بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

معاشرتی آداب

معاشرتی آداب

 

ہر باطل فرقہ اپنی آواز کو مؤثر بنانے کے لیے بظاہر قرآن کریم ہی کی دعوت لے کر اٹھتا ہے، بالخصوص موجودہ زمانے میں یہ فتنہ بکثرت پھیل رہاہے ، اس لیے استاذ المحدثین حضرت مولانا شیخ سلیم الله خان صاحب نوّر الله مرقدہ کی دیرینہ خواہش تھی کہ قرآن کریم کی اردو میں ایسی جامع تفسیر منظر عام پر لائی جائے جس میں فرق باطلہ کے مستدلات کا تفصیلی علمی تعاقب کرکے اہلسنت والجماعت کا مؤقف واضح کر دیا جائے، چناں چہ اس مقصد کے پیش نظر جامعہ کے شعبہ دارالتصنیف میں حضرت کے افادات مرتب کرنے کا سلسلہ جاری ہے ، الله تعالیٰ اپنی توفیق سے اسے پایہٴ تکمیل تک پہنچائے ۔ آمین۔ (ادارہ)

﴿وَاعْبُدُواْ اللّہَ وَلاَ تُشْرِکُواْ بِہِ شَیْْئاً وَبِالْوَالِدَیْْنِ إِحْسَاناً وَبِذِیْ الْقُرْبَی وَالْیَتَامَی وَالْمَسَاکِیْنِ وَالْجَارِ ذِیْ الْقُرْبَی وَالْجَارِ الْجُنُبِ وَالصَّاحِبِ بِالجَنبِ وَابْنِ السَّبِیْلِ وَمَا مَلَکَتْ أَیْْمَانُکُمْ إِنَّ اللّہَ لاَ یُحِبُّ مَن کَانَ مُخْتَالاً فَخُوراً، الَّذِیْنَ یَبْخَلُونَ وَیَأْمُرُونَ النَّاسَ بِالْبُخْلِ وَیَکْتُمُونَ مَا آتَاہُمُ اللّہُ مِن فَضْلِہِ وَأَعْتَدْنَا لِلْکَافِرِیْنَ عَذَاباً مُّہِیْناً، وَالَّذِیْنَ یُنفِقُونَ أَمْوَالَہُمْ رِئَاء النَّاسِ وَلاَ یُؤْمِنُونَ بِاللّہِ وَلاَ بِالْیَوْمِ الآخِرِ وَمَن یَکُنِ الشَّیْْطَانُ لَہُ قَرِیْناً فَسَاء قَرِیْناً، وَمَاذَا عَلَیْْہِمْ لَوْ آمَنُواْ بِاللّہِ وَالْیَوْمِ الآخِرِ وَأَنفَقُواْ مِمَّا رَزَقَہُمُ اللّہُ وَکَانَ اللّہُ بِہِم عَلِیْماً،إِنَّ اللّہَ لاَ یَظْلِمُ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ وَإِن تَکُ حَسَنَةً یُضَاعِفْہَا وَیُؤْتِ مِن لَّدُنْہُ أَجْراً عَظِیْماً﴾․(سورة النساء، آیت:40-36)

اور بندگی کرو اللہ کی اور شریک نہ کرو اس کا کسی کو اور ماں باپ کے ساتھ نیکی کرو اور قرابت والوں کے ساتھ اور یتیموں اور فقیروں اور ہمسایہ قریب اور ہمسایہ اجنبی اور پاس بیٹھنے والے اور مسافر کے ساتھ اور اپنے ہاتھ کے مال ،یعنی غلام باندیوں کے ساتھ۔ بے شک اللہ کو پسند نہیں آتا اترانے والا بڑائی کرنے والاOوہ لوگ جو بخل کرتے ہیں اور سکھاتے ہیں لوگوں کو بخل اور چھپاتے ہیں جو ان کو دیا اللہ نے اپنے فضل سے اور تیار کر رکھا ہے ہم نے کافروں کے لیے عذاب ذلت کاOاور وہ لوگ جو خرچ کرتے ہیں اپنا مال لوگوں کو دکھانے کو اور ایمان نہیں لاتے اللہ پر اور قیامت کے دن پر اور جس کا ساتھی ہوا شیطان تو وہ بہت برا ساتھی ہےO اور کیا نقصان تھا ان کا اگر ایمان لاتے اللہ پر اور قیامت کے دن پر اور خرچ کرتے اللہ کے دیے ہوئے میں سے اور اللہ کو ان کی خوب خبر ہےOبے شک اللہ حق نہیں رکھتا کسی کا ایک ذرہ برابر اور اگر نیکی ہو تو اس کو دوگنا کردیتا ہے اور دیتا ہے اپنے پاس سے بڑا ثواب۔

معاشرتی آداب
﴿وَاعْبُدُواْ اللّہَ…﴾ اس آیت کریمہ میں خالق اور مخلوق کے حقوق و آداب بیان کیے گئے ہیں، اللہ تعالی کا حق یہ ہے کہ جبین نیاز صرف اسی کی چوکھٹ پر جھکائی جائے، اس کی ذات و صفات میں کسی کو شریک نہ ٹھہرایا جائے، اس کے بعد بندوں کے حقوق اور آداب معاشرت بیان کیے گئے ہیں۔

والدین کے ساتھ حسنِ سلوک
﴿وَبِالْوَالِدَیْْنِ إِحْسَاناً ﴾ اللہ تعالیٰ خالقِ حقیقی ہے اور والدین انسانی وجود کی تخلیق کا ذریعہ اور سبب ہیں، جو اپنی اولاد کو گرم سرد ہواؤں سے بچا کر انسانی نسل کی بقا کا ذریعہ بنتے ہیں، اس لیے ان کے ساتھ حسنِ سلوک کا معاملہ دوسروں کے مقابلے میں زیادہ اہمیت رکھتا ہے، ان کے ساتھ حسنِ سلوک یہ ہے کہ انہیں معاشرے میں عزت و احترام سے نوازا جائے، ان کی طرف سے نازیبا سلوک پر صبر کیا جائے، ان کو اذیت پہنچانے والے ہر لفظ اور ہر فعل سے اجتناب کیا جائے، ان کے سامنے ان کی آواز سے بلند آواز میں گفتگو نہ کی جائے، ان کی جسمانی اور مالی خدمت میں کوئی کمی نہ کی جائے، مباح امور میں ان کی اطاعت کی جائے، اگر والدین مسلمان ہوں تو ان کے فوت ہوجانے کے بعد ان کو اپنی دعاؤں میں یاد رکھا جائے، ان کے لیے ایصالِ ثواب کا اہتمام کیا جائے، ان کے دوستوں کے ساتھ اچھا برتاؤ اور عمدہ تعلق استوار رکھا جائے۔

قرابت داروں کے ساتھ حسنِ سلوک
﴿وَبِذِیْ الْقُرْبَی﴾ والدین کے بعد انسانی تعلقات کا مضبوط دائرہ قرابت داروں سے جڑا ہوا ہوتا ہے، جن میں سب سے قریبی بہن، بھائی، دادا، دادی، نانا، نانی، چچا، پھوپھی، ماموں، خالہ، اسی طرح رحم کے قرابت کے اعتبار سے درجہ بدرجہ دیگر تمام رشتہ داروں کے ساتھ حسنِ سلوک کا حکم دیا گیا ہے، ان کی غمی خوشی میں شریک ہونا، ان کی عزت و ناموس کی حفاظت کرنا، پریشان حالی میں ان کی مدد کرنا، حسن ِسلوک کا حصہ ہیں۔

یتیموں کے ساتھ حسنِ سلوک
﴿وَالْیَتَامَی﴾ یتیم ان نا بالغ بچوں کو کہتے ہیں جن کے والد انتقال کر گئے ہوں، کیوں کہ والد کے بعد بظاہر وہ بے یارو مدد گار رہ جاتے ہیں، ان کے سروں پر دستِ شفقت رکھنے والے کم ہی لوگ ہوتے ہیں، جس کی وجہ سے وہ معاشرتی تربیت اور تعلیم سے محروم ہو کر احساسِ کمتری کا شکار ہوجاتے ہیں، اس لیے ایسے بچوں کے ساتھ حسن ِسلوک کی تاکید کی گئی ہے، تاکہ وہ اپنی زندگی میں محرومیوں کا منفی اثر نہ لے سکیں۔

مسکین کے ساتھ حسنِ سلوک
﴿وَالْمَسَاکِیْنِ﴾معاشرے کے ضرورت مند افراد، جنہیں مسکین و فقیر کہا جاتا ہے، ان کی ضروریات کی تکمیل کر کے ان کے ساتھ حسنِ سلوک کرنا، بالخصوص وہ ضرورت مند جو سفید پوشی کی وجہ سے کسی کے سامنے ہاتھ نہیں پھیلاتے اور کسی کے سامنے اپنی ضروریات بیان کرتے ہوئے شرماتے ہیں، ایسے حاجت مندوں کے کام آنا ثواب کا کام ہے، البتہ پیشہ ور بھکاریوں کو، جو ہمارے ارد گرد شب و روز منڈلاتے رہتے ہیں، ان کو نہ دینا ہی بہتر ہے،ان کام چوروں کے مقابلے میں رزقِ حلال کی مشقتیں اٹھانے والے مزدوروں اور چھوٹے موٹے پیشوں کے کاریگر وں کو ان کی اجرت سے زائد دینا زیاد ہ بہتر ہے، تاکہ ان کی حوصلہ افزائی ہو اور وہ اپنے پیشے اور رزق حلال پر زیادہ سے زیادہ توجہ دیں۔

رشتہ دار پڑوسی کے ساتھ حسنِ سلوک
﴿والجارِ ذی القربیٰ﴾سے رشتہ دار پڑوسی مراد ہیں، ان کے ساتھ حسنِ سلوک کرنا دوگنا ثواب ہے، رشتہ داری کے ناطے صلہ رحمی کرنے کا اور پڑوسی ہونے کے ناطے اچھا رویہ رکھنے کا۔

اجنبی پڑوسی کے ساتھ حسنِ سلوک
﴿وَالْجَارِ الْجُنُبِ﴾ جس پڑوسی کے ساتھ کوئی رشتہ داری نہ ہو اس کے ساتھ بھی حسنِ سلوک کا حکم ہے، تاکہ وہ پڑوسی خود کو معاشرے میں تنہا نہ سمجھے، اجنبی ہونے کی بنا پر وہ خود کو غیر محفوظ نہ سمجھے، آنحضرت صلی الله علیہ وسلم نے اہتمام کے ساتھ پڑوسیوں کے حقوق بیان فرمائے،چند احادیث پیشِ خدمت ہیں۔
حضرت عبداللہ بن عمر رضی الله عنہ بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا:حضرت جبرائیل علیہ السلام پڑوسی کے ساتھ حسنِ سلوک کی وصیت کرتے رہے، یہاں تک کہ مجھے یہ اندیشہ ہوکہ وہ پڑوسی کو ترکہ میں حصہ دار بنا دیں گے۔(سنن ابی داود، رقم الحدیث:5152)

حضرت عمر رضی الله عنہ بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی الله علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:آدمی پڑوسی کو (بھوکا)چھوڑ کر پیٹ نہ بھرے۔ (مسند احمد، رقم الحدیث:390)

حضرت عائشہ رضی الله عنہا بیان کرتی ہیں کہ میں نے آنحضرت صلی الله علیہ وسلم سے پوچھا!میرے دو پڑوسی ہیں، ان میں سے کس کو ہدیہ پیش کروں؟ آپ نے فرمایا :ان دونوں میں سے جو تمہارے دروازے کے زیادہ قریب ہو، (یعنی گھر کے ساتھ قریب ہونے کے اعتبار سے درجہ بدرجہ پڑوسیوں کے حقوق ہیں)۔(صحیح البخاری، رقم الحدیث: 2259)
حضرت معاویہ بن حیدہ فرماتے ہیں:میں نے بارگاہ نبوی میں عرض کیا: یا رسول اللہ! میرے پڑوسی کا مجھ پر کیا حق ہے؟ آپ نے فرمایا: اگر وہ بیمار ہو جائے تو اس کی عیادت کے لیے جاؤ، اگر فوت ہو جائے تو اس کے جنازے میں شرکت کرو، اگر وہ تم سے قرض مانگے تو اسے قرض دو، اگر وہ برائی میں پڑا ہو تو اس کا پردہ رکھو، اگر اسے بھلائی پہنچے تو مبارک باد دو، اگر کوئی مصیبت پہنچے تو اظہارِ افسوس کرو، اپنے گھر کی عمارت اس کے گھر سے بلند نہ کرو، مبادا اس کی ہوا رک جائے۔( المعجم الکبیر للطبرانی: 19/419)

پہلو کے ساتھی کے ساتھ حسنِ سلوک
﴿وَالصَّاحِبِ بِالجَنبِ﴾ سے پہلو اور برابر میں بیٹھنے والا ساتھی مراد ہے، یہ بیوی بھی ہو سکتی ہے، چند لمحوں کا مسافر بھی ہو سکتا ہے، محض ساتھی جو آپ کے برابر میں بیٹھا ہو یا ہم پیشہ رفیق بھی ہو سکتے ہیں۔

مسافر کے ساتھ حسنِ سلوک
﴿وَابْنِ السَّبِیْل﴾ مسافر سفر کی وجہ سے اپنے عزیزو اقارب سے دور رہتا ہے اور دوسرے شہر میں اجنبی ہونے کی وجہ سے اخلاقی، معاشی مدد کا محتاج ہوتا ہے، اس لیے اس کے ساتھ حسنِ سلوک کی تاکید کی گئی ہے، تاکہ اس کی اجنبیت ختم ہو۔

غلاموں اور باندیوں کے ساتھ حسنِ سلوک
﴿وَمَا مَلَکَتْ أَیْْمَانُکُمْ﴾ غلام اور باندیاں معاشرے کا سب سے کمزور طبقہ ہوتا ہے، جو اپنے حقوق کے لیے اپنے آقا کے خلاف زبان نہیں کھول سکتا اور ان پر ہونے والے مظالم کے خلاف کوئی آواز احتجاج بلند نہیں کرتا، اسلام نے سب سے پہلے ان کے حقوق کی آواز اٹھائی، انہیں منھ میں زبان دی، انہیں طلب انصاف کے لیے عدالت تک رسائی دی، سرورِ

دو عالم صلی الله علیہ وسلم نے حجة الوداع کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:
ارقّائکم، ارقّائکم، أطعموھم مما تاکلون، واکسوھم مما تلبسون، وإن جاؤا بذنب لا تریدون أن تغفروہ فبیعوہ․ عباد اللّٰہ، ولا تعذبوھم․ ألا ھل بلغت؟ اللّٰھم فاشھد.( الطبقات الکبریٰ لابن سعد:2/185، دارِ صادر، بیروت)

”تمہارے غلام، تمہارے غلام، ان کے ساتھ حسنِ سلوک سے پیش آؤ، انہیں وہی کھلاؤ جو تم خود کھاتے ہو اور انہیں ویسا ہی پہناؤ جیسا تم خود پہنتے ہو، اگر ان سے ایسی غلطی صادر ہو جائے جو تم معاف نہیں کرسکتے تو اللہ کے بندو!انہیں فروخت کردو اور انہیں سزا مت دو۔ کیا میں نے اپنا پیغام پہنچا دیا؟ اے اللہ! گواہ رہنا“۔

اسلام نے غلاموں کو حقوق دینے کے ساتھ ان کے آقاؤں کو ان کے آزاد کرنے کی ترغیب بھی دی اور اس پر آخرت کے عظیم اجر کی بشارت بھی دی، جب کہ دوسری طرف یونانی فلسفہ کے علم بردار ارسطو غلامی کے رواج کو انسانی سوسائٹی کے لیے ضروری قرار دیتا تھا اور ان کی معاشرتی حالت کیا تھی؟ اس پر شاہ معین الدین ندوی لکھتے ہیں۔
”یونان، مصر، ہندوستان، ہر ملک میں غلامی رائج تھی، بعض ملکوں میں تو غلاموں کی تعداد ملک کی اصل آبادی کے برابر تھی، خود یورپ میں انیسویں صدی کے وسط تک غلامی رائج تھی، یورپین قومیں محض جنگی قیدیوں ہی کو نہیں، بلکہ نیم متمدن اقوام کو بھی زبردستی غلام بنا دیتی تھیں، غلاموں کی حیثیت جانوروں سے بہتر نہ تھی، آقا ان کی جان تک کا مالک ہوتا تھا، غلاموں کے قتل کی کوئی سزا نہ تھی، ان سے طرح طرح کے پر مشقت کام لیے جاتے تھے اور ادنی لغزش اور سرتابی کی بڑی سخت سزا دی جاتی تھی، ان کے تمام املاک کا مالک آقا ہوتا تھا، تقریباً پوری دنیا میں غلاموں کی یہی حالت تھی“۔(دینِ رحمت، شاہ معین الدین ندوی، اعظم گڑھ انڈیا ،ص: 165)

یہودی اپنی قوم کے افراد کو بھی ان تین وجوہات کی بنا پر غلام بنا لیتے تھے۔
1.. مقروض جو قرض ادا کرنے کی استطاعت نہ رکھتا ہو، اس کی طرف سے کوئی صاحبِ حیثیت قرض ادا کر کے مقروض کو اپنا غلام بنا لیتا تھا۔
2.. چور چوری شدہ سامان کو واپس لوٹانے کی صلاحیت نہ رکھتا تو اس کی طرف سے تیسرا شخص سامان لوٹا کر چور کو غلام بنا لیتا تھا۔
3.. والدین اپنی اولاد کو کسی کے ہاتھوں بیچ کر اسے غلامی میں دھکیل دیتے تھے۔(ملخص از اسلام میں غلام کی حقیقت، لاہور، سعید احمد اکبر آبادی، ص:38)

مسیحی مولف مسٹر ایل ڈی، آگیٹ((L.D.AGATE لکھتا ہے۔
”حضرت مسیح کی تعلیمات میں غلامی کی صاف طور پر کہیں بھی مذمت نہیں ہے۔ یہ صحیح ہے کہ غلامی کا مخالف گروہ اپنی تائید کے لیے انجیل کی کسی آیت کو بھی پیش نہیں کر سکتا تھا، اس کے برخلاف غلامی کا حامی گروہ اپنی تائید میں انجیل کے اصل متن کے الفاظ سے استدلال کر سکتا ہے“۔( ملخص از اسلام میں غلام کی حقیقت ص:39)

یورپی دنیا میں غلام اعدادو شمار کے جائزے میں
1750ء تک برطانوی امریکہ میں تقریباً ڈھائی لاکھ غلام تھے، اور اعلانِ آزادی کے وقت ان کی تعداد دوگنی ہو گئی تھی، آزادی کے بعد شمال میں غلام داری بتدریج ختم ہو گئی، لیکن جنوب میں یہ زندگی کی لازمی ضرورت بنی رہی اور1860ء تک چودہ ریاستوں میں چالیس لاکھ افریقی غلام تھے۔ (امریکہ جیسا میں نے دیکھا، قیصر سلیم ص،214:بحوالہ محسنِ انسانیت اور انسانی حقوق، ص:439)

کیا قادیانی زندیق پڑوسی حسنِ سلوک کا مستحق ہے؟
غیر مسلم کافر پڑوسی مثلاً یہودی، مسیحی، مجوسی، مشرک پڑوسی کے ساتھ ایک دائرے میں رہتے ہوئے اچھا برتاؤ کرنا اور ان کے ساتھ حسنِ سلوک کے ساتھ پیش آنا سنت نبوی ہے۔

مگر دو قسم کے غیر مسلم ایسے ہیں جنہیں یہ حقوق حاصل نہیں ہیں۔
1..مرتد 2.. زندیق
مرتد اس کافر کو کہتے ہیں جو قبول اسلام کے بعد کفر اختیار کرے، اور زندیق اس کافر کو کہتے ہیں جو کفریہ عقائد رکھنے کے باوجود خودکو مسلمان ظاہر کرتا ہو یا اپنے کفریہ عقائد کی باطل تاویلات کر کے اسے اسلام باور کراتا ہو، یہ ارتداد سے بھی بڑا کفر ہے، جیسے قادیانیوں کا کفر ہے، ان کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آنا جائز نہیں ہے۔
چوں کہ یہ دونوں گروہ مرتد اور زندیق امتِ مسلمہ کے باغی ہیں، اور باغی کو کوئی مملکت شہریت کا حق نہیں دیتی، بلکہ ان سے زندگی کا حق چھین لیتی ہے، کیوں کہ وہ ملک کے خارجی دشمنوں سے زیادہ خطرناک ہوتے ہیں، ان کا جرمِ بغاوت ان دشمنانِ ملک سے زیادہ گھناؤنا ہوتا ہے جو باہر سے حملہ آور ہوتے ہیں، اسی طرح دینِ اسلام ایک نظامِ زندگی ہے، وہ دیگر مذاہب کی طرح محض نظریاتی اکھاڑ اور رواجی تماشے کا مذہب نہیں ہے، اس کے دائرے میں داخل ہونے پر کوئی جبر نہیں ہے، مگر اپنی مرضی سے گلے لگانے والے کو رو گردانی کر کے بغاوت کا اختیار بھی نہیں ہے، مذہب اسلام سے بغاوت کرنے والے مسلمان ارتداد اور زندقہ کے زمرے میں آتے ہیں، اس کی سزا قتل ہے، مرتد کو تین دن کی مہلت دی جائے، وہ اپنے اشکال وشبہات علمائے کرام کے سامنے رکھے، اگر مطمئن ہو کر دوبارہ کلمہ پڑھ لے تو اس کی توبہ قابلِ قبول ہے، اسے چھوڑ دیا جائے گا اور اگر مطمئن نہ ہو اور اپنے ارتداد پر ڈٹا رہے تو تین دن بعد قتل کر دیا جائے گا،اسے زندگی کا حق حاصل نہیں، چہ جائیکہ اسے پڑوسی بننے کا حق حاصل ہو۔

زندیق کی تعریف اور اس کا حکم
فقہا کے ہاں زندیق کی تعریف میں مختلف اقوال ملتے ہیں، اس لیے فتاوی شامیہ اور حاشیہ الطحطاوی، جو درّ مختار کا حاشیہ ہے، اس میں جو شخص زندیق کی تعریف دیکھے گا، نتیجہ تک نہیں پہنچ پائے گا، ان متفرق اقوال میں سے ایک راجح قول کی تمیز کرنا مشکل ہے، لیکن متکلمین اسلام جن کا موضوع بحث ہی عقائد و نظریات ہوتے ہیں وہ اس باب میں فیصلہ کن گفتگو کرتے ہیں، اس لیے علامہ تفتازانی رحمة الله علیہ نے شرح مقاصد میں زندیق کی جو تعریف لکھی ہے وہ زیادہ قابل اعتماد ہے ۔ وہ لکھتے ہیں:

”جو شخص حضور صلی الله علیہ وسلم کی نبوت کو تسلیم کرتا ہو، شعائر اسلام کا اظہار کرتا ہو، مگر دل میں کفریہ عقائد رکھتا ہو (اور ان کا اظہار کرتا ہو)، وہ زندیق ہے“۔(شرح المقاصد، المقصد السادس:30/460)اس تعریف پر شبہ وارد ہوتا ہے کہ اس میں اور منافق میں کیا فرق ہے، دونوں ہی زبان اور عمل سے ایمان کا اظہار کرتے ہیں، مگر دل میں کفر رکھتے ہیں؟ اس کا جواب یہ ہے کہ منافق تو اعتقاداً ایمان رکھتا ہی نہیں ،صرف اظہار کرتا ہے، جب کہ زندیق ایمان رکھنے کے ساتھ دیگر کفریہ عقائد پر بھی یقین رکھتا ہے۔

چناں چہ علامہ انور شاہ کشمیری رحمة الله علیہ نے علامہ تفتازانی کی عبارت:”وإن أبطن عقائد ہی کفر بالاتفاق فبالزندیق“․کی تشریح کرتے ہوئے لکھتے ہیں۔

فالمراد بإبطان بعض عقائد الکفر لیس ھو الکتمان من الناس، بل المراد أ ن یعتقد بعض ما یخالف عقائد الإسلام مع ادعائہ إیاہ، وحکم المجموع من حیث المجموع الکفر لا غیر. (إکفار الملحدین، ص:13)

یعنی زندیق کے ”ابطانِ عقائد“سے مراد کتمان (یعنی عقائد کا لوگوں سے چھپانا مراد نہیں) بلکہ اسلامی عقائد کے خلاف کوئی عقیدہ اپنا کر اسے اسلامی قرار دینا مراد ہے، زندیق اگر اسلامی عقائد قطعیہ کے برخلاف کوئی ایک دو عقائد بھی اپنائے گا کافر قرار دیا جائے گا۔

علامہ تفتازانی کی بیان کردہ تعریف اور علامہ کشمیری رحمة الله علیہ کی توضیح کی تائید علامہ جصاص رحمة الله علیہ کی اس عبارت سے بھی ہوتی ہے جس میں انہوں نے زندیق کی مثال میں اسماعیلی فرقے کو پیش کیا، (أحکام القرآن للجصاص، البقرہ، ذیل آیت:102) جو اپنے کفریہ عقائد کو اسلامی عقائد بنا کر پیش کرتے ہیں، اسی کے ساتھ توحید الٰہی اور رسالت محمدیہ کا اقرار بھی کرتے ہیں۔

حضرت موسیٰ روحانی بازی رحمة الله علیہ شرح بیضاوی کے مقدمے میں زندیق کی تعریف کرتے ہوئے رقم طراز ہیں:
”میری تحقیق کے پیشِ نظر زندیق وہ ہے جو بظاہر اسلام کا مدعی ہو، لیکن لساناً یا عملاً اصولِ اسلام کو اور مسلمانوں کو نقصان پہنچا رہا ہو،خواہ مبطن کفر ہو یا نہ ہو“۔ (مقدمہ شرح البیضاوی:2/259)

ان تصریحات سے معلوم ہوا کہ دورِ حاضر کے اعلانیہ کفریہ عقیدے رکھنے والے وہ گروہ جو خود کو مسلمان کہلواتے ہیں زندقہ کے حکم میں ہیں، جیسے اسماعیلی، بوہری، غالی رافضی اور قادیانی۔

زندیق کی توبہ
اگر زندیق توبہ کر لے تو مرتد کی طرح اس کی توبہ بھی قابلِ قبول ہو گی یا نہیں؟ اس پر تمام اہلِ علم کا اتفاق ہے کہ زندیق کا معاملہ مرتد سے زیادہ سخت ہے، کیوں کہ زنادقہ جس طرح درِ پردہ اسلام کی بنیادوں کو کھوکھلا کر کے امت کو جو نقصان پہنچا تے ہیں مرتد اس قدر نہیں پہنچا سکتا، اس لیے مرتد کی توبہ تو بالاتفاق قابلِ قبول ہے، مگر زندیق کی توبہ قبول کرنے میں اہلِ علم میں اختلاف پایا جاتا ہے۔

علامہ شامی رحمة الله علیہ تو لکھتے ہیں:” والزندیق إذا تاب بعد القدرة علیہ…عن أبی حنیفة وأبی یوسف وحکی ابن المنذر عن علی بن أبی طالب یستتاب․(رسائل ابنِ عابدین:1/321) اگر زندیق بعد از گرفتاری بھی صدقِ دل سے توبہ کر کے دین پر قائم ہو جائے تو اس کی توبہ شرعاً و قانوناً قبول سمجھی جائے گی۔

جب کہ علامہ ابن الہام نے فتح القدر میں لکھا ہے:زندیق کی توبہ قبول نہ کی جائے، اسے قتل ہی کیا جائے گا اور اسی کو ظاہر المذہب قرار دیا ہے۔(فتح القدیر:6/91)

بہر صورت قتل کرنے کی وجہ یہ ہے کہ اگر زندیق اپنے کفریہ عقائد سے باز نہ آیا تو کفر کی وجہ سے قتل کیا جائے گا اور اگر توبہ کر لی تو حد کی بنا پر قتل کیا جائے گا۔( الشرح الصغیر:4/438)

علامہ شامی رحمة الله علیہ صاحبِ ہدایہ کے حوالے سے لکھتے ہیں کہ انہوں نے تجنیس میں لکھا ہے اگر زندیق اپنے زندقہ پن میں معروف اور زندقہ کی دعوت دیتا ہو، اگر وہ گرفتاری سے قبل اپنے اختیار سے توبہ کر لے تو اس کی توبہ قبول کر لی جائے گی اور اگر گرفتاری کے بعد توبہ کر لے تو اس کی توبہ ظاہری طور پر قبول نہیں کی جائے گی، اسے قتل کر دیا جائے گا۔ (ردالمختار:3/296)

شوافع اور حنابلہ کے نزدیک زندیق کا سارا مال بیت المال میں جمع کر دیا جائے گا، مالکیہ کے نزدیک اس کے مسلمان ورثا میں تقسیم کر دیا جائے گا، حنفیہ کے نزدیک جو مال زندقہ پن میں کمایا تھا وہ بیت المال میں جمع کر دیا جائے گا، اس سے پہلے کی دولت مسلمان ورثا میں شرعی حصص کے موافق تقسیم کر دی جائے گی۔(الفقہ الإسلامی وأدلتہ:8/265،266)

زندیق کی توبہ کے متعلق ضروری وضاحت
زندیق کی توبہ کے قبول اور عدم قبول کی یہ ساری بحث دنیا کے ظاہری احکام کے تناظر میں ہے، اگر وہ سچے دل سے توبہ کرنے والا ہو گا تو آخرت میں بارگاہ الٰہی میں اس کی توبہ معتبر ہوگی، خالق اور مخلوق کا باہمی رازدارانہ معاملہ ہے، اس کا علم اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کو نہیں۔

قادیانیت کے متعلق علماء کی تصریحات
حضرت مولانا موسی خان روحانی بازی لکھتے ہیں:
قادیانی زندیق ہیں، بحکمِ شرعی انہیں کسی اسلامی مملکت میں رہائش، اقامت کی اجازت نہیں دی جاسکتی، اسلامی ملک میں یہ لوگ ذمی بن کر بھی نہیں رہ سکتے، جو لوگ قادیانیت کے مبلغ داعی ہوں، ان کی توبہ قضاءً قبول نہیں ہے اور وہ زندقہ کی وجہ سے واجب القتل ہیں، جو مسلمان تھے اور قادیانی ہو گئے وہ مرتد ہیں اور جو ان کی اولادیں ہیں وہ زندیق اور واجب القتل ہیں، اس کی پانچ وجوہات ہیں: ختم نبوت، جو ضروریات دین میں سے ہے، کے منکر ہیں۔ یہ اپنے آپ کو مسلمان اور تمام مسلمانوں کو کافر سمجھتے ہیں۔ قرآن و حدیث میں بے شمار تحریفات کا ارتکاب کرتے ہیں۔ وہ شعائر اللہ اور خصائص اسلامی کی بے حرمتی کرتے ہیں۔ مثلاً امّ المؤمنین، صحابہ، مسجد کی اصطلاح استعمال کر کے وہ اسلام کے ساتھ استہزا کرتے ہیں۔ ہر قادیانی مرتد یا زندیق ہے، جو کہ واجب القتل ہے۔

حضرت مولانا یوسف لدھیانوی رحمة الله علیہ لکھتے ہیں :
جو مسلمان اسلام سے پھر جائیں وہ مرتد اور زندیق ہیں، مرتد کی صلبی اولاد تبعاً مرتد ہے، اصالةً مرتد نہیں ہے ،اس لیے اس کو حبس و ضرب کے ساتھ اسلام لانے پر مجبور کیا جائے گا، مگر قتل نہیں کیا جائے گااور مرتد کی اولاد کی اولاد نہ اصالةً مرتد ہے نہ تبعاً، بلکہ وہ اصلی کافر کہلائے گی اور ان پر سزائے ارتداد جاری نہ ہو گی، کیوں کہ اولاد کی اولاد مرتد نہیں، وہ ساری کافر ہے، اس لیے اس کا حکم مرتد کا نہیں۔

لیکن قادیانی خواہ اصالةً ہوں یا پیدائشی قادیانی ہوں، خواہ وہ سو نسلوں سے قادیانی ہوں وہ مرتد اور زندیق کے حکم میں ہیں اور رہیں گے، کیوں کہ وہ اسلام کو کفر اور کفر کو اسلام کہتے ہیں اور یہ زندقہ ہے، جو کہ ناقابلِ معافی ہے۔(تحفہ قادیانیت:1/675، مجلس تحفظ ختم نبوت)

اس ساری بحث کا خلاصہ یہ ہے کہ پڑوسی کے حقوق ہیں، ان کی ادائیگی لازم ہے، اس کا اہتمام ہر مسلمان کا دینی فریضہ ہے، مگر مرتد اور زندیق غدارانِ مذہب و ملت ہیں اور کسی حسنِ سلوک کے مستحق نہیں ہیں، یہ تالاب کی وہ گندی مچھلیاں ہیں جو پورے تالاب کو تعفن زدہ کر دیتی ہیں، ایسی گندگیوں کو تالاب سے نکالنا ہی اعلیٰ اخلاق کا تقاضا ہے۔

انفاق اور اس کے آداب
طاعتِ الٰہی میں خرچ کرنے کو انفاق کہتے ہیں، انفاق دو طرح کا ہوتا ہے:انفاق واجبہ، انفاق نافلہ، قرآن کریم میں جہاں کہیں انفاق نہ کرنے پر وعید مذکور ہے وہاں انفاق واجبہ کا بیان ہوتا ہے، انفاق واجبہ میں زکوة، عشر، خراج، فطرانہ کے علاوہ ان عزیزو اقارب کے خرچ کی ذمہ داری جو شریعت نے مختلف احوال وکیفیات کی صورت میں ان کے متعلقین پر لازم کی ہے، وہ بھی اس میں شامل ہے، جس کی تفصیل فقہی کتب میں مذکور ہے۔

طاعت ِالٰہی میں انفاق واجبہ ہو یا نافلہ، خالص رضائے الٰہی کی نیت سے ہو۔ اگر اس میں دکھلاوا یا احسان جتلانے یا نام وری کا جذبہ شامل ہو گیا تو آخرت میں اجر سے محروم ٹھہرے گا۔

چوں کہ مشرکین دکھلاوے کے لیے خرچ کرتے تھے، اس لیے آیت ِکریمہ میں اصل خطاب انہیں کو ہے کہ خرچ بھی دکھلاوے کے لیے کرتے ہیں اور ایمان بھی نہیں رکھتے، اگر ایمان لائیں اور رضائے الٰہی کے لیے خرچ کریں تو آخرت میں بھی اجر پائیں، لیکن اس طرز بیان میں ایمان والوں کے لیے بڑا سبق ہے اور ریاکار کے لیے بڑی وعید پوشیدہ ہے، کیوں کہ اس آیت ِکریمہ میں ریاکاری کو کافروں کا عمل بتایا گیا ہے، گویا ریاکار وہی ہو سکتا ہے جو کافر و مشرک ہو، مومن سے ریاکاری کا وہم بھی نہیں کیا جاسکتا، اس اندازِ بیان سے ریاکاری کی قباحت واضح ہوتی ہے۔ (جاری)