بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

غلبہ اور عزت صرف اسلام میں ہے

غلبہ اور عزت صرف اسلام میں ہے

ضبط و تحریر: ابوعکاشہ مفتی ثناء الله خان ڈیروی
استاد ورفیق شعبہ تصنیف وتالیف جامعہ فاروقیہ کراچی

حضرت مولانا عبیدالله خالد صاحب مدظلہ العالی ہر جمعہ جامعہ فاروقیہ کراچی کی مسجد میں بیان فرماتے ہیں۔ حضرت کے بیانات ماہ نامہ ”الفاروق“ میں شائع کرنے کا اہتمام کیا گیا ہے ،تاکہ”الفاروق“ کے قارئین بھی مستفید ہو سکیں۔ (ادارہ)
الحمدلله نحمدہ، ونستعینہ، ونستغفرہ، ونؤمن بہ، ونتوکل علیہ، ونعوذ بالله من شرور أنفسنا، ومن سیئات أعمالنا، من یھدہ الله فلا مضل لہ، ومن یضللہ فلا ھادي لہ، ونشھد أن لا إلہ إلا الله وحدہ لاشریک لہ، ونشھد أن سیدنا وسندنا ومولانا محمداً عبدہ ورسولہ، أرسلہ بالحق بشیرا ونذیرا، وداعیاً إلی الله بإذنہ وسراجاً منیرا․

أما بعد: فأعوذ بالله من الشیطٰن الرجیم، بسم الله الرحمن الرحیم․
﴿الْیَوْمَ أَکْمَلْتُ لَکُمْ دِیْنَکُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَیْْکُمْ نِعْمَتِیْ وَرَضِیْتُ لَکُمُ الإِسْلاَمَ دِیْناً ٰ﴾․(سورة المائدة، آیة:3)
صدق الله مولانا العظیم․

میرے محترم بھائیو! بزرگو اور دوستو! الله تعالیٰ کاارشاد ہے : ﴿الْیَوْمَ أَکْمَلْتُ لَکُمْ دِیْنَکُمْ﴾ آج میں نے تمہارے دین کو کامل اور مکمل کر دیا ہے ﴿وَأَتْمَمْتُ عَلَیْْکُمْ نِعْمَتِیْ﴾ اور تم پر اپنے انعام کو تمام او رمکمل کر دیا ہے﴿وَرَضِیْتُ لَکُمُ الإِسْلاَمَ دِیْناً﴾ او رتمہارے لیے دین اسلام ہی پسندیدہ او ربہترین دین ہے۔

ایسے ہی الله تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:﴿قُلْ إِن کُنتُمْ تُحِبُّونَ اللّہَ فَاتَّبِعُونِیْ یُحْبِبْکُمُ اللّہَُ﴾(سورہ آل عمران، آیة:31) اے الله کے رسول! آپ ان سے کہہ دیجیے﴿إِن کُنتُمْ تُحِبُّونَ اللّہَُْ﴾ اگر تم الله سے محبت کرنا چاہتے ہو ﴿فَاتَّبِعُونِیْ﴾ تو اس کے لیے شرط ہے اور وہ شرط کیا ہے ؟ وہ یہ کہ میری اتباع اور پیروی کرو ﴿یُحْبِبْکُمُ اللّہُ﴾ الله تم سے محبت کرنے لگے گا وہ تمہیں اپنا محبوب بنالے گا۔

بہت واضح او ربہت صاف صاف الله تعالیٰ کا ارشاد ہے جس میں الله تعالیٰ نے دین کے مکمل ہونے کا اعلان کیا ہے۔

ایک مغالطہ
یہاں یہ بات ضرور اپنے ذہن میں رکھیں، بہت سے لوگ مغالطوں میں مبتلا ہوتے ہیں او راسی طرح بہت سے لوگ مغالطوں میں مبتلا کرنا چاہتے او رامت کو مغالطوں میں ڈالنا چاہتے ہیں۔ مثلاً ایک عام سی بات ہے کہ زمانہ بدل گیا ہے، اب یہ چودہ سو سال پہلے والا زمانہ نہیں ہے، وہ اونٹوں ، گھوڑوں، خچروں، گدھوں کا زمانہ تھا، پیدل چلنے کا زمانہ تھا، اوراسباب دنیا نے اتنی ترقی نہیں کی تھی جتنی آج ہے۔

الله تعالیٰ علیم اور خبیر ذات ہے
میرا ایک سوال ہے اور وہ یہ ہے کہ کیا الله تعالیٰ ما کان ومایکون کے عالم ہیں یا نہیں؟ الله تعالیٰ تو علیم ہیں، الله تعالیٰ تو خبیر ہیں، جو ہوا اور جو آئندہ ہو گا اس سب کا علم الله تعالیٰ کو ہے، یہ بات اچھی طرح سمجھ لیں کہ اس کائنات کے خالق اور مالک الله ہیں، اس کو پیدا کرنے والے، اس کا نظام چلانے والے، اس کو جب تک وہ چاہیں باقی رکھنے والے صرف اور فقط الله ہیں، ان کے ساتھ اس میں کوئی شریک نہیں ہے جو کچھ ہوا اور آئندہ ہو گا اس سب کا الله تعالیٰ کو علم ہے۔

قرآن کی آیت ہے:﴿وَعِندَہُ مَفَاتِحُ الْغَیْْبِ لاَ یَعْلَمُہَا إِلاَّ ہُوَ وَیَعْلَمُ مَا فِیْ الْبَرِّ وَالْبَحْرِ وَمَا تَسْقُطُ مِن وَرَقَةٍ إِلاَّ یَعْلَمُہَا وَلاَ حَبَّةٍ فِیْ ظُلُمَاتِ الأَرْضِ وَلاَ رَطْبٍ وَلاَ یَابِسٍ إِلاَّ فِیْ کِتَابٍ مُّبِیْنٍ﴾ (سورة الانعام، الآیة:59)” اور اسی کے پاس غیب کی کنجیاں ہیں، جنہیں اس کے سوا کوئی نہیں جانتا اور خشکی اور سمندر میں جو کچھ ہے وہ اس سے واقف ہے، کسی درخت کا کوئی پتہ نہیں گرتا جس کا اسے علم نہ ہو اور زمین کی اندھیریوں میں کوئی دانہ یا کوئی خشک یا تر چیز ایسی نہیں ہے جو ایک کھلی کتاب میں درج نہ ہو“۔

واقعہ: الله تعالیٰ ہر چیز سے باخبر ہیں اور ہر چیز پر قادر ہیں، اس سے متعلق بعض تفاسیر میں ایک واقعہ منقول ہے کہ جب حضرت موسی علیہ السلام پر نزول وحی ہوئی اور آپ کو نبوت ورسالت عطا فرما کر فرعون او راس کی قوم کی ہدایت کے لیے مصر جانے کا حکم ہوا تو حضرت موسی علیہ السلام کو اپنے گھر والوں کا خیال آیا کہ ان کا کون متکفل ہو گا؟

الله تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو حکم دیا کہ سامنے پڑی ہوئی پتھر کی چٹان پر لاٹھی ماریں، حضرت موسی علیہ السلام نے چٹان پر لاٹھی ماری تو اس سے ایک او رپتھر برآمد ہوا، حکم ہوا کہ اس کو بھی لاٹھی ماریں، اس پتھر پر لاٹھی ماری تو ایک تیسرا پتھر برآمد ہوا، اس پتھرکو بھی لاٹھی مارنے کا حکم ہوا، جب اس پتھر پر لاٹھی ماری تو اس پتھر سے ایک چھوٹا کیڑا نمودار ہوا اوراس کیڑے کے منھ میں اس کے کھانے کی کوئی چیز تھی اور وہ کیڑا کہہ رہا تھا۔

”سبحان من یراني، ویسمع کلامي، ویعرف مکاني ویذکرني ولا ینساني․“(تفسیر روح المعاني، سورہ ھود، آیت: 6،12/285 ، والتفسیر الکبیر للإمام فخر الدین الرازی، سورہ ھود، آیة:6،17/149)

اور ہر ہر چیز کا علم رکھنے والی ذات صرف اور صرف ا لله تعالیٰ کی ہے ، الله تعالیٰ کے علاوہ کوئی او رمخلوق اس صفت سے متصف نہیں۔

چناں چہ”شرح الفقہ الأکبر“ میں ہے:
”وبالجملة فالعلم بالغیب أمر تفرد بہ سبحانہ، ولا سبیل للعباد إلیہ إلا بإعلام منہ وإلھام بطریق المعجزة أو الکرامة أو الإرشاد إلی الاستدلال بالأمارات فیما یمکن فیہ ذلک․(شرح الفقہ الأکبر للملا علي القاري،ص:151، قدیمی)
اور الله تعالیٰ ہر ہر چیز سے باخبر ہیں، اگر کوئی شخص اس کا انکار کرے تو وہ کافر ہے، چناں چہ”رد المحتار“ میں ہے:”وأما المعتزلة فمقتضی الوجہ حل مناکحتھم لأن الحق عدم تکفیر أھل القبلة… بخلاف من خالف القواطع المعلومة بالضرورة من الدین مثل القائل بقدم العالم ونفي العلم بالجزئیات علی ما صرح بہ المحققون“․( رد المحتار، کتاب النکاح:3/46)

محمد رسول صلی الله علیہ وسلم خاتم النبیین ہیں
اور اس الله نے جو علیم او رخبیر ذت ہے اس نے رسول الله صلی الله علیہ وسلم کو خاتم النبیین بنا کر بھیجا کہ آپ کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا، اگر کوئی یہ سوچے، یہ خیال کرے او رکہے کہ نعوذبالله آپ کے بعد کوئی اور نبی آیا ہے، یا آئے گا تو وہ کافر ہے۔

عقیدہ ختم نبوت بنص قرآن وحدیث فرض ہے، رسول الله صلی الله علیہ وسلم کو خاتم الانبیاء والمرسلین اور آپ صلی الله علیہ وسلم کے لائے ہوئے دین کو خاتم الادیان سمجھنا فرض ہے، آپ صلی الله علیہ وسلم کی ختم نبوت کا منکر او رآپ صلی الله علیہ وسلم کے بعد کسی نئے نبی کے آنے کا معتقد کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہے۔

قال العلامة ملا علي القاري: ”دعوی النبوة بعد النبي صلی الله علیہ وسلم کفر بالإجماع“․(شرح الفقہ الأکبر،ص:203)
اب پھر میرا سوال ہے کہ کیا الله تعالیٰ نے جب آپ صلی الله علیہ وسلم کو قیامت تک کے لیے نبی بنا کر بھیجا او رابھی آپ نے سنا کہ الله تعالیٰ فرما رہے ہیں: میں نے دین مکمل کر دیا، تو کیا الله تعالیٰ کو اس کا علم نہیں ہو گا کہ چودہ سو سال بعد کیا ہو گا ؟ تصویر کی ایسی ایسی شکلیں ہوں گی کیا الله کو علم نہیں تھا؟ تھا۔ سود کی ایسی ایسی شکلیں ہوں گی کیا الله کو علم نہیں تھا؟ تھا۔ الله کو تو علم تھا، جب الله کو علم تھا تو اب دو صورتیں ہیں، ایک صورت یہ ہے کہ وہ آپ صلی الله علیہ وسلم کو ایسی شریعت دیتے، ایسا دین دیتے کہ ایک سو سال تک یہ والا چلے گا اور پھر ایک سو سال بعد یہ چلے گا، دو سو سال بعد یہ چلے گا، تین سو سال بعد یہ چلے گا، ہزار سال بعد یہ چلے گا اور چودہ سو سال بعد یہ چلے گا، لیکن ایسا ہوا؟ نہیں۔

اور دوسری بات وہ خوف ناک بات ہے، نعوذ بالله !ہم یہ کہیں کہ پھر آج کے دور کے لیے، آج کے حالات کے اعتبار سے خاکم بدہن نعوذ بالله، نعوذ بالله کسی اور نبی کو آنا چاہیے تھا، آج کے زمانے کے اعتبار سے، اس لیے کہ آپ صلی الله علیہ وسلم والی شریعت تو ہم نعوذ بالله یہ کہہ رہے ہیں کہ وہ آج کے دو رمیں چلنے والی نہیں ہے، بات بڑی واضح ہے، پیچیدہ نہیں ہے، باریک بات نہیں ہے، موٹی عقل والا بھی اس کو سمجھ سکتا ہے۔

افغانستان، اسلام او رمسلمانوں کے غلبے کی تازہ مثال
میرے دوستو! اگر ہم مسلمان ہیں او رمسلمان کا معنی ہے گردن نہادن، گردن جھکانا، تسلیم کرنا، ماننا ،چاہے ہماری عقل میں آئے یا نہ آئے۔

عقل اب مرحوم ہو گئی، اب عقل دفن ہو گئی، وہ عقل جو پہلے اچھل رہی تھی، کو درہی تھی، وہ عقل دفن ہو گئی بیس سال تک افغانستان میں عقل ہی تو استعمال ہوئی ہے نا ! کس کی عقل استعمال ہوئی؟ سپرپاور، میری آپ کی عقل نہیں، یہ بھی آپ سمجھ لیں کہ ہم لوگ جو گورے نہیں ہیں، وہ ان گوروں کی نظر میں حشرات الارض سے بھی بدترہیں یاد رکھنا یہ بات، دنیا میں اگر افریقا میں ایک دن میں ایک لاکھ انسان مر جائیں، مار دیے جائیں، ان گوروں کی صحت پر کوئی اثر نہیں پڑے گا، ایشیا میں اگر دو لاکھ انسان مار دیے جائیں، ان کے اوپر کوئی اثر نہیں ہو گا، اس لیے کہ وہ ان کو کیڑے مکوڑے سمجھتے ہیں۔

بیس سال انہوں نے افغانستان میں کیا کیا؟ آج وہ انسانی حقوق کے علم بردار بنے ہوئے ہیں، انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہو رہی ہے، طالبان کو چاہیے کہ آئندہ وہ حقوق انسانی کا خیال رکھیں اور خودگوانتاناموبے کے اندر کیا کیا؟ بگرام ائیر بیس کی تہہ خانوں والی جیل کے اندر کیا کیا؟ آپ سوچ سکتے ہیں کہ زندہ انسان ، یہی طالبان زندہ، شہ رگ کے قریب ایک کٹ لگاتے تھے زندہ کو اور وہاں سے اس کے اندر پیٹرول بھرتے تھے او رپھر اس کے بعد اس کو بند کر دیتے تھے، اس کے بعد منھ کے ذریعے سے پیٹرول اندر ڈالتے تھے اور منھ کو بھی بند کر دیتے تھے اور پھر یہ گورے او ران کے غلام وہاں جمع ہوتے تھے او راس طالب کے اوپر پھر پیٹرول ڈال کر اس کو آگ لگاتے تھے، وہ تڑپتا تھا او یہ ڈانس کر رہے ہیں، یہ انسانی حقوق کے علم بردار ڈانس کرتے تھے، آج یہ انسانیت کو حقوق انسانی کا درس دے رہے ہیں۔
میرے دوستو! میں عرض کر رہا تھا کہ عقل مر گئی ہے، عقل دفن ہو گئی اور ﴿الْیَوْمَ أَکْمَلْتُ لَکُمْ دِیْنَکُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَیْْکُمْ نِعْمَتِیْ وَرَضِیْتُ لَکُمُ الإِسْلاَمَ دِیْناً ٰ﴾ اور﴿قُلْ إِن کُنتُمْ تُحِبُّونَ اللّہَ فَاتَّبِعُونِیْ یُحْبِبْکُمُ اللّہَُ﴾ یہ جیت گیا اور تاقیامت یہی ہو گا، دھوکہ دینے والے بڑے دھوکے دیں گے، طرح طرح کے دھوکے، قدم قدم پر دھوکے، وہ سارے کے سارے دھوکے، ان سب کی بنیاد سوائے نفس پرستی کے او رکچھ نہیں۔

تصویر کے حوالے سے، ایک عرصے سے دھوکہ دیا جارہا ہے، اپنے بھی دھوکہ دے رہے ہیں، غیر بھی دھوکہ دے رہے ہیں۔

سو سال کے قریب پہلے مصر سے، جامعہ ازھر سے، جس کا حال اب آپ سب جانتے ہیں، وہاں سے ایک دھوکہ شروع ہوا، یہ دونوں دھوکے، تصویر کا دھوکہ بھی اور سود کا دھوکہ بھی وہاں سے شروع ہوا، داڑھی کا دھوکہ بھی وہاں سے شروع ہوا۔

مجھے مفتی زین العابدین صاحب رحمة الله علیہ نے مسجد نبوی میں سنایا، فرمانے لگے کہ ایک دفعہ میں عمرے پر آیا اور یہیں مسجد نبوی میں اسی جگہ بیٹھا کرتا تھا تو میرے پاس کچھ مصر کے حضرات بھی بیٹھتے تھے، ایک دو دن بعد تعارف ہو گیا ، جامعہ ازھر کے اساتذہ ہیں لیکن داڑھیاں چٹ، میں حیران ہو گیا، میں نے پوچھا کہ آپ جامعہ ازھر میں پڑھاتے ہیں؟ کہنے لگے ہاں، کیا پڑھاتے ہیں؟ تفسیر پڑھاتے ہیں۔ کیا پڑھاتے ہیں؟ حدیث پڑھاتے ہیں۔ کیا پڑھاتے ہیں؟ فقہ پڑھاتے ہیں، میں نے ان سے پوچھا کہ یہ داڑھی؟ کہنے لگے کہ یہ کوئی فرض اور واجب تو نہیں؟ یہ ہے دھوکہ۔
﴿قُلْ إِن کُنتُمْ تُحِبُّونَ اللّہَ فَاتَّبِعُونِیْ﴾، میری اتباع کرو۔

حضرت مفتی صاحب فرمانے لگے کہ میں نے ان سے پوچھا کہ چلیے آپ نے تو کہہ دیا کہ یہ فرض اورو اجب نہیں ہے، لیکن آپ کے جو اساتذہ تھے یا آپ کے اساتذہ کے جو اساتدہ تھے ان کی بھی یہی شکل تھی؟ تو کہنے لگے کہ نہیں، ان کی توبڑی بڑی داڑھیاں تھیں، تو حضرت مفتی صاحب فرمانے لگے کہ یہ نکتہ جو آپ کو آج سمجھ میں آیا ہے یہ آپ کے اساتذہ کو سمجھ میں نہیں آیا؟

میرے دوستو! یاد رکھنا قدم قدم پر دھوکہ، اسلام کو، مسلمانوں کو دھوکوں میں مبتلا کیا جارہا ہے، کتنا بڑا دھوکہ تھا جس میں پوری انسانیت جکڑی ہوئی تھی کہ امریکا سے کوئی جیت سکتا ہے؟! یورپ سے کوئی جیت سکتا ہے؟
ہمارے ہاں بھی ایک بڑا طبقہ ان لوگوں کا ہے، لبرلز، سیکولرز، ابھی بھی ان کے اندر کی آگ بجھی نہیں ہے، ابھی بھی کیا کہہ رہے ہیں؟ کہ یہ تو امریکا اور طالبان کا آپس میں معاہدہ ہوا ہے او رامریکا ویسے ہی حوالے کرکے جار ہا ہے، تو سوال ہے کہ رات کے تین بجے اندھیرا کرکے اپنے ماتحتوں کو بتائے بغیر جانے کی کیا ضرورت تھی؟!چابیاں تک دے کے نہیں گئے، سب دروازے بند پڑے ہیں، یہ کیسا معاہدہ ہے؟ ذلیل ہو کر، رسوا ہو کر وہ وہاں سے بھاگے۔

میرے دوستو! یاد رکھنا، میں بار بار آپ سے عرض کر رہا ہوں کہ کبھی بھی اسلام کے مقابلے میں عقل استعمال نہ کرو، الله تعالیٰ کے حکم اور فرمان کے مقابلے میں عقل استعمال نہ کرو، الله کے رسول صلی الله علیہ وسلم کا فرمان وحی ہے، آپ صلی الله علیہ وسلم اپنی طرف سے کوئی بات کہتے ہی نہیں، وہ جو کچھ کہتے ہیں وہ الله کی طرف سے وحی ہوتی ہے۔

چناں چہ جو دین آپ لائے ہیں وہ الله کی طرف سے ہے، تو کیا ہم الله کے امر کا اپنی عقل سے مقابلہ کرسکتے ہیں، ہمیشہ تاریخ کا آپ مطالعہ کیجیے کہ جہاں اسلام اور عقل کا مقابلہ ہوا ہے اور اس کو ذرا آسان الفاظ میں سن لیں کہ جہاں اسلام اور ٹیکنالوجی کا مقابلہ ہوا ہے وہاں ہمیشہ الله تعالیٰ نے اسلام کو فتح نصیب فرمائی۔ بدر میں کیا ہوا تھا؟! یہی ہوا تھا ، ایک طرف تین سو تیرہ ہیں۔ (فتح الباری:7/291)

دوسری طرف ایک ہزار، ہر طرح کیل کانٹے سے لیس ہیں۔ (السیرة النبویة لابن ھشام:1/618)
اور نہ صرف یہ کہ بلکہ 15 عورتیں ناچنے گانے والیاں بھی ساتھ ہیں، ان کے جذبات کو بھڑکانے اور برانگیختہ کرنے والیاں۔

فقال أبوجھل: والله لا نرجع حتی نرد بدرا… فنقیم علیہ ثلاثا فننحر الجزور، ونطعم الطعام، ونسقی الخمر، وتعزف علینا القیان، وتسمع بنا العرب بمیرنا وجمعنا، فلا یزالون یھابوننا أبداً بعدھا فامضوا․( السیرة النبویة لابن ھشام:1/618، والبدایة والنھایة:3/266)

غزوہٴ احزاب میں کیا ہوا تھا؟ احزاب کا ترجمہ آج کی زبان میں نیٹو، اس وقت بھی یہ نیٹو آیا تھا، قریش اپنے ساتھ تمام قبائل عرب کو اکٹھا کرکے، سارے قبائل مل کر کہ ہم مل کر اسلام کو ختم کریں گے۔(الکامل لابن الأثیر:2/122، والطبقات الکبری لابن سعد:2/65)

میرے دوستو! آج بھی یہی ہوا نا ؟ ! کہ آج بھی پچاس ملک جو اسلام کے مقابلے میں جمع ہوئے تھے ان کو ذلت اوررسوائی کا سامنا کرنا پڑا۔

مسلمانوں کی بعض تحریکوں کی ناکامی کا سبب
میرے دوستو! یہاں یہ بات بھی سمجھ لیں کہ دنیا میں بہت سی آزادی کی تحریکیں ہیں اور وہ تحریکیں بھی مسلمانوں کی ہیں، وہ تحریکیں بھی بظاہر اسلام کے نام پر ہیں، اس لیے کہ وہ مسلمان ہیں ، ہم یہی سمجھتے ہیں۔
لیکن یاد رکھیں کہ انہوں نے وہ طریقہ جو محمد رسول الله صلی الله علیہ وسلم کا ہے اسے اختیار نہیں کیا، جب وہ طریقہ اختیار نہیں کیا تو اس کا نتیجہ کیا نکلا؟ کہ آج کہیں 70 سال، کہیں72 سال ،کہیں 75 سال ہو گئے ہیں، خون بہہ رہا ہے، ہماری ماؤں، بہنوں کی عزتیں لوٹی جارہی ہیں، ان کے دوپٹے اور چادریں کھینچی جارہی ہیں، ان کے بچوں کو قتل کیا جارہا ہے، لیکن ایک فی صد بھی کا م یابی نہیں ہے۔

اور یہ جو منظر آپ کے سامنے بیس سال کے اندر آیا، انہوں نے مکمل اسلام کو اختیار کیا، آپ حیران ہوں گے میں اور آپ جس ملک میں رہ رہے ہیں اس کا نام کیا ہے ؟ اسلامی جمہوریہ پاکستان، ایران کا نام کیا ہے ؟ اسلامی جمہوریہ ایران اور ابھی کل کے افغانستان کا نام کیا تھا؟ اسلامی جمہوریہ افغانستان اور بھی بہت سے ملک ہیں، جو مسلمان بھی ہیں اورجمہور ی بھی لکھا ہوتا ہے، جب دوحہ کے اندر مذاکرات ہوئے تو ان مذاکرات میں ایک مرحلہ یہ بھی آیا کہ امریکا نے یہ کہا کہ آپ کے ملک کا نام کیا ہو گا؟ انہوں نے کہا کہ ہمارے ملک کا نام ہو گا ”امارت اسلامی افغانستان“ امریکا نے کہا کہ اس میں تو جمہوری نہیں ہے۔ انہوں نے کہا ہم جمہوریت کو نہیں مانتے، ہم اسلام کو مانتے ہیں، دو مہینے صرف اس نقطے پر مذاکرات معطل رہے، سمجھاتے رہے۔ اس ملک کے ذریعے، اُس ملک کے ذریعے کہ کہیں آگے،کہیں پیچھے، کہیں درمیان میں، کہیں پر جمہوری لفظ آجائے، طالبان نے کہا ہم نہیں مانتے اس کو، جمہوریت کا تماشا تو میں اورآپ اس ملک میں دیکھ رہے ہیں، ان سے کہا گیا کہ آپ کا دستور کیا ہو گا؟ انہوں نے کہا کہ ہمارا تو دستور موجود ہے، کیا ہے؟ قرآن ہے، سنت ہے، چودہ سو سال پہلے الله نے نازل کیا ہے، الله کی وحی ہے ، اس میں سب کچھ موجود ہے، قیامت تک کے لیے پوری راہ نمائی قرآن وسنت میں موجود ہے، انہوں نے کہا یہ کیسے ہوسکتا ہے؟ دنیا کا کون سا ایسا ملک ہے جہاں کا دستور نہیں ہے، اس پر پھر تعطل ،ایک عرصے تک تعطل، آخر میں ان کو بتایا گیا کہ دنیا میں ایک ملک ایسا ہے جو آپ کو بہت عزیز بھی ہے، آپ کا بڑا لاڈلا ہے اور اس کا نام ہے اسرائیل، آپ بتائیے وہاں کا دستور کیا ہے؟ تو مجبوراً جو حقیقت ہے وہ کہنی پڑی کہ ان کی مقدس کتاب، وہ ان کا دستور ہے، طالبان نے کہا کہ ہم بھی تو یہی کہہ رہے ہیں، ہماری جو مقدس کتاب ہے وہی ہمارا دستور ہے اور دنیا میں اس کی نظیر اور مثال موجود ہے، تو ہم پر کیوں اصرار کیا جارہا ہے ؟! میں فرق بتا رہا ہوں کہ دنیا میں بہت سی تحریکیں آزادی کی مسلمانوں کی آج بھی موجود ہیں، وہ مظلوم ہیں، وہ آزادی کی اس جدوجہد میں سچے ہیں ،کشمیر ہے، فلسطین ہے، برما کے روہنگیا مسلمان ہیں، لیکن میرے دوستو! طریقہ کار مسنون نہیں ہے، طریقہ کار محمد رسول الله صلی الله علیہ وسلم والا نہیں ہے۔

غزوہ احد میں ایک حکم چھوڑنے سے مسلمانوں کو نقصان اٹھانا پڑا
غزوہ احد میں آپ صلی الله علیہ وسلم نے ایک ناکہ او رایک گھاٹی تھی پہاڑ میں ، وہاں حضرت عبدالله بن جبیر رضی الله عنہ کی امارت میں پچاس تیر اندازوں کو مقرر فرمایا اورا نہیں یہ ہدایت فرمائی کہخواہ ہم غالب آئیں یا ہم مغلوب ہوں، خواہ ہمیں فتح ہو یا شکست ہو، کچھ بھی ہو ،اس ناکے کو آپ نے نہیں چھوڑنا، اس جگہ سے نہیں ہٹنا، چناں چہ جنگ شروع ہوئی، اس جنگ کے اندر کفار کو بدترین شکست ہوئی او رکافر بھاگنا شروع ہوگئے، کفار اپنے ساتھ جو عورتیں لائے تھے وہ عورتیں بھی بھاگ رہی تھیں او رمسلمان غالب ہیں اور غلبے کے نتیجے میں کفار جو مال واسباب چھوڑ کر بھاگ رہے ہیں ان کو مسلمان جمع کر رہے ہیں، وہاں ناکے پر گھاٹی میں جو پچاس صحابہ موجود تھے، حضرت عبدالله بن جبیر رضی الله عنہ کی امارت میں ان میں سے اکثر نے کہا کہ جنگ تو مکمل ہوگئی، غنیمت جمع ہو رہی ہے تو ہم بھی اتر جاتے ہیں، حضرت عبدالله بن جبیر رضی الله عنہ نے فرمایا: نہیں، ہمیں حکم یہ ہے کہ ہم غالب ہوں یا مغلوب، فتح ہو یا شکست، ہر حال میں ہمیں یہاں رہنا ہے، لیکن لغزش ہوگئی او رایک بڑی تعداد آپ صلی الله علیہ وسلم کی تعلیم، آپ کے ارشاد، آپ کے حکم کو چھوڑ کر وہاں سے نیچے اتر آئی اور غنیمت جمع کرنے لگی، ادھر حضرت خالد بن ولید رضی الله عنہ، جو اس وقت تک مسلمان نہیں ہوئے تھے ان کی نظریں اس جگہ پر لگی ہوئی تھیں، انہوں نے جب دیکھا کہ ناکہ خالی ہو گیا تو وہ پیچھے سے آئے اور آکر انہوں نے حملہ کیا، حضرت عبدالله بن جبیر رضی الله عنہ اور ان کے ساتھ دس صحابہ، جو ان کے ساتھ رہ گئے تھے وہ سب شہید ہو گئے اور حضرت خالد بن ولید رضی الله عنہ نے وہاں سے نیچے اتر کر مسلمانوں پر حملہ کر دیا اور نقشہ بدل گیا، فتح شکست میں بدل گئی۔ (الطبقات الکبری لابن سعد:2/42)

اگرچہ کہ یہ طے ہے کہ ہم غزوہ احد میں بھی آپ صلی الله علیہ وسلم اور صحابہ کی شکست کو شکست کا لفظ نہیں دے سکتے، اس لیے کہ شکست جب ہوتی ہے جب سپہ سالار میدان چھوڑ دے، آپ صلی الله علیہ وسلم نے میدان نہیں چھوڑا، آپ وہیں رہے، کفار نے میدان چھوڑا، وہ میدان چھوڑ کر چلے گئے۔

اور روایات میں موجود ہے کہ کفار مقام روحا میں رکے، پڑاؤ ڈالا، ابوسفیان نے مشورہ کیا کہ بھائی یہ ہم نے کیا کیا؟ ہم میدان چھوڑ کر آگئے، ہم تو غالب تھے، فاتح تھے، ہمیں تو میدان نہیں چھوڑنا چاہیے تھا، چناں چہ یہ مشورہ ہوا کہ واپس جاتے ہیں اور واپس جاکر پھر حملہ کرتے ہیں، لیکن ایک صاحب تھے، قبیلہ خزاعہ کے، معبدنام تھا ان کا، وہ مسلمانوں سے اور آپ صلی الله علیہ وسلم سے محبت کرتے تھے، مسلمان نہیں ہو ئے تھے، جب انہیں پتہ چلا کہ احد میں مسلمان اتنی بڑی تعداد میں شہید ہوگئے ہیں، وہ تعزیت کے لیے آپ صلی الله علیہ وسلم کے پاس آئے، ادھر یہ ہوا تھا کہ صبح فجر سے پہلے آپ صلی الله علیہ وسلم مدینہ آچکے تھے، کیوں کہ اُحد تو سامنے ہے، آپ صلی الله علیہ وسلم کو اپنے جاسوسوں نے خبر دی کہ روحا کے اندر قریش اکٹھے ہیں اور وہ یہ مشورہ کر رہے ہیں کہ واپس پلٹ کر حملہ کریں، اب غزوہ احد کی جو تفصیلات میں نے بتائیں اس کو آپ سامنے رکھیں کہ ستر صحابہ شہید ہوئے ہیں کتنے زخمی ہوئے ہیں ، آپ صلی الله علیہ سلم نے حضرت ابوبکررضی الله عنہ کو ،حضرت فاروق اعظم رضی الله عنہ کو بلایا کہ کیا کرنا ہے؟ ان دونوں حضرات نے رائے دی کہ اے ا لله کے رسول! ابھی ہم چلتے ہیں، ان کے آنے کا انتظار نہیں کریں گے، آپ نے فرمایا: بالکل ٹھیک ہے، حضرت بلال رضی الله عنہ کو حکم دیا کہ اعلان کردو کہ وہ لوگ جو کل احد میں شریک تھے صرف وہ فوراً آجائیں اور ہم کفار پرحملہ کرنے کے لیے روانہ ہو رہے ہیں، چناں چہ آپ روانہ ہوگئے، آپ سوچیں کہ اس میں زخمی بھی ہوں گے، اس میں تھکے ہوئے بھی ہوں گے، سب آپ کے ساتھ، حمراء الاسد میں جاکر آپ صلی الله علیہ وسلم نے قیام فرمایا اور یہ جو معبد خزاعی ہیں یہ وہیں حمراء الاسد میں آپ صلی الله علیہ وسلم سے تعزیت کے لیے ملے، یہاں سے معبدخزاعی واپس ہوا اور ابوسفیان سے ملا اور حال احوال کیا تو ابوسفیان نے کہا کہ ہم تو دوبارہ مدینہ میں مسلمانوں پر حملہ کرنے جارہے ہیں، معبد نے کہا کہ تم کہاں جارہے ہو وہ تو آگئے، راستے میں کھڑے ہیں، بس یہ سننا تھاکہ ابوسفیان پر گھبراہٹ طاری ہوگئی اور وہ وہیں سے واپس مکہ چلا گیا۔ (تفصیل کے لیے دیکھیے: کامل لابن أثیر:2/114)

آپ مجھے بتائیے کہ فتح کس کو ہوئی اور شکست کس کو ہوئی؟ تو احد میں بھی کفار کو شکست ہوئی، لیکن یہ نکتہ قیامت تک کے لیے طے ہوگیا کہ محمد رسول الله صلیلله علیہ وسلم کے حکم کی خلاف ورزی ہوگی تو فتح شکست میں بدل جائے گی۔

اس لیے آج جدیدیت کے نام پر، ماڈرن اسلام کے نام پر اور عقل کے نام پر، ٹیکنالوجی کے نام پر جو دھوکے دیے جاتے ہیں، میرے دوستو اسلام اس سے کہیں آگے ہے، اس لیے کہ الله تعالیٰ کا دین ہے اور الله تعالیٰ نے اسے مکمل کر دیا ہے۔
الله تعالیٰ ہم سب کو عمل کی توفیق نصیب فرمائے۔