بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

غذا کے ہماری ذہنی اور جسمانی صحت پر اثرات

غذا کے ہماری ذہنی اور جسمانی صحت پر اثرات

محترم لیاقت علی جتوئی

انسان جن طور طریقوں کے مطابق زندگی گزارتا ہے، اس کا ہماری ذہنی اور جسمانی صحت کے ساتھ گہرا تعلق ہوتا ہے۔ طبی ماہرین کے مطابق، زیادہ وزن کا حامل جسم تمام بیماریوں کو دعوت دیتا ہے۔ کھانے پینے کے شوقین افراد اس بات کا خیال نہیں رکھتے کہ صحت کے لیے کس قسم کی غذا کی ضرورت ہے، جس کے نتیجے میں وہ مختلف نامیاتی بیماریوں کے علاوہ ڈپریشن کا بھی شکار ہوجاتے ہیں۔

اگر آ پ کے دفتر میں 20افراد ہیں تو یہ ممکن ہے کہ ان میں سے دو افراد ڈپریشن کا شکار ہوں اور ان دو میں سے ایک آپ بھی ہو سکتے ہیں۔ ڈپریشن کا شکا ر افراد اینٹی ڈپریشن ادویات سے جان چھڑانے کی کوششوں میں لگے رہتے ہیں ،تاکہ وہ اداسی ، بھوک نہ لگنے ، نیند نہ آنے ، عدم توجہ اور عدم دلچسپی جیسے عوامل سے دور رہیں اور ایک اچھی زندگی گزار سکیں۔

آسٹریلیا کی یونیورسٹی آف میلبرن میں کی جانے والی ایک تحقیق کے مطابق ڈپریشن کے عوامل پر قابو پانے کے لیے ماحول اور عادات میں تبدیلی لانا ضروری ہے اور ان عادات میں سب سے اہم کھانے پینے کا معمول ہے۔ تحقیق کے مطابق یہ جاننا ضروری ہے کہ آپ کو کن چیزوں سے اجتناب اور کن چیزوں کو اپنی غذا میں شامل کرنا ہے، تاکہ آپ کے ڈپریشن میں کمی آئے یا اس سے محفوظ رہا جاسکے۔

میلبرن یونیوسٹی کی تحقیق کے مطابق، غذا دماغی صحت پر اثرانداز ہوتی اور اس پر اپنے اثرات چھوڑتی ہے۔ جب آپ کے جسم میں عمدہ قسم کی توانائی (غذاکی صورت میں) پہنچتی ہے تو آپ کا جسم اور دماغ دونوں بہتر طریقے سے اپنے کام انجام دیتے ہیں۔ امریکن جرنل آف کلینکل نیوٹریشن کی رپورٹ کہتی ہے کہ دالیں، مچھلی، پھل اور سبزیوں کا زیادہ استعمال ڈپریشن کے خطرے کو کم کرنے میں معاون ثابت ہوتا ہے۔

دماغی صحت پر اثرات
ہماری غذا کے اثرات براہ راست ہمارے جسم و دماغ پر مرتب ہوتے ہیں۔ دماغ کا زیادہ تر حصہ لپیڈزیعنی چربی پر مشتمل ہوتاہے، جب کہ بقیہ حصہ امائنو ایسڈ، گلوکوز، پروٹین اور دیگر اجزاء سے بنتاہے۔ اگر ہم ایسی غذائیں (گریاں، بیج اور مچھلی وغیرہ)کھائیں، جن میں فیٹی ایسڈ پایا جاتا ہو تو یہ دماغ میں نئے خلیوں کی تشکیل اور ان کی بحالی میں مدد دیتی ہیں۔ غذائیں آپ کی نیند پر بھی اثرانداز ہوتی ہیں، اگر آپ رات کو ذہنی طور پر خود کو الرٹ اور دوپہر کھانے کے بعد غنودگی کا شکار محسوس کرتے ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ آپ کا دماغ آپ کی خوراک سے خوش نہیں ہے۔

ایک تحقیق کے مطابق مچھلی اور دیگر سمندری غذاؤں کا زیادہ اورفاسٹ فوڈ کا کم استعمال ڈپریشن کے تناسب میں کمی لاتاہے۔ سمندری غذاؤں میں موجود اومیگا تھری فیٹی ایسڈ سے دماغی صحت پر عمدہ اثرات مرتب ہوتے ہیں۔
اسی طرح بی ایم سی میڈیسن میں شائع ہونے والی تحقیق کہتی ہے کہ وہ افراد جو سبزیوں، پھلوں، کم چکنائی والی ڈیری مصنوعات، بغیرنمک کے میوہ جات، سرخ گوشت، مرغی، مچھلی، زیتون کے تیل اور انڈے کا استعمال زیادہ، جب کہ میٹھی، تلی ہوئی اشیا، فاسٹ فوڈز، میٹھے مشروبات، پراسیسڈ فوڈز وغیرہ سے اجتناب یا ان کا کم سے کم استعمال کرتے ہیں، ان میں ڈپریشن میں مبتلا ہونے کا خدشہ 33فیصدتک کم ہوسکتا ہے۔

جسمانی صحت پر اثرات
آپ خود بھی ایسے تجربات سے گزرے ہوں گے کہ آپ نے کوئی چیز کھائی تو آپ کا موڈ اچھا ہوگیا۔ دراصل کچھ غذائیں اپنے اندر موجود منرلز، وٹامنز اوردیگر غذائی خصوصیات کی وجہ سے آپ کے جسمانی افعال پر اثر انداز ہوتی ہیں اور کچھ غذاؤں کی خصوصیات میڈیسن جیسی ہوتی ہیں۔

مثلاً ہری سبزیاں آپ کو پھیپھڑو ں کی بیماریوں سے لڑنے میں مدد کرتی ہیں۔ فولک ایسڈ والی غذائیں جیسے پالک، ایواکاڈو، پھلیاں اورمونگ پھلی وغیرہ اسٹروک، خون کی کمی (انیمیا) اور خواتین کو حمل کی پیچیدگیوں سے دور رکھنے میں مدد دیتی ہیں۔

اسی طرح انناس میں ایک انزائم بروملین پایا جاتاہے، جو پروٹین کو ہضم کرنے، سوزش دور کرنے اور قوت مدافعت بڑھانے میں مدد کرتاہے۔ سامن مچھلی اومیگا تھری فیٹی ایسڈ کے حصول کا بہترین ذریعہ ہے، جس سے سوزش کے خلاف مزاحمت، دائمی بیماریاں کم کرنے اور دماغی حالت بہتر بنانے میں مدد ملتی ہے۔

مشرومز میں کئی ایسے کمپاؤنڈ ہوتے ہیں جو آپ کی قوتِ مدافعت کو بہتر اور پورے جسم میں سوزش کم کرنے میں مدد کرتے ہیں۔ شاخ گوبھی (بروکولی)،بلو بیری، گرم مسالے، ادرک اور لہسن سوزش کش خصوصیات کے حامل ہوتے ہیں۔ مثلاً ہلدی میں موجو د کرکیومِن بہترین سوزش کش خصوصیات رکھتاہے، اسی وجہ سے ہلدی صدیوں سے دواؤں میں استعمال ہورہی ہے۔

پولی فینولز اور کیٹچن جیسے قدرتی اینٹی آکسیڈنٹس سے بھرپور سبز چائے آپ کی جِلد کو دھوپ سے ہونے والے نقصان سے محفوظ رکھتی ہے اوراس پر ہونے والے سرخ دانوں سے بچاتی ہے۔ دہی، بائیوٹن (وٹامن بی کی ایک قسم) سے بھرپور ہوتا ہے، جو جِلد کو بہتر بنانے کے ساتھ ساتھ ناخنوں کو بھی خوب صورت بنانے میں مدد دیتا ہے۔ سنگتروں میں اینٹی آکسیڈنٹ اور وٹامن سی جِلد کو ڈھلکنے سے روکتے ہیں، ساتھ ہی جِلد کے خلیات کو نقصان پہنچنے سے بھی بچاتے ہیں۔

انار خون صاف کرنے کے لیے بہترین پھل ہے، جسے کھانے سے جسم کا رنگ گلابی ہوجاتاہے۔ انار میں پونیسیک ایسڈ، الیجک ایسڈ اوراینٹی آکسیڈنٹ جیسے عناصر انتہائی زیادہ پائے جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ اومیگا 3 فیٹی ایسڈ بھی بڑی مقدار میں موجود ہوتاہے، جو جِلد کے خلیوں کو دوبارہ پیدا کرنے میں مدد دیتا ہے۔ ٹماٹر میں موجو د وٹامن سی کی کثیر مقدار چہرے کو دل کش بنانے کے ساتھ ساتھ رنگت میں بھی نکھار پیدا کرتی ہے.