بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

مُرشد کی راہ نمائی کی ضرورت

مُرشد کی راہ نمائی کی ضرورت

شیخ الحدیث حضرت مولانا سلیم الله خان

تربیت کے سلسلہ میں اعمال ظاہرہ و باطنہ میں مرشد کے حکم کو مان کر اور ان کی راہ نمائی میں عمل کریں گے تو فائدہ ہوگا، ہمارے ساتھ شرح جامی میں ایک ساتھی تھا، غضب کا ذہین تھا، اس نے کسی کی راہ نمائی لیے بغیر صیام دہر کا اہتمام شروع کیا تو دماغ میں خشکی پیدا ہو ئی اورپاگل ہوگیا اور پھر ٹریفک کوکنٹرول کرنے کی جگہ کھڑا ہوتا، گاڑیوں کو اشارے کرتا، یہ اس لیے ہوا کہ کوئی رہبر نہیں تھا، مرشد کی راہ نمائی کے بغیر فائدہ کم اور نقصان زیادہ ہوتا ہے، بلکہ بعض دفعہ توآدمی گم راہ ہو کرپوری امت کے لیے نقصان کا سبب بنتا ہے۔

یہ اللہ تعالیٰ کی حکمت ہے کہ بعض دفعہ بات کا اثر دوسروں پر نہیں پڑتا، لیکن بعض اوقات ایسا اثر ہوتا ہے کہ زندگی تبدیل ہوجاتی ہے، ابراہیم بن ادہم رحمة الله علیہ ایک مرتبہ اپنی آرام گاہ میں سورہے تھے کہ چھت پر سے ”دھب دھب“کی آواز آئی ، ان کا خیال تھا کہ یہاں تو پرندہ پربھی نہیں مارسکتا تو یہ ”دھب دھب “ کی آواز کیسی ؟؟ جب معلوم کیا تو پتہ چلا کہ ایک آدمی آیا ہے اور کہہ رہاہے کہ اونٹ گم ہوگیا ہے، وہ ڈھونڈ نے نکلا ہوں ، اس کو بلوایا اور جب استفسارکیا کہ بادشاہ کے محل کی چھت پرتمہارا اونٹ کہاں مل سکتا ہے؟ تو اس آدمی نے جواب دیا کہ ہمارا گم شدہ اونٹ آپ کے محل کی چھت پرہمیں نہیں مل سکتا تو آپ کو اس بادشاہی اور ظلم و ستم میں اللہ تعالی کا تعلق کیسے مل سکتا ہے؟ یہ دونوں چیزیں ایک ساتھ نہیں چل سکتیں، یہ بات سنی تو دل پرایسا اثرہوا کہ پوری سلطنت ترک کردی اور اللہ تعالی کے تعلق کے لیے بے چین ہوگئے، حالاں کہ یہ کوئی اتنی خاص بات نہیں تھی، لیکن زندگی تبدیل ہوگئی۔

درویشی اختیا ر کی، لوگ آئے کہ نظامِ سلطنت سنبھالیں، اس میں فتورآچکا ہے، لیکن یہ ماننے کے لیے تیار نہ ہوئے، جب بہت اصرار کیا تو ابراہیم بن ادھم رحمة الله علیہ نے فرمایا کہ قرآن مجید میں ہے:﴿فَرِیْقٌ فِیْ الْجَنَّةِ وَ فَرِیْقٌ فِیْ السَعِیْرِ﴾ اگرتم گارنٹی دو کہ میں جنت میں جاؤں گا تو میں تمہاری بات ماننے کے لیے تیار ہوں، لوگوں نے کہا کہ اس کی گارنٹی تو نہیں دے سکتے، فرمایا کہ پھرمجھے اپنے حال پر چھوڑ دو!لوگوں نے کہا کہ وہاں آپ کو کتنی نعمتیں مہیّا تھیں، آپ کی اس حالت پر ہمیں افسوس ہے اور ترس آرہا ہے، اس وقت ابراہیم بن ادھم رحمة الله علیہ دریا کے کنارے بیٹھے اپنی پھٹی ہوئی گُدڑی سی رہے تھے ، تو سوئی دریا میں پھینک دی اور آواز لگائی کہ مچھلیو! میری سوئی واپس لاؤ، مچھلیاں سونے کی سوئیاں لے کر نمودار ہوئیں ،لیکن ابراہیم بن ادھم رحمة الله علیہ نے نہیں لیں، ایک مچھلی وہ سوئیلے کر آئی جو گرائی گئی تھی تو لے لی، پھر ابراہیم بن ادھم رحمة الله علیہ نے کہا کہ وہ سلطنت جس کی تم بات کر رہے ہو اُس کی اِس سلطنت کے مقابلے میں کیا حیثیت ہے؟!