بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

شخصیت پر صحبت کے اثرات اہم تجزیہ

شخصیت پر صحبت کے اثرات اہم تجزیہ

مولانا سیدابوالحسن علی ندوی

حضور اقدس صلی الله علیہ وسلم کا پاک ارشاد ہے کہ مسلمان کے علاوہ کسی کے ساتھ مصاحبت اور ہم نشینی نہ رکھ او رتیرا کھانا غیر متقی نہ کھائے۔

ف: اس حدیث پاک میں حضور صلی الله علیہ وسلم نے دو آداب ارشاد فرمائے، اول یہ کہ ہم نشینی اور نشست وبرخاست غیر مسلم کے ساتھ نہ رکھ، اگر اس سے کامل مسلمان مراد ہے، تب تو مطلب یہ ہے کہ فاسق فاجر لوگوں کے ساتھ مجالست اختیار نہ کر، دوسرے جملہ میں چوں کہ متقی کا ذکر ہے، اس سے اس مفہوم کی تائید ہوتی ہے، نیزاس سے بھی تائید ہوتی ہے کہ ایک حدیث میں حضور صلی الله علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ کافروں کے ساتھ بے ضرورت مجالست اختیار نہ کی جائے او رہر صورت میں تنبیہ مقصود ہے، اچھی صحبت اختیار کرنے پر ،اس لیے کہ آدمی جس قسم کے لوگوں سے کثرت سے نشست وبرخاست رکھا کرتا ہے، اس قسم کے آثار آدمی میں پیدا ہوا کرتے ہیں، اسی بنا پر، حضور صلی الله علیہ وسلم کا ارشاد ہے تیرے گھر میں متقیوں کے علاوہ داخل نہ ہوں، یعنی ان سے میل جول ہو گا تو ان کے اثرات پیدا ہوں گے، حضور اقدس صلی الله علیہ وسلم کا پاک ارشاد ہے کہ صالح ہم نشیں کی مثال مشک بیچنے والے کی ہے، اگر اس کے پاس بیٹھا جائے تووہ تجھے تھوڑا سامشک کا ہدیہ بھی دے دے گا تو اس سے خرید بھی لے گا اور دونوں باتیں نہ ہوں تو پاس بیٹھنے کی وجہ سے مشک کی خوش بو سے دماغ معطر رہے گا ( اور فرحت پہنچتی رہے گی ) اور بُرے ساتھی کی مثال لوہار کی بھٹی کے پاس بیٹھنے والے کی ہے کہ اگر اس کی بھٹی سے کوئی چنگاری اڑ کر لگ گئی تو کپڑے جلا دے گی اور یہ بھی نہ ہو تو بدبو اور دھواں تو کہیں گیا ہی نہیں۔ ایک حدیث میں ہے کہ آدمی اپنے دوست کے مذہب پر ہوا کرتا ہے، پس اچھی طرح غور کر لے کہ کس سے دوستی کر رہا ہے۔ (مشکوٰة)

مطلب یہ ہے کہ پاس بیٹھنے کا اور صحبت کا اثر بے ارادہ رفتہ رفتہ آدمی میں سرایت کرتا رہتا ہے، یہاں تک کہ آدمی اس کا مذہب بھی اختیار کر لیا کرتا ہے، اس لیے پاس بیٹھنے والوں کی دینی حالت میں اچھی طرح سے غور کر لینا چاہیے، بددینوں کے پاس کثرت سے بیٹھنے سے بددینی آدمی میں پیدا ہوا کرتی ہے، روزہ مرہ کا تجربہ ہے کہ شراب پینے والوں کے، شطرنج کھیلنے والوں کے پاس تھوڑے دن کثرت سے اٹھنا بیٹھنا ہو تو یہ مرض آدمی کو لگ جاتے ہیں، ایک اور حدیث میں ہے، حضور اقدس صلی الله علیہ وسلم نے حضرت ابو رزین رضی الله عنہ سے فرمایا کہ میں تجھے ایسی چیز بتاؤں جس سے اس چیز پر قدرت ہو جائے جودارین کی خیر کا سبب ہو؟ ا لله کا ذکر کرنے والوں کی مجلس اختیار کر اور جب تو تنہا ہوا کرے تو جس قدر بھی تو کرسکے الله کے ذکر سے اپنی زبان کو حرکت دیتا رہا کر اور الله کے لیے دوستی کر اور اس کے لیے دشمنی کر۔(مشکوٰة)

یعنی جس سے دوستی یادشمنی ہو، وہ الله کی رضا کے واسطے ہو، اپنے نفس کے واسطے نہ ہو۔ امام غزالی فرماتے ہیں کہ جس شخص کی مصاحبت اختیار کرو اس میں پانچ چیزیں ہونی چاہییں، اول صاحب عقل ہو، اس لیے کہ عقل اصل رأس المال ہے، بے وقوف کی مصاحبت میں کوئی فائدہ نہیں ہے، اس کامآل کا روحشت اور قطع رحمی ہے، حضرت سفیان ثوری سے تو یہ بھی نقل کیا گیا ہے کہ احمق کی صورت کو دیکھنا بھی خطا ہے، دوسری چیز یہ ہے کہ اس کے اخلاق اچھے ہوں کہ جب آدمی کے اخلاق خراب ہوں تو وہ عقل پر بسا اوقات غالب آجاتے ہیں، ایک آدمی سمجھ دار، بات کو خوب سمجھتا ہے، لیکن غصہ، شہوت، بخل وغیرہ اس کو اکثر عقل کا کام نہیں کرنے دیتے، تیسری چیز یہ ہے کہ وہ فاسق نہ ہو، اس لیے کہ جو شخص الله جل شانہ سے بھی نہ ڈرتا ہو اس کی دوستی کا کوئی اعتبار نہیں، نہ معلوم کس جگہ کس مصیبت میں پھنسا دے، چوتھی چیز یہ ہے کہ وہ بدعتی نہ ہو کہ اس کے تعلقات سے بدعت کے ساتھ متاثر ہو جانے کا اندیشہ ہے او راس کی نحوست کے متعدی ہونے کا خوف ہے، بدعتی اس کا مستحق ہے کہ اس سے تعلقات اگر ہوں تو منقطع کر لیے جائیں، نہ یہ کہ تعلقات پیدا کیے جائیں، پانچویں چیزیہ ہے کہ وہ دنیا کمانے پر حریص نہ ہو کہ اس کی صحبت سم قاتل ہے، اس لیے کہ طبیعت تشبہ اور اقتدا پر مجبور ہوا کرتی ہے او رمخفی طور پر دوسرے کے اثرات قبول کیا کرتی ہے۔

اثرات کا لیناآدمیوں ہی کے ساتھ خاص نہیں ہے، بلکہ جس چیز کے ساتھ آدمی کا تلبس زیادہ ہوا کرتا ہے، اس کے اثرات مخفی طور پر آدمی کے اندر آجایا کرتے ہیں، حضور اقدس صلی الله علیہ وسلم سے نقل کیا گیا کہ بکریوں والوں میں مسکنت ہوتی ہے اور فخر وتکبر گھوڑے والوں میں ہوتا ہے۔ اس کی وجہ ظاہر ہے کہ ان دونوں جانوروں میں یہ صفات پائی جاتی ہیں، اونٹ او ربیل والوں میں شدت اور سخت دلی بھی وارد ہوئی ہے۔

دوسرا ادب حدیث بالا میں یہ ہے کہ تیرا کھانا متقی لوگ ہی کھائیں۔ یہ مضمون بھی متعدد روایات میں آیا ہے، ایک حدیث میں آیا ہے کہ اپنا کھانا متقی لوگوں کو کھلاؤ او راپنے احسان کا مومنوں کو مورد بناؤ۔ علماء نے لکھا ہے کہ اس سے مراد دعوت کا کھانا ہے، حاجت کا کھانا نہیں ہے، چناں چہ ایک حدیث میں ہے کہ اپنے کھانے سے اس شخص کی ضیافت کرو جس سے الله کی وجہ سے محبت ہو، دفع حاجت کے کھانے میں حق تعالیٰ شانہ نے قیدیوں کے کھلانے کی بھی مدح فرمائی ہے اور قیدی اس زمانے کے کافر تھے۔

احادیث کے سلسلے میں گزر چکا ہے کہ ایک فاحشہ عورت کی محض اسی وجہ سے مغفرت ہوئی کہ اس نے ایک پیاسے کتے کو پانی پلایا تھا او ربھی متعدد روایات میں مختلف مضامین سے اس کی تائید ہوتی ہے، حضور صلی الله علیہ وسلم نے تو قاعدہ اور ضابطہ فرما دیا کہ ہر جان دار میں اجر ہے۔ اس میں متقی غیر متقی، مسلم کافر، آدمی حیوان سب ہی داخل ہیں، لہٰذا احتیاج اور ضرورت کے کھانے میں یہ چیزیں نہیں دیکھی جاتیں، وہاں تو احتیاج کی شدت اور قلت دیکھی جاتی ہے، جتنی زیادہ احتیاج ہو، اتنا ہی زیادہ ثواب ہو گا، یہ کھانا دعوت اور تعلقات کا ہے، اس میں بھی اگر کوئی دینی مصلحت ہو، خیر کی نیت ہو تو جس درجہ کی وہ خیر اور مصلحت ہو گی، اسی درجہ کا اجر ہو گا، البتہ اگر کوئی دینی مصلحت نہ ہو تو پھر کھانے والا جتنا زیادہ متقی ہو گا اتنا ہی زیادہ اجر کا سبب ہو گا۔