بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

شادی او رغمی کی رسوم خلاف شرع اور واجب الترک ہیں!

شادی او رغمی کی رسوم خلاف شرع اور واجب الترک ہیں!

حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانوی

(الف) شادی او رغمی کی جو رسمیں ہیں، کیا آج کوئی مسلمان یہ کہہ سکتا ہے کہ یہ رسمیں شریعت کے خلاف نہیں ہیں؟ او راگر واقعی کسی کو معلوم نہیں تو اس کو چاہیے کہ اس قسم کی کتابیں مطالعہ کرے جو اس کے بیان کرنے کے لیے تصنیف کی گئی ہیں یا جو لوگ اس مجمع میں موجود ہیں، وہ اسی وقت کچھ سن لیں، سینے! شادی، غمی کی رسمیں دو قسم کی ہیں: ایک تو وہ ہیں کہ جن کا قبیح ہونا نہایت ہی ظاہر ہے اور شرفاء وثقافت نے ان کو بالکل ہی چھوڑ دیا ہے، اب صرف اسافل اور فساق الناس اس میں مبتلا ہیں، مثلاً ناچ رنگ وغیرہ اور بعض وہ رسمیں ہیں کہ ان کا قبیح ہونا اتنا ظاہر نہیں، ان میں عوام وخواص قریب قریب سبھی مبتلا ہیں او ران کو بالکل جائز سمجھا جاتا ہے، بلکہ بسا واقات ادعائے تقویٰ کے طور پر کہا جاتا ہے کہ ہم نے شادی میں کون سی رسم کی ہے؟ نہ ہمارے ہاں ناچ ہوا ہے اور نہ باجامنگایا گیا! پھر ہم نے کیا گناہ کیا؟ سو میں بتلاتا ہوں کہ آپ نے کیا گناہ کیا ہے؟ لیکن پہلے مجھے یہ بتلا دیجیے کہ گناہ کہتے کس کو ہیں؟ ظاہر ہے کہ جو امر شرعاً ممنوع ہو، وہ گناہ کہلاتا ہے، خواہ وہ ناچ ہو یا کوئی دوسرا امر ہو،کیوں کہ ناچ بھی تو اسی واسطے حرام ہے کہ شریعت نے اس کو حرام اور جرم قرار دے دیا، اب دیکھنا یہ ہے کہ ناچ کے علاوہ دوسری رسم کو بھی شریعت نے جرم قرار دیا ہے یا نہیں؟ اس پر مفصل گفت گو تو اصلاح الرسوم میں ملے گی۔

تکبر کی حمایت
میں مختصراً اس وقت بقدر ضرورت بیان کیے دیتا ہوں، یہ بات سب کو معلوم ہے کہ خدائے تعالیٰ نے قرآن شریف میں، نیز حضور صلی الله علیہ وسلم نے حدیث شریف میں تکبر کی سخت ممانعت فرمائی ہے، چناں چہ ارشاد ہے :﴿اِنَّ اللّٰہَ لاَ یُحِبُّ کُلَّ مُخْتَالٍ فَخُوْرٍ﴾۔

حدیث شریف میں ہے :”لا یدخل الجنة من کان فی قلبہ مثقال حبة من خردل من کبر“․

دوسری حدیث میں ہے:” من لبس ثوبا شھرة ألبسہ الله یوم القیامةثوب الذل․“

آیت کا ترجمہ یہ ہے کہ بے شک الله تعالیٰ کسی اکڑنے والے فخر کرنے والے کو دوست نہیں رکھتے اور حدیث اول کا ترجمہ یہ ہے کہ جس کے قلب میں رائی برابر بھی تکبر ہو گا وہ جنت میں داخل نہ ہو گا، دوسری حدیث کا ترجمہ یہ ہے کہ اگر شہرت کے لیے کپڑا پہنے گا تو قیامت میں الله تعالیٰ اس کو ذلت کا لباس پہنائیں گے، اس آیت اورحدیث شریف سے معلوم ہوا کہ فخر کے لیے کوئی کام کرنا حرام ہے، ایک حدیث شریف کا ارشاد ہے : ”من سمع سمع الله ومن رأی رأی الله بہ“ اس سے معلوم ہوا کہ دکھلاوے اور شہرت کا کام کرنا حرام ہے۔

شادی میں انسان کا حال
اب غور کرکے دیکھیے کہ شادیوں میں جو کام ہم کرتے ہیں، جن کے لیے ہم نے نہایت خوب صورت الفاظ تراش رکھے ہیں کہ بھات دیا ہے او ربھائیوں کو کھلایا ہے او ربیٹی کو دیا ہے، وغیرہ وغیرہ۔ ان میں نیت ہماری کیا ہوتی ہے؟ صاحبو! محض الفاظ کے خوب صورت ہونے سے کسی چیز کی حقیقت نہیں بدل جاتی، سب سے بڑی چیز نیت ہے، لہٰذا نیت کو دیکھنا چاہیے ،کیا ہم لوگ یہ تمام رسمیں محض رسم او رنمود کے لیے نہیں کرتے؟ بہنوں کو بڑا بھات دیا جاتا ہے اور اس کو صلہ رحمی کہا جاتا ہے، کیوں صاحب ! آج سے آٹھ دن پہلے بھی تو یہ بھی آپ ہی کی بہن تھی، پھر کیا آپ نے اس کی خبرلی ہے؟ کبھی بہن کے فقر وفاقہ پر آپ کو رحم آیا ہے؟ نیز اگر یہ صلہ رحمی ہے تو تمام برادری کو اس کا معائنہ کرانے کی کیا ضرورت ہے؟ کیا کبھی اپنی لڑکی کے لیے یا کپڑا خریدتے وقت، اس کو کھلاتے پلاتے وقت بھی آپ نے برادری کو جمع کیا ہے؟ اگر نہیں کیا تو بھات او رجہیز دیتے وقت برادری کو کیوں جمع کیا جاتا ہے؟ معلوم ہوا کہ محض فخر اور نام ونمود کے لیے ایسا کیا جاتا ہے، بس یہ کہنا بالکل صحیح ہے کہ یہ سب رسوم محض شہرت کے لیے ہیں اور شہرت کے لیے جو کام کیا جاتا ہے، وہ بروئے حدیث شریف حرام ہوتا ہے، تو سب رسوم بھی حرام ہوئیں۔

نیوتہ کی رسم
بالخصوص ایک رسم تو ایسی گندی ہے کہ وہ توبہ سے بھی معاف ہونا مشکل ہے، کیوں کہ اس کی توبہ بھی مشکل ہے اور لطف یہ ہے کہ اس کو بظاہر عبادت سمجھا جاتا ہے او راس پر فخر کیا جاتا ہے اور وہ رسم نیوتہ لینا دینا ہے ، لوگ اس کو قرض حسنہ سمجھتے ہیں او رکہتے ہیں کہ بھائی بھائی کی مدد کرتا ہے اورمدد کرنا عبادت ہے تو گویا نیوتہ دینا عبادت ہوا، حالا ں کہ نیوتہ اس قدر بری رسم ہے کہ سب رسموں میں گندی ہے، اس کو شاید آپ نے آج تک نہ سنا ہو گا، مگر میں اس وقت ان شاء الله تعالیٰ اس کی حقیقت بیان کردوں گا اوروہ کوئی عجیب اور نئی بات نہ ہوگی، بلکہ پرانی بات ہے، لیکن آپ نے عدم توجہ کے سبب اس میں غلطی کر رکھی ہے، مقدمات سب آپ کے مسلم ہیں، صرف نتیجے میں آکر غلطی ہو رہی ہے، جیسے کسی شخص نے تبت کے ہجے کیے تھے۔ ت ب زبر تب ب ت زبر بت اور رواں پڑھا تھا بطخ تو آپ نے بھی ہجے تو صحیح کیے ہیں، مگر رواں میں غلطی کر رکھی ہے، جس کو میں بتلاتا ہوں، وہ یہ کہ یہ امر سب کو مسلم ہے اور کوئی شخص اس سے منکر نہیں کہ نیوتہ قرض ہے، دوسرا مسئلہ یہ کہ قرض واجب الادا ہوتا ہے، تیسرا مسئلہ یہ ہے کہ قرض خواہ کی موت کے بعد اس کا کل ترکہ اس کے ورثاء کی ملک ہوتا ہے، خواہ وہ ترکہ عین ہو یا کسی کے ذمہ دین ہو، مثلاً اگر کوئی شخص مرے اور سوروپے اس کے گھر میں موجود ہوں اور سو روپے اُدھار ہیں تو اس کا کل ترکہ دو سو روپے سمجھا جائے گا اور یہ دو سو روپے ملا کر سب ورثاء کو تقسیم کیے جائیں گے، ان تینوں مسئلوں کے معلوم ہونے بعد دیکھیے نیوتہ میں کیا ہوتا ہے، سو نیوتہ میں یہ ہوتا ہے کہ ایک شخص نے پچیس جگہ دو دوروپے دیے اور اس طرح پچاس روپے اس کے قرضے میں پھیل گئے اور اس کے بعد یہ شخص مرا اور دو بیٹے اس نے وارث چھوڑے، جن میں ایک بالغ ہے اور دوسرا نابالغ تو موجودہ ترکہ میں سے تو ان دونوں نے نصفاً نصف لے لیا، وہ بھی جب بڑا بھائی بڑا ایمان دار ہو۔

نیوتہ کی خرابیاں
لیکن جو نیوتے میں قرض ہے، اس کو کوئی بھی تقسیم نہیں کرتا، چناں چہ دیکھا جاتا ہے کہ اگر چند روز کے بعد اس بالغ لڑکے کی کسی اولاد کی شادی ہونے لگی وہ نیوتہ اسی کو لا کر دیں گے اور یہ بلا تامل سارا نیوتہ خود ہی خرچ کر لے گا اور اور اپنے ہی کو اس کا مالک سمجھے گا، حالاں کہ ان پچاس روپیوں سے پچیس روپے اس کا حق ہے اور پچیس اس کے چھوٹے نابالغ بھائی کا حصہ ہے، اسی طرح علی العموم تمام نیوتوں میں یہی کیا جاتا ہے، ایک جزئی بھی اس کی نہیں بتلائی جاسکتی تو اس میں ایک گناہ تو اسی بالغ بھائی کا ہوا کہ اس نے یتیم کا مال کھایا، قرآن شریف میں ہے:﴿إِنَّ الَّذِینَ یَأْکُلُونَ أَمْوَالَ الْیَتَامَیٰ ظُلْمًا إِنَّمَا یَأْکُلُونَ فِی بُطُونِہِمْ نَارًا وَسَیَصْلَوْنَ سَعِیرًا﴾

”یعنی بلاشک جو یتیموں کا مال کھاتے ہیں ظلم کرکے، وہ اپنے پیٹوں میں جہنم کی آگ کھاتے ہیں۔“

اورایک گناہ نیوتہ واپس کرنے والوں پر ہوا کہ انہوں نے مشترکہ مال ایک شریک کو دے دیا اور لطف یہ ہے کہ نیوتہ دینے والے سمجھتے ہیں کہ ہم قرض سے سبک دوش ہو گئے، حالاں کہ ابھی پچیس روپے یتیم کے ان کے ذمے باقی ہیں اور درمختار میں روایت لکھی ہے کہ اگر کسی کے ذمے کسی کے تین پیسے رہ جائیں گے تو قیامت میں سات سو نمازیں قرض خواہ کو دلائی جائیں گی اور یہ اس وقت ہے کہ جب مالک کے بیٹے ہی کو وصول ہو گیا ہو اوراگر دو تین پشتیں گزر گئیں اور مناسخہ جاری ہو گیا تو پھر تو خدا جانے اور دور دور تک کس کس کا حق اس میں متعلق ہو گیا، جس کا پہچاننا سخت ہی دشوار ہے۔ اگر کوئی کہے کہ یہ تو باپ دادا کے وقت سے چلا آتا ہے، تو میں کہوں گا یہ عذر ہر گز قابل سماعت نہیں! کیوں کہ اگر اسی پر عمل کیا جاتا تو آج ہم مسلمان نہ ہوتے، آخر ہم کو اسلام تو اسی لیے نصیب ہوا کہ ہمارے باپ دادا نے اپنے آباواجداد کے رسم ورواج کو ترک کر دیا، لہٰذا یہ عذر نہایت کم زور ہے، اس کا علاج اس کے سوا اور کچھ نہیں کہ پچھلے قرض کو تحقیق کرکے ادا کیا جائے اورآیندہ کو یہ رسم بالکل چھوڑ دی جائے یا کوئی عربی خواں یا انگریز خواں اس کے ساتھ کوئی دوسرا علاج مجھے بتلادیں، غرض نیوتہ کی رسم نہایت گندی اورخراب ہے، اگرچہ بظاہر یہ ثواب کا کام نظر آتا ہے او رجب یہ اس قدر خراب رسم ہے، جس میں ایک گونہ اعانت غریب کی مصلحت بھی ہے، تو دوسری رسوم تو جس میں کوئی مصلحت نہیں بالکل ہی قابل ترک ہوں گی۔

دوسری رسمیں
اسی طرح ہم نے ہر قدم پر ایک ایک رسم ایجاد کی ہے کہ جب تک وہ نہ ہو گویا شادی ہی نہیں ہوسکتی او ران رسوم میں جو دنیا کی مضرتیں ہیں، ان کا بیان کرنا گو میرا منصب نہیں ہے، لیکن ایک مختصر سے جملے میں ایک گونہ رعایت غریب کی مصلحت بھی ہے، تبرعاً ان کو بھی بیان کیے دیتا ہوں، وہ یہ کہ مسلمانوں پر جس قدر تباہی آئی ہے، زیادہ تر انہیں رسموں کی بدولت آئی ہے، کیوں کہ آمدنی ہر مسلمان کی جتنی ہے، سب پر ظاہر ہے او رخرچ ان رسموں کی بدولت جیسا کچھ ہوتا ہے، وہ بھی سب کو معلوم ہے، مآل اس مجموعہ کا اس کے سوا او رکیا ہو گا کہ آج زمین رہن ہو رہی ہے، کل مکان پر قرقی ہے، پرسوں زیور اور اثات البیت نیلام ہو رہا ہے، چوتھا دن نہیں آیا کہ میاں پابند رسوم بیک بینی ودو گوش رہ گئے، بعض لوگ اس کا یہ جواب دیا کرتے ہیں کہ ہم میں گنجائش ہے او رہم کو قرض لینا نہیں پڑتا، سواول تو یہ جواب مسلم نہیں، کیوں کہ ہر حیثیت کا آدمی اپنی حیثیت سے زیادہ خرچ کرنا چاہتا ہے او راس میں قرض لینا لازمی ہے ،دوسرے اگر مان بھی لیا جائے کہ ان کو قرض لینا پڑے گا، تو کم از کم ان کو اپنے غریب بھائیوں کا تو خیال ضرو ہی کرنا چاہیے اورسمجھنا چاہیے کہ ہم کریں گے تو حرص کے مارے وہ بھی کریں گے او رتباہ ہوں گے تو اس لیے ہم بھی نہ کریں، تیسرے جب یہ گناہ ہے، اس لیے بھی اس کو چھوڑ دینا چاہیے، گودنیوی بھی نہ ہو۔

غموں کی رسمیں
اسی طرح غمی کی رسمیں ہیں کہ ان میں بھی جو کچھ کیا جاتا ہے، وہ محض شہرت کے لیے کیا جاتا ہے، نہ کہ خدا کے لیے، کیوں کہ اگرخدا کے لیے کیا جاتا تو پوشیدہ طور پر کرنا بھی گوارا کیا جاتا، اس دکھلانے اور سب پر ظاہر کرنے کا اہتمام کیوں ہوتا؟ معلوم ہوا کہ محض شہرت ہی مقصود ہے اورامتحان اس کا یہ ہے کہ اگر کسی پابند رسوم سے یہ کہا جائے کہ بجائے اس ڈھونگ کے تم پچاس روپے دس مساکین کو دے دو اور کسی کو خبر نہ کرو تو وہ ہر گز راضی نہ ہو گا، بلکہ یوں سمجھے گا کہ اس طرح کرنے سے یہ پچاس روپے ضائع ہی ہو جائیں گے او رکہے گا:”اچھا مولوی صاحب نے رائے دی کہ پچاس روپے بھی کروں او رکسی کو خبر بھی نہ ہو !!“ صاحبو! یہ تو آپ لوگوں کی حالتیں ہیں او رپھر کہا جاتا ہے کہ مولوی ثواب بخشنے سے روکتے ہیں، یہ تو بتلاؤ کہ خود آپ کو ہی کب ثواب ہوا تھا کہ دوسرے کو بخشتے؟ میں سچ کہتا ہوں کہ مولوی تو آپ کو ثواب ملنے اور ثواب بخشنے کی ترکیب بتلاتے ہیں، ثواب سے منع نہیں کرتے اور وہ ثواب بخشنے کی ترکیب یہ ہے کہ داہنے ہاتھ سے دو اور بائیں کو خبر نہ ہو، اپنے خاص حصے سے دو، مردہ کے وہ کپڑے جن میں تمام ورثاء نابالغ وبالغ کا حق متعلق ہو گیا ہے، وہ نہ دو، اگر دو تو ان کو تقسیم کر لو اور جو تمہارے حصہ میں آئیں وہ دو، مشترکہ ہر گز نہ دو، ثواب کا طریقہ یہ ہے کہ نہ وہ جو آپ نے تراش رکھا ہے، لوگ چاہتے ہیں کہ نام بھی ہو اور ثواب بھی ہاتھ سے نہ جانے، سوریاء میں ثواب کہاں؟ الٹا عذاب ہے، شیخ رحمہ الله اس کی بابت فرماتے ہیں #
کلید در دوزخ است آن نماز
کہ در چشم مردم گزاری دراز

نمونہ کے طو رپر میں نے بیان کر دیا ہے، دوسری رسموں کو بھی اسی پر قیاس کر لینا چاہیے۔

دلائل عقلیہ
یہ تو دلائل قولیہ تھے، عقلی بھی سنو! رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے حضرت فاطمہ زہرا رضی الله تعالیٰ عنہا کی شادی کرکے دکھلا دیا ہے کہ شادی اس طرح کرنی چاہیے، علی ہذا اپنے صاحب زادے ابراہیم رضی الله تعالیٰ عنہ کی غمی کرکے بتلا دیا کہ غمی یوں ہونی چاہیے، پھر جب اس کے موافق نہ کیا اور ہر امر میں اپنی ٹانگ اڑائی اور اس کا خلاف گراں ہوا، تو سہولت اطاعت کہاں ہوئی؟ پھر محبت مطلوبہ کہاں ہوئی؟ اس محبت کا اثر تو یہ ہے کہ اطاعت میں سہولت پیدا ہو اور جب کہ ہم نے بالکل شریعت کے خلاف کیا کہ وضع وہ اختیار کی جو شریعت کے بالکل خلاف ہے، معاشرت وہ پسند ہوئی جس کو شریعت سے کچھ بھی لگاؤ نہیں، تو کون کہہ سکتا ہے کہ ہم کو کامل محبت خدا اوررسول سے ہے؟ (آثار محبت،ص:13)

ایصال ثواب کے غلط طریقے
(ب) وصول ہونے کے لیے ہی زیادہ تر ان لوگوں نے اپنی ہوشیاری سے ایصال ثواب کے ایسے طریقے ایجاد کیے ہیں جن کو سوائے ان کے دوسرا عامی آدمی جان ہی نہیں سکتا کہ اول قل ھو الله احد ہو، پھر تبارک الذی ہو اور پھر یہ ہو اور پھر وہ ہو، بعض سورتوں پر بسم الله پڑھی جاتی ہے اور بعض پر نہیں، یہ ایسی بات ہے کہ اس کو مولوی بھی نہیں جانتے، تو چوں کہ یہ طریقہ وہی لوگ جانتے ہیں، اس لیے مجبوراً سب عوام الناس ان کے محتاج ہو کر انہیں کے پاس جاتے ہیں او راس طرح سے انہیں کو ملتا ہے او رپھر غضب یہ کہ یہ لوگ اس میں او ربھی بڑی بڑی چالاکیاں کرتے تھے، ایک سب انسپکٹر مجھ سے کہتے تھے کہ میں کسی تھانہ میں تھا کہ میرے پاس ایک شخص یہ رپٹ لکھوانے آیا کہ کوئی آدمی میری فاتحہ چرا کر لے گیا، میں سخت پریشان ہوا کہ فاتحہ چرانے کے کیا معنی؟ اس شخص سے پوچھا، تو اس نے کہا موقع پر چلیے، آخر موقع پر جاکر دریافت کیا، تو معلوم ہوا کہ ایک نلکی میں پیر جی ایک سال کے لیے فاتحہ پڑھ کر بند کر جاتے ہیں کہ جب ضرورت ہو اس میں سے تھوڑی سی جھاڑ لینا، فی نلکی (عہ) ان کی مقرر ہے، اتفاق سے کسی شخص کے پاس روپیہ تھا نہیں اور اس کو فاتحہ کی ضرورت ہوئی، تو اس نے اس شخص کی نلکی چرالی۔

ایک حکایت
اس سے بڑھ کر ایک حکایت حضرت مولانا گنگوہی رحمہ الله سناتے تھے کہ کسی مسجد میں ایک ملا رہتا تھا، سب لوگ اس سے فاتحہ وغیرہ دلاتے تھے، ایک مرتبہ ایک بڑھیا کھانا لے کر آئی، اتفاق سے ملا جی اس وقت مسجدمیں موجود نہ تھے، ایک مسافر بیٹھا ہوا تھا، وہ یہ سمجھ کر کہ مقصود ثواب ہی ہے، چلو مسافر ہی کو دے دو، اس کو کھانا دے کر چلی گئی، مسجد کے دروازے سے نکلی ہی تھی کہ ملا جی مل گئے، پوچھا کہ بڑھیا کیسے آئی تھیں؟ اس نے سب واقعہ بیان کر دیا، آپ فوراً مسجد میں آئے اور لاٹھی لے کر تمام مسجد کے فرش کو خوب پیٹنا اور شور مچانا شروع کیا اور پیٹتے پیٹتے تھوڑی دیر میں دھم سے مسجد کے فرش پر گر گئے، لوگوں نے جو غل وشور سنا تو سب آ کر جمع ہوگئے، پوچھا کہ ملاجی! کیا ہوا؟ کہنے لگے بھائیو !میں تو مدت سے یہاں رہتا ہوں، سب مردوں سے واقفہوں، انہیں کو ثواب بخش دیتا ہوں، یہ نیا آدمی ہے، خدا جانے اس نے کس کو ثواب بخش دیا کہ یہاں کے سب مردے مجھے آکر لپٹ گئے، میں نے ان کو بہت کچھ بھگایا، لیکن میں تنہا تھا، کہاں تک لڑتا؟ آخر تھک کر گر گیا، اگر دو چار دفعہ ایسا ہوا تو میں مر ہی جاؤں گا، اس لیے او رکہیں جاتا ہوں، لوگوں نے کہا ملا جی! آپ کہیں نہ جائیے ،ہم آپ ہی کو ہر چیز دیں گے۔ تو جب بنا ان رسوم کی یہ اغراض ہیں کہ جب فاتحہ کے عوض ان کو کچھ نہ ملے گا، تو الگ الگ پتہ پر فاتحہ پڑھنا ان کو خود ہی مشکل معلوم ہو گا اوراسی طرح بہت جلد اس کا انسداد ہو جائے گا اور یہبھی ایک علامت ہے، ان رسوم کے زائد علی الدین ہونے کی، کیوں کہ اصلی چیز منجانب الله ہر حالت میں محفوظ رہتی ہے، چناں چہ جس زمانے میں طاعون کی کثرت ہوئی تو تیجہ، دسواں وغیرہ سب چھوٹ گئے تھے، صرف وہی چیزیں باقی رہ گئی تھیں جوشرعاً ضروری تھیں، بعض لوگوں سے جو میں نے کہا کہ اب وہ رسوم کیوں نہیں ہوتیں؟ تو کہنے لگے کہ صاحب کس کس کی رسمیں کریں! یہاں تو ہر روز تیجہ ہی رہتا ہے، میں نے کہا: ”دیکھو! اسی سے اندازہ ہو سکتا ہے کہ یہ امور محض زائد ہیں، ورنہ اس کثرت موت میں بھی کبھی ایسا نہیں ہوا کہ کسی مردے کو بغیر کفن دیے اور بلا نماز پڑھائے دفن کر دیا ہو اور تیجہ اوردسواں بہت لوگوں کا نہیں ہوا، غرض یہ کہ دین کے کاموں میں بھی عجیب عجیب طریقے ایجاد کیے ہیں، جن سے مقصود دین میں کام یابی یعنی رضائے حق بمراحل بعید ہے۔ (احسان التدبیر،ص:19)

(ج) اصل میں یہ بارات وغیرہ ہندوؤں کی ایجاد ہے کہ پہلے زمانے میں امن نہ تھا، دلہن کی حفاظت کے لیے ایک جماعت کی ضرورت تھی او راس وجہ سے فی گھر ایک آدمی لیا جاتا کہ اگر اتفاق سے کوئی بات پیش آئے تو ایک گھر میں ایک ہی بیوہ ہو اور اب توامن کا زمانہ ہے، اب اس جماعت کی کیا ضرورت ہے؟ او راگر خوف بھی ہو تو اس قدر پہنا کر کیوں لاؤ؟ او راگر کہیے گا اس میں بھی مصلحت ہے، تو اس کا کیا جواب دو گے کہ بارات والے جاتے تو ہیں جمع ہو کر اور لوٹتے ہیں متفرق ہو کر اور اکثر دلہن اورکہاراکیلے رہ جاتے ہیں، اس سے معلوم ہوتاہے کہ حفاظت وغیرہ مقصود نہیں، صرف رسم پورا کرنا او رنام آوری مدنظر ہوتی ہے اور شامت یہ کہ اکثر عصر کے وقت برات چلتی ہے اور لڑکی کے ماں باپ بھی ایسا غضب کرتے ہیں کہ اسی وقت رخصت کر دیتے ہیں، شاید یہ سمجھتے ہیں کہ اب ہماری چیز نہ رہی، ورنہ حفاظت کی اب پہلے سے زیادہ ضرورت ہے، کیوں کہ زیب وزینت کی حالت میں ہے، خدا جانے کیا بات پیش آئے!

دین چھوڑنے کا انجام
صاحبو! جب انسان دین چھوڑتا ہے تو عقل بھی رخصت ہو جاتی ہے، لوگوں کا یہ عام خیال ہے کہ کنواری کی حفاظت کی زیادہ ضرورت ہے، بیاہی ہوئی کی نگہبانی کی ضرورت نہیں اور یہ خیال ہندوؤں سے ماخوذ ہے، اس کا منشاء یہ ہے کہ اگر کنواری سے کوئی بات ہو جائے اس میں بد نامی اوررسوائی ہوتی ہے او ربیاہی سے کوئی بات سرزد ہو تو بدنامی نہیں ہوسکتی، کیوں کہ اس کے تو شوہر ہے، اسی کی طرف نسبت کی جائے گی، مگر یہ خیال محض جہالت پر مبنی ہے، اگر عقل سے کام لیا جائے تو معلوم ہو گا کہ کنواری کی حفاظت کی اتنی ضرورت نہیں، جتنی بیاہی ہوئی کے لیے ضرورت ہے اور راز اس میں یہ ہے کہ کنواری کو قدرتی طور پر بھی شرم وحجاب بہت ہوتا ہے، تو اس کے ساتھ ایک طبعی مانع موجو دہے، اس کی زیادہ نگہبانی کی ضرورت نہیں اور بیاہی کا حجاب چوں کہ کم ہو جاتا ہے، اس کی طبیعت کھل جاتی ہے، مانع طبعی اس کے ساتھ نہیں رہتا، اس کی عفت وعصمت محفوظ رکھنے کے لیے بہت بڑی نگہبانی کی ضرورت ہے، نیز کنواری کو علاوہ مانع طبعی کے خوف فضیحت بھی زیادہ ہوتا ہے اور بیاہی ہوئی کو اتنا خوف نہیں ہوتا، کنواری میں تو کوئی آڑ نہیں او راس میں شوہر کی آڑ ہے۔ اس کا فعل اس کی طرف منسوب ہو سکتا ہے، اس لیے بیاہی ہوئی کی طبیعت برے کاموں میں کنواری سے زیادہ مائل ہوسکتی ہے، اس کی حفاظت کنواری سے زیادہ ہونی چاہیے، مگر لوگوں نے اس کا الٹا کر رکھا ہے۔

عفت وعصمت کی حفاظت
وجہ یہ ہے کہ اس کی پروا آج کل نہیں کی جاتی کہ عصمت وعفت محفوظ رہے، صرف اپنی بدنامی او ررسوائی کی پروا کی جاتی ہے، سو چوں کہ کنواری میں بوجہ کوئی آڑ نہ ہونے کے بدنامی کا قوی اندیشہ ہے، اس کی نگہبانی تو کی جاتی ہے او ربیاہی ہوئی میں ایک آڑ موجود ہے، اس لیے بدنامی کا خوف کم ہے، اس کی حفاظت کم کی جاتی ہے، اسی خیال کی بنا پر رخصت کے وقت ماں باپ کچھ خیال نہیں کرتے کہ یہ وقت مناسب ہے یا نہیں؟ جب چاہیں برات کے ساتھ کر دیتے ہیں، کیوں کہ ان کے نزدیک تو حفاظت کا وقت کنوارن تک تھا، وہ اب ختم ہوچکا ہے، چاہے راستے میں ڈاکو ہی مل جائیں، بھلا لڑکے والوں کو کیا ضرورت پڑی ہے کہ ان باتوں پر خیال کریں، مگر لڑکی والوں کو تو سمجھ کر رخصت کرنا چاہیے، یہ خرابیاں ہیں برات میں جن کی وجہ سے برات کو منع کیا جاتا ہے او رمیں جو پہلے باراتوں میں جایا کرتا تھا، جب تک میری سمجھ میں خرابیاں نہ آئی تھیں، اب میں ان رسوم کو بالکل حرام سمجھتا ہوں او راگر تمہاری سمجھ نہ آویں، تو اصلاح الرسوم دیکھ لو، ان ہی رسموں کو روکنے کی وجہ سے ایک گاؤں کا آدمی مجھ سے کہنے لگا کہ یوں سنا ہے کہ تمہارے مسئلے کڑوے بہت ہیں، میں نے کہا مسئلے تو ایسے ہی ہونے چاہییں جن میں احتیاط ہو، تو حقیقت میں میرے مسئلے کڑوے نہیں، مگر خدا نے میرے قلم سے بعض باتوں کی خرابیاں ظاہر کرادیں، جو دوسروں نے ظاہر نہیں کیں، اس لیے مجھے لوگ سخت مشہور کرنے لگے۔

دلہن کی حفاظت
غرض اگر دلہن کی حفاظت کے لیے برات ہی ہوتی ہے، تو متفرق ہو کر کیوں لوٹتے ہیں؟ حتیٰ کہ بعض دفع دلہن اور دولہا اکیلے رہ جاتے ہیں، اگر کوئی کہے کہ دولہا تو دلہن کے ساتھ ہوتا ہے، تو وہی حضرت کون سے بہادر ہوتے ہیں؟ کیوں کہ آج کل رائے یہ ہے کہ شادی جلدی ہونی چاہیے، کیوں کہ اب وہ عفت ودیانت طبائع میں نہیں رہی جو پہلے تھی، اب زیادہ ضبط کی ہمیت نہیں ہوتی، غرض آج کل دولہا صاحب کو خود حفاظت کی ضرورت ہے، اگر کہیں چوریا ڈاکو چلا آئے تو پہلے دولہا صاحب ڈولے میں گھسیں گے، بعض دفعہ دولہا اور دلہن اور دو چار عزیزوں نے ایک گاؤں میں قیام کیا اور برات آگے چلی گئی، یہ لوگ حفاظت کے لیے تھے، لہٰذا اب برات کو چھوڑ دینا چاہیے۔ (دعوات عبدیت، حصہ ہشتم، وعظ عضل الجاہلیت،ص:55)