نبوی صلی الله علیہ وسلم ہے اور یہی امت سے مطلوب ہے، اس بارے میں ایک حدیث ملاحظہ کیجیے کہ حضرت عائشہ  نے فرمایا کہ کچھ یہودی نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہا ”اَلسَّامُ علیک“. نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے جواب دیا : ”وعلیکم“․ لیکن حضرت عائشہ  نے کہا : ”السام علیکم، ولعَنَکم اللّٰہُ وغَضِبَ علیکم“. نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا : ”مَہْلًا یَا عَائِشَةُ! عَلَیْکِ بِالرِّفْقِ وَإِیَّاکِ وَالْعُنْفَ، أَوِ الْفُحْشَ“،کہ اے عائشہ! صبر سے کام لو، نرم خوئی اختیار کرو، سختی اور بدکلامی سے ہمیشہ پرہیز کرو۔ قَالَتْ: أَوَلَمْ تَسْمَعْ مَا قَالُوا؟ حضرت عائشہ  نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا آپ نے نہیں سنا کہ یہودی کیا کہہ رہے تھے؟ قَالَ:”أَوَلَمْ تَسْمَعِيْ مَا قُلْتُ، رَدَدْتُ عَلَیْہِمْ، فَیُسْتَجَابُ لِي فِیہِمْ، وَلَا یُسْتَجَابُ لَہُمْ فِيَّ“․نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کہ اے عائشہ! تم نے نہیں سنا کہ میں نے انہیں کیا جواب دیا؟ میں نے اُن کی بات اُنہیں پر لوٹا دی اور میری دعا اُن کے بدلے میں قبول کی گئی اور اُن کی میرے بارے میں قبول نہیں کی گئی۔ (صحیح البخاري، رقم: 6401)

∗… حضرت انس  فرماتے ہیں کہ”نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم اپنی ایک زوجہ (حضرت عائشہ ) کے یہاں تشریف رکھتے تھے۔ اس وقت ایک زوجہ (حضرت زینب بنت جحش )نے نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کے لیے ایک پیالے میں کچھ کھانے کی چیز بھیجی، جن کے گھر میں نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم اس وقت تشریف رکھتے تھے۔ انہوں نے خادم کے ہاتھ پر (غصہ میں)مارا ، جس کی وجہ سے کٹورہ گر کر ٹوٹ گیا۔ پھر نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے ٹوٹے ہوئے کٹورے کے ٹکڑے جمع کیے اور جو کھانا اُس برتن میں تھا اُسے بھی جمع کرنے لگے اور (خادم سے)فرمایا کہ تمہاری ماں کو غیرت آ گئی ہے۔ اس کے بعد خادم کو روکے رکھا۔ آخر جن کے گھر میں وہ کٹورہ ٹوٹا تھا اُن کی طرف سے نیا کٹورہ منگایا گیا اور نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے وہ نیا کٹورہ اُن زوجہ مطہرہ کو واپس کیا جن کا کٹورہ توڑ دیا گیا تھا اور ٹوٹا ہوا کٹورہ اُن کے یہاں رکھ لیا جن کے گھر میں وہ ٹوٹا تھا“۔(صحیح البخاري، الرقم: 5225)

∗… شروع میں حضرت سودہ کے گھر حلوہ آنے والا واقع گذر چکا کہ دو بیویاں غصہ میں ہیں اور آپ صلی الله علیہ وسلم بڑے تحمل سے انہیں سنبھال رہے ہیں۔

بیوی کی دینی تربیت
جس طرح نان ونفقہ اور رہائش کے ذریعہ سے بیوی اور اولاد وغیرہ کی جسمانی ضروریات کا خیال رکھنا ضروری ہے اسی طرح دینی علوم اور اصلاح نبوی صلی الله علیہ وسلم کے طریقوں سے ان کی روحانی تربیت کرنا بھی نہایت ضروری ہے، بلکہ جسمانی تربیت سے زیادہ ضروری ہے، ہم مردوں کی جانب سے اس معاملے میں بھی قسما قسم کی کوتاہیاں ہوتی ہیں، اکثر لوگ تو اس کو ضروری ہی نہیں سمجھتے ، یعنی اپنے اہل ِخانہ کو نہ کبھی دین کی بات بتلاتے ہیں ، نہ کسی بُرے کام پر اُن کی روک ٹوک کرتے ہیں، وہ تو بس اُن کا حق صرف اتنا ہی سمجھتے ہیں کہ اُن کو ضروریات کے مطابق خرچ دے دیا اور بس، اتنا کر لینے کے بعد وہ اپنے آپ کو بقیہ ذمہ داریوں سے سبک دوش سمجھتے ہیں۔ حالاں کہ ایسا نہیں ہے، قرآن مجید میں اللہ تعا لیٰ کا ارشاد گرامی ہے: ﴿یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا قُوْٓا اَنْفُسَکُمْ وَ اَہْلِیْکُمْ نَارًا﴾․ (التحریم: 6)، ترجمہ: ”اے ایمان والو!اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو دوزخ کی آگ سے بچاؤ“ ۔اس کی تفسیر میں حضرت علی نے فرمایا: ”عَلِّمُوْہُمْ، وَأَدِّبُوْہُمْ“، (تفسیر طبری: 23/491) کہ اپنے گھر والوں کو بھلائی یعنی دین کی باتیں سکھلاؤ۔

اور صحیح حدیث میں حضرت عبداللہ بن عمر سے مروی ہے کہ آپ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: ”کُلُّکُمْ رَاعٍ وَمَسْئُولٌ عَنْ رَعِیَّتِہ، فَالْإِمَامُ رَاعٍ وَمَسْئُولٌ عَنْ رَعِیَّتِہ، وَالرَّجُلُ فِي أَہْلِہ رَاعٍ وَہُوَ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِیَّتِہ“․ (صحیح البخاري، الرقم:2858) ترجمہ:” ہر آدمی حاکم ہے اور اس سے اس کی رعایا کے بارے میں سوال ہو گا۔ امام حاکم ہے اور اس سے اس کی رعیت کے بارے میں سوال ہو گا۔ مرد اپنے گھر کے معاملات کا حاکم ہے اور اس سے اس کی رعایا کے بارے میں سوال ہو گا“۔

ایک حدیث کے مطابق حضرت معاذ بن جبل کو جناب نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے نصیحت فرمائی : ”وَأَنْفِقْ عَلٰی عِیَالِکَ مِنْ طَوْلِکَ، وَلَا تَرْفَعْ عَنْہُمْ عَصَاکَ أَدَبًا، وَأَخِفْہُمْ فِيْ اللّٰہِ“․(المسند لأحمد بن حنبل، الرقم:22075)” اپنے اہل و عیال پر اپنی وسعت کے مطابق خرچ کرتے رہو۔ تادیباً اپنا ڈنڈا ان سے نہ ہٹاؤ اور اللہ تعالیٰ کے معاملہ میں انہیں ڈراتے رہو“ ۔ یعنی اہل و عیال میں سے کسی کو سزا یا تا دیبا ًکچھ مارنا پیٹنا ضروری ہو تو اس سے پہلو تہی نہ کرو اور ان کو اچھی اچھی باتوں کی نصیحت و تلقین کرتے رہا کرو اور دین کے احکام و مسائل کی تعلیم دیا کرو اور ان کو بری باتوں سے بچانے کی کوشش کرو۔

حضرت ابو سعید خدری  فرماتے ہیں:” ایک عورت رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی، ہم بھی آپ کے پاس موجود تھے، کہنے لگی: اے اللہ کے رسول! میرے شوہر صفوان بن معطل  ؛جب میں نماز پڑھتی ہوں تو مجھے مارتے ہیں اور روزہ رکھتی ہوں تو روزہ تڑوا دیتے ہیں، اور فجر کی نماز سورج نکلنے سے پہلے نہیں پڑھتے۔ حضرت صفوان اس وقت آپ صلی الله علیہ وسلم کے پاس موجود تھے، تو آپ صلی الله علیہ وسلم نے اُن سے اِن باتوں کے متعلق پوچھا جو اُن کی بیوی نے بیان کیں تو انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! اُس کا یہ اِلزام کہ نماز پڑھنے پر میں اُسے مارتا ہوں تو بات یہ ہے کہ یہ دو دو سورتیں پڑھتی ہے جب کہ میں نے اُسے (دو دو سورتیں پڑھنے سے)منع کر رکھا ہے، آپ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: لوگ اگر ایک ہی سورت پڑھ لیں تب بھی کافی ہے، حضرت صفوان نے پھر کہا کہ اور اُس کا یہ کہنا کہ میں اُس سے روزہ اِفطار کرا دیتا ہوں تو یہ روزہ رکھتی چلی جاتی ہے، میں جوان آدمی ہوں، صبر نہیں کر پاتا، تو رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نے اُس دن فرمایا:کوئی عورت اپنے شوہر کی اجازت کے بغیر (نفلی روزہ) نہ رکھے، رہی اُس کی یہ بات کہ میں سورج نکلنے سے پہلے نماز نہیں پڑھتا تو ہم اُس گھرانے سے تعلق رکھتے ہیں جس کے بارے میں سب جانتے ہیں کہ سورج نکلنے سے پہلے ہم اُٹھ ہی نہیں پاتے، آپ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب بھی جاگو نماز پڑھ لیا کرو “۔(سنن أبي داوٴد، الرقم:2459)

واضح رہے کہ حضرت صفوان بن معطل کے اِس بیان سے یہ معلوم ہوا کہ گویا آپ شرعی طور پر اِس بات میں معذور تھے اور یہ واقعہ کبھی کبھار کا ہی ہو سکتا ہے، جس کو مسئلہ بنا کر اُن کی بیوی نے عدالتِ نبوی میں پیش کیا۔ صحابی رسول کے بارے میں یہ سوچا بھی نہیں جا سکتا کہ قصداً و عمداً وہ نماز میں تساہلی کرے گا، رات بھر کی محنت و مزدوری کے بعد آدمی تھک کر چور ہو جاتا ہے اور فطری طور پر آخری رات کی نیند سے خود سے یا جلدی بیدار ہونا مشکل مسئلہ ہے، اگر کبھی ایسی معذوری ہو جائے تو بیداری کے بعد نماز ادا کر لی جائے، ایک بات یہ بھی سامنے رہے کہ حضرت صفوان اور اُن کے خاندان کے لوگ گہری نیند اور تاخیر سے اٹھنے کی عادت میں مشہور تھے، جیسا کہ زیر بحث حدیث میں صراحت ہے۔

نیز! نماز فجر میں تاخیر سے اٹھنے کی وجہ سے اُن کا نماز فجر قضا کر کے سورج نکلنے کے بعد ادا کرنا اگر دائمی عمل ہوتا تو فجر میں مسلسل غیر حاضری کا یہ معاملہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم اور صحابہ کرام  سے مخفی نہیں رہ سکتا تھا،جب کہ صحابہ کرام کے بارے میں یا حضرت صفوان رضی اللہ عنہ کے بارے میں تاریخ اس معاملے میں خاموش ہے۔ یہ حرکت تو منافقین سے سرزد ہوتی تھی، نہ کہ خالص ومخلص اصحابِ رسول سے۔

اگر کوئی شخص خود تو دین دار اور متقی بن جائے اور اپنے گھر والوں کے دین کی خبر نہ لے تو یاد رکھیں کہ تنہا اس کا ہی متقی اور دین دار بن جانا قیامت والے دن اللہ کی پکڑ سے نجات کے لیے کافی نہ ہوگا۔ اس بارے میں کم از کم مندرجہ ذیل امور کو مد نظر رکھ لیا جائے تو ان شاء اللہ کفایت ہو جائے گی۔

∗… اپنی زوجہ کے عقائد کی اصلاح کی جائے، اس کے لیے بہشتی زیور کا پہلا حصہ کافی رہے گا۔

∗… اس کی نماز کا جا ئزہ لیں، عملی مشق کروائیں، نماز کے ضروری مسائل، فرائض، واجبات اور مفسدات کی تعلیم دیں۔

∗… اس کے قرآن مجید پڑھنے کا جائزہ لیا جائے، ضروری اصلاح کے بعد روزانہ بالترتیب اور ضروری سورتوں کی تلاوت کی ترتیب بنائی جائے۔

∗… اس کو پردہ کے سب احکام و مسائل بتلائیں کہ کس کس سے پردہ کرنا ضروری ہے اور کون کون محرم ہیں (جن سے پردہ ضروری نہیں)۔

∗… اس کو اہلِ حقوق کے حقوق کی تعلیم دیں، کہ والدین، شوہر، بچوں ، بہن بھائیوں اور دیگر اعزہ واقرباء کے کیا کیا حقوق ہیں۔

∗… اس کو خرچ کرنے کے آداب ، مواقع اور مصارف سمجھائیں، تا کہ وہ اپنا مال فضولیات میں خرچ نہ کرے اور مالی عبادات میں سے خاص طور پر زکوٰة، عشر ، صدقة الفطر اور قربانی وحج میں سے جو جو حکم اس کی طرف متوجہ ہوتا جائے اس کو کرنے کی ترغیب اور ادائیگی کا طریقہ بتائیں۔

∗… اس کے لباس کا جائزہ لیں اور غیر شرعی اور ضرورت سے زیادہ مہنگے اور فیشنی لباسوں کی نفرت دل میں بٹھانے کی کوشش کریں۔

∗… روزانہ گھر میں اعمال کے فضائل پر مشتمل حدیثی مجموعے، مثلا: فضائل اعمال اور فضائل صدقات کی تعلیم کروانے کی ترتیب بنائی جائے اور وقتا فوقتا اپنی بیوی سے ہی پڑھوایا جائے، اسی طرح اس تعلیمی حلقے میں سیرت اور مسائل کی ضروری تعلیم بھی ہو۔

∗… حسب موقع اپنی بیوی کو لے کر ”مع محرم مستورات“ کی جماعتوں میں نکلنا۔