بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

قرآن فہمی حدیث نبوی کے بغیر ممکن نہیں

قرآن فہمی حدیث نبوی کے بغیر ممکن نہیں

مولانا محمد نجیب قاسمی

قرآن
قرآنِ کریم الله تعالیٰ کا وہ عظیم الشان کلام ہے جو انسانوں کی ہدایت کے لیے خالقِ کائنات نے اپنے آخری رسول حضورِ اکرم صلی الله علیہ وسلم پر نازل فرمایا، تاکہ آپ صلی الله علیہ وسلم اپنے اقوال وافعال کے ذریعہ لوگوں کے سامنے اس کے احکام ومسائل بیان فرما دیں۔

حدیث
حدیث اُس کلام کو کہا جاتا ہے جس میں نبی ِ اکرم صلی الله علیہ وسلم کے قول یا عمل یا کسی صحابی کے عمل پر آپ صلی الله علیہ و سلم کے سکوت یا آپ صلی الله علیہ و سلم کی صفات میں سے کسی صفت کا ذکر کیا گیا ہو۔

قرآن وحدیث کی تعریف سے ہی یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ جس ذات ِ عالی پر قرآنِ کریم نازل ہوا، اس کے اقوال وافعال کے بغیر قرآن کریم کو کیسے سمجھا جاسکتا ہے؟! خود الله تبارک وتعالیٰ نے قرآن کریم میں متعدد مرتبہ اس حقیقت کو بیان فرمایا ہے، جن میں سے دو آیات مندرجہ ذیل ہیں:

1.. یہ کتاب ہم نے آپ صلی الله علیہ و سلم کی طرف اتاری ہے، تاکہ لوگوں کی جانب جو حکم نازل فرمایا گیا ہے، آپ صلی الله علیہ وسلم اسے کھول کھول کر بیان کر دیں، شاید کہ وہ غور وفکر کریں۔

2.. یہ کتاب ہم نے آپ صلی الله علیہ و سلم پر اس لیے اتاری ہے کہ تاکہ آپ صلی الله علیہ وسلم ان کے لیے ہر اس چیز کو واضح کر دیں جس میں وہ اختلاف کر رہے ہیں۔ (سورة النحل)

الله تعالیٰ نے ان دونوں آیات میں و اضح طور پر بیان فرما دیا کہ قرآنِ کریم کے مفسرِ اول حضور اکرم صلی الله علیہ وسلم ہیں اور الله تعالیٰ کی طرف سے نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم پر یہ ذمہ داری عائد کی گئی کہ آپ صلی الله علیہ و سلم امت ِ مسلمہ کے سامنے قرآن کریم کے احکام ومسائل کھول کھول کر بیان کریں۔ اور ہمارا یہ ایمان ہے کہ حضورِ اکرم صلی الله علیہ و سلم نے اپنے اقوال وافعال کے ذریعہ قرآن کریم کے احکام ومسائل بیان کرنے کی ذمہ داری بحسن وخوبی انجام دی۔ صحابہ کرام، تابعین اور تبع تابعین کے ذریعہ حضور ِ اکرم صلی الله علیہ و سلم کے اقوال وافعال یعنی حدیث نبوی کے ذخیرہ سے قرآن کریم کی پہلی اہم او ربنیادی تفسیر انتہائی قابل اعتماد ذرائع سے امت ِ مسلمہ کو پہنچی ہے، لہٰذا قرآن فہمی حدیث کے بغیر ممکن ہی نہیں ہے۔

الله تبارک وتعالیٰ نے قرآن کریم کی سینکڑوں آیات میں اپنی اطاعت کے ساتھ رسول کی اطاعت کا حکم دیا ہے۔ کہیں فرمایا: ﴿اطیعوالله وأطیعوا الرسول﴾، کہیں فرمایا: ﴿اطیعواالله ورسولہ﴾ اورکسی جگہ ارشاد ہے: ﴿اطیعوا الله والرسول﴾ اور کسی آیت میں ارشاد ہے: ﴿أطیعوا الرسول﴾ ان سب جگہوں پر الله تعالیٰ کی طرف سے بندوں سے ایک ہی مطالبہ ہے کہ فرمان ِ الہٰی کی تعمیل کرو اور ارشادِ نبوی صلی الله علیہ و سلم کی اطاعت کرو۔ غرضیکہ الله تعالیٰ نے قرآن حکیم میں متعدد جگہوں پر یہ بات واضح طور پر بیان کر دی کہ الله تعالیٰ کی اطاعت کے ساتھ رسول الله صلی الله علیہ وسلم کی اطاعت بھی ضروری ہے اور الله تعالیٰ کی اطاعت رسولِ اکرم صلی الله علیہ و سلم کی اطاعت کے بغیر ممکن ہی نہیں ہے۔ الله تعالیٰ نے ہمیں رسول کی اطاعت کا حکم دیا اور رسول کی اطاعت جن واسطوں سے ہم تک پہنچی ہے، یعنی احادیث کا دخیرہ، اگر ان پر ہم شک وشبہ کریں تو گویا ہم قرآنِ کریم کی سینکڑوں آیات کے منکر ہیں یا زبان حال سے یہ کہہ رہے ہیں کہ الله تعالیٰ نے ایسی چیز کا حکم دیا ہے یعنی اطاعت رسول، جو ہمارے اختیار میں نہیں ہے۔ سورة النساء،( آیت:80 )میں الله تعالیٰ نے رسول الله صلی الله علیہ وسلم کی اطاعت کو اطاعت ِ الہٰی قرار دیتے ہوئے فرمایا:”جس شخص نے رسول صلی الله علیہ وسلم کی اطاعت کی، اس نے دراصل الله تعالیٰ کی اطاعت کی۔“

سورہٴ آل ِ عمران( آیت:31) میں الله تعالیٰ نے اطاعت ِ رسول کو حب ِ الہٰی کا معیار قرار دیا، یعنی الله تعالیٰ سے محبت رسول ِ اکرم صلی الله علیہ وسلم کی اطاعت میں ہے، چناں چہ الله تعالیٰ نے ارشاد فرمایا: ”اے نبی! لوگوں سے کہہ دیں کہ اگر تم حقیقت میں الله تعالیٰ سے محبت رکھتے ہو تو میری پیروی اختیار کرو، الله تم سے محبت کرے گا او رتمہارے گناہوں کو معاف فرمائے گا۔“

الله تعالیٰ نے الله اور اس کے رسول صلی الله علیہ وسلم کی اطاعت پر دائمی جنت، نیز الله اور اس کے رسول صلی الله علیہ و سلم کی نافرمانی پر دائمی عذاب کا فیصلہ فرمایا۔ ”جو الله تعالیٰ اور اس کے رسول صلی الله علیہ و سلم کی اطاعت کرے گا، اسے الله تعالیٰ ایسی جنتوں میں داخل فرمائے گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی اور ان باغوں میں وہ ہمیشہ رہیں گے اور یہی بڑی کام یابی ہے۔ اور جو الله تعالیٰ اور اس کے رسول صلی الله علیہ وسلم کی نافرمانی کرے او راس کی مقررہ حدود سے آگے نکلے گا، اسے وہ جہنم میں ڈال دے گا، جس میں وہ ہمیشہ رہے گا، ایسوں ہی کے لیے رسوا کن عذاب ہے“۔ ( سورہٴ النساء) غرضیکہ الله اور اس کے رسول کی اطاعت نہ کرنے والوں کا ٹھکانا جہنم ہے۔ جو ا لله تعالیٰ اور اس کے رسول صلی الله علیہ وسلم کی اطاعت کرے گا، اسے الله تعالیٰ ایسی جنتوں میں داخل فرمائے گا،جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی۔ اور جو منھ پھیرے گا، اسے وہ درد ناک عذاب دے گا۔

الله تعالیٰ نے قیامت تک آنے والے انسانوں کے لیے حضور اکرم صلی الله علیہ وسلم کے قول وعمل، یعنی حدیث نبوی کو نمونہ بنا کر ارشاد فرمایا: ”یقینا تمہارے لیے رسول الله صلی الله علیہ وسلم میں عمدہ نمونہ موجو دہے، ہر اس شخص کے لیے جو الله تعالیٰ کی اور قیامت کے دن کی توقع رکھتا ہے اوربکثرت الله تعالیٰ کو یاد کرتا ہے“۔ (سورة الاحزاب) یعنی نبی ِ اکرم صلی الله علیہ وسلم کی پوری زندگی کے احوال جو احادیث کے ذخیرہ کی شکل میں ہمارے پاس محفوظ ہیں، کل قیامت تک آنے والے تمام انسانوں کے لیے بہترین نمونہ ہیں، تاکہ ہم اپنی زندگیاں اسی نمونہ کے مطابق گزاریں۔ سارے انبیاء کے سردار وآخری نبی حضورِ اکرم صلی الله علیہ وسلم نے بھی قرآن کریم کے ساتھ سنت رسول صلی الله علیہ و سلم کی اتباع کو ضروری قرار دیا ہے، حضورِاکرم صلی الله علیہ وسلم کے اقوال وافعال سے واقفیت کے بغیر اطاعت رسول ممکن ہی نہیں ہے اور حضور اکرم صلی الله علیہ وسلم کے اقوال وافعال حدیث کے ذخیرہ ہی میں تو ہیں۔ حدیث کی تقریباً ہر کتاب میں اطاعت ِ رسول کے متعلق نبی اکرم صلی الله علیہ و سلم کے ارشادات تواتر کے ساتھ موجود ہیں، ان میں سے صرف تین احادیث پیش خدمت ہیں:

1.. رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جس نے میری اطاعت کی، اس نے الله کی اطاعت کی اور جس نے میری نافرمانی کی، اس نے الله کی نافرمانی کی“۔ ( بخاری ومسلم)

2.. رسول ا لله صلی الله علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جب میں تمہیں کسی چیز سے روکوں تو اس سے باز آجاؤ، او رجب میں تمہیں کسی کام کا حکم دوں تو حسب استطاعت اس کی تعمیل کرو۔“

3.. رسول الله صلی ا لله علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”میری امت کے تمام افراد جنت میں جائیں گے، سوائے ان لوگوں کے جنہوں نے انکار کیا“۔ آپ صلی الله علیہ وسلم سے کہا گیا کہ : اے الله کے رسول! دخول جنت سے کون انکار کر سکتا ہے ؟ تو آپ صلی الله علیہ و سلم نے فرمایا:” جس نے میری اطاعت کی وہ جنت میں داخل ہوگیا اور جس نے میری نافرمانی کی، اس نے (دخول جنت سے) انکار کیا“۔ ( بخاری ومسلم)

رسول الله صلی الله علیہ وسلم کی اطاعت کی فرضیت پر اجماع امت
حضورِ اکرم صلی الله علیہ وسلم کی زندگی میں اور انتقال کے بعد صحابہٴ کرام رضی الله عنہم کے عمل سے، امت ِ مسلمہ نے، رسولِ اکرم صلی الله علیہ وسلم کی تعلیمات کی اتباع کے فرض ہونے پر اجماع کیا ہے، کیوں کہ صحابہٴ کرام رضی الله عنہم کسی بھی مسئلہ کا حل پہلے قرآن کریم میں تلاش کیا کرتے تھے، پھر نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کی سنت میں۔ اسی وجہ سے جمہور علمائے کرام نے وحی کی دو قسمیں کی ہیں:

1.. وحی متلو: وہ وحی جس کی تلاوت کی جاتی ہے، یعنی قرآنِ کریم، جس کا ایک ایک حرف کلام الہی ہے۔

2.. وحی غیر متلو: وہ وحی جس کی تلاوت نہیں کی جاتی، یعنی حدیث رسول صلی الله علیہ وسلم، جس کے الفاظ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کے ہیں، البتہ بات الله تعالیٰ کی ہے۔

جیسا کہ سورة النجم کی ابتدائی آیات سے واضح طور پر معلوم ہوتا ہے : ”اور نہ وہ اپنی خواہش سے کوئی بات کہتے ہیں ۔ وہ تو صرف وحی ہے جو اتاری جاتی ہے۔“ سورة البقرة آیت نمبر129 سے بھی یہ بات روز روشن کی طرح واضح ہو جاتی ہے : ”اے ہمارے رب! ان میں انہیں میں سے رسول بھیج ،جو ان کے پاس تیری آیتیں پڑھے، انہیں کتاب وحکمت سکھائے او ران کو پاکیزہ بنائے۔“ یہاں کتاب سے مراد قرآنِ کریم اور حکمت سے مراد حدیث ہے۔

قرآن ِ کریم میں مجمل احکام
قرآنِ کریم میں عموماً احکام کی تفصیل مذکور نہیں ہے، حتی کہ اسلام کے بنیادی ارکان نماز، روزہ، زکوٰة اور حج کے احکام بھی قرآن کریم میں تفصیل کے ساتھ مذکور نہیں ہیں۔ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے ا لله تعالیٰ کے حکم کے مطابق اپنے اقوال واعمال سے ان مجمل احکام کی تفصیل بیان کی ہے۔ الله تعالیٰ اسی لیے انبیاء ورسل بھیجتا ہے تاکہ وہ الله تعالیٰ کے احکام اپنے اقوال و اعمال سے امتیوں کے لیے بیان کریں۔ مثلاً الله تعالیٰ نے قرآن کریم میں بے شمار مقامات پر نماز پڑھنے، رکوع کرنے اور سجدہ کرنے کا حکم دیا ہے، لیکن نماز کی تفصیل قرآن کریم میں مذکور نہیں ہے کہ ایک دن میں کتنی نمازیں ادا کرنی ہیں؟ قیام یا رکوع یا سجدہ کیسے کیا جائے گا اور کب کیا جائے گا؟ اور اس میں کیا پڑھا جائے گا؟ ایک وقت میں کتنی رکعت ادا کرنی ہیں؟ اسی طرح قرآن کریم میں زکوٰة کی ادائیگی کا تو حکم ہے، لیکن تفصیلات مذکور نہیں ہیں کہ زکوٰة کی ادائیگی روزانہ کرنی ہے یا سال بھر میں یا پانچ سال میں یا زندگی میں ایک مرتبہ؟ پھر یہ زکوٰة کس حساب سے دی جائے گی؟ کس مال پر زکوٰة واجب ہے اور اس کے لیے کیا کیا شرائط ہیں؟ غرضیکہ اگر حدیث نبوی کو قرآن کی پہلی اہم او ربنیادی تفسیر ماننے سے انکار کر یں تو قرآن کریم کی وہ سینکڑوں آیات جن میں نماز پڑھنے، روزہ رکھنے، زکوٰة اور حج کی ادائیگی کا حکم ہے وہ سب نعوذ بالله بے معنی ہو جائیں گی۔

اسی طرح قرآن کریم ( سورة المائدہ) میں حکم ہے کہ چوری کرنے والے مرد وعورت کے ہاتھوں کو کاٹ دیا جائے۔ اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ دونوں ہاتھ کاٹیں یا ایک ہاتھ او راگر ایک ہاتھ کاٹیں تو داہنا کاٹیں یا بایاں ؟ پھر اسے کاٹیں تو کہاں سے؟ بغل سے؟ یا کہنی سے؟ یا کلائی سے ؟ یا ان کے بیچ میں کسی جگہ سے؟ پھر کتنے مال کی قیمت کی چوری پر ہاتھ کاٹیں؟ اس مسئلہ کی مکمل وضاحت حدیث میں ہی ملتی ہے، معلوم ہوا کہ قرآن کریم کو حدیث کے بغیر نہیں سمجھا جاسکتا۔

اسی طرح قرآن کریم ( سورة الجمعہ) میں ارشاد ہے کہ جب جمعہ کی نماز کے لیے پکارا جائے تو الله تعالیٰ کے ذکر کی طرف دوڑ و اور خرید وفروخت چھوڑ دو۔ سوال ہے کہ کہ جمعہ کا دن کون سا ہے؟ یہ اذان کب دی جائے؟ اس کے الفاظ کیا ہوں؟ جمعہ کی نماز کب ادا کی جائے؟ اس کو کیسے پڑھیں؟ خرید وفروخت کی کیا کیا شرائط ہیں؟ اس مسئلہ کی مکمل وضاحت احادیث میں ہی مذکو رہے۔نزول قرآن کی کیفیت کا بیان، مختلف سورتوں وآیات کے پڑھنے کی خاص فضیلت کا ذکر، آیات کا شان نزول، قرآن ِ کریم میں مذکور انبیاء اور ان کی امتوں کے واقعات کی تفصیل، ناسخ ومنسوخ کی تعیین۔ اسی طرح حفاظت قرآن کے مراحل کا بیان احادیث میں ہی تو ہے، لہٰذا حدیث کے بغیر قرآن کریم کو کیسے سمجھا جاسکتا ہے؟

ایک وضاحت
الله تعالیٰ نے ہمیں قرآن کریم میں تدبر وتفکر کرنے کا حکم دیا ہے، مگر یہ تدبر وتفکر مفسر اول حضور اکرم صلی الله علیہ وسلم کے اقوال وافعال کی روشنی میں ہی ہونا چاہیے، کیوں کہ الله تعالیٰ ہی نے متعدد جگہوں پر ارشاد فرمایا ہے کہ: ”اے نبی! یہ کتاب ہم نے آپ پر نازل فرمائی ہے، تاکہ آپ صلی الله علیہ وسلم اس کلام کو کھول کھول کر لوگوں کے لیے بیان کر دیں۔“ اورہمارا یہ ایمان ہے کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے اپنی اس ذمہ داری کو بخوبی انجام دیا۔ لیکن کچھ حضرات قرآن کریم کی تفسیر میں نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کے اقوال وارشادات کو ضعیف قرار دے کر اپنی رائے تھوپنا شروع کر دیتے ہیں،جو کہ سراسر غلط ہے۔

یقینا ہمیں قرآنِ کریم سمجھ کر پڑھنا چاہیے، کیوں کہ یہ کتاب ہماری ہدایت وراہ نمائی کے لیے الله تعالیٰ نے نازل فرمائی ہے۔ نیز نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے قرآن ِ کریم سے احکام کھول کھول کر بیان فرما دیے ہیں، لیکن ہمارے لیے ضروری ہے کہ جن مسائل میں بھی نبی ِ اکرم صلی الله علیہ و سلم کے اقوال یا اعمال سے راہ نمائی مل سکتی ہے، خواہ حدیث کی سند میں تھوڑا ضعف بھی ہو، ان مسائل میں اپنے اجتہاد وقیاس او راپنے عقلی گھوڑے دوڑانے کے بجائے نبی ِ اکرم صلی الله علیہ وسلم کے اقوال واعمال کے مطابق ہی عمل کریں، نئے نئے مسائل کے حل کے لیے قرآن ِ کریم میں تدبر وتفکر اور حدیث نبوی کے ذخیرہ میں غوطہ اندوزی ضرور کریں ،مگر قرآن وحدیث کو بالائے طاق رکھ کر نہیں، بلکہ قرآن و حدیث کی روشنی ہی میں۔

ایک شبہ کا ازالہ
بعض حضرات قرآن کریم کی چند آیات مثلاً ﴿ تبیانا لکل شیءٍ﴾(سورہ ٴالنحل) اور ﴿ تفصیلا لکل شیءٍ﴾(سورہٴ الانعام) سے غلط مفہوم لے کر یہ بیان کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ قرآن ِ کریم میں ہر مسئلہ کا حل ہے اور قرآن کریم کو سمجھنے کے لیے حدیث کی کوئی خاص ضرورت نہیں ہے۔ حالاں کہ حدیث ِ رسول صلی الله علیہ سلم بھی قرآن ِ کریم کی طرح شریعت ِ اسلامیہ میں قطعی دلیل او رحجت ہے، جیسا کہ الله تبارک وتعالیٰ نے اپنے پاک کلام میں متعدد مقامات پر مکمل وضاحت کے ساتھ ذکر کیا ہے۔ نیز قرآن ِ کریم میں یہ کہا ں ہے کہ جو قرآن میں ہو بس اسی پر عمل کرنا لازم ہے؟ بلکہ قرآن ِ کریم میں الله تبارک وتعالیٰ نے سینکڑوں آیات ﴿اطعیواالله وأطیعوا الرسول﴾،﴿ اطیعوا الله ورسولہ﴾، ﴿اطیعوا الله والرسول﴾، ﴿اطیعوا الرسول﴾میں رسول ِ اکرم صلی الله علیہ وسلم کی اطاعت کا حکم دیا ہے، بلکہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم کی اطاعت کو اپنی اطاعت قرار دیا ہے ﴿من یطع الرسول فقد اطاع الله﴾ اگر قرآن ِ کریم ہی ہمارے لیے کافی ہے تو پھر الله تعالیٰ نے قرآن کریم میں جگہ جگہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم کی اطاعت کا حکم کیوں دیا ہے ؟

دوسرے شبہ کا ازالہ
بعض حضرات سند ِ حدیث کی بنیاد پر ہوئی احادیث کی اقسام یا راویوں کو ثقہ قرار دینے میں محدثین وفقہاء کے اختلاف کی وجہ سے حدیث ِ رسول صلی الله علیہ وسلم کو ہی شک وشبہ کی نگاہ سے دیکھتے ہیں، حالاں کہ انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ الله تعالیٰ نے قرآنِ کریم کو قیامت تک آنے والے تمام عرب وعجم کی راہ نمائی کے لیے اپنے آخری رسول حضورِ اکرم صلی الله علیہ وسلم پر نازل فرمایا ہے اور قیامت تک اس کی حفاظت کا وعدہ کیا ہے۔

اور اسی قرآن ِ کریم میں الله تعالیٰ نے متعدد جگہوں پر ارشاد فرمایا ہے کہ ”اے نبی! یہ کتاب ہم نے آپ پر نازل فرمائی ہے، تاکہ آپ صلی الله علیہ و سلم اس کلام کو کھول کھول کر لوگوں کے لیے بیان کر دیں۔“ تو جس طرح الله تعالیٰ نے قرآن کریم کے الفاظ کی حفاظت کی ہے، اس کے معافی ومفاہیم، جو نبی ِ اکرم صلی الله علیہ وسلم نے بیان فرمائے ہیں وہ بھی کل قیامت تک محفوظ رہیں گے، ان شاء الله۔ قرآن ِ کریم کے الفاظ کے ساتھ اس کے معنی ومفہوم کی حفاظت بھی مطلوب ہے، ورنہ نزول ِ قرآن کا مقصد ہی فوت ہو جائے گا۔

الله تعالیٰ ہم سب کو قرآن وحدیث کے مطابق زندگی گزارنے والا بنائے، آمین ثم آمین۔