بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

ماہِ صفر المظفر تاریخی حیثیت ،بدعات و خرافات احکام ومسائل

ماہِ صفر المظفر تاریخی حیثیت ،بدعات و خرافات احکام ومسائل

مولانا محمد ابوبکر حنفی شیخوپوری

اسلامی کیلنڈرکے اعتبارسے دوسرامہینہ صفرالمظفرہے۔ مشہورقول کے مطابق اس کی وجہ تسمیہ یہ ہے کہ صفرکے معنی لغت میں”خالی ہونے“ کے آتے ہیں۔اہل عرب کا دستور تھاکہ وہ حرمت والے چارمہینوں میں سے لگاتار آنے والے تین مہینوں ذوالقعدہ،ذوالحجہ اورمحرم الحرام میں مسلسل لڑائی جھگڑااور لوٹ مار موقوف کردینے کے باعث صفر کاآغازہوتے ہی اپنی پرانی عادت اور قدیم روایت کے مطابق لوٹ مار کابازارگرم کردیتے اوراس مذموم مقصدکے لیے ا پنے گھروں کوخالی چھوڑکرنکل پڑتے تھے۔ اس لیے اس مہینے کو صفرکہاجاتاہے۔

ماہ صفرالمظفرکی تاریخی حیثیت مسلمہ ہے۔غزوہ ودان (2ہجری) غزوہ بئرمعونہ(4ہجری)وفدبنی عذرہ کاقبول اسلام (9ہجری) لشکراسامہ بن زیدکی روانگی(11ہجری)فتح مدائن (16ہجری) اور دیگر اہم اسلامی اورتاریخی واقعات اورغزوات کے اس ماہ میں پیش آنے کی وجہ سے کوئی بھی اہل بصیرت اس کی تاریخی اہمیت وافادیت کا انکارنہیں کرسکتا۔ البتہ قرآن وسنت کی روسے اس مہینے کی کوئی خاص فضیلت ثابت ہے اورنہ ہی اس میں کوئی مخصوص عبادت مسنون اورمشروع ہے۔

طلوع اسلام سے قبل زمانہ جاہلیت میں لوگ اس مہینے کے متعلق بہت زیادہ توہم پرستی کا شکارتھے اور اس کے بارے میں عجیب وغریب قسم کے باطل نظریات گڑھ رکھے تھے ۔اس مہینے میں شدیددرجہ کی لوٹ ماراورجنگ وجدال کے باعث عمومی ذہن یہ بن گیاتھاکہ یہ منحوس مہینہ ہے۔چناں چہ لوگ اس مہینے میں سفرکرنے اورشادی بیاہ،ختنہ اور دیگر تقریبات منعقدکرنے سے گریزکرتے تھے،حضرت عبداللہ بن عباس فرماتے ہیں کہ لوگ اس مہینے میں عمرہ کرنے کو سخت ناپسندسمجھتے تھے۔آج کے تعلیمی ترقی کے دوراور متمدن زمانے میں بھی معاشرے کا ایک بہت بڑاطبقہ صفرکے مہینے میں شادی نہیں کرتااوریوں قدیم جہلاء کے طرز عمل پر کاربندہے۔

اسلام کی روشنی نمودارہونے کے بعدپیغمبراسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے جہاں دیگرباطل نظریات،فرسودہ روایات،توہمات اورقدیم خیالات کی سختی سے تردیدفرمائی وہیں اس مفروضے کو بھی یکسرمستردقراردیا ۔صحیح بخاری میں حضرت ابوہریرہ کی روایت سے جناب رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کافرمان منقول ہے:”کوئی بیماری(اللہ کی مشیت کے بغیر) متعدی نہیں ہوتی،نہ ہی بدشگونی کی کوئی حقیقت ہے،نہ ہی الوکی نحوست ہے،نہ ہی روح کی پکارہے اورنہ ہی صفرکی نحوست ہے“۔اس ماہ سے وابستہ باطل نظریات کی نفی کے لیے ہی صفر کے ساتھ”المظفر“ (بمعنی کامیاب)کا لفظ استعمال کرکے صفرالمظفرکہاجاتاہے۔

اس مہینے کی نحوست ثابت کرنے کے لیے ایک حدیث پیش کی جاتی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا” جس نے مجھے صفرکے گزرجانے کی بشارت دی میں اس کو جنت کی بشارت دوں گا“۔اس حدیث کی اسنادی حیثیت اس درجہ کی نہیں ہے کہ اس سے استدلال کیاجاسکے،چناں چہ ملاعلی قاری حنفی نے ”الموضوعات الکبری“میں اور دیگر کبار محدثین نے اپنی تصنیفات میں اس روایت کو موضوع اورمن گھڑت قراردیاہے۔فضائل اوروعیدات کے باب میں باتفاق روایات ضعیف روایات توقابل قبول ہیں،وہ بھی اس شرط کے ساتھ کہ ضعف شدید نہ ہو، لیکن اس کے لیے موضوع روایات کاسہارانہیں لیاجاسکتا۔

ماہ صفر کے ساتھ ایک اورجھوٹے واقعے کومنسلک کرکے ایک بدعت کا ارتکاب کیاجاتاہے ۔وہ یہ کہ بہت سے لوگ اس مہینے کے آخری بدھ کوسیروسیاحت کے لیے تفریحی مقامات پر گھومنے پھرنے کے لیے نکل پڑتے ہیں اورکہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس دن اپنی بیماری سے شفا یاب ہوکرچہل قدمی کے لیے اپنے حجرہ اقدس سے باہرتشریف لائے تھے۔یہ امرواقعہ نہیں، بلکہ خلاف حقیقت ہے،اس لیے کہ سیرت طیبہ کے مطالعہ سے معلوم ہوتاہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس دن بیماری سے شفا یاب نہیں ہوئے تھے، بلکہ اس دن تو آپ صلی الله علیہ وسلم کے مرض الوفات کا آغازہواتھا،چنانچہ استاذ المحدثین مولانامحمد ادریس کاندھلوی نے سیرة المصطفے میں البدایة والنہایہ کے حوالہ سے نقل کیا ہے:”ماہ صفر کے اخیر عشرہ میںآ پ صلی اللہ علیہ وسلم ایک بار شب کو اٹھے اوراپنے غلام ابومویہبہ کوجگایااور فرمایا مجھ کو حکم ہوا ہے کہ اہل بقیع کے لیے استغفار کروں،وہاں سے واپس تشریف لائے تودفعةً مزاج ناسازہو گیا،سر میں درد اور بخار کی شکایت پیدا ہو گئی ،یہ ام الموٴمنین میمونة کی باری کا دن تھااور بدھ کا روز تھا“۔لہذاخاص طورپر اس مہینہ کے آخری بدھ کو اہتمام کرکے سیر وسیاحت کے لیے نکلنا اوراس عمل کوسنت سمجھنا غلط ہے، جس کی شریعت میں کوئی اصل نہیں۔

ان حقائق کی روشنی میں یہ امر واضح ہوگیاکہ صفرکامہینہ نحوست سے پاک ہے،اس کو منحوس سمجھناجاہلانہ ذہن کی عکاسی کرتاہے۔فی نفسہ کسی بھی وقت اور زمانے میں نحوست نہیں ہوتی ،بلکہ اصل میں نحوست انسان کے اعمال بد میں ہوتی ہے، لیکن وہ اپنے کرتوتوں کاملبہ زمانے پر ڈال کرخود کو بری الذمہ کرلیتاہے ۔جیساکہ علامہ محمداقبال مرحوم نے فرمایا:
        اپنے جرموں پرپردہ ڈال کر اقبال
        ہرشخص کہہ رہاہے زمانہ خراب ہے
صحیح مسلم میں حضرت ابوہریرہ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد منقول ہے:”تم میں سے کوئی یہ نہ کہے کہ ارے زمانے کی کمبختی،اس لیے کہ زمانہ(کی گردش)تواللہ کے ہاتھ میں ہے“۔صحیح مسلم میں حضرت ابوہریرة سے ہی روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حق تعالی شانہ کا ارشاد نقل کرتے ہوئے فرمایا:”ابن آدم مجھے ایذاپہنچاتا ہے(اس صورت میں کہ)وہ زمانے کو گالی دیتا ہے، حالاں کہ میں ہی زمانہ(کی گردش کا محرک)ہوں“۔ نیزقرآن کریم میں اللہ رب العزت نے والعصرکہہ کرعمومی طورپربھی زمانے کی قسم اٹھائی اور زمانے کے مختلف اوقات صبح،چاشت، شام،رات اورسحری کے وقت کی قسم اٹھاکربھی زمانے کی عظمت کوواضح کیا۔لہٰذاانسان کو چاہیے کہ زمانے کوبرابھلاکہنے کی بجائے اپنے اعمال کی اصلاح کی طرف متوجہ ہو۔