بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

خوبانی کے طبی فوائد

خوبانی کے طبی فوائد

محترم عمیر حسن

خوبانی کا سائنسی و نباتاتی نام زرد آلو ہے۔ یہ موسم گرما کا ایک ایسا پھل ہے جو بآسانی دست یاب ہوتا ہے اور اکثر لوگوں کو پسند بھی ہوتا ہے۔ فوائد سے بھرپور خوبانی ایک چھوٹا سا پھل ہے جو آڑو اور آلوچے جیسے پھلوں سے مشابہت رکھتا ہے۔ یہ تازہ اور خشک دونوں حالتوں میں دست یاب ہوتا ہے اور کسی بھی حالت میں اس کا استعمال صحت کے لیے مفید ہے۔ خوبانی کی دریافت سے متعلق دنیا بھر میں مختلف دعویٰ کیے جاتے ہیں۔

بعض ماہرین کا کہنا ہے کہ خوبانی کا اصل گھر چین ہے، جب کہ بعض لوگ خوبانی کو 300 سال قبل بھارت میں دریافت سے منسوب کرتے ہیں اور دعویٰ کرتے ہیں کہ خوبانی کی دریافت سب سے پہلے انڈیا میں منظر عام آئی۔ خوبانی کی دریافت سے متعلق مختلف دعووں کی اہمیت وحقیقت چاہے جو بھی ہو لیکن اس پھل سے متعلق طبی فوائد جاننا بھی ہمارے لیے ضروری ہے، تاکہ جو لوگ خوبانی نہیں کھاتے وہ بھی کھانے لگ جائیں۔

غذائی اجزا
امریکا کے ڈپارٹمنٹ آف ایگریکلچرل کے مطابق، 100گرام خوبانی میں 48 کیلوریز ، 1.40گرام پروٹین ، 0.39گرام فیٹ، 11.12گرام کاربو ہائیڈریٹس، 2 گرام فائبر اور9.20 گرام شوگر پائی جاتی ہے۔

وٹامن اے اور بیٹا کیروٹین
خوبانی میں دو خاص غذائی اجزا وٹامن اے اور بیٹا کیروٹین کثیر مقدار میں پائے جاتے ہیں۔ وٹامن اے صحت مند جِلد کی تشکیل اور بحالی میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ اس کے ذریعے انسا ن کی توجہ مرکوز کرنے کی صلاحیت بہتر ہوتی ہے، ساتھ ہی مدافعتی نظام کی جانچ پڑتال کے لیے بھی وٹامن اے کا کردار اہم ہے۔

دوسری جانب خوبانی میں پایا جانے والا بیٹا کیروٹین، آنکھوں کی بیماری ( (Neovascular AMD) جیسے امراض کے خاتمے کا سبب بنتا ہے۔ بیٹاکیروٹین کے علاوہ وٹامن اے بھی آنکھوں کی بینائی کے لیے بہترین جز تسلیم کیا جاتا ہے۔ یہ جز، خلیات کی مرمت اور ان کی صحت کو بہتر بناتا ہے۔ خوبانی میں پایا جانے والا ریٹینول (وٹامن اے) حل پذیرمادہ ہوتا ہے، جس کے باعث یہ پھل انسانی جسم میں بآسانی جذب ہوجاتا ہے۔

فائبر سے بھرپور
خوبانی چاہے خشک ہو یا تازہ، دونوں صورتوں میں یہ فائبرکا بہترین ذریعہ ثابت ہوتی ہے۔ فائبر انسانی جسم میں موجود برے کولیسٹرول کی سطح کو کم کرتا ہے، جس سے ہمارے دل کو تحفظ ملتا ہے۔ دوسری جانب فائبر،انسانی جسم میں اچھے کولیسٹرول کی سطح میں بھی اضافہ کرتا ہے۔

خوبانی میں موجود پوٹاشیم سے دل کی دھڑکن ریگولیٹ ہوتی ہے۔ خوبانی میں پایا جانے والا لائیکوپین دل کے لیے نہایت مضر کولیسٹرول (LDL) کی سطح کم کرکے شریانوں کو صاف رکھتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ماہرین دن میں روزانہ کم ازکم ایک یا دو خوبانی کھانے کا مشورہ دیتے ہیں۔

ہڈیوں کی مضبوطی
کیلشیم ہڈیوں کی تشکیل اور مضبوطی کے لیے بے حد ضروری ہے۔ خوبانی میں بہت ساکیلشیم پایا جاتا ہے۔ دلچسپ بات یہ کہ انسانی جسم میں پوٹاشیم کی کثیر مقدار کے بغیر، کیلشیم جسم میں بآسانی حل نہیں ہوپاتا اور نہ ہی بہترین کارکردگی انجام دے پاتا ہے۔ خوبانی میں یہ دونوں غذائی اجزا وافر مقدار میں پائے جاتے ہیں ۔ پوٹاشیم، ہمارے جسم میں الیکٹرولائٹس کی سطح کو بھی بہتر بناتا ہے، جس سے مسلز ٹھیک سے کام کرتے ہیں۔

خون کی کمی دور کرنا
خون میں موجود سرخ خلیات آکسیجن کی فراہمی کا کام کرتے ہیں۔ ان سرخ خلیات کی کمی کو درحقیقت اینیمیا یا خون کی کمی کانام دیا جاتا ہے۔ ماہرین کی رائے کے مطابق خوبانی کا استعمال خون میں حرارت اور حدّت پیدا کرتا ہے۔ خوبانی میں دو قسم کا آئرن پایا جاتا ہے ،جو انسانی جسم میں جلد جذب ہوجاتا ہے، جس سے اینیمیا کے امکانات ختم ہوجاتے ہیں۔

جِلد کی صحت
وٹامن سی، وٹامن اے اور فائٹو نیوٹرینٹس بطور مجموعہ جِلد کے لیے بہترین ثابت ہوتے ہیں۔ خوبانی میں یہ تینوں اجزا کثیر مقدار میں پائے جاتے ہیں۔ دوسری جانب خوبانی میں پائے جانے والے اینٹی آکسیڈنٹس انسان میں بڑھتی عمر کے اثرات کو کم کردیتے ہیں۔ لہٰذا بہترین جِلد کے حصول کے لیے خوبانی کو اپنی خوراک کاحصہ بنانا نہ بھولیں۔

میٹابولزم
پورے جسم میں سیال کی سطح دوغذائی اجزا پوٹاشیم اور سوڈیم پر انحصار کرتی ہے۔ خوبانی میں وافر مقدار میں پایا جانے والا پوٹاشیم جسم میں سیال کی روانی متوازن رکھتا ہے اور اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ جسم کے اعضاء اور عضلات کے ارد گرد توانائی کی منصفانہ تقسیم ہو۔

الیکٹرولائٹس، جیسے سوڈیم سے بھرپور نمک سے آپ کو زیادہ توانائی حاصل کرنے، پٹھوں کے درد کو کم کرنے اور خون کو پمپ کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔ الیکٹرولائٹس کی متوازن سطح جسم کوزیادہ توانائی فراہم کرتے ہوئے جسم سے اکڑن ختم کرتی ہے۔

بدہضمی دور ہونا
خوبانی غذائی ریشہ سے بھرپور ہوتی ہے اور یہ ہاضمہ کے لیے بہترین ثابت ہوتی ہے۔ اس پھل میں شامل فیٹی ایسڈتیزی سے آنتوں کی صفائی کرتے ہوئے انہیں مختلف بیماریوں سے محفوظ رکھتے ہیں۔ غذائی ماہرین تجویز کرتے ہیں کہ جن افراد کا معدہ کمزور ہو، وہ کھانا کھانے سے قبل خوبانی استعمال کریں تو بد ہضمی اور پیٹ کے جملہ امراض میں شفا ملتی ہے۔ خوبانی کھانے سے قبض کی شکایت دور ہوتی ہے۔

سوزش اور بخار کم کرنا
خوبانی میں سوزش کو کم کرنے کی صلاحیت ہوتی ہے۔ یہ جسم کے درجہ حرارت اور جسم کے مختلف حصوں میں سوزش کو کم کرتی ہے۔ یہ جوڑوں کے درد اور گٹھیا کے مریضوں کے لیے خاص طور پر موثر ہے۔