بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

طالب علم اور اہل علم کا نصاب ِ زندگی

طالب علم اور اہل علم کا نصاب ِ زندگی

مولانا مفتی محمد شفیع رحمة الله علیہ

قرآن کریم کی ایک آیت ہے:﴿فَلَوْلَا نَفَرَ مِن کُلِّ فِرْقَةٍ مِّنْہُمْ طَائِفَةٌ لِّیَتَفَقَّہُوا فِی الدِّینِ﴾ یہ آیت تو مختصر سی ہے، لیکن در حقیقت یہ اہل علم کا پورا نصاب تعلیم ہے، صرف نصاب تعلیم ہی نہیں، بلکہ نصاب زندگی ہے، طالب علم کو، اہل علم کو کیا کرنا ہے ؟ ﴿لَیَتَفَقَّہُوا فِی الدِّینِ﴾ تک یہ بات بتائی گئی کہ جو طائفہ علم دین حاصل کرنے کے نام پر جمع ہوا ہے، اس کا کام یہ ہے کہ دین میں سمجھ بوجھ پیدا کرے، محض تعلیم حاصل کرنا مقصود نہیں، دین کی سمجھ بوجھ پیدا کرنا ہے اور سمجھ بوجھ اس کو کہا جائے گا جب علم کے ساتھ عمل بھی ہو۔

جہل کی حقیقت
جس علم کے ساتھ عمل نہ ہو وہ سمجھ بوجھ نہیں کہلاتا، ایسا علم تو شیطان کو بھی ہے، ابوجہل اور ابو لہب کو بھی تھا۔﴿وَجَحَدُوْا بِہَا وَاسْتَیْقَنَتْہَآ اَنْفُسُہُمْ ظُلْمًا وَّعُلُوًّا﴾ قرآن کا اعلان ہے کہ ان لوگوں نے جان بوجھ کر جحود(انکار) کیا تھا، ابولہب، ابوجہل یہ سب حضور سرور عالم صلی الله علیہ وسلم کی نبوت سے، رسالت سے، آپ صلی الله علیہ وسلم کی شان سے واقف تھے، ناواقف نہیں تھے، جانتے بوجھتے یہ (تکذیب) کرتے تھے۔

ابوجہل کا تو مشہور ہے کہ بہت سی چیزوں میں اس کا اعتراف پایا گیا، مگر جب اس کو کہا گیا کہ کم بخت تو جانتا او رمانتا ہے اور قرآن کی عظمت کوبھی پہچانتا ہے، تجھ کو رسول کریم صلی الله علیہ وسلم( کی صداقت) کا قوی اعتراف ہے تو پھر مسلمان کیوں نہیں ہو جاتا؟ اس نے کہا کہ بات ساری یہ ہے کہ قبیلوں کی جنگ جیسے ہوتی ہے، اسی طرح بنو ہاشم کا اور ہمارا مقابلہ ہے، سب کاموں میں تو یہ ہوتا ہے کہ بنو ہاشم دعویٰ کرتے ہیں کہ ہم نے یہ کام کیا تو وہ ہم بھی کرتے ہیں، جتنے کام اچھے سمجھے جاتے ہیں دنیا میں سخاوت کے، شجاعت کے، بہادری کے، جو عرب میں مشہورتھے، نیک کام، ان سب نیک کاموں میں جو کام بنی ہاشم کہتے ہیں کہ ہم کرتے ہیں تو ہم بھی ان کا جواب دے دیتے ہیں، لیکن اب انہوں نے یہ کہنا شروع کیا کہ ہمارے میں ایک رسول آیا ہے، اس کا ہمار ے پاس کیا جواب ہے؟ اس واسطے ہم انہیں رسول نہیں مانتے ، نہ ماننے کا سبب یہ ہے کہ بنی ہاشم کی برتری ہمارے اوپر ثابت ہو جائے گی اور ہمارے پاس اس کا کوئی جواب نہ ہوگا۔

تو بہرحال کہنا یہ ہے کہ جیسے ابلیس حضور صلی الله علیہ وسلم کو بھی جانتا ہے اور الله اور الله کی توحید کو بھی، لیکن ان تمام چیزوں کو جاننے کے باوجود جحود(انکار) کرتا ہے، قریب قریب یہی حال تھا ابولہب اورابوجہل کا اوردوسرے ان کافروں کا جو حضور اکرم صلی الله علیہ وسلم کے ساتھ رہے ہیں، جنہوں نے آپ کو پرکھا ہے، دیکھا ہے، آنکھوں سے مشاہدات کیے ہیں، سب کو یقین تھا آپ صلی الله علیہ وسلم کی نبوت ورسالت کا، اس کے باوجود اپنے اغراض دنیوی اورخواہشات کی بنا پر جحود کیا کرتے تھے، میں کہہ رہا ہوں کہ” تفقہ فی الدین“ اس کانام نہیں کہ کسی چیز کو جان لے، یا کسی مسئلہ کو جان لے کہ یہ چیز حلال ہے یا حرام ہے، یہ جائز ہے، مکروہ ہے یا مستحب ہے، اتنا جان لینے کا نام علم نہیں ہے، اتنا جان لینے کا نام فقہ نہیں ہے، فقہ دین کی سمجھ بوجھ کا نام ہے، جس کے پیچھے عمل ہونا چاہیے، جس علم کے ساتھ عمل نہ آیا، جس علم پر عمل مرتب نہ ہوا، وہ علم کہلانے کا مستحق نہیں، حدیث کے الفاظ میں اس کو جہل کہا گیا ہے:”إن من العلم لجھلا“ یعنی بعض علم جہل ہوتے ہیں، یہ علم کہ جس کے پیچھے عمل نہ ہو وہ علم جہل ہوتے ہیں، یہ علم کہ جس کے پیچھے عمل نہ ہو وہ علم شریعت کی اصطلاح میں ، قرآن کی اصطلاح میں، حدیث کی اصطلاح میں علم کہلانے کا مستحق نہیں، وہ جہل ہے۔

علم کا مقصود او رہماری کیفیت
”تفقہ فی الدین“ کا لفظ قرآن میں اس لیے اختیار کیا گیا ہے کہ علم کے ساتھ اور اس کے پیچھے پیچھے عمل آئے اور آپ کو یہ محسوس ہو کہ اگر ہم نے ہدایہ پڑھی، قدوری پڑھی، کنز پڑھی، ان معاملات کا باب پڑھا کہ فلاں معاملہ جائز ہے ، فلاں ناجائز ہے، یہ حرام ہے، یہ مکروہ ہے، یہ مستحب ہے، اگر ہم بازار میں جاکر اپنے وہ اسباق یادنہیں کرتے تو ہمارا پڑھا لکھا بے کار ہے، اب تو ہمارا حال یہ ہے کہ کتاب مدرسہ میں پڑھائی جاتی ہے، مدرسہ سے باہر اس کتاب کا کوئی اثر ہمارے وجود میں نہیں ہوتا، معاملات کرنے کے لیے چلیں تو ہمیں کچھ فکر نہیں ہوتی کہ ہم سچ بول رہے ہیں یا جھوٹ بول رہے ہیں، جو جی چاہتا ہے کہہ دیتے ہیں ، تجارت کرنا ہو، بیچنا ہو یا خریدنا ہو، جو جی میں آیا کہکہہ دیا اور کچھ فکر نہیں کرتے کہ ہم یہ غلط کر رہے ہیں یا صحیح کر رہے ہیں۔

غرض یہ کہ جس علم کے ساتھ معاملات اگر پڑھیں تو آپ کے معاملات کی درستگی ہونی چاہیے، محاسبہ کرو اپنے معاملات کا، آداب اوراخلاق پڑھیں، قرآن وحدیث سارا بھرا ہوا ہے ان آداب واخلاق سے، عادات اور معاشرت سے، سارے قرآن وحدیث میں اس کی تعلیم دی گئی ہے، جو کچھ بھی پڑھا ہے، اس کا اثر آپ کے اعمال پر ہونا چاہیے، دل پر ہونا چاہیے، وہ آدمی پہچانا جانا چاہیے اس چیز سے کہ یہ علم دین پڑھتا ہے، اس کے چہرے سے معلوم ہو، اس کے عمل سے معلوم ہو، پہلے تو عام مسلمانوں کا یہ رنگ تھا کہ محض ان کو دیکھ کر لوگ ان کو پہچانا کرتے تھے کہ یہ مسلمان ہیں”الذین اذا رأوا ذکر الله“ جن کے چہرے دیکھ کر خدا یاد آتا ہے، خلاصہ یہ کہ کرنے کا کام ”تفقہ فی الدین“ ہے، دین کی سمجھ بوجھ پیدا کرنا ہے، یہ ساری کائنات کا حاصل ہے، آٹھ برس جو آپ مدرسے میں رہ کر کچھ سیکھیں گے، پڑھیں گے ان سب کا حاصل یہی دین کی سمجھ بوجھ پیدا کرنا ہے او رسمجھ بوجھ پیدا کرنے کا مفہوم یہ ہے کہ علم کے ساتھ عمل ہو، آپ کے اعمال پر، آپ کی چال ڈھال پر اور آپ کی حرکت وسکون پر علم کا اثر ہو، یہ ہے ”تفقہ فی الدین“۔

تدبر فی القرآن کی اہمیت
آگے اس کے بعد دوسرا نمبر یہ بتایا گیا کہ علم دین پڑھنے کے بعد کیا کرنا ہے؟ قرآن کریم کے الفاظ کی حقیقت یہ کہ قرآن میں تدبر کرنا، غور وفکر کرنا، اہل علم نے چھوڑ دیا ہے، عوام تو بچارے کیا کریں؟ الفاظ قرآن کو دیکھتے ہی نہیں کہ قرآن کیا چاہتا ہے، اگر غور کریں تو قرآن کے ایک ایک لفظ میں عجیب ہدایتیں ملتی ہیں، ابھی جیسے میں نے کہا کہ قرآن نے ﴿لیتعلموا الدین﴾ نہیں کہا﴿لِّیَتَفَقَّہُوا فِی الدِّین ﴾کہا ہے۔ یہ الفاظ بدل دیں، اتنے سے الفاظ بدلنے سے معانی میں ایک بڑا نقلاب آجائے گا، اس کا حاصل ”تفقہ فی الدین“ ہے اور اسے آپ کو حاصل کرنا ہے، جس قیمت پر بھی ہو اور یہ بھی معلوم ہو گیا، جیسے میں نے پہلے کہا تھا کہ جب تک پورا کا پورا اپنا وجود اور اپنی توانائی اس علم کے پیچھے نہیں خرچ کروگے”تفقہ فی الدین“ نہیں آئے گا۔

دینی طلبا کی کوتاہ نظری
آگے فرمایا جاتا ہے کہ”تفقہ فی الدین“ حاصل ہو گیا، آپ مدرسے سے پڑھ کر فارغ ہو گئے اور فرض کرو جیسا ہونا چاہیے، ویسے ہو گئے، دین کی سمجھ بوجھ بھی حاصل ہو گئی، الله تعالیٰ نے علم کے ساتھ عمل بھی دے دیا، آگے کیا کرنا ہے؟ آپ کے پیش نظر کیا ہو گا؟ آج کی دنیا میں کالج اوریونی ورسٹی او راسکولوں کے طالب علم تو یہ دیکھتے ہیں کہ ڈگری ملے گی تو سرکاری دفتروں میں نوکری ملے گی، آپ کے یہاں تو یہ قصہ نہیں، آپ کی سند اور ڈگری پر تو کوئی نوکری نہیں، لیکن بدقسمتی سے کہوں یا خوش قسمتی سے، کچھ نوکریاں یہاں بھی ملنے لگیں، ہماری سند پر او رہمارے اس فارغ ہونے پر ، کہیں مدرسہ کی مدرسی او رکہیں کسی مسجد کی امامت وخطابت وغیرہ۔

علما کا منصب جلیل
قرآن سے پوچھیے، قرآن کیا چاہتا ہے؟ آپ کو کیا کرنا چاہیے؟ آپ کی او رہر ایک کی نظر اس پر جاتی ہے کہ پڑھنے کے بعد ہمیں کہیں ملازمت کرنی ہے، معاش کی فکر اپنی جگہ ہے، وہ بھی شریعت کے احکام کے تابع ہے، وہ کوئی گنا ہ نہیں، عیب نہیں”کسب المعاش فریضة بعد الفریضة“ حدیث میں حضور صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کہ کسب معاش بھی فریضہ ہے، دوسرے فرائض کے بعد لیکن علم پڑھنے کے نتیجے میں کسب معاش اس پر مرتب کرنا یہ قرآن کے الفاظ کو دیکھو، معلوم ہو گا کہ اس سے یہاں کوئی تعلق ہی نہیں ، علم پڑھنے کے بعد آپ کی معاش کیا ہوگی؟ قرآن اس کی طرف بھی اشارہنہیں کرتا، علم پڑھنے کے بعد تمہیں کیا کرنا ہے؟﴿وَلِیُنذِرُوا قَوْمَہُمْ إِذَا رَجَعُوا إِلَیْہِمْ﴾ تو دو طبقے ہو گئے ، اوپر کی آیت میں دو طبقہ کر دیے گئے تھے، ایک طبقہ وہ جو جہاد میں جاتا ہے، الله کے لیے جہاد کرتا ہے، جانیں اپنی قربان کرتا ہے اعلاء کلمة الله کے لیے، یہ ایک طبقہ ہے، رہ گیا دوسرا طبقہ جو علم دین حاصل کرے، تو اس طبقہ کی ذمہ داری یہ ہے کہ جس نے حضو راکرم صلی الله علیہ وسلم کی خدمت میں رہ کر علم دین اور تفقہ فی الدین“ حاصل کیا ہے ﴿وَلِیُنذِرُوا قَوْمَہُمْ إِذَا رَجَعُوا إِلَیْہِمْ﴾ یعنی جب وہ لوگ واپس آئیں جو جہاد میں گئے ہوئے ہیں، ان کو انذار کرو﴿لَعَلَّہُمْ یَحْذَرُونَ﴾اگر تم ان کو انذار کرو گے، ان میں حذر(ڈر) پیدا ہو گا، آخرت کی فکر پیدا ہو جائے گی۔

عزیزو! قرآن کے الفاظ میں تو غور کرو، بہرحال قرآن کریم اور حضور صلی الله علیہ وسلم کی تعلیمات کسب معاش کے منافی تو نہیں؟ اورکسب معاش کو حرام قرار نہیں دیتے، بلکہ” فریضة بعد الفریضة “کہتے ہیں، لیکن تعلیم دین پر مرتب نہیں کرتے، تعلیم دین کے بعد تمہاری نوکری کیا ہو گی؟ کیا کہیں مدرسہ میں مدرس بنو گے؟ یا مسجد کے امام وخطیب بنو گے؟ قرآن نے نہ یہاں امامت کا ذکر کیا اور نہ کسی مدرسی کا، قرآن نے ذکر یہ کیا﴿وَلِیُنذِرُوا قَوْمَہُمْ﴾ انذار کرو اپنی قوم کو، وہ قوم کہ جو دوسرے کام میں لگی ہوئی تھی اور اسے علم دین سیکھنے کا موقع نہیں ملا، ان کو انذار کرو، تمہیں جو کچھ علم دین حاصل ہوا ہے، امانت ہے وہ ان تک پہنچاؤ۔ غرض کہ عمر بھرکی خدمت اورعمر بھر کی ڈیوٹی او رذمہ داری تمہارے عالم ہونے کی صرف اتنی ہے کہ جو کچھ امانت علم دین کی تمہیں حاصل ہوئی ہے، یہ ان لوگوں کو پہنچا دو جنہیں علم دین حاصل نہیں۔

انذار وتبلیغ کی عمومیت
اس جگہ قرآن نے﴿وَلِیُنذِرُوا قَوْمَہُم﴾ کہا ہے، مقصد کے اعتبار سے غورکرو، تو یہ مفہوم عام ہو جائے گا، مراد یہ ہے کہ جو لوگ علم دین حاصل کرنے سے قاصر رہے، اس واسطے کہ ان کو جہاد کرنا تھا، اس میں وہ لوگ بھی شامل ہو جائیں گے جو دوسری جائز چیزوں کی وجہ سے قاصر رہ گئے، جیسے تجارت پیشہ لوگ ہیں، زراعت پیشہ لوگ ہیں، کاشت کاری اورمزدوری کرنا یا تجارت کرنا دین کے فرائض میں سے تو نہیں ہے، اپنی دنیاوی ضروریات اور جائز ضرورت، حلال ضرورت کے مطابق لگ کر تجارت میں لگ گئے، مزدوری میں لگ گئے، صنعت میں لگ گئے یا کسی اور کام میں لگ گئے او راس واسطے ان کو علم دین حاصل کرنے کی فرصت نہ مل سکی تو تمہاری ذمہ داری ہے کہ ان کو پہنچاؤ، جن لوگوں نے علم دین پڑھا ہے، ”تفقہ فی الدین“حاصل کیا ہے، ان کی ذمہ داری لگا دی کہ ان لوگوں کو علم دین پہنچاؤ، جنہیں کسی جائز وجہ سے علم دین حاصلنہیں ہو سکا ، خواہ جہاد وجہ ہو یا دوسری وجوہ ہوں، جن کو شریعت میں جائز قرار دیا ہے۔

تبلیغ وتعلیم کا فرق
پہنچانا کیا ہے؟ پہنچانے کی دو قسمیں ہیں، قرآن نے اس جگہ تفصیل نہیں کی، جو امانت علم دین کی آپ نے حاصل کی ہے، وہ دوسروں تک پہنچانے کی دو قسمیں ہیں، ایک تعلیم، دوسری تبلیغ، تعلیم وتبلیغ میں فرق سمجھتے ہو یا نہیں؟ تبلیغ کے معنی ایک کلمہ کو پہنچا دینے کے ہیں، ایک بے علم کو واقف کر دینا، ایک شخص کو علم نہیں ہے، مسئلہ کا ،اس کو مسئلہ بتا دینا، یہ تبلیغ ہوگئی، ایک شخص کو ایمان کی حقیقت معلوم نہیں، اس کو بتا دیا کہ الله ایک ہے اور اس کے ساتھ کسی دوسرے کو شریک کرنا حرام ہے ، تبلیغ ہو گئی۔ تعلیم کہتے ہیں، دین کو تھوڑا تھوڑا ترتیب کے ساتھ پورا بتانا، تبلیغ میں تو یہ کہہ دیا کہ نماز پڑھا کرو، اب جاکر تم نماز پڑھو، تعلیم میں اسے تمام آداب وقواعد سکھانے پڑھیں گے، تعلیم کا لفظ عربی لغت کے اعتبار سے بھی آتا ہے، تھوڑا تھوڑا آہستہ آہستہ سکھانا، تعلیم کا ترجمہ سکھانا ہے او رتبلیغ کا ترجمہ پہنچانا ہے، ان دونوں لفظوں میں اردو زبان کے اعتبار سے بھی فرق ہے، سکھانا او رپہنچانا کسی کو، ایک بات پہنچا دی یہ اور چیز ہے اور کسی کو کام سکھانا اور چیز ہے۔

تبلیغ وتعلیم، علم کے فرائض ہیں
دونوں فرائض علماء کے ہیں، تعلیم بھی تبلیغ بھی، تعلیم دینے کی بھی ضرورت ہے، رسول اکرم صلی الله علیہ وسلم کی دونوں شانیں تھیں۔ ﴿بلغ ما أنزل إلیک من ربک﴾ تبلیغ کرنے کا حکم دیا گیا او رایسے ہی ” إنما بعثت معلما“ اور قرآن مجید میں فرمایا گیا﴿یُعَلِّمُہُ الْکِتَابَ وَالْحِکْمَةَ﴾ تعلیم کتاب وحکمت رسول کریم صلی الله علیہ وسلم کے فرائض منصبی میں شامل تھی، تو تعلیم بھی رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے فرائض منصبی میں ہے او رتبلیغ بھی۔ چناں چہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے دونوں چیزوں کے متعلق ہدایتیں کی ہیں، معلمین کے لیے الگ ہدایتیں کی ہیں اور مبلغین کے لیے الگ اور حضوراکرم صلی الله علیہ وسلم نے دونوں کام کیے ہیں، تعلیم کا بھی، تبلیغ کا بھی۔

تبلیغ کی فوقیت
لیکن اس جگہ قرآن عظیم نے تعلیم سے بھی آگے تبلیغ کو ذکر فرمایا:﴿وَلِیُنذِرُوا قَوْمَہُمْ إِذَا رَجَعُوا إِلَیْہِم﴾ انذار کریں اپنی قوم کو جب وہ لوٹ کر آئیں، انذار ایک قسم کی تبلیغ ہے، تعلیم نہیں، تبلیغ کو اس جگہ ساری چیزوں سے مقدم رکھا ہے، اس سے یوں معلوم ہوتا ہے کہ تعلیم کا حاصل بھی تبلیغ ہی ہے۔ غور کرو جتنے طلبہ کو ہم یہاں تعلیم دے رہے ہیں ان کا منشا کیا ہے؟حضور اکرم صلی الله علیہ وسلم او رالله کے احکام پہنچانا تبلیغ کا مفہوم ہے، اس کی ایک مکمل صورت یہ ہے کہ دین کے احکام، خواہ ان کو اس کی ضرورت ہے یا نہیں، ہم نے ان کو سارے سکھا دیے، پڑھا دیے، تاکہ آگے جاکر یہ اور لوگوں تک پہنچائیں، تعلیم کا بھی اصل مقصود تبلیغ ہے، اگر تعلیم تعلیم ہی کے درجے میں رہے اور تبلیغ تک نہ پہنچ سکے تو اس کا حاصل پھر یہ ہے کہ وہ اپنے مقصد کو پہنچانہیں، اگر ہماری تعلیم یہ رہے کہ ہم نے جو کتاب پڑھی وہ دوسروں کو پڑھا دیں، صرف اتنا کام نہیں، بلکہ کتاب پڑھانے کے پیچھے یہ بھی ہے کہ اس کو دین سیکھا دیں اور اسے دوسروں تک پہنچا دیں۔

انذار کا مفہوم
قرآن مجید نے اس آیت میں اہل علم کا مقصد زندگی تعلیم سے فارغ ہونے کے بعد بتایا، انذار، اب غور کرو قرآن کے الفاظ میں کہ قرآن نے تبلیغ نہیں کہا، بلغوا نہیں کہا﴿لیبلغوا قومھم﴾ نہیں کہا ،بلکہ ﴿لینذروا قومھم﴾ فرمایا۔ قرآن کے ایک ایک حرف اور ایک لفظ میں عجیب وغریب نکات ہیں، مگر افسوس یہ کہ نہ قرآن کو کوئی اس نیت سے پڑھتا ہے، عوام کے تو کہنے کیا ہیں، عالموں کو فکر نہیں، ہر بات میں ذرا ذراسے ردوبدل سے بڑا فرق اور بڑے دوررس فوائد پیدا ہو جاتے ہیں۔ انذار کا مفہوم سمجھیں، انذار کے لفظی معنی ڈرانے کے ہیں او راسی لیے نذیر ڈرانے والے کو کہا جاتا ہے، انبیاء کی شان میں ﴿بشیر ونذیر﴾ دونوں صفت آتی ہے، بشیر اس واسطے کہ وہ نیک کام کرنے والوں کو خوش خبری سنانے والے ہیں اور نذیر ( ڈرانے والے) اس لیے کہ وہ جہنم سے اور الله کے عذاب سے ڈراتے ہیں، لیکن مطلق ڈرانے کے معنی نہیں، عربی لغت کو الله تعالیٰ نے عجیب خوبی عطا فرمائی ہے، اس کے عجیب خواص ہیں، ڈرنے کے معنی میں خوف کا لفظ بھی آتا ہے، نذیر کا مادہ بھی خوف کے معنی میں آتا ہے، خوف تو ہے ہی اور بہت سے الفاظ آتے ہیں خوف کے معنی میں، حذر بھی خوف کے معنی میں آتا ہے۔

انذار وتخویف کا امتیاز او ران کے نتائج
لیکن انبیاء علیہم الصلاة والسلام کے لیے جو صفت بتائی ہے، وہ نذیر بتائی اور اہل علم کو حکم دیا تو وہ انذار کا حکم دیا ہے، وجہ اس کی یہ ہے کہ انذار کے معنی مطلق ڈرانے کے نہیں، جہاں تک ڈرانے کا تعلق ہے تو بلی، شیر اوربھیڑیا بھی ڈراتا ہے او رانسان اس سے ڈرتا ہے کہ پھاڑ کھائے گا، ایک چور، ڈاکو ڈراتے ہیں کہ ہم تمہیں مارڈالیں گے، ایک حاکم افسر ڈراتا ہے، غرض ایک ڈرانا تو وہ ہے جو تکلیف سے ڈرایا جاتا ہے، اپنی قوت قاہرہ کی بنا پر، اس کا نام انذار نہیں، اس کو تخویف کہیں گے۔ انذار اس ڈرانے کو کہیں گے جو شفقت کی بنا پر ہو، شفقت ومحبت کے داعیہ سے انذار پیدا ہو، اس ڈرانے کا نام انذار ہے، جیسے باپ ڈراتا ہے بیٹے کو، بچھو سے، سانپ سے، آگ سے۔ باپ کہتا ہے کہ بیٹا! آگ کے قریب ہاتھ نہ کرو، ہاتھ جل جائے گا اور تمام مضر چیزوں سے ڈراتا ہے، یہ ڈرانا ایسا نہیں جیسے چور ڈراتا ہے، چور بھی ڈراتا ہے، ڈاکو بھی ڈراتا ہے اور باپ بھی ڈراتا ہے، ان میں بڑا فرق ہے یا نہیں؟ چورڈاکو کو اس سے کوئی ہم دردی نہیں، وہ تو اس کا مال چھیننے کے لیے ڈراتا ہے او رانذار کہتے ہیں، اس کو جو ہم دردی سے پیدا ہو، جیسے استاد ڈراتا ہے شاگرد کو کہ دیکھو، اگر ایسا کرو گے تو تمہارا نقصان ہو جائے گا، پیر ڈراتاہے اپنے مرید کو، باپ ڈراتا ہے اپنی اولاد کو، الغرض جو ہم دردی وشفقت سے پیدا ہو اس کا نام ہے انذار، اسی واسطے انبیاء علیہم الصلاة والسلام کی شان میں نذیر کا لفظ آیا﴿ بشیراً ونذیراً﴾ کیوں کہ انبیاء علیہم السلام کی شان یہی ہے کہ وہ دشمنوں کو بھی اگر کوئی ڈر کی بات سناتے ہیں تو وہ ہم دردی سے پیدا ہوتی ہے اور ان دونوں کا بڑا فرق ہے کہ جو تخویف چور ڈاکو کرتا ہے اور وہ تخویف، جو باپ اور استاد کرتا ہے وہ انذار اور یہ زمین وآسمان کا فرق ہے او راثرات کا بھی فرق ہے، ظاہر ہے کہ چور، ڈاکو ڈراتا ہے (انسان) اس سے ڈرتا بھی ہے او رعمر بھر کے لیے اس کا دشمن ہو جاتا ہے، اس کی شکل دیکھنے سے بھی بھاگتا ہے، آج تواتفاق سے مل گیا، لیکن آئندہ ایسی کوشش کرے گاکہ اس کی شکل نظر نہ آئے، اس تخویف کا اثر تو یہ ہوتا ہے او رانذار کا کیا اثر ہوتا ہے؟ جتنا وہ ڈراتا ہے اتنی ہی اس سے محبت بڑھتی ہے، جس اولاد کو تربیت کرنے کے لیے شفقت کے ساتھ باپ زیادہ ڈرائے گا او رمارپیٹ بھی تھوڑی سی کرے گا، اس سے ہی زیادہ محبت ہوگی، ایسے ہی استادوں کا قصہ ہے، استاد اگر محبت وشفقت سے اپنے شاگرد کو اس کی اصلاح کی خاطر ڈراتا ہے، دھمکاتا ہے ، برا بھلا کہتا ہے، ڈانٹتا ہے، مارتا ہے، نکال دیتا ہے، تجربہ ومشاہدہ کہ جتنا ایسا معاملہ استاد کرے گا، اسی استاذ سے زیادہ محبت ہوگی۔ میرا تو خود اپنا تجربہ ہے کہ جس اولاد کو زیادہ مارا پیٹا ہے اور اس پر تنبیہات کا سلسلہ جاری رکھا ہے اسی کو مجھ سے زیادہ محبت ہوئی، میری اولاد میں جس کے ساتھ یہ سلسلہ کم رہا، ان کے ساتھ کم محبت ہوئی اورجن کے ساتھ زیادہ رہا او ران سے زیادہ محبت ہوئی،شاگردوں کا بھی یہی حال ہے۔

جدید وقدیم طلبا او راساتذہ کا طرزِ عمل
ہمارے آج کل کے جو شاگرد ہیں، خدابچائے ان شاگردوں سے، ان سے یہ ڈر لگا رہتا ہے کہ کہیں ہماری ٹوپی نہ اتار لیں، ہم یہاں سے اٹھ کر جائیں تو ہماری قیمت نہ چلی جائے، جن طالب علموں کو ہم نے پڑھایا تھا، ان کو ہم تومارا پیٹا کرتے تھے، برا بھلاکہنا، ڈانٹ دینا ، نکال دینا، یہ تو روزمرہ کا دھندہ تھا، ذراسی بات پر بھی، کسی کی مجال نہیں تھی کہ استاد کے خلاف کوئی بات کہے، ہمارے طالب علمی کے زمانے میں تو اچھا خاصا یہ معمول تھا کہ پیٹا جاتا تھا، ہمارے ادب کے استاذ حضرت شیخ الادب مولانا اعزاز علی صاحب رحمة الله علیہ کا قصہ یاد آیا، ہم نے ادب کی ساری کتابیں مفید الطالبین سے لے کر حماسہ تک اتفاق سے ان سے پڑھی ہیں، ایسا اتفاق کم ہوتا ہے کہ ایک فن کی ساری کتابیں ایک استاذ سے آدمی پڑھے، مگر ہماری کچھ رعایت بھی کی جاتی تھی، دارالعلوم میں الله کے فضل سے سب اساتذہ خوش تھے، اس واسطے ہماری رعایت کرتے تھے او رہم یہ چاہتے تھے کہ ہماری ادب کی ساری کتابیں مولانا رحمة الله علیہ کے پاس ہوں۔

”مفید الطالبین“ ہم نے شروع کی، مفید الطالبین کے پڑھاتے پڑھاتے ہماری ”صرف نحو“ انہوں نے پکی کرادی۔”الباب الاول“ پر پہنچے، جو کہ مفید الطالبین کا پہلے باب کا عنوا ن ہے، الباب یہ فعل ہے، اسم ہے یا حرف؟ اب ہم بغلیں جھانکنے لگے، اس واسطے کہ نحو میر یاد نہیں تھی ، کسی نے کہہ دیا چوں کہ الف لام لگا ہوا ہے، اسم کی علامت ہے، اسم ہے، آپ نے فرمایا، کون سا اسم ہے؟ ساری نحو میر کا اجراء کرایا، نہ بتانے پر فقط یہ نہیں کہ تنبیہات ہوں۔”تنبیہ الغافلین“ ساتھ رہتی تھی اور جہاں غلطی کی وہ آیا، ہم چودہ پندرہ آدمیوں کی جماعت تھی ، کوئی بڑی جماعت نہیں تھی، چھوٹی جماعت تھی، ہر وقت ڈر لگا رہتا تھا کہ پڑی ، یہ الله کا انعام وکرم ہے کہ چودہ آدمی تھے، سب پر برسی، مجھ پر نہ برسی، مجھ پر الله تعالیٰ نے کرم کیا تھا، استاذ بھی خوش تھے اور ڈرتا بھی بہت تھا، اس واسطے الله تعالیٰ نے مجھے اس سے محفوظ رکھا، کبھی مار نہیں پڑی۔ بس عنایتیں رہیں، البتہ کبھی کبھی خفا ہو گئے، تیز نگاہ سے دیکھ لیا، بس یہی میرے لیے مار تھی، مار پڑنے کی نوبت نہیں آئی، سچ کہہ رہا ہوں کہ ہم نے اس طرح پڑھا تھا، اس کا نتیجہ تھا کہ ” نفحة الیمن“ پڑھنے کے زمانے میں ہم نے عربی نظم کا امتحان دیا، عربی تحریر فقط نہیں، عربی نظم، اشعار اور مفتی کفایت الله صاحب جو ادیب بہت اچھے تھے، ان کو ہمارے امتحان کے لیے دہلی سے بلایا گیا تھا، چناں چہ انہوں نے ہمارا امتحان لیا او رایک مصرعہ دیا کہ اس پر نظم لکھو، تین چار گھنٹے امتحان کا وقت تھا، ان چار گھنٹوں میں دس شعروں کی ایک نظم لکھ کر پیش کر دی، یہ” نفحة الیمن“ کا زمانہ تھا، آج تو حماسہ پڑھ کر بھی کوئی یہ نہیں کرسکتا۔ وجہ اس کی تعلیم وتربیت کا ایک ڈھنگ تھا، استاذ کا خوف، استاذ کی عظمت ومحبت اورچوں کہ ان کی روش یہ تھی، جس پر یہ بات کرنے کی نوبت آئی، وہ مارپیٹ کرتے تھے، اس لیے اتنی محبت ان کی ہمارے دلوں میں پیدا ہوگئی تھی، کسی استاذ کی اتنی محبت ہمارے دلوں میں نہیں تھی، جتنی محبت ان کی ہمارے دلوں میں تھی، اگرچہ مجھ پر مار کی نوبت نہیں آئی، البتہ ایک دو دفعہ خفا ہونے کا معاملہ ہوا، بس مجھے یہ معلوم ہوا کہ میری جان نکل گئی، اس طرح سے استادوں سے پڑھا تھا او ران سے تعلق رکھا تھا، اس سے کچھ آجایا کرتا تھا، آج کا طالب علم؟ استاذ کہیں، شاگرد کہیں؟ او رمجال ہے استاذ کی شاگرد کو ایک لفظ بھی کہہ دے، الله الله! کہاں بات چلی گئی؟ میں اس پر کہہ رہا تھا کہ انذار کا لفظ اختیار کیا گیا ہے، اصل چیز تبلیغ ہے او رتعلیم کا بھی انجام پھر تبلیغ ہے او راس کے لیے قرآن نے لفظ انذار اختیار کیا، جس پر یہ ساری باتیں ہوئی، ہم دردی وشفقت سے جوڈراتا ہے، اس کا اثرکچھ اور ہوتا ہے، چناں چہ ہمارا تجربہ ہی ہے کہ الحمدلله اب کوئی دن خالی نہیں جاتا، اتنی عمر ہو گئی کہ اپنے ان استاد کو ایصال ثواب کرتا ہوں او رمولانا اعزاز علی رحمة الله علیہ کو ہمیشہ یاد رکھتا ہوں، انہوں نے مجھ پر شفقت کی او رمارپیٹ بھی ہوئی ، تنبیہات بھی ہوئیں، ان کی محبت رگ وپے میں سرایت کر گئی۔

قصور کس کا ہے؟
تجربہ شاہد ہے ، لوگ کرکے نہیں دیکھتے، آج بھی الحمدلله طلبہ میں تنفر نہیں ہے، طلبا کا بھی قصور ہے، استادوں کا بھی، استاد اگر ہم دردی اورمحبت سے طلبا کی اصلاح کے لیے یہ چاہیں کہ ہمارے طالب علم کے اخلاق درست ہو جائیں، ان کی تعلیم ٹھیک ہو جائے، اس پر مارپیٹ بھی کریں، تنبیہات بھی کریں، ممکن ہے کہ ایک آدھ دفعہ کسی کو ناگوار بھی ہو جائے، لیکن جب ان کو معلوم ہو گا کہ اس کو کوئی غرض نہیں، ہمار ی محبت میں کرتا ہے تو پھر وہی عاشق ہو جاتے ہیں او رمحبت ان کے دل میں سما جاتی ہے افسوس یہ ہے کہ یہ طریقہ جاتا رہا، کالجوں اور اسکولوں کا سا طرزہو گیا، مدرس نے پڑھا، اپنے گھر چلا گیا اور طالب علم نے پڑھا، اپنے حجرہ میں چلا گیا، کسی کو دوسرے سے واسطہ نہیں۔ غرض یہ کہ انذار وہ چیز ہے جس سے ہم دردی اور شفقت اوربڑھتی ہے، قرآن نے اس کو اختیار کیا:﴿ ولینذروا قومھم﴾ انذار کرو اپنی قوم کو، ان کو تبلیغ کرو، تبلیغ بھی بشکل انذار، یعنی ہم دردی اورشفقت کے ساتھ، ان کو دین کے مسائل پہنچاؤ۔

تعلیم کی صحیح ترتیب
ہمار اپنا اصول یہ تھا کہ بچپن سے پہلے قرآن مجید پڑھایا، بچہ قرآن پڑھ کر فارغ ہوا توفارسی درجہ میں داخل ہوا، فارسی، ریاضی، حساب وکتاب اقلیدس، یہ ساری چیزیں جو میٹرک تک کی تعلیم ہے، وہ ہمارے درجہ فارسی تک میں پڑھائی جاتی تھیں، میٹرک تک کی تعلیم میں نے خود سیکھی، حساب جو آج بی اے تک حساب ہے، وہ میں نے پڑھا ہے، اقلیدس میں نے پڑھی ہے، اس طرح مساحت کا کام جس کا آج کل بہت بڑا محکمہ بنا ہوا ہے، وہ میں نے سیکھا ہے اور سب فارسی پڑھنے کے زمانے میں سیکھا، پانچ سال کا کورس تھا، اس پانچ سال کے کورس میں سب چیزیں سیکھیں، عربی کا ابھی نام تک نہیں پڑھا تھا، اس کے بعد جاکر عربی میں داخلہ ہوا۔

پیغمبرانہ طریق اصلاح اور ہم
کرنے کا کام تو یہ ہے جو قرآن نے بتایا﴿ولینذرواقومھم﴾ مقصد زندگی بنانا ہے، اس بات کو کہ یہ امانت الله اور الله کے رسول کی ہم تک پہنچی ہے، جس کا نام وراثت نبوت ہے:”العلماء ورثة الأنبیا“ علماء انبیا کی وراثت ہیں۔ یہ انبیا کی وراثت آپ کو ملی ہے ، یہ امت کو پہنچانی ہے اورپہنچانی بھی شفقت او رہم دردی کے ساتھ ، انذار کے لفظ سے اشارہ کر دیا اس بات کی طرف کہ شفقت وہم دردی کے ساتھ یہ امت کو پہنچانی ہیں۔ اب ہمارے ہاں تو معاملہ روکھا ہے، انذار کرنے والے کہاں سے لائیں؟ اول تو جیسا میں عرض کر رہاہوں، ادھر دھیان ہی نہیں ہوتا ، تبلیغ کی طرف، نہ دوسروں کو سکھانے کی طرف دھیان ہوتا ہے، سینکڑوں میں کوئی ایک ایسا نکلتا ہے جسے دوسروں کی تعلیم وتبلیغ واصلاح کی فکر ہوتی ہے، اس میں ایک اور روک شیطان نے لگا دی ، وہ یہ کہ جو انذار کا لفظ قرآن کریم نے اختیار کیاتھا، اس کی طرف دھیان نہیں کرتا، قرآن کی تعلیم کا حاصل انذار کے لفظ سے یہ ہے کہ لوگوں کو پیغمبرانہ تعلیم دو، پیغمبروں کی طرح سے، تشدد کے الفاظ نہ بولو، برانہ مناؤ، اشتعال نہ پیدا کرو، تمہارا جو مخالف ہے، مخالف عقیدہ رکھتا ہے، مخالف رائے رکھتا ہے، تمہارے خلاف ہے، اس کو دعوت دوقریب کرکے، انذار کے طریقے پر او رانذار اس کا نام ہے کہ شفقت وہم دردی کے ساتھ یہ بات کہ کسی طرح سے یہ درست ہو جائے، صحیح عقیدہ کو مان لے، اس طرح سے پہنچاؤ، اس کا تو دنیا میں بالکل قحط ہے، سارا قرآن پیغمبروں کی تعلیم سے بھرا ہوا ہے، حضرت ہود علیہ السلام کا واقعہ ہے کہ قوم نے ان سے کہا:﴿إِنَّا لَنَرَاکَ فِی سَفَاہَةٍ وَإِنَّا لَنَظُنُّکَ مِنَ الْکَاذِبِینَ﴾”ہم تم کو بے وقوف سمجھتے ہیں او رجھوٹا بھی سمجھتے ہیں۔“ اس سے بڑی گالی او رکون سی ہوگی، مہذب گالی اس سے بڑی او رکون سی ہوگی کہ تم بے وقوف بھی ہو اورجھوٹ بولنے والے بھی ہو، پیغمبر کیا جواب دیتے ہیں؟ اگر تمہیں کوئی دوسرے فرقہ کا آدمی کہہ دے تو کیا جواب دو گے؟ باپ دادا تک کی خبر لے لو گے، لیکن پیغمبر نے کیا جواب دیا؟ قرآن کے الفاظ دیکھو، وہ تو کہہ رہے ہیں ﴿إِنَّا لَنَرَاکَ فِی سَفَاہَةٍ وَإِنَّا لَنَظُنُّکَ مِنَ الْکَاذِبِینَ﴾پیغمبر نے جواب دیا:﴿یاقَوْمِ لَیْسَ بِی سَفَاہَةٌ وَلَٰکِنِّی رَسُولٌ مِّن رَّبِّ الْعَالَمِینَ﴾ ”اے میری برادری! ان کو خطاب کرتے ہیں اپنی شرکت کے ساتھ کہ میں تم ہی میں سے ایک ہوں، تم میری برادری ہو اورمیرے بھائی ہو۔ یا قوم! ”اے میری برادری!﴿لَیْسَ بِی سَفَاہَةٌ﴾ اسے سمجھو! میں بے وقوف نہیں ہوں ﴿وَلَٰکِنِّی رَسُولٌ مِّن رَّبِّ الْعَالَمِینَ﴾ یہ ہے سیدھا سادا جواب، گالی کا جواب، سارا قرآن ایسی مثالوں سے بھرا پڑا ہے۔
ابراہیم علیہ السلام نے اپنے والد کو تلقین فرمائی، انہوں نے کہا:﴿لَأَرْجُمَنَّکَ﴾ہم تمہیں سنگسار کر دیں گے، تم ہمارے الہٰ کا انکارکرتے ہو اور ہمارے معبودوں کا او ربتوں کا انکار کرتے ہو ﴿لَئِن لَّمْ تَنتَہِ﴾ اگر تو ہمارے بتوں کو برا کہنے سے باز نہیں آئے گا تو ہم تمہیں سنگسار کردیں گے او رچلے جاؤ، نکل جاؤ ﴿وَاہْجُرْنِی مَلِیًّا﴾ اور زمانہ درازی کے لیے یہاں سے نکل جاؤ۔ باپ نے یہ کہا او رحضرت ابراہیم علیہ السلام مشرک باپ کو کیا جواب دیتے ہیں:﴿سَلَامٌ عَلَیْکَ سَأَسْتَغْفِرُ لَکَ رَبِّی إِنَّہُ کَانَ بِی حَفِیًّا﴾ کہ” میں الله سے آپ کے لیے استغفار کروں گا، وہ مجھ پر مہربان ہے۔“ یہ طریقہ اختیار کرو، یہ ہے پیغمبرانہ طریق دعوت ،جو علم دین کے حاملین کا شعار ہونا چاہیے۔

وآخر دعوانا أن الحمدلله رب العالمین.