بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

غیر فطری مساوات کا انجام

غیر فطری مساوات کا انجام

ہر باطل فرقہ اپنی آواز کو مؤثر بنانے کے لیے بظاہر قرآن کریم ہی کی دعوت لے کر اٹھتا ہے، بالخصوص موجودہ زمانے میں یہ فتنہ بکثرت پھیل رہاہے ، اس لیے استاذ المحدثین حضرت مولانا شیخ سلیم الله خان صاحب نوّر الله مرقدہ کی دیرینہ خواہش تھی کہ قرآن کریم کی اردو میں ایسی جامع تفسیر منظر عام پر لائی جائے جس میں فرق باطلہ کے مستدلات کا تفصیلی علمی تعاقب کرکے اہلسنت والجماعت کا مؤقف واضح کر دیا جائے، چناں چہ اس مقصد کے پیش نظر جامعہ کے شعبہ دارالتصنیف میں حضرت کے افادات مرتب کرنے کا سلسلہ جاری ہے ، الله تعالیٰ اپنی توفیق سے اسے پایہٴ تکمیل تک پہنچائے ۔ آمین۔ (ادارہ)

عورت کی حکمرانی
ملک و قوم کی خلافت و امارت اور سربراہی بہت بڑی اور بھاری ذمہ داری ہے، یہ کوئی حق نہیں ہے جس کے نہ ملنے پر انسان رنجیدہ ہو، اس کی ذمہ داری کا ہر مرد بھی متحمل نہیں ہو سکتا، چہ جائیکہ عورت جو صنفِ نازک اور مردوں کی فطری چالاکیوں سے ناواقف ہوتی ہے، وہ اس بوجھ کو اٹھا سکے، اس لیے قرآن و سنت کی رو سے خاتون کو سربراہ مملکت اور خلافت و امارت کی ذمہ داریوں سے مستثنیٰ قرار دیا گیا۔

قرآن کی رو سے
قرآن کریم کی آیت کریمہ:﴿وَلِلرِّجَالِ عَلَیْْہِنَّ دَرَجَةٌ﴾ (البقرة:228) (اور مردوں کو عورتوں پر فضیلت ہے)میں مردوں کو عورتوں کا ”قوام “یعنی منتظم ، نگران بتلایا گیا ہے، اگر عورت امارت و خلافت کی بھاگ دوڑ میں پڑے گی تو وہ ”قوام“بن جائے گی، جب کہ قرآن کریم مرد کو قوام بنا کر یہ ذمہ داری اسے سونپتا ہے، جس گھرانے و معاشرے میں مردوعورت اپنی فطری ذمہ داریاں خود سنبھالنے کی بجائے ایک دوسرے کو سونپ دیں، وہاں کبھی کام یابی کا سورج طلوع نہیں ہوتا۔

احادیث کی رو سے
حضرت ابو بکر رضی الله عنہکی روایت ہے، جس کا آخری ٹکڑا یہ ہے، میں نے آنحضرت صلی الله علیہ وسلم سے سنا تھا، جب اہلِ فارس نے کسریٰ کی بیٹی کو اپنا سربراہ بنا دیا تھا، آپ نے فرمایا تھا:وہ قوم ہر گز فلاح نہیں پا سکتی جس نے اپنے معاملات میں ایک عورت کو حاکم بنا لیا ہے۔(صحیح البخاری، رقم الحدیث:7099)

حضرت ابو بکرہ فرماتے ہیں ایک شخص نے آپ کو فتح کی خوش خبری سنائی اور یہ بھی بتایا کہ دشمن فوج کی سربراہی ایک عورت کر رہی تھی، آپ علیہ السلام نے فرمایا:جب مرد عورتوں کی فرماں برداری کریں تو تباہ وبرباد ہوجائیں گے۔(المستدرک للحاکم:4/291)

حضرت ابو ہریرہ رضی الله عنہسے روایت ہے کہ آں حضرت صلی الله علیہ وسلمنے ارشاد فرمایا:جب تمہارے فرماں روا نیک ہوں، تمہارے مال دار سخی ہوں اور تمہاری حکومت باہمی مشورے سے تشکیل پاتی ہو تو تمہارے لیے زمین کا اوپر کا حصہ اس کے نچلے حصے سے بہتر ہے اور جب تمہارے فرماں رواں برے ہوں، تمہارے مال دار بخیل ہوں، اور تمہارے معاملات عورتوں کے سپرد ہوں تو تمہارے لیے زمین کا نچلا حصہ اس کے اوپر کے حصے سے بہتر ہے۔(جامع الترمذی:2273)

ائمہ دین کی آرا
حافظ ابن کثیررحمة الله علیہ لکھتے ہیں:مرد عورت کا ”قَیم“یعنی اس کا رئیس و حاکم ہے، جس طرح نبوت مردوں کے ساتھ خاص ہے، اسی طرح ملک کی سربراہی بھی مردوں کے ساتھ خاص ہے۔(تفسیر ابنِ کثیر، النساء، ذیل آیت:34)
علامہ رازی رحمة الله علیہ نے اسی تفسیر کے ذیل میں فرمایا:امامت صغریٰ اور امامت کبریٰ (سربراہی) دونوں مردوں میں رہیں گی۔(تفسیر رازی، النساء، ذیل آیت:34)

سورہ بقرہ کی آیت:﴿وَلِلرِّجَالِ عَلَیْْہِنَّ دَرَجَةٌ﴾اور سورہ نساء کی آیت:﴿الرِّجَالُ قَوَّامُونَ عَلَی النِّسَاءِ﴾کی تفسیر میں معتمد مفسرین میں سے کسی نے بھی عورت کی سربراہی کے جواز میں کوئی گنجائش ذکر نہیں کی، علامہ قرطبی مالکی رحمة الله علیہ لکھتے ہیں:
اس پر کسی کا اختلاف نہیں ہے کہ عورت خلیفہ نہیں بن سکتی۔(أحکام القرآن للقرطبی، النساء:34)

علامہ بغوی شافعی لکھتے ہیں:اہل اسلام کا اس بات پر اتفاق ہے کہ عورت مملکت کے انتظامی امور کی نگرانی و قاضی و حاکم نہیں بن سکتی، کیوں کہ حاکم کو قیام جہاد کے لیے اور مسلمانوں کے معاملات نمٹانے کے لیے گھر سے باہر نکلنے کی ضرورت پڑتی ہے اور قاضی کو مقدمات کے فیصلے کے لیے گھر سے باہر جانا پڑتا ہے، عورت کا پردے میں رہنا واجب ہے، (بلاضرورت شدیدہ)گھر سے باہر نکلنا جائز نہیں (اس لیے عورت ملک کی سربراہی کا فریضہ انجام نہیں دے سکتی)۔(شرح السنة:10/77، بیروت أیضا أحکام القرآن)

علامہ ظفر احمد عثمانی رحمة الله علیہ لکھتے ہیں:
منصب نبوت، منصب امارت، منصب قضا، منصب گواہی، (حدود وقصاص میں گواہی)… یہ سب اللہ تعالیٰ نے مردوں کے لیے خاص فرمائے ہیں ۔(أحکام القران للتھانوی، النساء، ذیل آیت:34)

اجماع امت کی رو سے
خلفائے راشدین اور کبار صحابہ کرام سے لے کر قرون ثلاثہ کے ائمہ دین تک تمام اہل علم کا اس پر اتفاق ہے کہ عورت کو حکم ران بنانا جائز نہیں ہے، حالاں کہ عہدِ نبوی سے ایسی خواتین موجود تھیں جو علم و فضل میں سب مردوں سے بڑھی ہوئی تھیں، مگر انہیں کبھی اس طرح کی ذمہ داری نہیں سونپی گئی۔

چند شبہات کا ازالہ
جدت پسندی کے شکار کچھ عناصر تاریخ کے چند واقعات سے عورت کی سربراہی کے جواز کا استدلال کرتے ہیں:
ان میں سے ایک واقعہ حضرت عائشہ رضی الله عنہاکا ہے، جب حضرت عثمان رضی الله عنہ کی مظلومانہ شہادت کا واقعہ ہوا، اس وقت حضرت عائشہ رضی الله عنہا مکہ مکرمہ میں تھیں، انہیں اس واقعہ کا علم ہوا تو حضرت عثمان رضی الله عنہ کے قصاص کے مطالبے کے لیے بصرہ تشریف لے گئیں، وہاں فسادیوں کی سازش سے واقعہ جمل پیش آیا تھا۔ اس واقعہ سے عورت کی سربراہی کا استدلال کرنا قطعا غلط ہے، کیوں حضرت عائشہ رضی الله عنہا محض طلب قصاص کے لیے تشریف لے گئی تھیں، واقعہ جمل کی پوری تاریخ میں اس بات کا ثبوت نہیں ملتا کہ حضرت عائشہ رضی الله عنہا امارت و حکومت کی طلب گار تھیں، چناں چہ علامہ ابن حجر رحمة الله علیہ نے فتح الباری میں لکھا ہے:”إن أحداً لم ینقل أن عائشة ومن معھا نازعوا علیًّا في الخلافة“۔(فتح الباری:3/56)

قرآن کریم میں ملکہ سبا کا واقعہ ہے، ملکہ سبا حضرت سلیمان علیہ السلام کے زمانے میں یمن کے ایک مشرک قبیلہ کی ملکہ تھی، قرآن کریم میں اس کا تذکرہ ہے۔ اس کے تذکرے سے عورت کی سربراہی کے جواز پر استدلال کیا جاتا ہے کہ اگر عورت کے لیے اقتدار جائز نہیں تھا تو قرآن کریم اس پر یا اس کی قوم کے کسی فعل پر نکیر کرتا یا حضرت سلیمان علیہ السلام اسے اس منصب سے معزول کرتے۔

اس کا پہلا جواب یہ ہے کہ یہ عورت کافرہ تھی اور کافر قوم کی ملکہ تھی، اس کا مسلمان ہونا قطعیّت کے ساتھ ثابت نہیں،اس لیے اس کا اقتدار میں آنا اہل ِاسلام کی عورتوں کے لیے جواز فراہم نہیں کرتا۔

ثانیا:اگر اس کے قبولِ اسلام کو تسلیم کر لیا جائے تو پھر کسی دلیل قطعی سے مسلمان ہونے کے بعد ملکہ رہنے کا ثبوت نہیں ملتا اور اگر بالفرض مسلمان ہونے کے بعد اس کے ملکہ رہنے کا ثبوت مل جائے تو وہ اس امت کے لیے حجت نہیں بن سکتا، کیوں کہ جب سابقہ شریعت کا کوئی حکم یا عمل ہماری شریعت کے نص کے خلاف ہو تو قابلِ استدلال نہیں رہتا، ہمارے پاس صریح نص موجود ہے، ”لن یفلح قوم ولّوا أمرھم امرأة․“

اس کے علاوہ اہلِ اسلام کی تاریخ میں جو خواتین کی سربراہی کا تذکرہ ملتا ہے، وہ ہمارے لیے حجت نہیں ہے۔

بیوی کی سرکشی دور کرنے کی مرحلہ وار تدبیر
﴿وَاللاَّتِیْ تَخَافُونَ نُشُوزَہُنّ﴾بیوی پر شوہر کے جائز کاموں کی اطاعت ضروری ہے، اللہ تعالی نے مرد کی فطرت میں حاکمیت اور عورت کی فطرت میں اطاعت رکھی ہے، جب اس فطرت میں بگاڑ آتا ہے تو معاشرے میں بگاڑ آتا ہے، حضرت عبدالرحمن بن عوف سے مروی ہے کہ آنحضرت صلی الله علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:جو عورت پانچ وقت کی نمازیں پڑھتی ہے، رمضان کے روزے رکھتی ہے، اپنی شرم گاہ کی حفاظت کرتی ہے، اور اپنے شوہر کی فرماں بردار بن کر رہتی ہے، (قیامت کے دن) اسے کہا جائے گا جنت کے جس دروازے سے داخل ہونا چاہو دا خل ہو جاؤ۔( مسند احمد، رقم الحدیث:1/191)

آپ علیہ السلام نے فرمایا اگر میں کسی کو کسی کے لیے سجدہ (تعظیمی)کرنے کا حکم دیتا تو عورت کو حکم دیتا کہ وہ اپنے شوہر کو سجدہ (تعظیمی)کرے، کیوں کہ شوہر کا حق عورت پر بہت بڑا ہے۔(مسند أحمد:3322)

اگر کوئی عورت نافرمانی اختیار کرتی ہے، مرد کی جائز بات کو نظر انداز کرتی ہے، اس سے اپنی نفرت کو ظاہر کرتی ہے تو اس کی اصلاح کا ایک طریقہ تویہ ہے کہ اس پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑے جائیں یا اسے فوری طور پر طلاق دے دی جائے، لیکن فوری طور پر یہ طریقے اختیار کرنے سے بعد میں کف افسوس کے کچھ نہیں ملتا، اس لیے اللہ تعالی نے عورت کی نافرمانی و سرکشی کو دور کرنے کی مرحلہ وار اصلاحی تدابیر بیان فرمائی ہے۔

بیوی اگر واقعی نافرمان ہو اور شوہر کی جائز باتوں کی حکم عدولی کر رہی ہو، جس کی اطاعت شرعاً عورت پر واجب ہو، تو اس کی اصلاح کا پہلا مرحلہ ہے ﴿فَعِظُوہُنّ﴾ ان کو نرمی سے سمجھاؤ، عموماً عورت کا مزاج ایسا ہوتا ہے وہ نرم گفت گوسے جلد راہ راست پر آجاتی ہے، اگر اس سے بھی فائدہ نہ ہو تو دوسرا مرحلہ ﴿وَاہْجُرُوہُنَّ فِیْ الْمَضَاجِعِ﴾سے شروع ہوتا ہے، شوہر عورت سے بے رغبتی کا اظہار کرے، مگر اس میں تحقیر کا پہلو نہ ہو، کچھ دنوں کے لیے اس کے بستر سے الگ رہے، اس کے ساتھ ازدواجی تعلقات میں سرد مہری اختیار کرے، لیکن اسے گھر سے نکالنے یا میکے میں چھوڑنے کا خیال مت لائے، امید ہے مرد کی سرد مہری سے عورت سیدھی ہو جائے گی۔

اگر اس مرحلے پر بھی عورت نہ سدھرے تو تیسرا مرحلہ ﴿وَاضْرِبُوہُنَّ﴾سرزنش کا ہے، یعنی ان کی ہلکی پھلکی پٹائی کرو، حضرت جابر بن عبداللہ رضی الله عنہ سے مروی ہے، آپ علیہ السلام نے حجة الوداع کے خطبہ میں ارشاد فرمایا:
”اے لوگو!عورتوں کے معاملے میں اللہ سے ڈرتے رہو، تم نے انہیں اللہ تعالیٰ کی امان میں حاصل کر کے، اللہ تعالی کی اجازت سے، ان کو اپنے اوپر حلال کیا ہے، ان پر تمہارا حق یہ ہے کہ وہ تمہارے بستروں پر اس شخص کو نہ آنے دیں جسے تم نا پسند کرتے ہو، اگر وہ ایسا کریں تو ان کو اس طرح مارو کہ جسم پر مار کا نشان نہ پڑے اور ان کا حق تم پر یہ ہے کہ تم ان کو بدستور(شریعت و عرف) کے مطابق کھانا اور کپڑا دو۔(صحیح مسلم، رقم الحدیث:1218)

اس مرحلے کے بعد بھی میاں بیوی کے تعلقات میں سدھار نہ آئے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ معاملہ اب اس حد تک پہنچ گیا ہے کہ اس میں دونوں خاندانوں کے بااثر لوگوں کی مداخلت ضروری ہوگئی ہے، چناں چہ دونوں خاندان کے با اثر لوگوں کو خطاب ہے ﴿وَإِنْ خِفْتُمْ شِقَاقَ بَیْْنِہِمَا﴾ اگر باہمی نزاع کا حل ہونا دشوار ہو جائے تو دونوں خاندان اپنی اپنی طرف سے ایک ایک سمجھ دار فیصلہ کرنے والا متعین کریں، جو دونوں کے موقف کو سن کر کوئی فیصلہ کریں، دونوں کوشش کریں کہ یہ ٹوٹتا اور اجڑتا ہوا گھر دوبارہ جڑ جائے اور آباد ہو جائے اور یہ نہ ہو سکے تو دونوں کے درمیان کوئی حتمی فیصلہ طلاق یا خلع کا ان کی رضامندی سے کرادیں۔

بیوی کی مارپیٹ پر اعتراض کا جواب
اسلام میں بیوی کی ہلکی پھلکی مار پیٹ کی اجازت پر بعض لوگ بہت طعن و تشنیع سے کام لیتے ہیں اور اسلام کے روشن چہرے کو بزعم خود مسخ کرنے کی کوشش کرتے ہیں، سطحی ذہنیت رکھنے والا معاشرہ اس کی حکمتوں اور مصلحتوں سے واقف نہیں ہو سکتا، اسلام اس کی اجازت بھی دیتا ہے، اس کا اظہار بھی کرتا ہے، اس کی حدود بھی بتلاتا ہے، مگر عورت پر جسمانی تشدد اورنفسیاتی اذیت کا سب سے زیادہ مظاہرہ اس معاشرے میں ہو رہا ہے جہاں

عورت کو مارنے پیٹنے کی اجازت نہیں ہے۔
یاد رکھیے:اسلام ہر عورت کو مارنے کی اجازت نہیں دیتا، شریف معاشرے کی عورتیں وعظ و تنبیہ سے یا معاشرتی بائیکاٹ سے ہی راہ راست پر آجاتی ہیں،مار پیٹ کی اجازت صرف ان عورتوں کو ہے جو نصیحت اور تنبیہ کو خاطر میں نہیں لاتیں، اگر وہ اپنی عادت پر جمی رہیں تو نتیجہ گھر کی بربادی کی صورت میں نکلتا ہے اور اگر ان کی سرزنش کر دی جائے تو گھر آباد ہونے کی امید پیدا ہو جاتی ہے، گھر کے ٹوٹنے کے مقابلے میں سرزنش کرنا بہت معمولی بات ہے، اس کا انجام باعث خیر ہے، اس لیے قابلِ برداشت ہے اور اس کی اجازت ہے، نیز بعض عورتیں نفسیاتی طور پر شوہر کی مارپیٹ سے حظ اٹھاتی ہیں، انہیں خود سرزنش اور تادیب کی طلب ہوتی ہے، علمِ نفسیات میں ایسی عورتوں کو ”سادیت پسند“عورتیں کہا جاتا ہے، اگر ان کو غذا مہیا نہ کی جائے تو وہ کج روی کا شکار ہو جاتی ہیں، ایسی عورتوں کی مارپیٹ عین ان کے مزاج کے مطابق ہے، اسے نفسیات کا کوئی اصول غلط نہیں ٹھہرا سکتا۔

پھر اسلام نے جسمانی تادیب کی بھی حد مقرر فرمائی ہے، جیسا کہ پیچھے حدیث میں گزرا کہ وہ پٹائی ایسی ہو کہ جسم پر اس کا نشان نہ ہو، حضرت عبداللہ بن عمر رضی الله عنہ نے مسواک سے مارنے کا فرمایا۔

لیکن عمومی حالات میں عورتوں کی مارپیٹ کرنے کی نہ ہی ترغیب دی گئی ہے نہ ہی اسے پسندیدہ قرار دیا گیا ہے، چناں چہ عبداللہ بن زمعہ بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی الله علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:تم میں سے کوئی شخص اپنی بیوی کو غلام کی طرح کوڑے نہ مارے کہ پھر دن گزرنے کے بعد اس سے ہم بستری کرے۔(صحیح البخاری، رقم الحدیث:5204) یعنی مارپیٹ کے بعد ہم بستری کے ذریعے اظہارِ محبت کیسے کر سکے گا؟

حضرت عبداللہ بن زبیر رضی الله عنہ سے مروی ہے کہ آنحضرت صلی الله علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:اللہ کی بندیوں کو مت مارا کرو، حضرت عمر رضی الله عنہ نے فرمایا:بیویاں اپنے خاوند کے ساتھ بد اخلاقی اوربدزبانی سے پیش آتی ہیں، تو آپ علیہ السلام نے ان کو جسمانی سرزنش کی اجازت دے دی، پھر بہت سی عورتوں نے آپ صلی الله علیہ وسلم کی خدمت میں اپنے شوہروں کی شکایت کی تو آپ نے فرمایا:محمد کے گھر میں بہت سی عورتوں نے اپنے شوہروں کی شکایت کی ہے اور یہ لوگ تمہارے اچھے لوگوں میں سے نہیں ہیں۔(سنن أبی داود، رقم الحدیث:2146)

آپ علیہ السلام نے کبھی اپنی گھر والی پر ہاتھ نہیں اٹھایا، یہی عمدہ اخلاق اور امت کے لیے اسوہ اور قابلِ تقلید عمل ہے۔