بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

مقامِ توکل

مقامِ توکل

مفتی محمد شفیع عثمانی رحمة الله علیہ

جن باطنی اعمال کو حاصل کرنا انسان کے ذمے ضرور ی ہے، ان میں سے ایک ”توکل“ ہے، جو درحقیقت اسی وقت حاصل ہوتا ہے جب انسان ”مقام توحید“ کو حاصل کرچکا ہو، قرآن وحدیث میں توکل کی تاکید باربار آئی ہے او رجگہ جگہ اس کے فضائل وفوائد بیان کیے گئے ہیں۔

” توکل“ عربی زبان کا لفظ ہے، جو ”وکالة“ سے ماخوذ ہے، اس کے لغوی معنی ہیں: ”کسی پر بھروسہ کرکے، کسی کام کو، اس کے سپرد کر دینا“ پھر اسلامی اصطلاح میں توکل اسے کہتے ہیں کہ انسان اسباب پر تکیہ کرنے کے بجائے، الله پر مکمل بھروسہ کرکے اپنے تمام امور، اسی کو سونپ دے۔

غور فرمائیے کہ آپ کسی شخص پر کب بھروسہ کرتے ہیں؟ جس شخص کو آپ بھروسے کا اہل سمجھتے ہوں، اس میں کیا صفات آپ دیکھنا چاہتے ہیں؟ غور کریں گے تو معلوم ہو گا کہ ایک انسان بھروسے کا اہل اس وقت ہوتا ہے جب اس میں تین چیزیں پائی جاتی ہوں:

1.. علم 2.. قدرت 3.. ہمدردی وشفقت

یعنی اوّل تو آپ اس بات کا اطمینان کرنا چاہیں گے کہ جس شخص پر آپ بھروسہ کر رہے ہیں وہ آپ سے، آپ کے احوال سے او رتمام متعلقہ امور سے پوری واقفیت رکھتا ہو، ورنہ ظاہر ہے کہ وہ آپ کو کچھ فائدہ نہ پہنچاسکے گا۔

دوسرے آپ یہ چاہیں گے کہ جو کام آپ اس کے سپرد کر رہے ہیں وہ اُسے انجام دینے کی پوری صلاحیت اور قدرت رکھتا ہو، ورنہ ظاہر ہے کہ اگر وہ اس معاملے میں بے بس ہو تو آپ کی کیا مدد کرسکے گا؟

تیسرے آپ کی خواہش یہ ہو گی کہ جس شخص پر آپ نے بھروسہ کیا ہے وہ آپ کا ہم درد اور آپ پر مہربان ہو، ورنہ اس کی وسیع معلومات اور عمدہ صلاحیتیں آپ کے کچھ کام نہ آسکیں گی۔

اس کے بعد ذرا اپنے گرد وپیش پر ایک نظر ڈال کر دیکھیے، کیا کوئی انسان ایسا نظر آتا ہے جس میں یہ تینوں صفات مکمل طور پر موجود ہوں اورزندگی کے ہر معاملے میں آپ اس کے علم، قدرت اور شفقت پر بھروسہ کرسکتے ہوں، اگر آپ حقیقت پسندی کا مظاہرہ کریں گے تو یقینا آپ کا جواب نفی میں ہو گا، ایسا کوئی شخص آپ کو ڈھونڈنے سے بھی نہیں مل سکے گا جس میں یہ تینوں اوصاف اس قدر کمال کے ساتھ موجود ہوں کہ آپ اپنی زندگی کا ہرمعاملہ اسے سونپ کر بالکل مطمئن ہوسکیں۔

اب الله جل شانہ کے معاملے پر غور فرمائیے تو نظر آئے گا کہ اس میں یہ تینوں اوصاف اس قدر کمال کے ساتھ موجود ہیں کہ اس سے زیادہ کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا، لہٰذا کیا وہ ذات اس لائق نہیں ہے کہ انسان اپنی زندگی کا ہر معاملہ اسے سونپ کر مطمئن ہو جائے اور ہر معاملے میں بس اسی پر بھروسہ کرے، یقینا ہے۔ اس لیے قرآن کریم فرماتا ہے:﴿وَعَلَی اللَّہِ فَلْیَتَوَکَّلِ الْمُؤْمِنُونَ﴾(سورہ توبہ، آیت:51)
ترجمہ: او رمؤمن بس الله ہی پر بھروسہ رکھیں۔

توکل کی تین قسمیں
چوں کہ توکل کا صحیح مفہوم سمجھنے میں لوگ عموماً غلطیاں کرتے ہیں، اس لیے یہ سمجھ لیجیے کہ اس کی تین قسمیں ہیں:
توکل کی ایک صورت تو یہ ہے کہ انسان نظری طور سے تو اپنا معاملہ الله ہی کے سپرد کر رکھے، لیکن عملی طور پر اس کا دھیان اسباب ہی کی طرف رہے اور ظاہری اسباب ووسائل ہی اس کی بیشتر توجہات کا مرکزبنے رہیں، اس کی مثال ایسی ہے جیسے آپ اپنا مقدمہ کسی وکیل کو سپرد کر دیتے ہیں، اس پر آپ کو بھروسہ تو ہوتا ہے، لیکن معاملہ اس کے سپرد کرکے آپ بالکل فارغ نہیں ہو جاتے، بلکہ ہر وقت دھیان او رکوشش اس کی طرف لگی رہتی ہے۔

دوسری صورت یہ ہے کہ آپ ظاہری اسباب کو معمولی طور سے صرف اس لیے اختیار کریں کہ الله تعالیٰ نے انہیں اختیار کرنے کا حکم دیاہے، اس کے بعد معاملہ الله کے حوالے کر دیں اور یہ بات ہر آن مستحضر رکھیں کہ یہ ظاہری اسباب کوئی حقیقت نہیں رکھتے، کرنے والا الله ہی ہے چناں چہ آپ کی بیشتر توجہات الله کو پکارنے او راسی کے سامنے اپنی حاجتیں بیان کرنے میں صرف ہوں، اس کی مثال ایسی ہے جیسے ایک بچے کو جب کبھی کوئی ضرورت پیش آتی ہے، وہ بس اپنی ماں ہی کو پکارتا ہے، خود کچھ ہاتھ پاؤں مارے بھی تو اس پر مطمئن نہیں ہوتا، اس کی توجہ اس کی طرف رہتی ہے کہ کسی طرح ماں متوجہ ہو جائے تو وہ ہر مشکل کو حل کر دے گی۔

تیسری صورت یہ کہ الله تعالیٰ پر اس درجہ بھروسہ کیا جائے کہ اسباب کی طرف مطلق نظر نہ ہو، یہاں تک کہ الله کو پکارے بھی نہیں اور سمجھے کہ وہ تو خود میرے دکھ درد کو جانتا ہے، وہ خد ہی مداوا کرے گا۔

ایک روایت ہے کہ جب نمبر ود حضرت ابراہیم علیہ السلام کو آگ میں ڈال رہا تھا، تو حضرت جبرائیل علیہ السلام حاضر ہوئے اور پوچھا کہ اگر کسی خدمت کی ضرورت ہو تو میں حاضر ہوں، حضرت خلیل الله نے اس کے جواب میں فرمایا:”أما إلیک فلا، وأما الله فھو یعلم ما بي“․

ترجمہ: تمہاری تو مجھے احتیاج نہیں، ہاں! الله کی طرف محتاج ہوں، مگر وہ میرے حال کو خوب جانتا ہے۔

توکل کے ان تین درجات میں سے پہلا درجہ تو عامیانہ توکل ہے، جو توکل کا بالکل ادنیٰ درجہ ہے اور تیسرا درجہ توکل کی حقیقت کے اعتبار سے تو بہت اعلی ہے، مگر انبیاء وصلحاء کے خاص احوال سے متعلق ہے، دائمی طرزِ عمل کے لیے شریعت میں مطلوب نہیں ہے۔

شریعت میں مطلوب توکل کا دوسرا درجہ ہے، آں حضرت صلی الله علیہ وسلم نے سنت اسی کو قرار دیا ہے کہ ظاہری اسبا ب کو معمولی طور سے اختیار کرو، الله سے دعائیں بھی کرو، لیکن بھروسہ ان ظاہری اسباب پر کرنے کے بجائے الله ہی پر رکھو۔