بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

شیخ الحدیث حضرت مولانا عبیدالله خالد صاحب زید مجدھم کاسفر خاران

شیخ الحدیث حضرت مولانا عبیدالله خالد صاحب زید مجدھم کاسفر خاران

ضبط و تحریر: ابوعکاشہ مفتی ثناء الله خان ڈیروی
استاد ورفیق شعبہ تصنیف وتالیف جامعہ فاروقیہ کراچی

9/ صفر المظفر1444ھ بروز منگل ساتویں گھنٹے میں جامعہ کے سہ ماہی امتحان کا نتیجہ سنایا گیا۔

نتیجہ سنائے جانے سے پہلے حضرت اقدس دامت برکاتہم نے طلبائے کرام کو محنت کی ترغیب دی۔حضرت اقدس کے بیان کا خلاصہ نذر قارئین کیا جاتا ہے۔

فرمایا: الحمدلله! جامعہ میں طلبائے کرام کی غالب ترین تعداد محنت کرنے والی ہے اور کچھ ایسے بھی ہوتے ہیں جو محنت نہیں کرتے، چناں چہ جنہوں نے محنت کی ہے ان کے سامنے ابھی اس کا ثمر اور نتیجہ آجائے گا اور وہ جو اس بہترین ماحول سے فائدہ نہیں اٹھاتے او رمحنت نہیں کرتے ان کے سامنے بھی ان کا نتیجہ آجائے گا۔

الحمدلله! ہم جامعہ فاروقیہ میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں او راس جامعہ کا فیض صرف پاکستان کی حد تک نہیں، بلکہ جہاں سے سورج طلوع ہوتا ہے فیجی آئی لینڈ، وہاں بھی جامعہ کا فیض پہنچا ہوا ہے، چھوٹے سے جزیرے میں جامعہ کے12 فضلا دن رات بڑی محنت سے دین کا کام کر رہے ہیں اور جہاں سورج غروب ہوتا ہے، اوسلو وہاں بھی جامعہ کے فضلا دین کی خدمات سرانجام دے رہے ہیں اور اس کے درمیان میں ہر جگہ جامعہ کے فضلا دین کا کام کر رہے ہیں۔

ابھی گزشتہ جمعہ کے دن بلوچستان کا سفر ہوا، بلوچستان خاران میں جامعہ کے فاضل ہیں، مولانا ہدایت الله صاحب، وہ پچھلے تعلیمی سال کے آخر میں جامعہ آئے تھے او رمجھ سے اپنے مدرسے کے جلسے کے لیے تاریخ لی تھی۔

مولانا ہدایت الله صاحب نے فرمایا ہمارے ہاں جلسہ سال کے آخر میں نہیں ہوتا، چوں کہ وہاں کی گرمی بھی شدید ہوتی ہے اور سردی بھی، اس لیے ہمارا جلسہ ستمبر میں ہوتا ہے، میں نے شرکت کی حامی بھر لی اور پھر وہ مختلف ذرائع سے مسلسل یاد دہانی کراتے رہے، چناں چہ اس سال جلسے کے لیے ستمبر کی دو تاریخ طے ہوئی۔

جمعہ کے دن فجر کی نماز کے بعد چھوٹے بیٹے مفتی حمادّ خالد صاحب، استاد جامعہ فاروقیہ کے ہمراہ کراچی سے ہوائی جہاز کے ذریعے روانہ ہوئے اور صبح ساڑھے سات بجے کوئٹہ پہنچ گئے کوئٹہ ائیرپورٹ پر مولانا ہدایت الله صاحب علماء کی ایک بڑی جماعت کے ساتھ استقبال کے لیے موجود تھے، کوئٹہ میں حضرت قاری نورالدین صاحب دامت برکاتہم مہتمم جامعہ امدایہ نے اپنے عظیم الشان ادارے میں ناشتے کا انتظام کیا ہوا تھا، پُرتکلف ناشتے سے فارغ ہو کر خاران کے لیے روانگی ہوئی، کوئٹہ سے خاران تک کے سفر کے لیے مولانا ہدایت الله صاحب نے بہت شاندار انتظامات فرمائے تھے،بلوچستان کے مخصوص حالات کے پیش نظر انہوں نے کوئٹہ سے خاران تک اور پھر واپس کوئٹہ تک سیکورٹی کے بھی بہترین انتظامات فرمائے تھے۔

چناں چہ ہمارا قافلہ کوئٹہ سے خاران کے لیے روانہ ہوا،جس میں علاقے کے علماء کی بڑی تعداد تھی او رپھر راستے میں مزید قافلے شامل ہوتے رہے۔

کوئٹہ او رخاران کے درمیان نوشکی آتا ہے، وہاں کی ایک بڑی جامع مسجد جو مسجد ایمٹی سے معروف ہے، وہاں کے خطیب حضرت مولانا غلام حیدر شاکر صاحب جو جامعہ عربیہ جمالیہ کے بڑ ے استاذ الحدیث ہیں، ان کے ہاں ہم نے جمعہ کی نماز پڑھی اور پھر مدرسہ جامعہ ابوہریرہ نوشکی کے مہتمم مفتی محمد قاسم صاحب، جو جامعہ کے فاضل ہیں، ان کے ہاں کھانا کھایا۔

پھر ہمارا قافلہ خاران کے لیے روانہ ہوا جب ہم باب خاران پر پہنچے تووہاں طلباء، علماء، عوام کا ایک جم غفیر استقبال کے لیے جمع تھا، اس طرح ہم عشاء کے بعد خاران مولانا ہدایت الله صاحب کے مدرسے مدرسہ عربیہ فاروقیہ پہنچے، بلوچستان کے ساتھی جانتے ہیں کہ کوئٹہ سے خاران ایک دشوار گزار راستہ ہے ، بارشوں اور سیلاب کی وجہ سے راستے خراب ہیں اورپھر جوانی کی بات اور ہوتی ہے، میں عمر کے جس حصے میں ہوں اور جن بیماریوں سے گزرا ہوں او رجن بیماریوں میں مبتلا ہوں ان کے ساتھ اس طرح کے راستوں کی مشقت کا تحمل مشکل ہوتا ہے، لیکن وہاں کے طلباء، علماء اور عوام کے شوق کو دیکھ کر میں اپنی ساری تھکن بھول گیا، ماشاء الله بہت بڑا اجتماع تھا، آپ جانتے ہیں کہ بلوچستان کا صوبہ آبادی کے لحاظ سے سب سے چھوٹا صوبہ ہے، لیکن رقبے کے لحاظ سے سب سے بڑا صوبہ ہے، لوگ دور دور سے جلسے میں شرکت کے لیے تشریف لائے تھے۔ افغانستان کے بارڈر ایران کے بارڈر تک سے لوگ تشریف لائے تھے۔

جلسے میں ان حضرات نے میرا بیان آخر میں رکھا تھا، چناں چہ میں نے عشاء کی نماز کے بعد تھوڑا سا آرام کیا اور تقریباً ایک بجے میرا بیان شروع ہوا اور تقریباً سوا گھنٹہ ہوا ،بیان کے دوران لوگوں کی توجہ اور شوق ناقابل بیان تھا، مکمل خاموشی کے ساتھ پوری توجہ سے لوگوں نے گفتگو سنی، اس کے بعد جلسے کا اگلا مرحلہ اگلے دن تھا، اگلے دن صبح کا ناشتہ ہم نے جامعہ عربیہ دارالعلوم خاران میں مولانا حفظ الرحمن شکوری صاحب، جو ضلع خاران کے مسئول بھی ہیں، ان کے ہاں کیا ،اس کے بعد مدرسہ عربیہ فاروقیہ میں جلسے کا اگلا مرحلہ تھا، اس مرحلے میں مولانا ہدایت الله صاحب نے رخشان ڈویژن کے جامعہ فاروقیہ کراچی کے جتنے فضلا ہیں سب کو جمع کیا تھا، رخشان ڈویژن میں خاران بھی ہے، واشک، چاغی، نوشکی سب رخشان ڈویژن میں آتے ہیں۔

اس نشست میں ترتیب یہ تھی کہ جامعہ کے ہر فاضل کا مختصر تعارف اور خدمات بیان کی جاتیں اور وہ مصافحہ کرکے بیٹھ جاتا ،اس کے بعد اس نشست سے بیان ہوا۔ یہ نشست تقریباً ظہر تک جاری رہی۔

اس کے بعد ہماری واپسی ہوئی، واپسی میں نوشکی میں مفتی حسین احمد صاحب، جو وفاق کے عاملہ کے رکن بھی ہیں، ان کے ہاں جامعہ عربیہ جمالیہ میں ہم نے چائے وغیرہ پی اور علماء سے مختصر نشست ہوئی۔

اس کے بعد ہمارا قافلہ کوئٹہ پہنچا، کوئٹہ میں ہمارا قیام جامعہ کے فاضل اور متخصص مفتی عبدالسلام صاحب کے ہاں تھا اور پھر اگلے دن کراچی واپسی ہوئی۔

یہ بیان کرنے کا مقصد یہ ہے کہ آپ بھی محنت کریں اور عزم کریں کہ دین کی خدمت کریں گے، سرکاری نوکریوں کے چکر میں نہیں پڑیں گے، آپ دین کی خدمت کریں اس کو دیکھے بغیر کہ میراعلاقہ توریگستان ہے، میرا علاقہ توویران ہے، نہیں، آپ اخلاص کے ساتھ الله کے لیے، دین کی خدمت شروع کریں ، تو الله تعالیٰ کی مدد ونصرت آئے گی ، میں اکثر ایک شعر سناتا رہتا ہوں #
        ارادے جن کے پختہ ہوں نظر جن کی خدا پر ہو
        تلاطم خیز موجوں سے وہ گھبرایا نہیں کرتے

آپ دائیں بائیں نہ دیکھیں، بس کام شروع کریں ،الله کی رضا کے لیے، یہ ابھی جس علاقے کی میں نے بات کی ہے، اس علاقے میں اسباب کے درجے میں کچھ بھی نہیں، وہ امیر علاقہ نہیں ہے، لیکن ماشاء الله وہاں فضلاء نے خدمات سرانجام دی ہیں ، وہاں کے مدرسے چمک رہے ہیں، وہاں کا نظم اور ترتیب، مدرسے میں داخل ہوتے ہی خوش گوار تاثر ملتا ہے، وہاں کے بہترین نظم اور ماحول کا احساس ہوتا ہے۔

یہاں جامعہ فاروقیہ میں والد ماجد نوّرالله مرقدہ نے جو اکابر کا نمائندہ بن کر کام شروع کیا، تو یہاں کچھ بھی نہیں تھا، مسجد کے وضو خانے جتنی چھوٹی سی مسجد تھی، اب جہاں جامعہ ہے، یہاں پر اہل علاقہ کوڑا کرکٹ پھینکتے تھے، لیکن حضرت نے دائیں بائیں دیکھے بغیر دین کا کام شروع کیا، طلباء کا رجوع ہوا حضرت طلباء سے فرماتے کہ ہمارے ہاں کھانا نہیں ہے، رہائش کا انتظام نہیں ہے، طلباء کہتے کہ ہمیں رہائش، کھانا نہیں چاہیے، ہمیں تو سبق چاہیے۔

جامعہ فاروقیہ فیزII جہاں قائم ہے، اس کی زمین جب ہم لینے گئے، تو وہاں بالکل جنگل تھا زمین پر جانا ممکن نہیں تھا، ہم نے روڈ سے زمین کا جائزہ لیا، نہ، وہاں بجلی، نہ گیس ،نہ پانی۔

لیکن الحمدلله! مدرسہ قائم ہوا اور علاقے کی وجہ سے مدرسے کو کچھ نہیں ملا، بلکہ مدرسے کی بدولت اہل علاقہ کو بجلی ملی، گیس ملی، پانی ملا، تو علاقہ بھی اب آباد ہوا۔

آپ اِدھراُدھر نہ دیکھیں، بلکہ الله تعالیٰ پر توکل کرکے، الله پر بھروسہ کرکے، اخلاص سے، دین کی خدمت شروع کریں ، تو الله تعالیٰ کی مدد ونصرت آئے گی۔ان شا ء الله تعالیٰ!