بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

موجودہ معاشی بحران اور کرنے کے دو کام

موجودہ معاشی بحران اور کرنے کے دو کام

مولانا محمد احمد حافظ

وطن عزیز پاکستان اس وقت سنگین معاشی بحران سے دو چار ہے۔ خیال تھا کہ حکومت بدلے گی تو حالات بھی سدھریں گے۔ حکومت تو بدلی…، مگر خرابی پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔ اس وقت باشندگان وطن غیر معمولی مہنگائی کی زد میں ہیں۔ پیٹرول، بجلی، ہوا اور پانی کی طرح انسانی ضروریات میں شامل ہیں۔ ان کی قیمتوں میں اتنا اضافہ کر دیا گیا ہے کہ ”قیمتوں کے آسمان کو چھونے“ والا محاورہ بھی پامال نظر آتا ہے۔ یہ دو ایسی چیزیں ہیں کہ جب ان کی قیمت میں اضافہ ہوتا ہے تو گویا تمام اشیائے ضرورت کی قیمتوں کو پر لگ جاتے ہیں۔ چوں کہ قیمتوں پر کنٹرول کا بھی کوئی نظام وانتظام نہیں، اس لیے ہر تاجر قیمتوں میں من چاہا اضافہ کرتا چلا جاتا ہے۔ دودھ، سبزی، آٹا، دال ، چاول ، پکوان کا تیل، عوام کی قوت خرید سے باہر ہوتے جارہے ہیں۔ اس ضمن میں دہاڑی دار طبقہ، مڈل کلاس اور لوئر مڈل کلاس طبقہ شدید متاثر ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ دینی مدارس ومساجد اوران سے وابستہ اساتذہ ، ائمہ مساجد او ران کے ساتھ دیگر خدمات انجام دینے والا طبقہ شدید متاثر ہوا ہے، جو پہلے ہی کم ترین تنخواہوں پر کام کر رہا ہے۔

دو تین برس قبل کرونا کے باعث ہونے والی معاشی کساد بازاری نے دینی مدارس کو حاصل ہونے والے عطیات پر منفی اثر ڈالا تھا، ابھی وہ اس سے پوری طرح سنبھل نہیں پائے تھے کہ مہنگائی کی حالیہ لہر نے مزید ستم ڈھا دیے ہیں۔ مدارس ومساجد کے یوٹیلٹی بلز، طلبہ کی تعلیم اور قیام وطعام کے اخراجات، اساتذہ کی تنخواہیں، تعمیرات اور مینٹینینس کے خرچے… یہ سب مل کر لاکھوں اور کروڑوں بجٹ کے حامل ہوتے ہیں۔ دینی مدارس کے یہ تمام اخراجات مخیر حضرات کے عطیات سے پورے کیے جاتے ہیں۔ ادھر حالت یہ ہے کہ عطیہ دہندگان ہی شدید معاشی دباؤ کا شکار ہو چکے ہیں۔

سوال یہ ہے کہ آج ہم اس حالت تک کیوں او رکیسے پہنچے ہیں؟ … اس کے جواب میں بہت کچھ لکھا او رکہا جاسکتا ہے، مگر سامنے کی بات یہ ہے کہ ہم نے اپنی قومی تجارت ومعیشت کو سودی بیساکھیوں پر کھڑا کر رکھا ہے۔ ہم اپنے ملکی بجٹ کے اہداف حاصل کرنے او رترقیاتی منصوبوں کی تکمیل کے لیے عالمی سودی اداروں سے قرضے لیتے ہیں۔ آج ان قرضوں کا سود درسود اس قدر ہو چکا ہے کہ اسے ادا کرنے کا بظاہر کوئی راستہ نظر نہیں آتا۔ معیشت تباہ ہوچکی ہے۔ ملکی معاملات کو چلانے کے لیے مزید سودی قرضے لیے جارہے ہیں، قومی املاک گروی رکھی جارہی ہیں۔ اس ضمن میں آئی ایم ایف کی ایسی شرائط تسلیم کی گئیں جو نہایت شرم ناک اور ہلاکت خیز ہیں۔

یہ جانتے ہوئے بھی کہ سود کی حرمت پر کوئی دورائے نہیں اور اس کی تباہ کاریاں غیر معمولی ہیں۔ سود کی شناعت وقباحت قرآن وحدیث میں کھول کھول کر بیان کر دی گئی ہے، حتی کہ سود خوری نہ چھوڑنے پر قرآن مجید میں الله تعالیٰ نے کھلا اعلان جنگ فرمایا ہے۔ ابھی گزشتہ رمضان المبارک میں و فاقی شرعی عدالت نے سود کے خاتمے کا فیصلہ سنایا ہے۔ یہ پہلا موقع نہیں ہے، اس سے قبل 1991ء میں وفاقی شرعی عدالت نے سود کے خاتمے کا فیصلہ دیا تھا، جس پر اپیل کر دی گئی، حکومتیں آتی جاتی رہیں، تقریباً 32 برس اپیل در اپیل اور سماعتوں کا سلسلہ چلتا رہا۔ اب بارد ِگروفاقی شرعی عدالت نے سود کے متعلق اپنا فیصلہ دیا تو ایک بار پھر اسٹیٹ بینک سمیت چار دیگربینکوں نے شرعی عدالت کے فیصلے پر اپیل دائر کر دی، جس کا واضح مقصد نظر آتا ہے کہ مقتدر حلقے سود کے خاتمے میں قطعی سنجیدہ نہیں ہیں اور وہ انسانیت کا خون چوسنے والے اس بد ترین نظام معیشت کو ملک وقوم پر مسلط رکھنے کے لیے مصر ہیں۔

بلاشبہ سود نے صرف ہماری معیشت کو نہیں ڈبویا، بلکہ اس نے معاشرے کی اخلاقی حالت کو بھی تباہ کیا ہے۔ خود غرضی، حرص، حسد، کینہ، سنگ دلی جیسی روحانی بیماریاں وبا کی طرح عام ہوئی ہیں۔ فواحش ومنکرات کا شیوع ہوا ہے۔ سرمایہ دارانہ سودی نظام کی وجہ سے امیر امیر تر اور غریب، غریب تر ہو رہا ہے۔ کیا کہیے اور کس دل سے کہیے کہ معاشی تنگ دستی کی وجہ سے اچھے اور وضع دار گھرانوں کی بچیاں دو وقت کی روٹی پوری کرنے کے لیے اپنی عصمت کو جنس بازار بنانے لگی ہیں۔ یہ نہایت افسوس ناک صورت حال ہے، اب بھی نہ جاگے تو کب جاگیں گے؟

اس وقت دو کام بہت اہمیت کے حامل ہیں، پاکستان کو جس طرح کے غیر معمولی حالات کا سامنا ہے؛ ان کے پیش نظر فوری طور پر قومی سطح کی کانفرس بلائی جائے، جس میں ملک وملت کا درد رکھنے والے جید علماء ، اکابر ملت، قومی زعماء، دانش ور او رتجارت ومعیشت میں نمایاں نام رکھنے والے افراد شامل ہوں، جو اپنے علم، تجربہ اور مشاہدے کی بنیاد پر ایسی قابل عمل تجاویز پیش کریں جو وطن عزیز کو معاشی بحران سے نکالنے میں مدد دیں۔ ان تجاویز کو قانونی شکل دی جائے اور حکومتیں ان کی روح کے مطابق عمل کرنے کی پابند ہوں۔

ان مشکل حالات سے نکلنے کے لیے دوسرا اور سب سے اہم کام توبہ واستغفار کا اہتمام او راپنے تمام امور حیات کو شریعت مطہرہ کے مطابق استوار کرنے کا عزم ہے۔ اس کی ضرورت سب کو ہے ،کیا امیر وغریب اور کیا شاہ وگدا…، اہل مدارس کو بھی خاص اس طرف توجہ کی ضرورت ہے۔ خود ہمارے ہاں بھی بعض ناپسندیدہ امور راہ پاگئے ہیں، جو غضب الہٰی کا سبب ہیں۔ ہر شخص اپنے آپ کو ٹٹولے او رجہاں کہیں کم زوری کوتاہی نظر آئے اسے دور کرنے کی کوشش کرے۔ الله تعالیٰ ہم سب کا حامی وناصر ہو۔ آمین یا رب العالمین!