بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

موسم گرما ۔۔ اسلامی تعلیمات کی روشنی میں

موسم گرما ۔۔ اسلامی تعلیمات کی روشنی میں

مولانا ابوبکر حنفی شیخوپوری

خطہ ہندوپاک کے باسی وہ خوش قسمت لوگ ہیں جنہیں سال بھر میں چار موسموں سے لطف اندوز ہونے کاموقع میسر آتا ہے۔کبھی موسم گرما میں جھلسا دینے والی گرم لوسے نبرد آزما ہوتے ہیں تو کبھی موسم سرما کی یخ بستہ ہواوٴں سے پالا پڑتا ہے۔کبھی پت جھڑ میں اپنی رعنائی کھو دینے اورزرد رنگت چڑھ جانے کے سبب اداس درختوں سے غم بانٹتے ہیں تو کبھی بہارکی تازہ ہواوٴں میں سبز پوشاک پہنے پیڑوں کے سایوں تلے حسیں شام مناتے ہیں،یہ سب قدرت کے مختلف رنگ اور امر ”کن“ سے معرض وجود میں آنے والے دل کش نظارے ہیں، جو بزبان حال یہ صدا دے رہے ہیں ۔

اس وقت موسم گرما کی آمد آمد ہے اور ہمیشہ کی طرح اس موسم کے مطابق کپڑے ،بستر ،اشیاء خوردونوش اور دیگر ضروریات کے لیے خریداری اور انتظامات کا سلسلہ جاری ہے۔ایک مسلمان اور احکام شریعت کا مکلف ہونے کے ناطے جہاں ہمیں اس موسمیاتی تبدیلی کے پیش نظردنیوی اور مادی ضروریات کا پورا کرنا ضروری ہے وہیں موسم گرما سے متعلق شرعی احکامات سے واقف ہونا بھی ناگزیر ہے، تاکہ حرارت اور حدت کے یہ چند ماہ بھی اللہ تعالی کی اطاعت میں گذارنے کی وجہ سے عبادت کا درجہ حاصل کر سکیں اور حق جل مجدہ کے قرب کا باعث بن سکیں۔

اللہ تعالی کی نعمتوں پر شکر
موسم گرما اس لحاظ سے بہت اہم ہے کہ اس میں انسان کی غذائی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ بہت سی ایسی سبزیاں، اجناس اور پھل پیدا فرماتے ہیں جوسورج کی تپش سے پکنے کی وجہ سے اسی موسم کے ساتھ خاص ہوتے ہیں اور وہ بھرپورغذائیت اور لذت کے حامل ہوتے ہیں۔ماہرین اطباء کے مطابق یہ سخت گرمی کے موسم میں انسانی وجود کو ٹھنڈک پہنچانے کے ساتھ ساتھ جسم میں موجود زہریلے مواد کو خارج کرنے میں بھی ممد و معاون ثابت ہوتے ہیں۔مختلف وٹامنز کی کمی کو بھی پورا کرتے ہیں اور کینسر ،ذیا بیطس اور متعدد امراض کے محافظ اور دافع بھی ہوتے ہیں۔موسم گرما میں پھلوں اور ترکاریوں کی اس بہتات کی وجہ سے دوسرے ممالک کوبرآمدگی کا عمل تیز ہوتا ہے، جو ملکی معیشت کو سہارا دے کر اسے اپنے پاوٴں پر کھڑا کرتا ہے۔فوائد اور لذات سے بھرپور ان نعمتوں کا تقاضا یہ ہے کہ انسان جذبہ شکر سے لبریز ہو کر منعم حقیقی کی اطاعت وفرماں برداری بجالائے اور کفران نعمت سے بچے۔ اپنی زبان سے خالق لم یزل کی تعریف و توصیف کے کلمات ادا کر کے قولا بھی شکر ادا کرے اور پیداوار میں اللہ کا حق عشر ادا کر کے عملا بھی شکر خداوندی ادا کرے۔

ایذائے مسلم سے اجتناب
گرمیوں میں پسینہ آنے کی وجہ سے جسم میں بدبو پیدا ہوجاتی ہے، جس سے پاس بیٹھنے والے شخص کو شدید اذیت کا سامنا کرنا پڑتا ہے ،احترام کی وجہ سے اس سے اس کی شکایت بھی نہیں کرتا اور بسا اوقات متبادل جگہ نہ ہونے کی وجہ سے وہاں سے اٹھ بھی نہیں سکتا ،یہ ایذا مسلم ہے، جو شرعی نقطہ نگاہ سے حرام ہے ،صحیحین میں حضرت عبداللہ بن عمر  کی روایت سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد منقول ہے:” المسلم من سلم المسلمون من لسانہ ویدہ“ ”مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں“۔ اسلام کے ابتدائی دور میں جمعہ کے دن غسل کرنا واجب تھا ،کیوں کہ مسجد نبوی تنگ تھی اور چھپر کی چھت تھی جو زیادہ اونچی نہیں تھی،جب گرمی کے موسم میں لوگ جمعہ کی نماز کے لیے جمع ہوتے توپسینے کی وجہ سے بدبو پھیل جاتی اور حاضرین کو تکلیف ہوتی،صحیح بخاری میں حضرت عبداللہ بن عمر  سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام  کو حکم دیا”إذا جاہ أحدکم الجمعة فلیغتسل“ ” جب تم میں سے کوئی جمعہ کے لیے آئے تو اس کو چاہیے کہ غسل کرے“ بعد میں جب مسلمانوں کے معاشی حالات بہتر ہو گئے تو اس کاوجوب منسوخ ہو گیا، البتہ سنت ہونا اب بھی باقی ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ اپنے پسینے کی بدبو سے کسی کو تکلیف پہنچانامناسب نہیں ۔ لہٰذا اس موسم میں جب کسی مجلس میں بیٹھنا ہویا جمعہ کے خطبہ اور جماعت کی نماز میں شریک ہونا ہو تو تو نہا دھوکر ،صاف ستھرے کپڑے پہن کراور خوش بولگا کر آنا چاہیے۔

فجر اور عشاء کی نماز کا خصوصی اہتمام
گرمی کے موسم میں ہمارے ایشیائی ممالک میں چوبیس گھنٹوں کا دورانیہ اس طرح ہوتا ہے کہ دن طویل اور راتیں مختصر ہوتی ہیں۔اتنا بڑادن کام کرنے کی وجہ سے انسان تھک جاتا ہے، جس سے عشاء کی نماز کے رہ جانے کا امکان ہوتا ہے ، جب کہ رات مختصر ہونے کی وجہ سے آرام مکمل نہیں ہو پاتا ،جس سے صبح کی نمازکے نیند کی نذر ہو جانے کا امکان ہوتا ہے۔لہٰذا اپنے ذہن کو تیار کر کے اور تھوڑی ہمت کر کے ان دونوں نمازوں میں باجماعت حاضری کی کوشش کرنی چاہیے۔ حدیث پاک میں بھی ان دونوں نمازوں کا خصوصی ذکر کیا گیا ہے اور ان میں شرکت کی ترغیب دی گئی ہے۔ چناں چہ سنن ابی داوٴد میں حضرت ابی بن کعب  سے روایت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”ان ھاتین الصلاتین اثقل الصلوات علی المنافقین، ولو تعلمون ما فیھما لاتیتموھما ولو حبوا علی الرکب“ ”بے شک یہ دونوں نمازیں (عشاء اور فجر) منافقین پر تمام نمازوں میں سب سے بھاری ہیں اور اگر تمہیں معلوم ہو جائے کہ ان دونوں میں کتنا اجر ہے تو تم گھٹنوں کے بل بھی آجاوٴ“۔

ستر کا خیال کرنا
موسم گرما میں کپڑے باریک اور مختصر پہنے جاتے ہیں،بالخصوص رات کو سوتے وقت صرف شلوار یا تہہ بند پر اکتفاء کیا جاتا ہے لہٰذالباس پہنتے وقت اس بات کا خیال کرنا ضروری ہے کہ لباس اتنا باریک نہ ہو جس سے جسم کے مخفی اعضاء نظر آئیں۔ناف کے نیچے سے لے کر گھٹنے کے نیچے تک کا حصہ ستر کہلاتا ہے ۔اگر ہواخوری کی وجہ سے کچھ کپڑے اتارناپڑیں تواس بات کا لحاظ رکھا جائے کہ شلوار یا تہہ بند ناف سے زیادہ نیچے تک نہ لٹکا ہو اورگھٹنوں اور ران کو برہنہ نہ کیا جائے۔حدیث مبارک میں بلا عذر ستر کھولنے والے کے بارے میں سخت مذمت بیان کی گئی ہے ،چناں چہ مشکوٰة میں حضرت حسن  سے مرسلا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد منقول ہے :”لعن اللہ الناظر والمنظور الیہ“ ” اللہ نے (ستر) دیکھنے والے پر اور اس شخص پر جس (کے کھلے ہوئے ستر)کی طرف دیکھا جائے، لعنت کی ہے۔“