بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

شیر خدا حضرت علی رضی اللہ عنہ

شیر خدا حضرت علی رضی اللہ عنہ

مفتی محمد عبدالله قاسمی

شجاعت و جواں مردی ،ہمت وعالی حوصلگی، سپہ گری و شمشیر زنی، صبر واستقلال،جاہ وجلال جیسے اوصافِ حمیدہ کو قرطاس ابیض پر اگر مجسم تصویر دی جائے تو بلا مبالغہ ان سے سیدنا علی ابن ابو طالب رضی اللہ عنہ کا خاکہ تیار ہوتا ہے، آپ رضی اللہ عنہ کی زندگی اس ہشت پہل ہیرے کے مانند تھی جس کا ہر پہلو تاب ناک اور روشن ہوتا ہے، آپ رضی اللہ عنہ کی حیات طیبہ کا ہر زاویہ ہمارے لیے چراغِ راہ اور رفیق خضر ہے، ہمارے ملک کے موجودہ حالات میں، جب کہ ہرطرف مسلمانوں میں خوف کا سناٹا چھایا ہوا ہے، مصائب کے ہجوم اور ستم گاریوں کے تلاطم نے مسلم سماج کو ایک طرح سے فکری وعملی لحاظ سے مفلوج اور ناکارہ بنادیا ہے، ایسے میں سیدنا حضرت علی رضی اللہ عنہ کی زندگی کے جرات مندانہ اور دلیرانہ پہلو میں ہمارے اضطراب وبے چینی کے لیے تسلی کا سامان ہے، ہرسو چھائی ہوئی ظلمتوں اور تاریکیوں میں مینارہٴ نور اور مشعل راہ ہے،ہم ذیل میں سیدنا حضرت علی رضی اللہ عنہ کی جواں مردی اور ان کے عزم وحوصلہ کے چند واقعات ذکر کرتے ہیں۔

ہجرت کی رات آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بستر پر استراحت
اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے ساتھ جس رات ہجرت فرمائی تھی وہ رات بڑی مہیب اور پرآشوب تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا کاشانہ مبارک دشمنوں کے نرغہ میں تھا، آپ کی ہستی مسعود کو مٹانے کے لیے درندہ صفت لوگ اکھٹے ہوگئے تھے، ان کے خون آشام لبوں کی پیاس معاذ اللہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قتل سے ہی بجھ سکتی تھی، اس گھناؤنے اور ناپاک عزائم کی تکمیل کے لیے وہ راہ میں آنے والے موانع کو اپنے پیروں تلے روندنے کا حوصلہ رکھتے تھے،ادھراللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم دشمنوں کی سروں پر خاک ڈالتے ہوئے بہ حفاظت اپنے دولت کدہ سے نکل گئے، لیکن جاتے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مشرکین مکہ کو ان کی امانتیں سپرد کرنے کا انتظام فرمایا، چناں چہ ایسی پر خطر رات میں اپنے بستر مبارک پر آرام کرنے کے لیے نگاہ نبوت نے جس بہادر کا انتخاب فرمایا وہ سیدنا حضرت علی رضی اللہ عنہ ہیں، حضرت علی رضی اللہ عنہ کو پتہ تھا کہ اس رات آپ کے بستر مبارک پر آرام کرنا جان جوکھم میں ڈالنے کے مترادف ہے، انہیں اندازہ تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو قتل کرنے میں ناکام ہونے کی وجہ سے کفار و مشرکین کے غیظ وغضب کا رخ ان کی طرف مڑ سکتا ہے، انہیں احساس ہوگیا تھا کہ دشمنان رسول مشتعل اور چراغ پا ہوکر ان کو نقصان پہنچا سکتے ہیں، وہ یہ بھانپ چکے تھے کہ رسول خدا جب ان کے ہاتھ نہیں آئیں گے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا زاد بھائی، خاص طور سے جب کہ وہ آپ کے گھر میں پلے بڑھے ہیں، ان کو قتل کرکے ہی اپنے انتقام کی پیاس بجھائیں گے، لیکن ان ہمہ گیر خطرات کے باوجود حضرت علی رضی اللہ عنہ نے بلا کسی جھجک کے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بستر پر آرام فرمایا، رات بھر مشرکین و کفار اس دھوکے میں رہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم گھر میں استراحت فرمارہے ہیں، صبح کو جب گھر کے اندر داخل ہوئے اوراللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے فراش مبارک پر حضرت علی رضی اللہ عنہ کو پایا تو سر پیٹ کر رہ گئے اور اپنی لاپرواہی پر سخت برہم ہوئے اور حضرت علی رضی اللہ عنہ سے الجھنے کے بجائے اپنے اصل مقصود کی تلاش و جستجو میں نکل گئے،یقینا یہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی فدویت وجان نثاری کا بے مثال کارنامہ ہے، ایک سچا پکا مومن، جس کے دل میں ایمان کی شمع فروزاں ہو اورعشق رسول اس کے رواں رواں میں رچ بس گیا ہو وہ مصائب اورپریشانیوں کی پروا نہیں کرتا، ہر طرح کے خطرات اور آزمائشوں کو وہ مول لیتا ہے،کفار ومشرکین کی کثرت اور ان کا ہتھیار واسلحہ سے لیس ہونا اسے مرعوب اور خوف زدہ نہیں کرتا، وہ سخت سے سخت حالات کا اپنے ایمانی قوت سے مقابلہ کرنے کا حوصلہ رکھتا ہے۔

غزوہٴ بدر میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کی شجاعت و بہادری
غزوہٴ بدر حق وباطل کے درمیان لڑی جانے والی پہلی جنگ ہے، یہ وہ خون ریز معرکہ ہے جس میں کفار ومشرکین کا ایک بڑا بھاری لشکر، مسلمانوں کا صفایا کرنے کے لیے ہتھیار واسلحہ سے لیس ہوکرمکہ سے روانہ ہوا تھا اور ان کے مقابلے میں مسلمانوں کی تعداد نہایت قلیل تھی، اسلحہ وہتھیار بھی کم تھے، گھوڑے اور اونٹ بھی سب کے پاس نہیں تھے، اس تاریخی جنگ میں مسلمانوں کی بے سروسامانی کے باوجود اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو فتح عطا فرمائی اور کافروں کو ذلت آمیز شکست ہوئی،اس تاریخی جنگ میں جن صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے شجاعت و بہادری کے جوہر دکھائے اور کفار ومشرکین کے جارحانہ حملوں کا منھ توڑ جواب دیا ان میں ایک نمایاں نام سیدنا حضرت علی رضی اللہ عنہ کابھی ہے، آپ رضی اللہ عنہ کی عمر غزوہ بدر کے وقت بہ مشکل بائیس تیئیس سال تھی؛ بائیس تیئیس سال کی عمر ہی کیا ہوتی ہے؟ عمر کی اس دہلیز پر انسان کے دل میں اپنی زندگی کو مربوط ومنظم کرنے کے لیے مختلف امنگیں مچل رہی ہوتی ہیں، شوق وولولہ کے تموج خیز جذبات انسان کے اندرون میں انگڑائیاں لیتے رہتے ہیں، ملی واجتماعی مقاصد کے لیے جد وجہد کے بجائے شخصی اور ذاتی مقاصد ومفادات انسان کی اولین ترجیح ہوتے ہیں، لیکن یہ نوخیز ونوعمر جوان کاشانہٴ نبوت میں پروان چڑھتا ہے، تربیت نبوی کی آفاقی اور عالم گیر شعاعیں اس صالح نوجوان پر براہ راست پڑتی ہیں، نبوی درد وکرب سے اس نوجوان کو بھی وافر حصہ ملتا ہے؛ اس لیے یہ نوجوان؛ بلکہ سارے انفاس قدسیہ ،جن کو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت کیمیا میسر آئی انہوں نے دین کی نشر و اشاعت اور عدل و انصاف کے پیغام کو دنیا بھر میں پہنچانے کے لیے اپنا تن من دھن قربان کردیا اور اپنی قربانیوں کے ایسے تابندہ نقوش چھوڑے جن کی داستان فرہاد وشیریں کے افسانے سے بھی زیادہ دل کش ودل ربا ہے، اور آج کی ٹوٹی ہوئی ہمتوں اور شکست آشنا حوصلوں کے لیے تریاق ہے۔ رزم گاہ حق وباطل میں یہ نوجوان قریش کیبرسرآوردہ لیڈرولید بن عتبہ …جس کی بہادری اور جواں مردی ضرب المثل تھی اور جس سے مقابلہ کرنے سے بہادر اور سورما تک کتراتے تھے…کی دعوت مبارزت پر نکلا، اور تلوار سے ایک ایسا فیصلہ کن وار کیا کہ مشرک کا بھاری بھرکم جسم خاک وخون میں تڑپنے لگا اور کچھ ہی لمحوں میں وہ جہنم واصل ہوگیا۔حضرت عبیدہ بن حارث رضی اللہ عنہ کا مقابلہ عتبہ بن ربیعہ سے ہوا، دونوں نے ایک دوسرے پر سخت وار کیا، جس میں حضرت عبیدہ بن حارث رضی اللہ عنہ زخمی ہوکر گرپڑے، شیر خدا حضرت علی رضی اللہ عنہ نے یہ دیکھتے ہی جھپٹ کر دشمن خدا عتبہ بن ربیعہ پر حملہ کیا اور اس کے ناپاک وجود کو خون میں نہلادیا، پھر عام حملہ شروع ہوگیا، موت کا رقص ہونے لگا، حضرت علی رضی اللہ عنہ کی تلوار بجلی بن کر کافروں کے سروں پر کوندنے لگی اور جو بھی دشمن آپ سے ٹکرایا وہ پاش پاش ہوگیا، اس خون ریز لڑائی میں حضرت علی رضی اللہ عنہ نے جن کفار ومشرکین سے صفحہ ہستی کو پاک کیا وہ کل انیس تھے، جن کے نام یہ ہیں:

ولید بن عتبہ ، حارث بن ربیعہ، حنظلہ بن ابی سفیان، عقیل بن الاسود، نوفل بن خویلد، عاص بن سعید، حرملہ بن عمروبن ابی عقبہ، ابوقیس بن الولید،عاجزبن سائب بن عمیر،تیسیر بن المجاج، عاص بن منیہ ،زمعہ بن الاسود،حارث بن زمعہ ، عمروبن عثمان بن کعب،مالک بن طلحہ ، ابن تیم ، کل مقتولین کی تعداد19ہوئی، مگر ان کے علاوہ چند اور مشرکین بھی تیغ علی رضی اللہ عنہ کا شکار ہوئے۔ایک مشرک عمروبن ابی سفیان کو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے قیدی بنایا۔

یہودیوں کے سردار مرحب کا قتل
خیبر باغات اور ہرے بھرے درختوں سے گھرا ہوا شہر تھا، اس شہر میں یہودی بسا کرتے تھے،وہ اپنی فطری اسلام دشمنی کی وجہ سے ہمیشہ مسلمانان مدینہ کو زک پہنچانے کی فکر میں رہتے تھے، ویسے تو یہ خود بزدل اورڈرپوک تھے، بہادروں کی طرح آمنے سامنے ہوکر مقابلہ کرنا ان کے بس کی بات نہیں تھی…ایسے ہی ہر مشرک اور کافر کا حال ہوتا ہے، عقیدہ آخرت پر یقین نہ رکھنے والے لوگ اس عارضی و فانی زندگی کو سب کچھ سمجھتے ہیں اورموت کا نام سن کر ہی ان پر لرزہ طاری ہو جاتا ہے…مدینہ سے دور ہونے کی وجہ سے انہیں براہ راست مسلمانوں کو نقصان پہنچانے کا موقع نہیں ملتا تھا، تاہم مدینہ سے دور رہ کر وہ برابر مسلمانوں کے خلاف سازشوں کے جال بنتے تھے اور ریاست مدینہ کی اینٹ سے اینٹ بجانے کے لیے دشمنوں کی بکھری ہوئی طاقتوں کو مجتمع کرنے میں ایڑی چوٹی کا زور لگاتے تھے، ایسے میں ضروری تھا کہ اس مکار وعیار قوم کا سخت احتساب کیا جائے، اور ان کی بڑھتی ہوئی یورشوں کو لگام دی جائے، اس مقصد کے لیے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے ساتھ خیبر کی طرف روانہ ہوئے، خیبر میں کئی مضبوط اور مستحکم قلعے تھے، جو عسکری لحاظ سے بڑی اہمیت کے حامل تھے، یکے بعد دیگرے تمام قلعوں کو مسلمانوں نے اپنی شجاعت و بہادری سے فتح کرلیا، لیکن ایک قلعہ بہت ہی مضبوط ، مستحکم اور ناقابلِ تسخیر تھا، جس کی حفاظت خود سردار مرحب کررہاتھا، جس کی بہادری اور جواں مردی ضرب المثل تھی، بڑے بڑے سورما اس کے نام سے تھراتے تھے اور اس کو دیکھ کر خوف کھاتے تھے، مسلمانوں نے کئی دن تک اس قلعہ کو فتح کرنے کے لیے سرتوڑ کوششیں کیں؛ لیکن قلعہ فتح نہیں ہوسکا۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک رات ارشاد فرمایا:کل صبح میں جنگ کا عَلم ایسے بہادر کو عطا کروں گا جس کے ہاتھ پر اللہ فتح عطا فرمائے گا، جسے اللہ اور اس کے رسول صلی الله علیہ وسلم سے محبت ہے اور اللہ اور اس کے رسول صلی الله علیہ وسلم بھی اس سے محبت کرتے ہیں۔

یہ ایک طرف مضبوط اور ناقابلِ تسخیر قلعہ کے فتح کی پیشین گوئی تھی، تو دوسری طرف اللہ اور اس کے حبیب سرکارِ دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت ورضامندی کی خوش خبری تھی، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد سن کر سارے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین تمنا کرنے لگے کہ یہ سعادت اور خوش نصیبی ان کے حصہ میں آئے، ہر صحابی رسول بے تاب تھے کہ یہ کلاہ سروری ان کے سر سجے، ہر جانثار رسول کے دل میں یہ آرزو انگڑائی لے رہی تھی کہ اس پرخطر مہم کے لیے ان کے نام کا اعلان آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے زبان مبارک سے ہو، ہر عاشق رسول اپنی جگہ پرعزم تھا کہ دین کی اس عظیم الشان خدمت کا یہ موقع انہیں ملے ؛ تاکہ وہ دونوں جہاں کی سعادت و کام یابی سے ہم کنار ہوسکے، اگلی صبح اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو طلب کیا، صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے عرض کیا کہ انہیں آشوب چشم ہے، جب حضرت علی رضی اللہ عنہ آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی آنکھ پر اپنا لعاب دہن لگایا، ان کی آنکھ کی تکلیف دور ہوگئی، یہ مرد مجاہد قلعہ کی اینٹ سے اینٹ بجانے کے لیے تنہا نکل کھڑا ہوا، دشمنان دین ہتھیار واسلحہ سے لیس ہوکر مقابلہ کے لیے کمر بستہ تھے، اپنے قلعہ اور اہل خانہ کی حفاظت کے لیے جان داؤ پر لگانے کا جذبہ رکھتے تھے، چناں چہ مرحب کا بھائی اپنے ساتھ کچھ جان بازوں کو لے کر سیدنا حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مقابلہ کے لیے نکلا، تلوار کی وار کا کچھ دیر باہم تبادلہ ہوا، آخر حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اس پر کاری ضرب لگائی اور اس کا ناپاک وجود زمین پر تڑپنے لگا، یہ دیکھ کر اس کا بھائی مرحب آگ بگولہ ہوگیا،انتقام اور دشمنی کے جذبہ نے اسے غصہ سے پاگل کردیا، خود وہ اپنی شجاعت و بہادری پر بڑا نازاں تھا، اور اپنے مد مقابل کو کچا چبانے کا حوصلہ رکھتا تھا، عرب کے لوگ بھی اس کی شجاعت و جواں مردی کے معترف تھے اور اس کو ایک ہزار بہادروں کے ہم پلہ سمجھتے تھے، یہ بہادر سینہ تان کر رجزیہ اشعار پڑھتا ہوا نکلا:
        قد علمت خیبر أنّي مرحب
        شاکی السّلاح، بطلٌ مُجرّب
        إذا الحُروبُ أقبلت تلھّب
خیبر مجھے جانتا ہے کہ میں مرحب ہوں۔مسلح پوش ہوں، بہادر ہوں، تجربے کار ہوں۔جب کہ لڑائی کی آگ بھڑکتی ہے۔

شیر خدا حضرت علی رضی اللہ عنہ بھی اس دشمن خدا کے رجزیہ اشعار کا بے باکانہ اور جرأت مندانہ انداز میں جواب دیتے ہوئے یہ اشعار پڑھتے ہیں:
        أنا الّذی سمّتني اُمّي حیدرہ
        کلیث غابات کریہ المنظرہ
        أوفیھم بالصاع کیل السندرہ
میں وہ ہوں، جس کا نام میری ماں نے حیدر رکھا ہے، جنگل کے شیر کی طرح مہیب اور ڈراؤنا، میں دشمنوں کو نہایت سرعت کے ساتھ قتل کردیتاہوں۔

اور شیر کی طرح اس یہودی مرحب پر جھپٹتے ہیں، یہودی کا پورا جسم مضبوط زرہ کے حصار میں ہوتا ہے اور اس کا سر آہنی خود میں چھپا ہوتا ہے، اس لیے اس کو کاری ضرب لگانے کے لیے کمال ہوشیاری کے ساتھ طاقت وقوت کی ضرورت تھی، تاکہ تلوار اس کی زرہ کو کاٹتے ہوئے اس کے جسم کو چیرتی ہوئی نکل جائے، چناں چہ تلوار کی واروں کا تھوڑی دیر تک تبادلہ ہوتا ہے،پھر موقع دیکھ کر حضرت علی رضی اللہ عنہ اس یہودی کے سر پر اتنی قوت سے وار کرتے ہیں کہ اس کے سر کا خود اور سر دونوں ایک ہی وار میں کٹ جاتے ہیں اور اس کے جبڑے بھی ٹوٹ جاتے ہیں اور کچھ ہی لمحے میں وہ غرانے والا اور بھونکنے والا سورما ٹھنڈا پڑجاتا ہے، یہودی اپنے بہادر …..جس پر انہیں بڑا ناز تھا، جس کو اس کی شجاعت و بہادری کی وجہ سے ناقابلِ تسخیر سمجھتے تھے…..کی لاش کو خاک وخون میں تڑپتا دیکھ کر مرعوب اور خائف ہوگئے اور اس سورما کے ساتھ مقابلہ کے لیے آئے ہوئے یہودیوں نے بھاگ کر قلعہ میں پناہ لی، ویسے بھی یہودی بزدل اور ڈرپوک ہوتے ہیں، موت کانام سن کر ہی ان کے چہروں پر ہوائیاں اڑتی ہیں، دوبدو مقابلہ کرنے سے وہ راہ فرار اختیار کرتے ہیں، اسی وجہ سے ان کے متعلق باری تعالیٰ نے یہ واضح اعلان فرمایا:

﴿ضُرِبَتْ عَلَیْہِمُ لذِّلَّةُ أَیْنَ مَا ثُقِفُوٓاْ إِلَّا بِحَبْلٍ مِّنَ اللّٰہِ وَحَبْلٍ مِّنَ النَّاسِ وَبَآء ُوا بِغَضَبٍ مِّنَ اللَّہِ وَضُرِبَتْ عَلَیْہِمُ الْمَسْکَنَةُ﴾․

وہ جہاں کہیں پائے جائیں ان پر ذلت کا ٹھپہ لگا دیا گیا ہے،الا یہ کہ اللہ کی طرف سے کوئی سبب پیدا ہو جائے یا انسانوں کی طرف سے کوئی ذریعہ نکل آئے،جو ان کو سہارا دے دے،انجام کار وہ اللہ کا غضب لے کر لوٹے ہیں اور ان پر محتاجی مسلط کر دی گئی ہے۔

وقت گزرنے کے ساتھ اس اعلان حق کی صداقت نمایاں ہوتی جارہی ہے اور یہود اور ان کی نسل سے تعلق رکھنے والے لوگوں کا خوف واضطراب آشکارا ہوتا جارہا ہے، بس ضرورت اس بات کی ہے کہ مسلمان جرأت مندانہ سوچ رکھیں اور ہوش مندی کے ساتھ بے باکانہ فیصلے لینے سے گریز نہ کریں۔

سیدنا حضرت علی رضی اللہ عنہ یہودیوں کے تابوت میں آخری کیل ٹھوکنے کے لیے ناقابلِ تسخیر قلعہ کی طرف پیش قدمی کرتے ہیں اور قلعہ کا مضبوط اور آہنی دروازہ…جسے بیس لوگ مل کر کھولتے اور بند کرتے تھے … کو اپنی ایمانی قوت سے تن تنہا اکھاڑ دیا اور قلعہ کے گرد کھودی ہوئی خندق کو اس بھاری اور وزنی دروازے سے پاٹ دیا، جس کی وجہ سے اسلامی لشکر خندق عبور کرکے قلعہ میں فاتحانہ انداز میں داخل ہوگیا اور شر پسند عناصر پر قابو پالیا گیا اور یہود بے بہبود…جن کی مجرمانہ سازشوں کے شرارے فضا میں پھیل کر ریاست مدینہ سے ٹکراتے تھے اور جن کی گھٹیااور اوچھی حرکتوں سے مسلمانان مدینہ پریشان رہتے تھے…کی طاقت وقوت کو کچل دیا گیا۔