بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم بحیثیت ایک مثالی شوہر

نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم بحیثیت ایک مثالی شوہر

مفتی محمد راشد ڈسکوی

اجتماعی زندگی؛ ایک نعمت
مل جل کر زندگی بسر کرنا انسان کی فطرت میں شامل ہے۔ انسان کی اس فطری ضرورت کی وجہ سے اسلام نے عائلی زندگی اختیار کرنے کی تلقین کی ہے اور اس زندگی کے لیے راہ نما اصول وضع فرمائے ہیں۔ ”عائلة“ عربی زبان میں بیوی اور گھر کے دیگر افراد کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ عائلی زندگی سے متعلق اسلام نے قرآن حکیم اور رسول اکرم صلی الله علیہ وسلم کے اسوہ حسنہ کے ذریعہ ایک مکمل نظام اور اس کے اصول و آداب سکھائے ہیں،جن کو اپنانے کی بدولت انسان کو عائلی زندگی میں راحت وسکون نصیب ہوتا ہے۔ مال و مکان کا تحفظ، عصمت و عفت کی حفاظت، اولاد کی تربیت، ایک دوسرے کے بارے میں احساسِ ذمہ داری اور آپس کی محبت نصیب ہوتی ہے۔ اہلِ مغرب پور ی اس کی کوشش میں ہیں کہ جس طرح ہم اپنی زندگی سے یہ نعمت نکال بیٹھے ہیں اسی طرح یہ دولت، یہ نعمت مسلمانوں کے پاس بھی باقی نہ رہے، اُن کا خاندنی نظام بھی تباہ ہو جائے اور اُن کی گھریلو زندگی کا سکون بھی درہم برہم ہو جائے۔

عائلی زندگی کے خلاف اہل باطل کی سازشیں
عائلی زندگی میں نکاح بھی ہے اور نکاح کے جتنے متعلقات ہیں وہ بھی ہیں، اِزدواجی زندگی، زوجین کے حقوق، خاندانی نظام، بچوں کی تعلیم وتربیت، طلاق اور طلاق کے بعد زندگی ، وراثت، ہبہ اور وقف وغیرہ سب امور عائلی زندگی کے مختلف پہلو ہیں، آپ غور فرمائیں کہ اس وقت غیر ہماری اس زندگی کو بہت اہمیت دے رہا ہے، ان کے منصوبے ہماری اس زندگی کو تباہ کرنے کے بن رہے ہیں، عورت کی فکری آزادی، اس کو گھر کی دہلیز سے باہر نکال دینا، معاش کی دنیا میں اُسے گلی گلی اور ہر ہر چوراہے پر عریاں کر کے لٹکا دینا، میراتھن ریس، میرا جسم میری مرضی کے باطل نعرے، عشق معاشقے، کورٹ میرج، گھریلو تشدد بل کے نام سے قانون، وقف املاک کا قانون اور اسی طرح ہماری نکاح والی عبادت سے عبادت کی روح کو نکال کر اسے غیر شرعی رسومات ورواجات کا مرقع بنا دینا اور نکاح کے بعد دینی روح سے خالی زندگی کی وجہ سے ایک دوسرے کے حقوق کی عدم ادائیگی، اور نتیجتاًطلاق، خلع اور فسخ نکاح کے بکثرت واقعات، غیروں کی اِنہی محنتوں کا شاخسانہ ہیں۔

عائلی زندگی کے تحفظ کی اہمیت اور طریقہ
ان سب باطلی ہتھکنڈوں سے بچنے کے لیے ہم اپنے گھریلو نظام کو سیرت طیبہ کی روشنی میں مضبوط سے مضبوط کر لیں تو ان شاء اللہ العزیز ہم دشمن کی ہر چال سے محفوظ ہو سکتے ہیں، زندگی کو سدھارنے کے لیے گھریلو نظام اتنی اہمیت رکھتا ہے کہ اس جیسی اہمیت کسی اور چیز کی شاید نہ ہو، دو افراد ہیں، مرد ہے اور ایک عورت ہے، وہ دو بول (ایجاب وقبول کے)بول لیتے ہیں تو دونوں ایک ہو جاتے ہیں، ان کے دو خاندان ایک ہو جاتے ہیں، میاں بیوی دونوں ایک ہوئے، ان کے دو خاندان ایک ہوئے، آگے اولاد کا سلسلہ چلا، ایک نیا خاندان وجود میں آیا، پھر قبیلہ بنا، قبیلے سے سوسائٹی بنی، اس سے معاشرہ بنا اور جب معاشرہ پھیلتا ہے تو اسی سے ریاست وجود میں آجاتی ہے، تو دیکھیں! اس ریاست کی جو بنیاد پڑی وہ میاں بیوی کے تعلق سے پڑی، یہی وہ بنیادی اکائی ہے جو مضبوط ہے تو ریاست بھی مضبوط ہے اور اگر وہ کم زور ہے تو ریاست بھی کمزور ہے۔

اب میاں بیوی جو ایک دوسرے کے قریب آتے ہیں تو انہوں نے کن اُمور کو اپنے سامنے رکھنا ہے، کس طرح ایک دوسرے کو لے کر چلنا ہے، یہ سب کچھ بڑی اہمیت کا حامل ہے۔ مفسرین نے لکھا ہے کہ قرآن مجید کی جو آیات احکام سے متعلق ہیں ان میں زیادہ تعداد ان آیات کی ہے جن کا تعلق گھریلو زندگی کے ساتھ ہے۔ سورة البقرہ، سورة النساء، سورة النور، سورة الطلاق، کا اکثر حصہ اسی گھریلو زندگی کے بارے میں ہے، اتنی تفصیل سے گھریلو زندگی کے احکام کا مذکور ہونا اس بات کی علامت ہے کہ شریعت ہماری اس زندگی کو مضبوط سے مضبوط بنانا چاہتی ہے، اب یہ مضبوط کس طرح بنتی ہے ، اس کے لیے ہم سب سے پہلے میاں بیوی کے موضوع کو لیں گے، اس کے بعد گھر کے دوسرے افراد کا کردار ہے، پھر خاندان، کنبے اور قبیلے کا کردار ہے، پھر معاشرے اور سوسائٹی کا کردار ہے، اس سب کو سیرت طیبہ کی روشنی میں دیکھنے اور اپنانے کی ضرورت ہے، اسی سے ہمارے ہر طرح کے معاشرتی مسائل حل ہوں گے۔ چناں چہ گھر کی زندگی میں میاں اپنا کردار ادا کرے، بیوی اپنا کردار ادا کرے۔ مرد باہر کی ذمہ داریوں کا نگران اور مسئول ہے اور عورت گھر کے اندر کے انتظام کی ذمہ دار ومسئول ہے، اگر جانبین اپنی ذمہ داریوں سے منھ موڑتے ہوئے دوسروں کی ذمہ داریوں کو سنبھالیں گے تو یقینا سارا نظام درہم برہم ہو جائے گا اور زندگی اجیرن بن جائے گی۔ چناں چہ سب سے پہلے جناب نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کے ان ارشادات کو ذکر کیا جائے گا جو عورت سے متعلق مردوں کو فرمائے گئے ہیں۔

∗… حضرت ابو ہریرہ  نے نقل کیا ہے کہ جناب نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:”اِسْتَوْصُوا بِالنِّسَآءِ خَیْراً“․ (صحیح مسلم، الرقم: 1468)ترجمہ: تم عورتوں کے بارے میں خیر کی وصیت قبول کرو۔

∗… حضرت عائشہ سے روایت ہے کہ آپ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: ”خَیْرُکُمْ خَیْرُکُمْ لِأَہْلِہ وَأَنَا خَیْرُکُمْ لِأَہْلِيْ“․ )سنن الترمذي، الرقم: 3895) ترجمہ: تم میں سے بہتر وہ ہے جو اپنے گھر والوں کے لیے بہتر ہے اور میں اپنے گھر والوں کے لیے تم میں سے سب سے بہتر ہوں۔

∗… حضرت عائشہ  فرماتی ہیں کہ جناب رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: ”أَکْمَلُ الْمُؤْمِنِیْنَ إِیْمَانًا أَحْسَنُہُمْ خُلُقًا، وَأَلْطَفُھُمْ بِأَھْلِہ“․ (سنن الترمذي، الرقم:1162)ترجمہ: ”مومنوں میں ایمان کے اعتبار سے کامل وہ ہے جو اَخلاق میں سب سے بہتراور اپنے گھر والوں کے لیے زیادہ مہربان ہو“۔

آج اگر ہم اپنے رویوں کو دیکھیں تو ہم میں سے بہت سے افراد شاید باہرکے لوگوں کے ساتھ تو بہت زیادہ نرم مزاج نظر آئیں گے ، اُن کے ساتھ بہت اچھے اَخلاق کا مظاہرہ کرتے ہوں گے، لیکن ہم جیسے ہی اپنے گھر میں داخل ہوتے ہیں تو ہمارے رویے تبدیل ہو جاتے ہیں۔ باہر کا سارا غصہ اور ساری تھکاوٹ گھر والوں (ماں وباپ، بیوی وبچوں وغیرہ )پر اترتی ہوئی نظر آتی ہے۔

کسی بھی انسان کے اخلاق کی سب سے بڑی آزمائش کی جگہ خود اس کا اپنا گھر ہے، گھر کے لوگوں سے چوں کہ روزانہ اور صبح و شام اور شب وروز کا سابقہ رہتا ہے تو گھر کے ماحول میں انسان اپنا حقیقی مزاج چھپا نہیں سکتا، اسی لیے آپ صلی الله علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:تم میں سب سے بہتر اخلاق اُس کے ہیں جو اپنے اہل و عیال کے ساتھ بہتر اَخلاق رکھتا ہو۔

کوئی بھی عورت جب شادی کر کے کسی مرد کے ہاں آتی ہے تو اسوہ ٴ نبوی صلی الله علیہ وسلم کی روشنی میں اس مرد پر اس کی بیوی کے حوالے سے جو ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں، ان میں سب سے بڑی اور اہم ذمہ داری یہ ہے کہ شوہر کی جانب سے ا س عورت کو تحفظ فراہم کیا جائے۔ اس کو توجہ واہمیت دی جائے، اس کی حوصلہ افزائی کی جائے۔

جو عورت اپنے ماں باپ، بہن وبھائی، اپنا پورا گھرانہ وکنبہ چھوڑ کر بالکل ایک نئے ماحول میں ایک اَنجان شخص، جو نکاح کے دو بولوں کے بعد اُس کا شوہر کہلانے لگ گیا ہے، کے پاس آتی ہے تو طبعی وفطری طور پر اُسے اپنے لیے تحفظ مطلوب ہوتا ہے، تو وہ چاہتی ہے کہ اُس نئے ماحول میں اُس کی جان بھی محفوظ ہو، اس کی عزت بھی محفوظ ہو اور اس کا ایمان بھی محفوظ ہو۔

جان کے تحفظ کے لیے ضروری چیز رہائش کا بندوبست ہے، چناں چہ دیکھ لیا جائے کہ جب جناب نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے مدینہ کی طرف ہجرت فرمائی تو آپ صلی الله علیہ وسلم نے مسجد نبوی کے ساتھ ساتھ اَزواج مطہرات رضی اللہ عنہن کے لیے حجرے بھی تیار کرائے۔ جہاں اُن میں سے ہر ایک اپنی خلوت والی زندگی پوری آزادی اور خودمختاری سے گذار سکتی تھی۔

دوسری بات یہ ہے کہ ہر بیوی اپنے خاوند کے بارے میں اپنے اندر یہ احساسات پیدا کرنے والی ہو کہ اب یہی میرا سہارا ہے، میری زندگی اسی کی مرہون منت ہے، تو جان لیجیے کہ یہ اسی وقت ہو سکے گا جب شوہر کی طرف سے اُسے یہ احساس دلایا جائے کہ ہاں! تم چوں کہ میری ہی خاطر آئی ہو، اِس لیے تم مجھے پوری طرح قبول ہو، یہ نہیں کہ اگر تمہارے اندر اچھی صفات ہوئیں تو قابل قبول ہو اور اگر کوئی ایک آدھ یا ذرا سی خامی یا غلطی ہوئی تو ہم تمہیں اُکھاڑ پھینکیں گے، فارغ کر دیں گے، چھوڑ دیں گے، وغیرہ وغیرہ، اگر ایسا ہوا تو اسے تحفظ کا احساس نہیں ہو گا، یہ بات ضروری ہے کہ وہ شوہر کے رویے کی وجہ سے اپنے اندر یہ اطمینان رکھے کہ میں جیسی بھی ہوں، میرا شوہر مجھے قبول کیے ہوئے ہے، میرے شوہر کو میری اچھائیاں بھی قبول ہیں اور میری کمیاں بھی، میری کمیوں کی وجہ سے وہ مجھے چھوڑ نہیں دے گا، بلکہ وہ مناسب طریقے سے اُنہیں سدھارنے کی کوشش کرے گا اور میں بھی اُن کمیوں کو معلوم ہونے کے بعد ختم کرنے کی پوری کوشش کروں گی۔

تیسری بات یہ ہے کہ ہر بیوی یہ پسند کرتی ہے کہ میرا شوہر مجھے توجہ دے، مجھے وقت دے، میرے پاس بیٹھے، میرا حال واحوال پوچھے، مجھے عزت دے ،تنہائی میں بھی اور مجمع میں بھی، یاد رکھیں کہ اگر ایسا نہ ہوا یعنی: اس کے برعکس ہوا تو وہ پرسکون زندگی نہیں گزار سکے گی، پھر اُس کا رویہ بھی آپ کے ساتھ بدلتا چلا جائے گا، نتیجتاً پھر شکوے ہوں گے، شکایتیں ہوں گی، پھر لڑائیاں ہوں گی اور معاملہ طلاق تک جا پہنچے گا۔ یقیناً آپ سب بھی اس بات کو بخوبی جانتے ہیں کہ موجودہ زمانے میں اسمارٹ فون ہماری گھریلو زندگی کو برباد کرنے میں سب سے اہم کردار رکھتا ہے، یہ آلہ میاں وبیوی کو ایک دوسرے سے اور والدین وبچوں کو ایک دوسرے سے دور کرنے والا ہے، اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے گھر کا ماحول واقعتا ایک گھر کا نمونہ پیش کرے تو اس کے لیے طے کر لیں کہ گھر آنے کے بعد میاں وبیوی اور بچوں کی موجودگی میں اسمارٹ فون میں مصروف نہیں ہونا، ورنہ بچے والدین سے ، بہنیں بھائیوں سے اور بیویاں اپنے شوہروں سے دور ہوتی چلی جائیں گی۔

اسوہ نبوی صلی الله علیہ وسلم کی روشنی میں کچھ اصول ذیل میں ذکر کیے جاتے ہیں جو خاندانی نظام کو بہتر سے بہتر کرنے والے شمار ہوں گے۔

اہل خانہ سے مسکرا کر ملنا
جناب نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کا دوسرے سے ملاقات کے وقت مسکراتے ہوئے ملنا آپ کا وصفِ خاص تھا، حضرت عبد الله بن حارث  بیان کرتے ہیں: ”مَا رَأَیْتُ أَحَدًا أَکْثَرَ تَبَسُّمًا مِّنْ رَسُوْلِ اللهِ صلی الله علیہ وسلم “․(سنن الترمذی، الرقم:3641) ترجمہ: ”میں نے نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم سے زیادہ مسکرانے والا کسی کو نہیں دیکھا“۔اور اسی کی آپ ترغیب دیا کرتے تھے، آپ صلی الله علیہ وسلم نے مسکراتے چہرے کے ساتھ ملنا صدقہ قرار دیا ہے، حضرت ابوذر  کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تَبَسُّمُکَ فِي وَجْہِ أَخِیکَ لَکَ صَدَقَةٌ“․ (سنن الترمذي، الرقم:1965)ترجمہ: اپنے بھائی کے سامنے تمہارا مسکرانا تمہارے لیے صدقہ ہے ۔ تو یقینا گھر میں بھی داخل ہوتے ہوئے اور رہتے ہوئے آپ کے چہرے پر مسکراہٹ رہتی تھی۔ چنا ں چہ آپ کا خوش گوار موڈ میں گھر جانا اور مسکرا کر بیوی کا سامنا کرنا، اس کو سلام کرنا ، اس کی دن بھر کے کام وکاج کی تھکاوٹ کو آنا فانا دور کر دے گا۔

حضرت ابو مالک اشعری سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب کوئی آدمی اپنے گھر میں داخل ہو تو (اللہ کے حضور میں)یہ عرض کرتا ہوا داخل ہو: ”اَللّٰہْمَّ إِنّيْ أَسْئَلُکَ خَیْرَ الْمَوْلَجِ وخَیْرَ الْمَخْرَجِ بِسْمِ اللّٰہِ وَلَجْنَا وَبِسْمِ اللّٰہِ خَرَجْنَا وَعَلی اللّٰہِ رَبِّنَا تَوَکَّلْنَا“․ (سنن ابی داوٴد، الرقم:4434)ترجمہ: اے اللہ! میں تجھ سے گھر میں داخل ہونے اور گھر سے نکلنے کی خیر مانگتا ہوں (یعنی میرا گھر میں داخل ہونا اور باہر نکلنا میرے واسطے خیر اور بھلائی کا وسیلہ بنے)۔ ہم اللہ کا پاک نام لے کر داخل ہوتے ہیں اور اِسی طرح اُس کا پاک نام لے کر باہر نکلتے ہیں اور اللہ، جو ہمارا رب ہے، پر ہی ہمار ا بھروسہ ہے۔

دعا پڑھنے کے بعد سلام کیجیے۔ جس روایت سے مذکورہ دعا لکھی گئی ہے، اس روایت کے اخیر میں ہی ہے کہ مذکورہ دعا پڑھنے کے بعد داخل ہونے والا اپنے گھر والوں کو سلام کرے، ”ثُمَّ لِیُسَلِّمْ عَلٰی أَہْلِہ“یہ سلام کرنا خیر وبرکت کا سبب ہے اور اہلِ خانہ کے لیے اللہ تعالیٰ ہی سے خیر اورسلامتی کی دعا ہے، آج کل عمومی ماحول ہے کہ ہر آدمی رزق میں، آل اولاد میں ا ور دکان وتجارت میں بے برکتی کا رونا روتا ہے، نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے اِس کا آسان حل بتایا کہ گھر والوں کو اخلاص اور سنت سمجھ کر سلام کرنا اور مذکورہ دعا پڑھنا برکت کا سبب ہے، گھر میں داخل ہوتے وقت دعا اور سلام کے سلسلے میں کوتاہی اور غفلت عام ہے، عموماً لوگ نہ دعا پڑھتے ہیں اور نہ ہی سلام کرتے ہیں، نتیجتاً لوگ اپنے ساتھ شیطان کو اپنے گھر میں داخل کرلیتے ہیں، اب جس گھر میں شیطان ہوگا وہاں رحمت ِالٰہی کا نزول کیسے ہوگا؟ سکونِ کیسے نصیب ہوگا؟ فجر کی نماز کے لیے آنکھ کیسے کھلے گی؟ میاں وبیوی کے درمیان محبتیں کیسے ہوں گی؟ بہرحال موجودہ دور میں مذکورہ تعلیم وہدایت پر عمل کرنا بہت ضروری ہے، دعائے نبوی کی یہی روشنی ہمارے گھروں کی تاریکیاں دور کرسکتی ہے، اللہ عقلِ سلیم عطا فرمائے۔جب تک عربی الفاظ یاد نہ ہوں، اردو ہی میں دعا کرلی جائے اور بہتر ہے کہ دروازے کے باہر مذکورہ دعا لکھ کر چسپاں کردی جائے۔

اچھے کاموں کی تعریف کرنا
بیوی کے کاموں کی تعریف کرنا اپنی عادت بنا لیں،بیوی کی تعریف کی جائے، اُس کے حسن کی، اُس کے کام کی، اُس کے کھانے کی، کپڑے کی ، صفائی ستھرائی کی، اِس سے اُس کو حوصلہ ملے گا اور وہ مزید خوشی سے آپ کے لیے ہی مزید سے مزید بہتری پیدا کرنے کی کوشش کرے گی۔

تعریف کرنے کے بعد گویا آپ اس کی محنت کا بدل اسے دے دیں گے، اسی طرح اگر بیوی کے کسی فعل میں کسی قسم کی اصلاح مطلوب ہو تو تعریف کرنے کے بعد جو بھی قابل ِاصلاح بات ہو گی تو وہ اُسے بری نہیں لگے گی، یہی ہمارے نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کا طریقہ تھا، آپ صلی الله علیہ وسلم نے ایک بار حضرت ابن عمر  کے بارے میں فرمایا: ”قَالَ صلی الله علیہ وسلم :”نِعْمَ الرَّجُلُ عَبْدُ اللّٰہِ، لَوْ کَانَ یُصَلِّيْ مِنَ اللَّیْلِ فَکَانَ بَعْدُ لَا یَنَامُ مِنَ اللَّیْلِ إِلَّا قَلِیلًا“. (صحیح البخاري، الرقم: 1122)ترجمہ: عبداللہ اچھا آدمی ہے، اگر یہ رات کو اُٹھ کر (تہجد کی )نماز پڑھے۔ اِس کے بعد حضرت عبداللہ بن عمر  رات کو تھوڑی دیر ہی سویا کرتے تھے۔دیکھیں! اِس طریقہٴ اصلاح سے نتیجہ یہ نکلا کہ وہ ہمیشہ کے لیے تہجد کے عادی بن گئے۔ یہی طرز آپ اپنے گھر میں اختیار کیجیے۔ بیوی جس کام میں ہو اُس میں اُسے مشغول دیکھ کر مسکراتے ہوئے جملہ بول دیں کہ ماشاء اللہ آپ کو اِس کام میں لگے دیکھ کر دل خوش ہو گیا، اللہ آپ کو بھی خوش کر دے۔ کچن کی صفائی، گھر کی صفائی، کپڑوں کی استری، الغرض بیوی کے کیے ہوئے ہر کام پر تعریف کے دو بول، بول دیجیے، پھر اس سنت عمل کی برکتیں دیکھیں۔

گھر کے کاموں میں تعاون کرنا
گھر کے کاموں میں بیوی کا تعاون کرنا بھی سنتِ نبوی صلی الله علیہ وسلم ہے، اس سے کیا ہو گا؟ اس سے آپ کی شان میں توکوئی فرق نہیں آئے گا، لیکن اس سے بیوی کا دل اور جگرا بڑھ جائے گا کہ میرے شوہر کو میرا احساس ہے ، اس نے مجھے گھر میں محض نوکرانی بنا کر ہی نہیں رکھا ہوا، بلکہ اسے میرا خیال ہے، حضرت اسود بن یزید  فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ  سے پوچھا کہ جب نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم گھر میں آتے ہیں تو کیا کرتے ہیں؟ انہوں نے جواب دیا:”کَانَ یَکُونَ فِي مَہْنَةِ أَہْلِہ، فَإِذَا حَضَرَتِ الصَّلَاةُ قَامَ فَصَلّٰی“․(سنن الترمذي، الرقم: 2489) ترجمہ: آپ صلی الله علیہ وسلم اپنے گھر والوں کے کام کاج میں لگے رہتے، پس جب نماز کا وقت ہوتا تھا توکام چھوڑ کر نماز پڑھنے چلے جاتے َ ۔

∗… حضرت عروہ سے مروی ہے کہ ایک شخص نے حضرت عائشہ سے پوچھا کہ کیا نبی صلی الله علیہ وسلم گھر میں کام کرتے تھے؟ توحضرت عائشہ نے جواب دیا: ”نَعَمْ کَانَ رَسُولُ اللّٰہ صلی الله علیہ وسلم یَخْصِفُ نَعْلَہُ، وَیَخِیطُ ثَوْبَہُ، وَیَعْمَلُ فِيْ بَیْتِہ، کَمَا یَعْمَلُ أَحَدُکُمْ فِيْ بَیْتہ“․(مشکوٰة، الرقم:5759) جی ہاں! آپ اپنے جوتے خود ہی گانٹھ لیتے تھے اور اپنے کپڑے خود ہی سی لیتے تھے اور جیسے تم میں سے کوئی اپنے گھر میں کام کرتا ہے ایسے ہی نبی صلی الله علیہ وسلم بھی کرتے تھے۔

∗…گھر میں رہتے ہوئے خود کوئی کام بھی نہ کرنا، حتی کہ پانی پینا ہے تو وہ بھی بیوی لا کر دے اور خالی گلاس بھی بیوی ہی اٹھا کر، لے کر جائے گی، مناسب طرز عمل نہیں ہے، بلکہ اپنی ضروریات والے کاموں کے بارے میں تو کوشش ہو کہ سنت کی نیت سے از خود ہی کر لیے جائیں اور اس سے آگے بڑھ کر گھر کے کاموں میں اور اپنی بیوی کے کاموں میں بھی تعاون کرنا چاہیے، مثلا:

∗…اگر گھر میں بہت سارے مہمان آ گئے ہیں تو کھانے کی تیاری میں بیوی کے ساتھ تعاون کر لینا چاہیے، جب مہمان رخصت ہو جائیں تو ڈھیر سارے برتن دھونے میں بیوی کا ہاتھ بٹا دیا جائے تو بھی کوئی فرق نہیں پڑ جائے گا۔

∗…کسی وجہ سے صبح اٹھنے میں دیر ہو گئی اور بروقت بچوں کا ناشتہ نہیں بن سکا اور آپ نے آفس یا ڈیوٹی پر بھی جانا ہے تو بیوی پر غصہ ہونے کی بجائے بیوی کو ناشتہ تیار کرنے دیں اور اپنی تیاری خود ہی کر لیں، بلکہ ممکنہ حد تک ”کوئی بات نہیں “کہہ کر اس کا ہاٹھ بٹائیں۔

∗…اگر بیوی بیمار پڑ جائے اور گھر کے کام خود ہی کرنے پڑ جائیں تو بھی کسی قسم کی جھنجلاہٹ کا شکار نہیں ہونا چاہیے، اس کی تیمارداری کے ساتھ ساتھ گھر کے کاموں کو سمیٹنا بھی آپ کی ہی ذمہ داری ہے، بس اتنا سوچ لیں کہ اب تک وہ میرے کام کر رہی تھی تو ایسے وقت میں ایک آدھ کاموں کو سنبھالنا میری بھی ذمہ داری بنتی ہے۔ وغیرہ وغیرہ۔

∗…اسی طرح بیوی کے ساتھ تعاون کی ایک اہم صورت گھر کی وہ اشیاء بروقت فراہم کرنا ہے جن کی ضرورت دورانِ کام بیوی کو پڑتی ہے اور ان کے نہ ہوتے ہوئے وہ تنگی اور تکلیف محسوس کرتی ہے۔ اس کا بھی خیال رکھنا جانبین میں محبت بڑھانے کا ذریعہ ہے۔

محبت کرنااور اس کا اِظہار بھی کرنا
بیوی سے محبت کرنا اس کا حق ہے، جس ہستی سے محبت کرنے کا حکم ہے وہ بیوی ہی ہے اور ”بیوی“ نکاح کے بعد بنتی ہے، پہلے نہیں ، ہمارے عرف میں اُلٹا رواج ہے، منگنی سے قبل اور منگنی کے بعد تو خوب عشق معشوقی ہوتی ہے اور نکاح ہو جانے کے بعد رویے بدل جاتے ہیں، حالاں کہ نکاح سے قبل وہ غیر محرم ہے ، ا س سے تو بات کرنا، اس کی طرف دیکھنا، تحفے تحائف دینا یا ملاقات وغیرہ کرنا سب کچھ ناجائز اور حرام ہے، یہ سب کچھ تو نکاح کے بعد ہونا چاہیے، یہ سب کچھ بیوی کا حق ہے اور یہی اسلام کا امتیاز ہے کہ مرد کی طرف سے یہ سب کچھ بیوی کی امانت ہے، نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کی حدیث مبارکہ پہلے گذر چکی کہ حضرت عائشہ  فرماتی ہیں کہ جناب رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: ”أَکْمَلُ الْمُؤْمِنِیْنَ إِیْمَانًا أَحْسَنُہُمْ خُلُقًا وَأَلْطَفُھُمْ بِأَھْلِہ“․(سنن الترمذي، الرقم: 1162) ترجمہ: ”مومنوں میں ایمان کے اعتبار سے کامل وہ ہے جو اخلاق میں سب سے بہتراور اپنے گھر والوں سے نرمی ومحبت کا برتاوٴ کرنے والا ہو“۔پیار ومحبت، نرمی ومہربانی والی زندگی کو ملاطفت کہتے ہیں۔

∗…بیوی سے نہ صرف یہ کہ محبت کرنا، بلکہ محبت کا اظہار کرنا بھی اس رشتہ کو مضبوط سے مضبوط تر کرنے کا قوی ذریعہ ہے، یہ صفت ہمارے پیارے نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم میں بہت زیادہ تھی۔

جناب نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کو اپنی سب سے پہلی زوجہ حضرت خدیجہ  سے بے پناہ محبت تھی ، آپ صلی الله علیہ وسلم نے ان کی زندگی تک دوسری شادی نہیں کی، حضرت عائشہ  فرماتی ہیں :نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کی تمام بیویوں میں جتنی غیرت مجھے حضرت خدیجہ سے آتی تھی، اتنی کسی اور سے نہیں آتی تھی، اور وہ نبی صلی الله علیہ وسلم کی سب سے پہلی بیوی تھیں، حضرت عائشہ  کے انہیں دیکھنے سے قبل ہی ان کا انتقال ہوچکا تھا، نبی صلی الله علیہ وسلم کا مدینہ طیبہ میں یہ معمول تھا کہ جب کوئی بکری ذبح فرماتے تو حضرت خدیجہ  کی سہیلیوں کے ہاں اس کے کچھ گوشت کاہدیہ بھیجتے، حضرت عائشہ  برداشت نہ کرپاتیں اور کہہ دیا کرتیں:اے اللہ کے رسول! ایسا لگتا ہے کہ خدیجہ  کے سوا دنیا میں کوئی اور خاتون ہی نہیں۔ چناں چہ آپ صلی الله علیہ وسلم یہ فرماتے کہ وہ ایسے کرتی تھیں، یوں کرتی تھیں اور ام المؤمنین  کی خوبیاں ذکر فرماتے۔ نیز آپ صلی الله علیہ وسلم اس محبت، بے پناہ پیار اور انتہائی گہری وابستگی کے راز میں زور پیدا کرتے ہوئے فرماتے کہ ”ان سے میری اولاد بھی ہے۔(صحیح البخاری، رقم الحدیث:3818)

∗…حضرت خدیجہ  کے بعد حضرت عائشہ  سے محبت سب سے زیادہ تھی ، حضرت عمر و بن عاص  فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوکر عرض کیا: ”یا رسولَ اللّٰہِ! أيُّ النَّاسِ أحبُّ إلیکَ؟ ” لوگوں میں آپ کو زیادہ پیارا کون ہے؟ قالَ: ”عائشةُ“، ارشاد فرمایا:عائشہ، قیلَ: مِنَ الرِّجالِ؟ قَالَ:”أَبُوْہَا“․آپ صلی الله علیہ وسلم سے پوچھا گیا کہ مردوں میں آپ کو زیادہ محبوب کون ہے؟ آپ صلی الله علیہ وسلم نے جواب دیا کہ اس کے باپ“ ۔(سنن ابن ماجة، الرقم: 101)

∗…نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے حضرت فاطمة الزہرا  سے ایک بار فرمایا: ”أَيْ بُنَیَّةُ!، أَلَسْتِ تُحِبِّیْنَ مَا أُحِبُّ، فَقَالَتْ: بَلٰی؛ قَالَ: فَأَحِبِّيْ ہَذِہ“․ (صحیح مسلم، الرقم:2442) ترجمہ: اے فاطمہ!جس سے میں محبت کرتا ہوں کیا تم اس سے محبت نہیں کرو گی؟ حضرت فاطمة الزہرا نے عرض کیا یارسول اللہ !کیوں نہیں(میں اُس سے ضرور محبت کروں گی)، اس پر نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا :تواس (عائشہ) سے محبت کر۔

∗…اور ایک مرتبہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے اپنی صاحب زادی حضرت فاطمة الزہرا رضی اللہ عنہا کو مخاطب کرکے فرمایا: ”إِنَّہَا حِبَّةُ أَبِیکِ وَرَبِّ الْکَعْبَةِ“․ (سنن أبي داودم الرقم: 4898) رب کعبہ کی قسم! عائشہ تمھارے والد کو بہت زیادہ محبوب ہے۔

∗…آپ صلی الله علیہ وسلم حضرت عائشہ کو محبت سے ان کا پورا نام لینے کی بجائے ”یَا عَائِشُ“ کہہ کرپکارتے تھے،حضرت ابو سلمہ بن عبد الرحمن  روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے حضرت عائشہ  سے فرمایا: ”یَا عَائِشُ! ھٰذَا جِبْرِیْلُ یُقْرِئُکِ السَّلَامَ“، اے عائش (عائشہ!)یہ جبریل تجھے سلام کہتے ہیں۔ حضرت عائشہ نے فرمایا: ”وَعَلَیْہِ السَّلَامُ وَرحْمَةُ اللّٰہِ“ اور ان پر (بھی) اللہ کی رحمت اور سلام ہو۔ (صحیح البخاري الرقم: 6201)

∗…حضرت عائشہ صدیقہ کہتی ہیں ”کُنْتُ أَتَعَرَّقُ الْعَظْمَ وَأَنَا حَائِضٌ، فَأُعْطِیہِ النَّبِي صلی الله علیہ وسلم فَیَضَعُ فَمَہُ فِي الْمَوْضِعِ الَّذِي فِیہِ وَضَعْتُہُ“کہ میں حالت حیض میں ہڈی سے گوشت نوچتی، پھر اسے رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کو دے دیتی، آپ صلی الله علیہ وسلم اپنا منھ ہڈی پر اسی جگہ پر رکھتے جہاں میں رکھتی تھی :” وَأَشْرَبُ الشَّرَابَ فَأُنَاوِلُہُ فَیَضَعُ فَمَہُ فِی الْمَوْضِعِ الَّذِی کُنْتُ أَشْرَبُ مِنْہُ“اور میں پانی پی کر رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کو دے دیتی تو آپ اپنا منھ پیالے کی اُسی جگہ پر رکھ کر پیتے جہاں سے میں پیتی تھی۔(سنن ابو داوٴد، الرقم: 259) (جاری)