بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

مبصر کے قلم سے

مبصر کے قلم سے

ادارہ

تبصرہ کے لیے کتاب کے دو نسخے ارسال کرنا ضروری ہے۔ صرف ایک کتاب کی ترسیل پر ادارہ تبصرے سے قاصر ہے۔ تبصرے کے لیے کتابیں صرف مدیر الفاروق یا ناظم شعبہ الفاروق کو بھیجی جائیں (ادارہ)

سوانح حیات حضرت مولانا مفتی محمد نعیم صاحب 
مرتبین: مولانا جہان یعقوب، مولانا محمد عدنان، مولانا امان الله
صفحات:591 سائز:20×30=8
ناشر: مکتبہ جامعہ بنوریہ العالمیہ، سائٹ ایریا، کراچی

مفتی محمد نعیم صاحب رحمة الله علیہ جامعة العلوم الاسلامیہ بنوری ٹاؤن کے فاضل وسابق استاذ اور جامعہ بنوریہ العالمیہ سائٹ ایریا کراچی کے بانی، مہتمم اور شیخ الحدیث تھے، الله تعالیٰ نے انہیں گوناگوں صفات وخصوصیات سے نوازا تھا، ان کا خاندان اصلاً پارسی تھا، جب کہ سب سے پہلے ان کے دادا جناب عبدالله صاحب مرحوم ومغفور نے اسلام قبول کیا تھا، مفتی صاحب کے والد گرامی قاری عبدالحلیم صاحب رحمة الله علیہ نے اپنے والد کی دعوت پر چار سال کی عمر میں اسلام قبول کر لیا تھا۔ اس نو مسلم خاندان سے حضرت مولانا مفتی محمد نعیم صاحب رحمة الله علیہ کی صورت میں الله تعالی ٰ نے دین کی بہت بڑی خدمت اور کام لیا اور پاکستان سمیت دنیا کے مختلف ممالک ان کے قائم کردہ ادارے سے مستفید ہوئے اور ہو رہے ہیں۔ مفتی صاحب  علاقائی اورعالمی مختلف مسائل میں میڈیا پر اہل حق کی ترجمانی کا فریضہ بھی انجام دیتے رہے او ران کی آواز انتہائی توانا او رمؤثر ہوا کرتی تھی، وہ اپنی ذات میں ایک انجمن تھے، طبیعت میں انتہائی سادگی تھی، کم زوروں ، لاچاروں اور مصیبت زدہ لوگوں کا تعاون اور سرپرستی ان کی پہچان تھی، کئی نو مسلم خاندانوں کو انہوں نے پناہ اور ٹھکانہ دیا، ان کی تعلیم وتربیت کا بندوبست کیا اور قانونی مسائل میں ان کا ساتھ دیا۔ وفاق المدارس کی مجلس عاملہ کے رکن تھے اور مدارس کے خلاف اٹھنے والی ہر آواز اور سازش کا مؤثر انداز میں جواب دیتے۔ زیر نظر کتاب میں ان کی شخصیت وخدمات اور زندگی کے مختلف گوشوں پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ کتاب کو دس حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے،حصہ اول تعارف، حصہ دوم مضامین، حصہ سوم تعزیتی بیانات، حصہ چہارم تعزیتی پیغامات ومکتوبات، حصہ پنجم طلبہ واساتذہ سے زندگی کی آخری گفت گو، حصہ ششم ایک یاد گار انٹرویو، حصہ ہفتم میڈیا کا خراج عقیدت،حصہ ہشتم میڈیا میں شائع ہونے والی خبریں، حصہ نہم تعلیمی وتدریسی زندگی پر طائرانہ نظر اور حصہ دہم تعارف جامعہ بنوریہ عالمیہ کے عنوان سے ہے۔ زیر نظر کاوش اگرچہ مفتی صاحب کی شخصیت وخدمات کے تعارف کے حوالے سے ناکافی معلوم ہوتی ہے، تاہم یہ نقش اوّل بھی مفتی صاحب کی شخصیت کے تعارف او ران کی حیات وخدمات کے مختلف پہلوؤں پربڑی حد تک روشنی ڈالتا ہے۔ الله تعالیٰ اس کاوش کو اپنی بارگاہ میں شرف قبولیت عطا فرمائے۔

کتاب کا کاغذ درمیانہ ہے اور سلیقے سے شائع کی گئی ہے۔

ضعیف حدیث کی شرعی حیثیت
تالیف: مولانا محمد انور کوہستانی
صفحات:367 سائز:23×36=16
ناشر: الصفہ اکیڈمی، فتح جنگ، اٹک، پاکستان

زیر نظر کتاب میں ان حضرات کی تردید پیش کی گئی ہے جو ضعیف حدیث کو موضوع روایت کی طرح بالکل ناقابل استدلال سمجھتے ہیں، جن میں شیخ ناصر الدین البانی او ران کے متبعین خاص طور پر قابل ذکر ہیں، مؤلف نے جمہور محدثین کے مذہب کو دلائل کی روشنی میں واضح کیا ہے کہ ضعیف حدیث کا اگر ضعف شدید نہ ہو تو وہ زہد ورقاق اور فضائل میں قابل حجت ہوسکتی ہے، نیز متقدمین میں سے جن حضرات کی طرف اول الذکر موقف کی نسبت کی جاتی ہے دلائل اور حوالہ جات کی روشنی میں اس کا رد پیش کیا ہے۔ کتاب کی ابتداء میں حدیث، اثر، خبر اور سنت کی تعریف واقسام کو بیان کیا گیا ہے، بعد ازاں کتاب کو تین ابواب میں تقسیم کیا گیا ہے، باب اول ضعیف حدیث اوراسباب ضعف، باب ثانی ضعیف حدیث کی استدلالی وعملی حیثیت اورباب سوم ضعیف حدیث کے بارے میں منفی پہلوؤں کا تنقیدی جائزہ کے عنوان سے ہے او ران میں سے ہر ایک باب دو فصول پر مشتمل ہے ۔ آخر میں کتاب کے مباحث کا خلاصہ او رمختلف فہارس شامل کی گئی ہیں۔ کتاب کے مؤلف مولانا محمد انور کوہستانی جامعہ فاروقیہ کراچی کے فاضل ومتخصص فی الحدیث ہیں اور یہ کتاب درحقیقت ان کے تخصص فی الحدیث سال دوم کا مقالہ ہے، جسے کتابی صورت میں پیش کیا گیا ہے۔

کتاب پر رئیس المحدثین شیخ الحدیث حضرت مولانا سلیم الله خان صاحب رحمة الله علیہ سمیت کئی حضرات کی تقاریظ ہیں۔ یہ کتاب اپنے موضوع پر ایک تحقیقی ، عمدہ اور قابل قدر تالیفی کاوش ہے اور دور حاضر میں ضعیف حدیث سے متعلق پائے جانے والے بہت سارے اوہام کا ازالہ کرتی ہے۔

کتاب کی طباعت واشاعت درمیانے درجے کی ہے۔

تذکرہ مفسرین پاکستان
تالیف: سید محمد قاسم
صفحات:480 سائز:23×36=16
ناشر: تذکرہ ہاؤس، اے136 سیکٹر11 بی، نارتھ کراچی

اس کتاب میں پاکستان سے تعلق رکھنے والے ان حضرات کا تعارف پیش کیا گیا ہے جو تفسیر کی صورت میں قرآن مجید کی خدمت کرچکے ہیں اورہر مسلک سے تعلق رکھنے والے افراد اس میں شامل ہیں۔ مفسرین کے ناموں کو حروف تہجی کی ترتیب پر مرتب کیا گیا ہے۔ تعارف میں جن کتابوں سے استفادہ کیا گیا ہے ہر تعارف کے آخر میں ان کے نام بھی لکھ دیے گئے ہیں، کتاب میں کلی اور جزوی طور پر قرآن مجید کی تفسیر لکھنے والے تمام حضرات کا تعارف شامل کیا گیا ہے، اس طرح اس کتاب میں پاکستان سے تعلق رکھنے والے تمام مفسرین کا تعارف آگیا ہے۔ کتاب کے آخر میں ”عربی کتب تفاسیر او ران کے مفسرین کرام“ کے عنوان سے جناب ضیاء چترالی صاحب کا ایک مقالہ بھی شامل کیا گیا ہے، جس میں36 اہم اور معروف عربی تفاسیر کا تعارف آگیا ہے۔ کتاب پر مقدمہ جناب محسن ملیح آبادی مرحوم نے تحریر کیا ہے او رانہوں نے مؤلف کی اس کاوش کو سراہا ہے، جب کہ دارالعلوم کراچی کے نائب مفتی ، مولانا مفتی محمد عبدالمنان صاحب نے اس پر تقریظ لکھی ہے ۔ یہ کتاب اپنے موضوع پر ایک اچھی اور عمدہ کاوش ہے۔

کتاب کاٹائٹل دیدہ زیب اور طباعت واشاعت درمیانے درجے کی ہے۔