بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

شرعی حکم رانی کے چند اصول وضوابط

شرعی حکم رانی کے چند اصول وضوابط

مولانامحمد اعجاز مصطفی

امارت اسلامیہ افغانستان کے زعیم، عالی قدر امیر المؤمنین ملاہبة الله اخوندزادہ حفظہ الله نے کابل کے ایک بڑے اجتماع، جس میں 3500 سے زائد علمائے کرام موجود تھے جو مسلسل تین دن رہا، اس میں شرعی حکم رانی کے چند اصول وضوابط کے علاوہ بہت اہم باتیں سامعین کے سامنے بیان کیں، افادہٴ عام کی غرض سے قارئین کے لیے چیدہ چیدہ باتیں ہدیہ کی جارہی ہیں۔

حمد وصلوٰة کے بعد فرمایا: اجتماع میں شریک علمائے کرام، صاحب قدر عوامی مَشران اور امارت ِ اسلامیہ کے محترم مسئولین!

السلام علیکم ورحمة الله وبرکاتہ

پہلے آپ سب کو امارت ِ اسلامیہ کی فتح عظیم پر مبارک باد دیتا ہوں، آپ سب کو مبارک ہو، اس فتح کی، جس کے نتیجے میں ہمارا ملک آزاد اور اسلامی نظام حاکم ہوا۔ سب کو مبارک باد دیتا ہوں۔ افغان جہاد کی کام یابی ساری اُمت کے لیے بالعموم اور افغان عوام کے لیے بالخصوص عظیم نعمت ہے۔ الله پاک سب کی قربانیاں قبول فرمائیں، جو مجاہدین اور عوام جہاد میں شہید ہوئے ہیں الله پاک ان سب کی شہادتیں قبول فرمائیں، اسی طرح سب مجاہدین کے جہاد کو الله پاک قبول فرمائیں۔ ان بیس برسوں میں جس نے بھی قربانیاں دیں اور تکالیف برداشت کیں، الله پاک ان سب کو قبول فرمائیں۔ شہداء کے گھرانوں اور یتیموں کی اچھی کفالت کے لیے امید رکھتا ہوں۔ جس نے بھی ہمارے جہاد کی قولی، عملی اوراخلاقی طور پر حمایت کی ہو، الله سب کو قبول فرمائیں۔ جہاد میں بیوہ ہونے والی بہنوں، یتیموں او رمعذور ہونے والے مسلمانوں کے لیے الله تعالیٰ سے اجر مانگتا ہوں۔ الله پاک ہمیں ان کی خدمت کی توفیق دے۔ الله پاک انہیں اجر عظیم عطا فرمائیں،جنہوں نے موجودہ زلزلہ زدگان کے ساتھ معاونت کی۔ ساری دنیا سے جس نے بھی ہمارے جہاد کی حمایت کی ہے قولی، عملی، دعا یا جس طریقے سے حمایت کی ہے، الله پاک انہیں جہاد کاکامل اجر عطا فرمائیں، ہم ان کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔

محترم بھائیو! افغان جہاد کی کام یابی صرف افغانوں کا فخر نہیں، بلکہ دنیا کے سارے مسلمانوں کا فخر ہے۔ دنیا کے سارے متدین لوگ امارات اسلامیہ کی فتح پر خوش ہیں۔

افغان جہاد کی کام یابی وفتح صرف افغانوں کی نہیں، بلکہ ساری دنیا کے مسلمانوں کی فتح او رخوشی ہے۔ دنیا کے مسلمان اس کو سمجھتے ہیں کہ اسلام میں امن وسلامتی کا پیغام موجود ہے اور کامل ایمان یہ ہے کہ ایک مسلمان دوسرے مسلمان کے ہر قسم کے شر سے محفوظ ہو۔

اسلام کی ہر مسلمان کو یہ نصیحت ہے کہ دوسرا مسلمان اس کے ہاتھ اور زبان کے شر سے محفوظ ہو۔ دنیا کے مسلمان امن وسلامتی کے شعار پر خوش ہوتے ہیں اورانہیں پسند کرتے ہیں ،جو اس شعار کو اپنائے گا، الله تعالیٰ اس سے خو ش ہوگا۔ اگرچہ بظاہر جہاد اپنے ساتھ تخریب رکھتا ہے، لیکن اس کے نتیجے میں امن وسلامتی آتی ہے۔ اب دنیا کے مسلمان امن وسلامتی کے شعار کے عملی نمونے کے منتظر ہیں۔

مسلم ممالک کے موجودہ حکم ران صرف اپنے مفادات کی طرف متوجہ ہوتے ہیں اور لوگوں کی امیدوں کو بھول گئے ہیں۔ امریکی حملے کے وقت کسی کو الله تعالیٰ کی راہ کی طرف دعوت نہیں دی جاسکتی تھی ، لیکن اب الله تعالیٰ نے جہاد کام یاب کیا تو دعوت الی الله کے لیے آزادی ہو گئی۔ کفار کی ہم سے جنگ زمین ومال پر نہیں تھی۔ ہماری جنگ عقیدہ ونظریہ کی جنگ تھی۔ یہ جنگ ابھی ختم نہیں ہوئی ہے اور یہ قیامت تک جاری رہے گی۔ چند برس پہلے کوئی جہاد ومجاہد کا نام نہیں لے سکتا تھا۔ یہ جہاد کی برکت ہے کہ ملک آزاد ہوا اور سب کچھ ہماری مرضی پر ہے۔ اب ہمیں ایک دوسری قسم کے تقابل کا سامنا ہے کہ ”دوسرے ہم سے مطالبات کی تطبیق چاہتے ہیں، جب کہ ہم اپنے اہداف کے تعاقب میں ہیں۔“ ہمارے ساتھ نصرت صرف الله تعالیٰ کی ہے اورہمارا مطلوب صرف الله کی رضا ہے۔ ہمیں کوئی ایسا کام قبول نہیں جس سے الله تعالیٰ ناراض ہو جائے۔ ہمارے ساتھ نصرت کرنے والا ایک ہی الله تعالیٰ ہے، اس کی رضا ہمیں مطلوب ہے اور باقی دنیا ہمیں ان چیزوں میں قابل قبول نہیں جس سے الله تعالیٰ ناراض ہو جائے۔ قطر میں بات چیت نتیجے کے قریب ہوئی تو مجھے اس بات کی فکر تھی کہ کس طرح پھر اس کے کٹھ پتلی غلاموں کے ساتھ جنگ کروں گا؟ اس حال میں کہ یہ اسلامی نظام کی تحکیم کی مخالفت کریں گے۔ ہماری کسی بھی وقت ان افغانوں کے ساتھ جنگ مقصود نہ تھی جو کافروں کے دوست تھے۔ ان کے ساتھ جنگ اس وجہ سے تھی کہ انہوں نے اپنے آپ کو کافروں کے لیے ڈھال بنایا تھا، اگر ہماری کارروائیوں میں افغان مارے گئے ہیں، اگرچہ وہ حملہ آوروں کے شانہ بشانہ کھڑے تھے پھر بھی انہیں مارنا ہمارا ہدف نہیں تھا۔ ہم ہمیشہ ان سے کہتے رہے کہ آئیں ہتھیار زمین پر رکھ دیں اور دین وملک کے مقابلہ میں غیروں کی دوستی چھوڑ دیں۔ میں اس پر یقین وعقیدہ رکھتا ہوں کہ امارت کا وصف حق کا بول بالا ہے اور مجاہدین صرف اور صرف الله کے لیے جہاد کرتے ہیں، کوئی دوسرا مقصد وہدف نہیں رکھتے، اگر مجھ پر یہ ثابت ہو گیا ہوتا کہ امارت اسلامیہ کے مجاہدین مخلصانہ جہاد نہیں کرتے تو الله کی قسم! میں ضرور ایسی جماعت کی دوستی کرتا جو واقعتاً مخلصین مجاہدین ہوتے۔ جس طرح عام مسلمانوں کے لیے امن وامان ضرور ی ہے، اسی طرح حکومت داری کے لیے امن وامان ضرور ی ہے، تاکہ فساد، رشوت، خود غرضی، جبر، قوم پرستی اورغیر مستحق متعلقین کو نوازنا ختم ہو۔

اگر یہ مفاسد ختم نہ ہوں تو یہ مسلمانوں کے مفاد میں نہیں ہے، بلکہ چند اشخاص کے فائدے کی حکومت ہو گی، امن وامان اور ثبات کے لیے ضروری ہے کہ مسئولین(عہدے دار) اپنی شخصی خواہشات کو چھوڑ دیں، اپنے آپ میں شریعت لائیں ، اپنے گھر او رادارہ اور ساری زندگی میں شریعت لائیں۔ اسلامی نظام میں اصل یہ ہے کہ اپنی خواہشات کو چھوڑ دو اوراپنے آپ کو شریعت کے احکام پر عمل کرنے میں برابری کرو۔ اگر تم اپنے آپ کو شریعت پر عمل کرنے میں برابری کی سطح پر نہیں لاؤ گے تو تمہارا دعویٰ جھوٹ ہے کہ الله تعالیٰ کی مخلوق سے شریعت کے معاملات میں برابری کرتا ہوں۔ اگر ایک نظام میں خواہشات سامنے آئیں تو امن متاثر ہوتا ہے۔ پچھلے نظام میں خواہشات اصولوں پر مقدم تھیں تو امن وامان بھی نہیں تھا۔ اب جب خواہشات نہیں ہیں تو امن وامان ہے۔اگر خواہشات مقدم ہو گئیں تو پھر امن وامان ختم ہو جائے گا۔ اسلامی شریعت تمام اقدار کے تحفظ کی ضامن ہے، اگر شریعت ہو تو امن وامان، آزادی او راسلامی نظام سب دوام کریں گے اورالله تعالیٰ ان میں برکت ڈالیں گے۔ شرعی نظام دو جماعتوں سے وجود میں آتا ہے ایک حاکم اور دوسرے علمائے کرام،اگر علماء مسئولین (عہدے داروں ) کی خیر کی طرف راہ نمائی نہیں کریں گے او رانہیں نصیحت نہیں کریں گے یا پھر حاکموں نے اپنے دروازے علمائے کرام پر بند کر دیے او ران سے اپنے آپ کو مستغنی کر دیا تو پھر اسلامی نظام نہیں چل سکتا۔

جہاد اور جنگ کا دور،حکومت داری سے جدا ہے، مجاہدین نے خوب جرأت سے جہاد کیا اورمیدان خوب بہادری سے جیتا۔ شرعی نظام کے لیے قربانیاں دیں، لیکن شریعت نافذ کرنا طالب ومجاہد کا کام نہیں۔ شریعت نافذ کرنا علمائے کرام کا کام ہے۔ عدالت نظام کی بقا کی ضامن ہے ، ظلم کے ساتھ کوئی بھی حکومت قائم نہیں رہا کرتی۔ اگر مجھے اپنا شرعی امیر کہتے ہو تو اطاعت بھی کر وگے۔ میں نام کا سیاسی راہ نما یا انتخابات کے ذریعہ آیا ہوا رئیس جمہوریہ نہیں، علمائے کرام ہمیں راستہ دکھائیں گے، ہم ان کا اجرائی لشکر ہیں۔ ظلم کی صورت میں اسلامی نظام باقی نہیں رہ سکتا۔ میں نے سنا کہ کابل میں اب بھی ایک بدمعاش قیمتی موٹروں میں پھرتا ہے۔ میں نے مسئولین سے کہا کہ گر آپ انہیں پکڑ نہیں سکتے تو میں پکڑتا ہوں۔

محترم بھائیو! متحد ہو جائیں، ایک ہو جائیں،جابروں کو نہ چھوڑیں ، ظلم کی اجازت نہ دیں، امن خراب کرنے والوں کو اجازت نہ دیں، علمائے کرام او رعوام حق رکھتے ہیں کہ حاکموں کو نصیحت کریں اور اشتباھات کی طرف انہیں متوجہ کریں، ان کے ساتھ ملاقات کریں او رمجلس میں انہیں یاد دہانی کرائیں۔ مگر یہ نصیحت نہیں کہ عام میڈیا میں حاکموں کی کم زوری کو بیان کیا جائے۔ اس کام سے حکومت اور ملت کے درمیان فاصلے پیدا ہوتے ہیں۔ جس طرح علمائے کرام حق رکھتے ہیں کہ حاکموں کو نصیحت کریں، اسی طرح مسئولین مکلف ہیں کہ ایک دوسرے کو نصیحت کریں۔ لازم ہے کہ ایک دوسرے کی تخریب نہ کریں، اس لیے کہ اختلاف کے نتیجے میں امارت ختم ہو جائے گی، دشمن میدان میں شکست کھانے کے بعد سازشوں اور خفیہ پلان کے راستے اپنے مقاصد پورے کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ آج افغانستان اپنی مستقل اور خود مختار رائے پر کھڑا ہے اور یہ مقصد متعین کرنا اس کا مسلمہ حق ہے ۔ ایک مملکت اس وقت تک ترقی نہیں کرسکتی جب تک اسے استقلال حاصل نہ ہو۔ الحمدلله! ہم ایک مستقل ملک ہیں۔ لوگ ہم سے فرمائشیں نہ کریں۔ ہمارا اپنا نظام ہے اور اپنے فیصلے کرتے ہیں۔ ہمارا ایک الله تعالیٰ کے ساتھ بندگی کا تعلق ہے۔ دوسروں کی ایسی باتیں نہیں مان سکتے جس سے الله تعالیٰ ناراض ہوجائیں۔

تاجر حضرات سے کہتے ہیں کہ آئیں، وہ کسی قسم کا خوف نہ رکھیں، آئیں اور صنعتیں لگائیں، سرمایہ کاری کریں ، اس لیے کہ بیرونی امداد ہمیں نہیں اٹھاسکتی، بلکہ اور بھی محتاج بناتی ہے او راستقلال سے ہمیں محروم کرتی ہے۔ اسلام سلامتی کا دین ہے، ہم سلامتی اور امن چاہتے ہیں کہ کسی کے لیے بھی برے عزائم نہیں رکھتے، پڑوسی ممالک ہم سے کسی قسم کے خطرے کا احساس نہ کریں، میں نے ثواب کی نیت سے اس اجتماع میں شرکت کی۔ اگر یہ اجتماع بدخشان یا نورستان میں ہوتا تب بھی اس میں شرکت کرتا۔ ہم حاکم نہیں ہیں۔ ہم خادم ہیں۔ اس لیے کہ حکم الله تعالیٰ کرچکا ہے اور قرآن وشریعت نے ہمیں سب احکام بیان کیے ہیں، ہم صرف اسی شریعت کے خادم ہیں، ہم ایسی ملت ہیں کہ شہادت ہمارا ارمان ہے۔

امریکیوں نے تو اب تک بموں کی ماں استعمال کی ہے، اگر ایٹم بم بھی استعمال کریں، تب بھی ہم الله کے راستے سے نہیں ہٹتے او ران کی کفریہ فرمائشیں نہیں مان سکتے۔ میں نے ایک مولوی صاحب کو حکم دیا کہ کابل (کسی مسئول کے پاس) جاؤ، انہوں نے عذر کیا کہ گھر میں کچھ مسائل ہیں اور وہ مسائل ذکر کیے ۔ تو میں نے کہا کہ مولانا ! آپ سے ہی اس مسئلہ کا جواب چاہتا ہوں کہ کیا یہ شرعی عذر ہے؟ تو مولوی صاحب کچھ دیر خاموش رہے اور پھر جواب دیا کہ : یہ شرعی عذر نہیں۔ تو میں نے کہا کہ : جاؤ۔ چناں چہ وہ صبح کو چلے گئے۔ ہم اپنے جنگی مخالفین سے بھی انتقام نہیں لے رہے، گو کہ انہوں نے ہمیں مارا ہے او رہمارا حق بھی ہے انتقام لینا۔ جب ہم ان سے انتقام نہیں لے رہے تو پھر دوسرے مسلمان یا ملت کے کسی فرد پر ظلم کا ارادہ کیوں رکھیں گے؟ یہ بہت بعید ہے ، ہمارے پڑوسی کسی قسم کا خوف محسوس نہ کریں کہ ہم ان کے ساتھ برا ارادہ رکھتے ہیں۔ ہم نہ کسی دوسرے کے ارادہ پر کام کرتے ہیں ، نہ کسی دوسرے کی کمانڈ پر کام کرتے ہیں۔ ہم اپنے ارادے پر مستقل ہیں۔ ہمارے ساتھ کوئی بات کرے تو پُر اعتمادی کے ساتھ کرے۔ ایسانہیں کہ ہم آج ایک بات کریں اور کل دوسری بات کریں۔ ہم مستقل ہیں۔ الله پاک ہمیں مستقل رکھیں۔

ہم آزاد ہیں، الله پاک ہمیں آزاد رکھیں ، یہ درخواست کرتا ہوں کہ تفرقے کی باتوں کو چھوڑ دیں، ایک جزئی بات لے کر نعرے لگاتے ہیں اور اِدھر اُدھر پھراتے ہیں، ایک دوسرے کے ساتھ بیٹھیں ، افہام وتفہیم سے کام لیں، ہم سرے سے حاکم ہی نہیں، ہم خدام ہیں،حکم الله پاک نے کیا ہے، ہماری شریعت کا ماخذ کتاب الله ، سنت رسول الله صلی الله علیہ و سلم اور حنفی فقہ ہے۔

بھائیو! میں آپ کو نصیحت نہیں کر رہا، بلکہ یہ ایک مذاکرہ ہے۔ علمائے کرام نے مجھ سے کہا کہ : ” ایک اجتماع بلاتے ہیں،امارت کے پیچھے کھڑے ہوتے ہیں، آج کل کفارامارت کو تسلیم نہیں کرتے تو ہم آپ کے ساتھ بیعت کرتے ہیں اور نعرہ لگاتے ہیں، یہ ان کی محبت ہے، امارت کے ساتھ سارے مسلمان کھڑے ہیں، اس اجتماع میں ثواب کی نیت سے شریک ہوا ہوں، اجر کی نیت سے شریک ہوا ہوں۔ یہ الله پاک کا فضل ہوا کہ یہ سعادت نصیب ہوئی۔ الله پاک آپ کے بیٹھنے اور علما ئے کرام کی تقریریں توجہ سے سننے کو قبول فرمائیں۔ باقی باتیں چھوڑتا ہوں۔ الله پاک آپ کو خیر نصیب فرمائیں۔وآخر دعوانا ان الحمدلله رب العالمین․“

اگر ان اصول وضوابط کو سامنے رکھ کر ہمارے مقتدر حلقے اورجمہوری سیاسی جماعتیں ہمارے ملک پاکستان کو آگے لے جانے کی کوشش کریں تو امید ہے کہ ہمارے بہت سارے گھمبیر اور لا ینحل مسائل خود بخود حل ہوجائیں گے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہر سیاسی جماعت اور ہر لیڈر اپنی ذات کی نفی کر کے مسلک اور قوم کے مستقبل کو سامنے رکھ کر پالیسیاں بنائے اوران پالیسیوں کی روح کے مطابق خلوص دل سے ان پر عمل درآمد کرے تو ان شاء الله! بہت جلد اس کے ثمرات ملک اور قوم تک پہنچیں گے۔

الله تبارک وتعالیٰ ہمارے ملک کو استحکام عطا فرمائے، اس کی معاشی مشکلات کو حل فرمائے او راس کی جغرافیائی اور نظریاتی سرحدات کی حفاظت فرمائے۔ آمین۔

وصلی الله تعالیٰ علی خیر خلقہ سیدنا محمد وعلی اٰلہ وأصحابہ أجمعین․