بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

مہنگائی اور ہمارے کرنے کا کام

مہنگائی اور ہمارے کرنے کا کام

عبید اللہ خالد

اس وقت پوری دنیا خصوصاً پاکستان میں مہنگائی کا جو طوفان برپا ہے وہ کسی پر مخفی نہیں، مہنگائی بھی ہے اور ساتھ ساتھ ملک کی معیشت بھی ڈانواں ڈول ہے، اس مصیبت سے ہر فرد متأثر ہے، خصوصاً غریب ومتوسط طبقہ جو کہ ہماری آبادی کا بہت بڑا حصہ ہے، زیادہ متاثر ہے، اس طرح کے مصائب وآلام درحقیقت انسانوں کے اپنے اعمال کی سزا ہوتے ہیں، اس لیے سب سے پہلے تو ہمیں اجتماعی وانفرادی طور پر استغفار کی کثرت کرنی چاہیے او رالله تعالیٰ سے اپنے گناہوں کی معافی مانگنی چاہیے، نیز آئندہ معاصی وگناہوں سے بچنے کااہتمام کرنا چاہیے اور ایسے اعمال کے قریب نہیں جانا چاہیے جو الله تعالیٰ کی ناراضگی کا باعث ہوں۔

نیز خرچ میں ہروقت میانہ روی اختیار کرنی چاہیے، فضول خرچی نہیں کرنی چاہیے، قرآن مجید میں الله تعالیٰ نے فضول خرچی سے منع فرمایا ہے اورفضول خرچی کرنے والوں کو شیطان کا بھائی قرار دیاہے اور فرمایا ہے کہ﴿وکَانَ الشَّیْطَانُ لِرَبِّہِ کَفُورًا﴾ یعنی شیطان اپنے پروردگار کا بڑا ناشکرا ہے۔

شیطان کو بڑاناشکرا اس لیے کہا گیا ہے کہ الله تعالیٰ نے اس کو عقل کی دولت دی لیکن اس نے اس دولت کو الله تعالیٰ کی نافرمانی میں خرچ کیا اور بے جا خرچ کیا، اسی طرح فضول خرچی کرنے والوں کو ا لله تعالیٰ نے مال عطا کیا لیکن وہ الله تعالیٰ کی عطا کردہ اس دولت کو الله تعالیٰ کی نافرمانی میں خرچ کرتے ہیں اور بے جا خرچ کرتے ہیں۔ اس لیے ناشکری کرنے میں فضول خرچی کرنے والا شیطان کے مشابہ اور اس کا بھائی ہے۔

ایک اور آیت میں الله تعالیٰ کا ارشاد ہے:﴿وَکُلُوا وَاشْرَبُوا وَلَا تُسْرِفُوا إِنَّہُ لَا یُحِبُّ الْمُسْرِفِینَ﴾ یعنی کھاؤ، پیو اور بے جا خرچ نہ کرو، بے شک الله تعالیٰ بے جا خرچ کرنے والوں کو پسند نہیں کرتے۔

ایک اور آیت میں ارشاد ہے کہ :﴿وَالَّذِینَ إِذَا أَنفَقُوا لَمْ یُسْرِفُوا وَلَمْ یَقْتُرُوا وَکَانَ بَیْنَ ذَٰلِکَ قَوَامًا﴾ یعنی الله تعالیٰ ایسے لوگوں کو پسند کرتے ہیں جو خرچ کرنے میں میانہ روی اور اعتدال سے کام لیتے ہیں، نہ تو حد ضرورت سے زیادہ خرچ کرتے ہیں او رنہ کم خرچ کرتے ہیں۔

حدیث میں بھی خرچ کرنے میں میانہ روی کی ترغیب دی گئی ہے۔ آپ صلی الله علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ ”الاقتصاد في النفقة نصف المعیشة“ یعنی خرچ میں میانہ روی آدھی معیشت ہے۔ (شعب الإیمان للبیہقی)

حدیث کا مطلب یہ ہے کہ اپنے او راپنے متعلقین کی ضروریات زندگی میں خرچ کرنے میں نہ تو اسراف کرنا چاہیے او رنہ تنگی وسختی کرنی چاہیے بلکہ اعتدال او رمیانہ روی اختیار کرنی چاہیے اور یہی زندگی کا آدھا سرمایہ ہے، کیوں کہ انسان کی معاشی زندگی کا دار ومدار دو چیزوں پر ہے، ایک آمدنی پر اوردوسرا اخراجات پر اور ان دونوں کے درمیان توازن خوش حالی کی علامت بھی ہے او رمعیشت کے مستحکم ہونے کا ذریعہ بھی، لہٰذا جس طرح آمدنی کے توازن کا بگڑنا، خوش حالی کے منافی او رمعیشت کے عدم استحکام کا سبب ہے، اسی طرح اگر اخراجات کا توازن بگڑ جائے تو نہ صرف خوش حالی مفقود ہو گی بلکہ معیشت کا سارا ڈھانچہ درہم برہم ہو کر رہ جائے گا، لہٰذا مصارف میں اعتدال اور خرچ کرنے میں میانہ روی اختیار کرنا معیشت کا نصف حصہ ہے۔

ہمیں ہر وقت اور خصوصاً ان اوقات میں جب کہ ہر طر ف مہنگائی کا طوفان برپا ہے اخراجات میں توازن واعتدال سے کام لینا چاہیے اورخرچ میں میانہ روی اختیار کرنی چاہیے۔ یہ کام ہمارے اختیار میں ہے،اس کو بجا لانا چاہیے، اسی طرح جب ہم اپنے گناہوں سے توبہ واستغفار کا اہتمام کریں گے، معاصی ومنکرات سے بچنے کی پوری کوشش کریں گے او راخراجات میں توازن واعتدال کا راستہ اختیار کریں گے تو الله تعالیٰ کی مدد ونصرت ہمارے ساتھ ہوگی۔ الله تعالیٰ ہمارے حال پر رحم فرمائے او رہمیں صراط مستقیم پر چلنے کی توفیق عنایت فرمائے۔ آمین!