بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

قبولِ ہدایت میں ایک رکاوٹ حسد ہے

قبولِ ہدایت میں ایک رکاوٹ حسد ہے

 

ہر باطل فرقہ اپنی آواز کو مؤثر بنانے کے لیے بظاہر قرآن کریم ہی کی دعوت لے کر اٹھتا ہے، بالخصوص موجودہ زمانے میں یہ فتنہ بکثرت پھیل رہاہے ، اس لیے استاذ المحدثین حضرت مولانا شیخ سلیم الله خان صاحب نوّر الله مرقدہ کی دیرینہ خواہش تھی کہ قرآن کریم کی اردو میں ایسی جامع تفسیر منظر عام پر لائی جائے جس میں فرق باطلہ کے مستدلات کا تفصیلی علمی تعاقب کرکے اہل سنت والجماعت کا مؤقف واضح کر دیا جائے، چناں چہ اس مقصد کے پیش نظر جامعہ کے شعبہ دارالتصنیف میں حضرت کے افادات مرتب کرنے کا سلسلہ جاری ہے ، الله تعالیٰ اپنی توفیق سے اسے پایہٴ تکمیل تک پہنچائے ۔ آمین۔ (ادارہ)
﴿أَمْ یَحْسُدُونَ النَّاسَ عَلَی مَا آتَاہُمُ اللّہُ …﴾ آں حضرت صلی الله علیہ وسلم کی رسالت پر ایمان نہ لانے کی ایک وجہ حسد ہے،یہود اپنا سلسلہ نسب حضرت اسحق علیہ السلام تک جوڑنا پسند کرتے ہیں، چناں چہ تورات کی کتاب پیدائش میں مذکور ہے: اسحاق سے تیری نسل کا نام چلے گا۔ (پیدائش:21،21)

اس نسلی تفاخر کی وجہ سے یہ اس زعم میں مبتلا ہوگئے کہ نبوت ورسالت،اقتدارو حکومت پر ہمیشہ ان کا سکہ چلتا رہے گا، لیکن جب ختمِ نبوت کا تاج بنی اسماعیل کے ایک عظیم فرد حضرت محمد صلی الله علیہ وسلم کے سر مبارک پررکھ دیا گیا، تو یہود پر قیامت گزر گئی، یہود خود کو کئی وجوہ کی بنا پر اعلیٰ اور برتر سمجھتے تھے:

ایک تو اس لیے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی نسل جس کے نام سے چلنے کا وعدہ تورات میں کیا گیا تھا بقول یہود وہ حضرت اسحق علیہ السلام تھے، لہٰذا ختم نبوت کے اعزاز کے حقیقی مستحق بھی آل اسحق ہونے چاہیے تھے نہ کہ آل اسماعیل۔

حضرت اسحق کی نسل میں نبوت کا ایک طویل سلسلہ چلتا آرہا تھا، حضرت یوسف، حضرت موسیٰ، حضرت یوشع، حضرت داؤد، حضرت سلیمان، حضرت یونس، حضرت ذوالکفل، حضرت زکریا، حضرت یحییٰ، حضرت عیسیٰ علیہ السلام(جنہیں اگرچہ یہود نبی تسلیم کرنے سے انکاری تھے) جیسے جلیل القدر انبیا کا تعلق آل اسحاق سے تھا، بنی اسمعیل میں کوئی نبی نہیں آیاتھا، اس لیے یہودیوں کا زعم تھا کہ آخری نبی بھی حضرت اسحق علیہ السلام کی نسل سے ہوگا، جب آخری نبی کا ظہور بنو اسماعیل میں ہوا تویہودحسد میں مبتلا ہوگئے۔

یہود اہلِ کتاب تھے، جب کہ بنو اسماعیل اُمیّ تھے، ان میں کوئی آسمانی کتاب بھی نہیں تھی، پڑھنے لکھنے کا رواج نہیں تھا، معاشرتی تمدن سے بھی محروم تھے، اس لیے یہودیوں کی نظر میں ہمیشہ حقیررہے، جب آخری نبی ایسی قوم میں ظاہرہوئے تو یہودیوں میں حسد کی آگ بھڑک اٹھی اور آپ پرایمان لانے کی بجائے آپ کی تکذیب پر آمادہ ہو گئے۔

یہود کے حاسدانہ جذبات پرچوٹ لگاتے ہوئے ان پرواضح کیاگیاہے کہ نبوت و رسالت، اقتدار ومملکت اللہ تعالیٰ کافضل ہے، کسی کا استحقاق نہیں ہے کہ نہ ملنے پر چیں بہ جبیں ہوجایا جائے، اللہ تعالیٰ علیم و حکیم ذات ہے، وہ بربنائے مصلحت ومشیّت جسے چاہے اس منصب کے لیے منتخب کردے، کسی کو اس انتخاب پر چوں چراں کرنے کا اختیار نہیں ہے، اسی کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے واضح فرمایا:﴿فَقَدْ آتَیْْنَا آلَ إِبْرَاہِیْمَ الْکِتَابَ وَالْحِکْمَةَ وَآتَیْْنَاہُم مُّلْکاً عَظِیْماً﴾یہاں آل ابراہیم سے کون مرادہیں؟

ایک احتمال یہ ہے کہ اس سے بنو اسحاق اور بنو اسماعیل دونوں مراد ہیں، گو اللہ تعالیٰ نے یاد دلایا کہ جس طرح بنو اسحاق آل ابراہیم کا حصہ ہیں، اسی طرح بنو اسماعیل بھی آل ابراہیم کا حصہ اور اس کی نسل ہیں، جس طرح بنو اسحاق میں کتاب و حکمت اور بعضوں کو حکومت و مملکت بھی عطا کی گئی ہے (جیسے حضرت داؤد علیہ السلام اور حضرت سلیمان علیہ السلام)، جسے سعادت مندوں نے بخوشی قبول کیا اور بدبختوں نے اعراض برتا، اسی طرح بنو اسماعیل میں کتاب و حکمت یعنی نبوت اور اسی کے ساتھ اقتدار ومملکت کا فیصلہ کر دیا گیا، سرورِ دو عالم صلی الله علیہ وسلم بنو اسماعیل میں ختمِ نبوت کا تاج سجاکر، قرآن کریم لے کر، صاحب ِاقتدار بن کر ظہور پذیر ہو چکے ہیں، ازل کے خوش قسمت ان کے دامن سے وابستہ ہوکر ہمیشہ کے لیے کام یاب ٹھہریں گے اور ازل کے بد بختوں کے لیے دنیا میں دربدری اور ذلت کا عذاب ہے،روزِ قیامت قہرِ الٰہی انہیں اپنے انجام سے دوچار کرنے کے لیے بے تاب ہے۔

دوسرا احتمال یہ ہے کہ آلِ ابراہیم سے صرف بنو اسماعیل مراد ہوں، کیوں کہ اس آیت سے پہلے بنو اسحاق پر زجر وتوبیح کی گئی، انہیں لعنت کا مستحق گردانا گیا، اس کے بعد آل ابراہیم کے عنوان سے کتاب ونبوت، اور اقتدار کے عنوان کا تذکرہ کرنا اس بات کا واضح قرینہ ہے کہ یہاں ”آل ابراہیم“سے بنو اسماعیل مراد ہیں، انہیں ”کتاب“قرآن کریم کی صورت میں عطا کی گئی اور ”حکمت“ آں حضرت صلی الله علیہ وسلم کی نبوت و رسالت کی صورت میں عطا کی گئی، اور مستقبل میں بااختیار اقتدار و مملکت کی پیش گوئی صیغہ ماضی کے ساتھ یقینی واقعہ کی صورت میں بناکر بیان کی گئی، یہ وہی پیش گوئی ہے جس کی بشارت تورات میں ان لفظوں کے ساتھ موجودہے:

”(10) اور خداوند کے فرشتے نے اس سے کہا کہ میں تیری اولاد کو بہت بڑھاؤں گا، یہاں تک کہ کثرت کے سبب سے اس کا شمار نہ ہوسکے گا، (11) اور خداوند کے فرشتے نے اس سے کہا کہ تو حاملہ ہے اورتیرا بیٹا ہوگا، اس کا نام اسماعیل رکھنا، اس لیے کہ خداوند نے تیرا دکھ سن لیا ہے، (12) وہ گورخر کی طرح آزاد مرد ہوگا، اس کا ہاتھ سب کے خلاف اورسب کے ہاتھ اس کے خلاف ہوں گے اور اپنے سب بھائیوں کے سامنے بسا رہے گا“۔(پیدائش:16،10،11،12)
پیدائش کے بائیسویں باب میں بنو اسماعیل کے اقتدار کی پیش گوئی کا اظہارا ن الفاظ میں ہے:

”اور خداوند کے فرشتے نے آسمان سے دوبارہ ابراہام کو پکارا اورکہا کہ خداوند فرماتا ہے چوں کہ تو نے یہ کام کیا، اپنے بیٹے کو بھی جو کہ تیرا اکلوتا ہے، دریغ نہ رکھا اس لیے میں نے بھی اپنی ذات کی قسم کھائی ہے کہ میں تجھے برکت پر برکت دوں گا، اور تیری نسل کو بڑھاتے بڑھاتے آسمان کے تاروں اور سمندر کے کنارے کی ریت کے مانند کر دوں گا اورتیری اولاد اپنے دشمن کے پھاٹک کی مالک ہو گی“۔(پیدائش:22،15،16،17)

برکت اور کثرتِ نسل اور اقتدار کی پیدائش کی پیش گوئی بنو اسماعیل سے تعلق رکھتی ہے، نہ کہ بنو اسحق سے، اگرچہ یہود نے اپنے روایتی عمل ”تحریف“ کے ذریعے اس کا مصداق بنو اسحق کو قرار دیا ہے، لیکن اس سے ان کے تحریفی عمل مزید نمایاں بن کر آشکارا ہوا، اختصار کے ساتھ ان وجوہات کے ذکرپراکتفا کیا جاتاہے، جس سے اس کا مصداق بنو اسماعیل ہونا ثابت ہوتاہے۔

اس میں جس بیٹے کا تذکرہ ہے اس کے متعلق ”اکلوتا“ کا تذکرہ ہے، اکلوتا بیٹا ہونے کا شرف حضرت اسماعیل علیہ السلام کو ہے، اس لیے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام ہی آپ کے اکلوتے اور پہلوٹے صاحبزادے تھے، حضرت اسحق علیہ السلام بعد میں اس وقت پیداہوئے جب حضرت اسماعیل علیہ السلام چودہ برس کے تھے، حضرت اسحق علیہ السلام پر اکلوتے کا مصداق نہیں ہو سکتا۔

یہ آزمائش بھی اسی وقت بن سکتی ہے جب چھیاسی سال کی عمر میں دعاؤں کے نتیجے میں پیدا ہونے والے اکیلے بیٹے کی قربانی مانگی جائے، اگرسارہ یا قطورہ سے حضرت ابراہیم علیہ السلام کے دیگر بیٹے موجود ہوتے تویہ قربانی اتنی اہمیت نہ رکھتی۔

اگر اکلوتا بیٹا جسے راہ الٰہی میں قربان کیاگیا وہ حضرت اسحق ہوتے تو یہود و نصاری ضرور ان کی یادگار مناتے، مگر الٹی سیدھی یادگاریں منانے والی قوم یہود اور قوم نصاری حضرت اسحق کے ذبح ہونے پربھی کوئی یاد گار نہیں مناتی …،کیوں کہ یہود ونصاری کا اس ذبیح سے کوئی تعلق نہیں ہے، اس لیے ان میں یہ واقعہ یادگار نہیں بن سکا، جب کہ مسلمان حضرت اسماعیل علیہ السلام کو” اکلوتا بیٹا“ کا مصداق قرار دے کر اسے ذبیح مانتے ہیں، اس لیے پوری دنیا میں بکھرے ہوئے مسلمان دس ذو الحجہ کو جوش و خروش کے ساتھ قربانی کا تہوار مناکر اس کی یاد بھی تازہ کرتے ہیں۔

یہود کی تعداد نہ آسمان کے تاروں جتنی ہے نہ ریت کے ذروں کے برابر ، اس لیے اس کا مصداق بنو اسماعیل ہی ہیں، نصاری بھی اس پیشن گوئی کا مصداق نہیں بن سکتے، کیوں کہ اگرچہ ان کی تعداد بکثرت ہے، مگر انہوں نے ابدی عہد ختنہ کرانے کو چھوڑ کر خود کو بنو اسحق سے الگ کر دیا، وہ شریعت کو لعنت قرار دے کر ایک یہودی پولس کی پیروی کر کے راہِ حق سے بھٹک چکے ہیں۔

دشمنوں کے پھاٹک کے مالک، کی بشارت بھی بنو اسحاق پر صادق نہیں آتی، صدیوں سے در بدر ہیں، اپنے جدی پشتی ملک کی حفاظت بھی نہیں کر سکے، بنو اسماعیل ہی ہیں جو دشمنوں کے پھاٹک کے مالک بنے ہوئے ہیں۔

حسد کاوبال
حسد کہتے ہیں:کسی کی دینی یا دنیاوی نعمت دیکھ کر اس کے زوال کی تمناکرنا۔ (ریاض الصالحین، ص:445، مؤسسة الرسالة)

اگرزوال کی تمنا نہ ہو بلکہ کسی کی دینی یا دنیاوی نعمت دیکھ کر یہ خواہش پیدا ہو کہ مجھے بھی یہ نعمت مل جائے تو حسد نہیں ہے، اسے ”غبطہ“ یعنی رشک کہتے ہیں، حسد کرنا حرام ہے اور گناہِ کبیرہ ہے، رشک کرنا جائز ہے، اگر کسی کی دنیاوی یا دینی نعمت کو دیکھ کر ٹھیس اٹھے، مگر اللہ تعالی کی تقدیر اور فیصلے پر راضی رہتے ہوئے اس پر صبر کر لے اور دوسرے کی نعمت کے زوال کی تمنا نہ کرے، تو اس صبر پر اجر وثواب ہے۔

حسد انتہائی خطرناک روحانی بیماری ہے، حسد کی وجہ سے ابلیس راندہٴ درگاہ ہوا، حسد کی بنا پر انسانیت کا پہلا قتل ہوا، حسد کاسب سے بڑا وار خود حاسد پر پڑتا ہے، ہر وقت رنج و الم میں رہتاہے، اسی فکر میں گھلتا رہتا ہے کہ کاش! فلاں کے ساتھ یہ ہوجائے، وہ ہو جائے، اسی جذبہ میں مغلوب ہوکر کئی عملی اقدامات اٹھاکر ہمیشہ کی ذلت ورسوائی اپنے سر پر اٹھا لیتاہے، دین تو برباد ہوہی جاتا ہے، دنیا بھی برباد ہو جاتی ہے، اسے دنیا میں کوئی فرحت نصیب نہیں ہوتی، ہمیشہ مغموم ، شکستہ دل کے ساتھ، مردنی چہرہ لیے ذلیل و خوارہوتاہے، اللہ تعالی کے فیصلوں پر راضی نہ ہونے والوں کا یہی انجام ہوتا ہے ، یہود نے آپ کے منصب نبوت سے حسد کیا، آپ کی تکذیب کی، حسد کی بنا پر مشرکین کے اتحادی بنے ، ان کے عقیدہ شرک کو عقیدہ توحید سے بہتر قرار دیا، نتیجہ میں دربدر ہوئے، خدا کے غضب کا شکار ہوئے، دنیا و آخرت میں تباہی مقدر ٹھہری، یہ سب حسد کی نحوست ہے، جس کا تذکرہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے:﴿أَمْ یَحْسُدُونَ النَّاسَ عَلَی مَا آتَاہُمُ اللّہُ مِن فَضْلِہِ ) یہاں﴿النَّاسَ﴾ سے نبی کریم صلی الله علیہ وسلم اور امت ِمسلمہ مراد ہے، آں حضرت صلی الله علیہ وسلم نے اپنی امت کو حسد سے بچنے کی تاکید فرمائی۔

حضرت ابو ہریرہ رضی الله عنہ بیان کرتے ہیں کہ آں حضرت صلی الله علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:تم بدگمانی سے بچو، اس لیے کہ بدگمانی سب سے زیادہ جھوٹ پر مشتمل ہوتی ہے، نہ کسی کے عیوب کی ٹوہ میں پڑو، نہ ایک دوسرے پر حسد کرو اور نہ غیبت کرو اور نہ بغض رکھو اور اللہ تعالیٰ کے بندے بھائی بن کر رہو۔(صحیح البخاری، رقم الحدیث:1002)

حضرت ابو ہریرہ رضی الله عنہ بیان کرتے ہیں کہ آں حضرت صلی الله علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: … کسی مسلمان کے دل میں ایمان اور حسد اکٹھے نہیں رہ سکتے۔(سنن النسائی، رقم الحدیث:1020)

حضرت عبداللہ بنعمررضی الله عنہما بیان فرماتے ہیں: کوئی شخص اس وقت تک عالم نہیں ہوسکتا جب تک وہ اپنے سے برتر شخص سے حسدکرنے سے بازنہ آجائے اوراپنے سے کم تر شخص کو حقیرسمجھنے سے اجتناب نہ کرے اور اپنے علم کے عوض میں کسی معاوضے کاطلب گارنہ ہو۔(سنن الدارمی، رقم الحدیث:298)

حضرت عقبہ بن عامر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ آنحضرت صلی الله علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:مجھے اس کا اندیشہ نہیں ہے کہ تم میرے بعدمشرک ہو جاؤگے، البتہ اس کا اندیشہ ہے کہ تم آپس میں ایک دوسرے سے دنیا کے مزوں میں پڑھ کر حسد نہ کرنے لگو۔(صحیح البخاری، رقم الحدیث:1218)

﴿إِنَّ اللّہَ یَأْمُرُکُمْ أَن تُؤدُّواْ الأَمَانَاتِ إِلَی أَہْلِہَا وَإِذَا حَکَمْتُم بَیْْنَ النَّاسِ أَن تَحْکُمُواْ بِالْعَدْلِ إِنَّ اللّہَ نِعِمَّا یَعِظُکُم بِہِ إِنَّ اللّہَ کَانَ سَمِیْعاً بَصِیْراً، یَا أَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُواْ أَطِیْعُواْ اللّہَ وَأَطِیْعُواْ الرَّسُولَ وَأُوْلِیْ الأَمْرِ مِنکُمْ فَإِن تَنَازَعْتُمْ فِیْ شَیْْء ٍ فَرُدُّوہُ إِلَی اللّہِ وَالرَّسُولِ إِن کُنتُمْ تُؤْمِنُونَ بِاللّہِ وَالْیَوْمِ الآخِرِ ذَلِکَ خَیْْرٌ وَأَحْسَنُ تَأْوِیْلاً﴾․ (سورة النساء، آیت:59-58)

بے شک اللہ تم کو فرماتا ہے کہ پہنچا دو امانتیں امانت والوں کو اور جب فیصلہ کرنے لگو لوگوں میں تو فیصلہ کرو انصاف سے، اللہ اچھی نصیحت کرتا ہے تم کو، بے شک اللہ ہے سننے والا، دیکھنے والاO اے ایمان والو! حکم مانو اللہ کا اور حکم مانو رسول کا اور حاکموں کا جو تم میں سے ہوں، پھر اگر جھگڑ پڑو کسی چیز میں تو اس کو رجوع کرو طرف اللہ کی اور رسول کے، اگر یقین رکھتے ہو اللہ پر اور قیامت کے دن پر، یہ بات اچھی ہے اور بہت بہتر ہے اس کا انجامO۔

تفسیر… امانت کی تعریف
﴿إِنَّ اللّہَ یَأْمُرُکُمْ…﴾اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے امانتوں کو ان لوگوں تک پہنچانے کا حکم دیا جو اس کا استحقاق رکھتے ہیں۔ ابن منظور افریقی نے ”لسان العرب“میں امانت کی تعریف ”ضد الخیانة“سے کی ہے، یعنی امانت خیانت کی ضدہے۔(لسان العرب:1/223) حضرت عمر رضی الله عنہ سے منقول ہے:”الأمانة أن لا تخالف سریرة علانیة․“ (تاریخ طبری:4/213) انسان کی اندرونی کیفیت ظاہری کیفیت کے مخالف نہ ہو، یہ امانت ہے۔

ابنِ کثیر رحمة الله علیہ فرماتے ہیں:انسان کے ذمے جو حقوق اللہ عائد ہیں او ر جو حقوق العبادعائد ہیں ان سب کو ادا کرنے کا نام امانت ہے، مثلاً، نماز، زکوة، روزہ، کفارے، نذر، عبادت اللہ تعالیٰ کا حق ہے اور ہر مسلمان اس کی ادائیگی کا مکلف ہے، اسی طرح حقوق العباد کو ادا کرنا، جیسے حق نفقہ، معاہدوں کی پاس داری کرنا، وعدے ا یفا کرنا، ذمہ داروں کو اور ہر قسم کے معاملات میں جھوٹ، دھوکہ دہی سے مجتنب رہنا مومن کی ذمہ داری ہے، اگر اس میں کوتاہی کرے گا تو امانت میں خیانت کرنے کی وجہ سے مواخذہ ہو گا، آں حضرت صلی الله علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”لتؤدون الحقوق إلی أھلھا حتیٰ یقتَصَّ للشاة الجماء من القرناء“ (روزِقیامت) اہل حق کو ان کے حقوق ہر صورت ادا کیے جائیں گے، یہاں تک کہ بے سینگ بکری کا قصاص بھی سینگ والی بکری سے لیا جائے گا، (ٹکرمارنے کی وجہ سے) اسی طرح ہر صاحبِ اختیار پر لاز م ہے کہ وہ دینی ودنیاوی معاملات میں مناسب عہدے اور ذمہ داریاں ایسے لوگوں کے سپرد کرے جو واقعتا اس کے اہل ہوں، وگرنہ یہ ان عہدوں اور ذمہ داریوں سے بھی خیانت ہوگی اور اپنے اختیارات کے ساتھ بھی خیانت ہو گی۔ (تفسیرابن کثیر، النساء، ذیل آیت:58)

علامہ شامی رحمة الله علیہ فرماتے ہیں:
”فکل من کان أعرف وأقدر وأوجہ وأھیب وأصبر علیٰ ما یصیبہ من الناس کان أولی، وینبغی للسلطان أن یتفحص ذلک ویولی من ھو أولیٰ لقولہ علیہ السلام:”من قَلّد إنسانًا عملا وفی رعیتہ من ھو أولی فقد خان اللّٰہ ورسولہ وجماعة المسلمین․“(رد المحتار، کتاب القضا:4/339)

جو شخص جس منصب اور عہدے کے لیے معروف ہو، دوسروں کی نسبت اس پر زیادہ مہارت رکھتا ہو، مقبول اور پر عزم ہو اور صابر مزاج ہواور مفوضہ ذمہ داری کے لیے بہتر ہو، صاحبِ اختیار کے لیے ضروری ہے ایسے شخص کی اس کام کے لیے تقرری کرے، کیوں کہ نبی کریم صلی الله علیہ وسلم سے منقول ہے جو شخص مسلمانوں کے امور میں سے جس پر صاحبِ اختیار بن گیا، پھر اس نے مسلمانوں کے معاملات میں کسی ایسے شخص کا تقررکیا کہ اس سے بہتر کوئی دوسرا فرد موجود تھا، اس نے اللہ، اس کے رسول اور مسلمانوں سے خیانت کی۔(تفسیر مظہری، النساء، ذیل آیت:58)
آپ علیہ السلام کی سیرت سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ علیہ السلام نے ادائے منصب میں صرف اہلیت کومقدم رکھا ہے، ذاتی تعلق، عبادت وطاعت میں کثرت کو مدارِ منصب نہیں بنایا، جس میں یہ اہلیت نہ پاتے اسے صاف منع فرما دیتے، جس میں اہلیت پاتے اسے از خودپیش کش فرما دیتے، حضرت ابو ذر غفاری رضی الله عنہ بیان کرتے ہیں:میں نے عرض کیا:یا رسول اللہ!کیا آپ مجھے عہدہ دیں گے ؟ آپ علیہ السلام نے میرے کندھے پر ہاتھ مار کر فرمایا:”یا أبا ذر إنک ضعیفٌ وإنھا أمانة…“اے ابو ذر !تم کم زور ہو اور یہ (منصب و عہدہ )امانت ہے اورروزِ قیامت یہ شرمندگی اوررسوائی کا باعث ہوگا، سوائے اس شخص کے جس نے اسے اہلیت کی بنا پر قبول کیااور اس کی بنا پر عائد ہونے والی تمام ذمہ داریوں کو ادا کیا“۔
(صحیح مسلم، کتاب الإمارة، رقم:4719) (جاری)