بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

علامہ شیخ محمود آفندیکا سانحہ ارتحال!

علامہ شیخ محمود آفندیکا سانحہ ارتحال!

محترم خلیل الرحمن ربانی

ترکی کے معروف عالم دین اور لاکھوں عقیدت مندوں کے مرشد، ہزاروں طلبہ وعلماء کے استاد شیخ محمود آفندی انتقال فرما گئے۔ انا لله وانا الیہ راجعون․

شیخ محمود آفندی کو ترکی میں دینی تعلیم کی اشاعت کی ایک انقلابی تحریک کا بانی تصور کیا جاتا تھا۔ ترکی میں کمال اتا ترک کی سیکولر آمریت کے جبر کے دور کے بعد جن شخصیات نے انتہائی نامساعد حالات میں اسلامی تعلیمات اور مسلم تشخص کی بحالی اور احیاء میں نمایاں کر دارا دا کیا ان میں شیخ محمود آفندی کا شمار سر فہرست میں آتا ہے۔

اوستا ؤسمان اوغلو یا شیخ محمود آفندی1929ء کو ترکی کیشمالی علاقے کے ضلع اُوف کے گاؤں مکو (موجودہ نام تیوساتلی) میں پیدا ہوئے تھے۔ آپ کے والد کا نام علی آفندی اور دادا کا نام مصطفی آفندی تھا۔ آپ نے انتہائی کم عمری میں، اپنے والدین کے زیرسایہ، گھر میں ہی حفظ قرآن پاک مکمل کیا۔ آپ کو نو عمری میں اسلامی علوم کی تحصیل کا شوق تھا۔ آپ بچپن سے ہی انتہائی ذہین فطین او ربہت ہی نیک شخصیت کے مالک تھے۔ فرائض کے ساتھ ساتھ اس نو عمری میں آپ نوافل کا بھی اہتمام کیا کرتے تھے۔ حفظ قرآن کے بعد اعلیٰ تعلیم کے حصول کے لیے آپ نے ،قیصری، کا رخ کیا، جہاں کچھ علماء نے سرکاری پابندیوں کے باوجود خفیہ انداز میں علم کی شمع جلائے رکھی تھی۔ یہاں آپ نے ہو جا آفندی سے صرف ونحو اور عربی فارسی کی تعلیم حاصل کی، جب کہ علم بلاغت ، فلسفہ، فقہ و حدیث وغیرہ کے علوم علامہ فیضی آفندی سے حاصل کیے۔ آپ سولہ سال کی انتہائی کم عمر میں بہت سے علوم وفنون کو اپنے سینے میں جمع کر چکے تھے۔ اسی سال آپ کی چچا زاد سے آپ کی شادی ہوئی۔

یہاں اس پس منظر کا ذکر ضرور ی ہے جس میں شیخ محمود آفندی نے دینی تعلیم حاصل کی ۔ جس طرح 1857ء کی جنگ آزادی کے بعد ہندوستان میں علماء نے اسلامی علوم کے احیاء کی تحریک شروع کی اور دیوبند شہر کی، چھتہ مسجد، میں اس درس گاہ کا قیام عمل میں آیا، جس کے پہلے استاد ملا محمود  او رپہلے شاگرد محمود حسن تھے، تاریخ بتاتی ہے کہ انار کے درخت تلے ایک استاد او رایک شاگرد سے شروع ہونے والی اس تحریک نے پورے برصغیر میں ایک انقلاب برپا کر دیا اور بالآخر انگریز سرکار کو ہندوستان سے بھگا کر دم لیا، بالکل اسی طرح ترکی میں جب 1924ء کو خلافت عثمانیہ کا خاتمہ کیا گیا تو ترکی میں دینی علوم کی نشرواشاعت او رتعلیم وتعلم پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی تھی۔ اس کٹھن وقت میں ترک علماء نے گاؤں دیہات میں خاموشی سے دینی علوم کی بجھی شمع کو روشن کیے رکھا۔ علماء چھپ چھپ کر اورکہیں درختوں کے نیچے، کہیں کھیتی باڑی کرتے ہوئے اپنے ساتھ ساتھ چلا کر طلبہ کو سبق پڑھاتے۔ جب فوج کو آتے دیکھتے تو فوراً بچے کھیتی باڑی میں مشغول ہو جاتے او رجیسے ہی فوجی اہلکار واپس جاتے تو یہ لوگ دوبارہ در س میں لگ جاتے، ایسے ہی طالب علموں میں شیخ محمود آفندی نقش بندی بھی شامل تھے۔ انہوں نے اسی طرح بے سروسامانی کے عالم میں دینی تعلیم حاصل کی۔ پھر فراغت کے بعد اپنے گاؤں میں دینی سلسلہ جاری کرنے پر آپ پر تشدد کیا گیا اور آپ کے دوشاگردوں کو شہید کیا گیا۔ پھر آپ نے وہاں سے شہر کا رخ کیا، وہاں ایک قدیم مسجد تھی۔ مولانا محمود آفندی نقش بندی نے اس مسجد کو اپنا مرکز بنالیا۔ چالیس سال تک درس دیتے رہے۔ ابتدا میں کئی برسوں تک ان کے پیچھے کوئی نماز پڑھنے کے لیے تیار نہیں تھا، اٹھارہ سال کے بعد آہستہ آہستہ لوگ آنے لگے او ران سے فیض یاب ہوتے گئے۔ اب اسی مسجد میں جب اذان ہوتی ہے تو جوق درجوق لوگ اسی مسجد میں نماز کے لیے آئے ہیں۔ یہ ان بزرگوں کی محنت کا ثمرہ ہے۔

یہ 1952ء کی بات ہے ،جب محمود آفندی کی شیخ علی حیدر آفندی سے ملاقات ہوئی، جو ایک نقش بندی شیخ تھے۔ شیخ محمود آفندی نے ان بزرگ کے دست حق پرست پر بیعت کر لی۔ علی حیدر آفندی نے انہیں 1954 میں اسماعیلہ مسجد کا امام مقرر کیا۔جہاں وہ سال 1996ء تک امام رہے،1960ء میں علی حیدر آفندی کے انتقال کے بعد محمود آفندی کی زندگی میں سب سے بڑا موڑ آیا اور وہ اپنے شیخ کی مسند پر نقش بندی سلسلے کے مجاز بیعت شیخ بن گئے۔1996 میں ، وہ اسماعیلہ مسجد کے امام کی حیثیت سے ریٹائر ہوئے، تاہم تب تک آپ کا ایک وسیع حلقہ ارادت قائم ہو چکا تھا۔ آپ نے جدیدتعلیم یافتہ افراد کو اپنی جدوجہد کا خاص ہدف بنایا او راس میں غیر معمولی کام یابی حاصل کی۔

شیخ محمود آفندی نے ایک مشکل دور میں مسلمانوں کی دینی تربیت کا بیڑا اٹھایا، لوگوں کو نماز، حج وزکوٰة وغیرہ کے مسائل سکھائے او رعلوم دینیہ کے بنیادی علوم نحو، صرف وغیرہ بھی زبانی تعلیم دیتے ہوئے اپنے طلبہ کو از برکروائے۔ آپ اس اعتبار سے بالکل کرشماتی شخصیت کے حامل تھے۔ ایک عہد ساز شخصیت ہونے کے لحاظ سے آپ کی روشن زندگی کا ہر پہلو اس قابل ہے کہ اس پر تفصیل وتشریح کے ساتھ روشنی ڈالی جائے، تاہم اختصار وایجاز کو مدنظر رکھا جائے تو کہا جاسکتا ہے کہ آپ نے ایک مدت تک مسند علم وارشاد پر بیٹھ کر طالبان علوم نبوت اور سالکین طریقت کی تشنہ کامی کو دور کرنے کا سامان کیا تو دوسری جانب ترکی میں چھوٹے چھوٹے مکاتب دینیہ کی بنیاد رکھ کر ترکی کو دینی تعلیم کا مرکز بنا دیا۔ آپ کو معروف عرب حنفی عالم شیخ زاہد الکوثری کا آخری شاگرد سمجھا جاتا تھا۔ شیخ محمود آفندی کو دنیا بھر کے علمی ودینی حلقوں میں قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا، جب کہ بڑے بڑے علماء آپ کے سامنے زانوئے تلمذ طے کرتے تھے۔

آپ ترکی کے موجودہ صدر طیب اردوان کے بھی پیر اور استاد تھے۔ ترک صدر رجب طیب اردوان محمود آفندی کی خدمت میں اکثرجاتے تھے۔ اردوان نے2014ء میں صدارتی انتخابات سے ایک رات قبل محمود آفندی کی خانقاہ کادورہ کیا، جس کا بڑا چرچا ہوا۔ اس سے شیخ محمود آفندی کی عوامی مقبولیت او راثرورسوخ کا بھی انداز لگایا جاسکتا ہے۔

شیخ محمود آفندی صرف ایک شیخ طریقت ہی نہیں، بلکہ محقق عالم دین بھی تھے۔ آپ کی اٹھارہ جلدوں پر مشتمل ترک زبان کی تفسیر ”روح الفرقان“ بہت معروف ہے او رکہا جاتا ہے کہ ترکی کے سیکولرازم سے دوبارہ اسلام کی طرف سفر میں شیخ محمود آفندی او ران کی اس تفسیر کا بھی بڑا حصہ ہے۔2013ء میں دینی وتعلیمی خدمات پر آپ کو ترک حکومت کی طرف سے” مولانا محمد قاسم نانوتوی ایوارڈ“ سے بھی نوازا گیا۔ حق تعالیٰ آپ کی کامل مغفرت فرمائیں۔ جنت الفردوس میں اعلیٰ مقامات نصیب فرمائیں اور متعلقین ومتوسلین کو آپ کا فیض خوب عام کرنے کی توفیق مرحمت فرمائیں۔ آمین!